ملک ریاض، کامیابی، ناکامی اور پارسائی —- عاطف حسین

0
  • 109
    Shares

ملک صاحب ریاض احمد حیران کن کامیابی کی ایک زندہ مثال ہیں جو انتہائی غربت سے انتہائی امارت تک پہنچے۔ انہیں رول ماڈل کے طور پر دیکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ اگرچہ ان کی کامیابی کے اصل اور تاریک ‘رازوں’ کے متعلق ایک عرصے سے چہ میگوئیاں بھی جاری ہیں۔ اور اب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے قرار دیا ہے کہ ان کی ‘کامیابی’ کے پیچھے غیر قانونی طریقے کار فرمارہے ہیں۔ تاہم  انٹرنیٹ پر دستیاب ایک ویڈیو میں وہ کامیابی کی تین وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ‘اللہ کے ساتھ کاروبار’ کو قرار دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی صدقہ و خیرات کرنے کے عادی تھے اور اب بھی جتنا زیادہ دیتے جاتے ہیں اللہ انہیں نوازتا جاتا ہے۔

کامیابی و خوشحالی کو مذہبی افعال سے جوڑنے کا معاملہ خاصا دلچسپ ہے جسے ہم ملک ریاض کے علاوہ اپنے  اردگرد بھی دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً راقم کا کچھ عرصہ ایک انتہائی بدعنوان سرکاری افسر سے واسطہ رہا۔ وہ بھی مساجد میں چندے دیا کرتے، بار بار زبان سے کلمات شکر ادا کرتے اور انہی چیزوں کو اپنی شمار کیا کرتے تھے۔ کامیابیوں کو مذہبی لبادہ اوڑھانے میں شاید جہاں معترضین کے منہ بند کرنا اور اپنے سماجی رتبے میں اضافہ کرنا پیش نظر ہوتا ہے وہیں یہ احساس گناہ کو مٹانے اور اپنی پارسائی کے خوش کن تصور سے لطف اندوز ہونے کا طریقہ بھی ہے۔

اب یہی رویے ہمارے موٹیویشنل اسپیکر بھائیوں اور موٹیویشنل اسپیکر نما پاپولر مبلغین کی کوششوں سے پورے معاشرے میں سرایت کرچکے ہیں اور اکثر اوقات نہایت بدنما اور تکلیف دہ شکلوں میں ظہور کرتے ہیں۔ دنیاوی خوشحالی کے پارسائی کا نتیجہ ہونے کے عقیدے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جو خوشحال نہیں ہے وہ پارسا بھی نہیں ہے۔ ہمارے ایک دوست ہم سے باقاعدہ بحث کرتے رہے ہیں کہ کارپوریٹ باسز چاہے ہمیں کتنے ہی غلط نظر نہ آئیں اگر انہیں عہدہ اور مالی خوشحالی ملی ہوئی ہے تو یہ ضرور انکی نیکیوں کی وجہ سے ہے۔ پھر کتنی ہی مرتبہ آپکو زعم پارسائی میں مبتلاً کوئی نہ کوئی شخص مالی پریشانیوں کے حل کیلئے صدقے کی نصیحت کرتا ہے جس میں ہر گز کوئی برائی نہیں اگر وہ اس کے فوراً بعد آپ کو اپنے صدقوں کے قصے سنانا اور آپ کو ایسی نظروں سے دیکھنا نہ شروع کردے جیسے کہ اسے یقین ہو کہ آپ نے زندگی بھر ایک دھیلہ بھی صدقے کے نام پر نہیں دیا۔ پھر ایسی ہی سوچ کا اظہار تب بھی ہوتا ہے جب کسی بیماری کے وقت کوئی کسی کو گناہوں کی معافی مانگنے کی ترغیب دینا اور شرمندہ کرنے والی نظروں سے دیکھنا شروع کردیتا ہے۔

اپنی کامیابیوں کو مذہبی لبادہ اوڑھانے میں شاید جہاں معترضین کے منہ بند کرنا اور اپنے سماجی رتبے میں اضافہ کرنا پیش نظر ہوتا ہے وہیں یہ احساس گناہ کو مٹانے اور اپنی پارسائی کے خوش کن تصور سے لطف اندوز ہونے کا طریقہ بھی ہے۔

ہم نے خود کئی مرتبہ کئی مڈل کلاسیوں کو مزدور طبقے کی مشہور زمانہ ہیرا پھیری کے ذکر کے بعد کچھ ایسے جملوں کا اضافہ کرتے دیکھا ہے کہ ‘اسی لیے اللہ نے انہیں اس حال میں رکھا ہوا ہے’۔ گویا ان کی مالی بدحالی کی وجہ ان کی اخلاقی گراوٹ ہے!

موٹیویشنل اسپیکر حضرات کے منہ سے بھی اکثر ‘اگر نیت صاف ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے’ جیسے جملے سنے ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہی نہیں  ہے کہ کوئی ‘کامیاب’ ہے تو اس کی نیت ضرور صاف ہوئی ہوگی بلکہ یہ بھی ہے جو ‘کامیاب’ نہیں ہے اس کی نیت ہی کھوٹی ہے!

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: You can Do it موٹیویشنل گیدڑ کہانی — محمود احمد غزنوی

 

بے شک آدمی کو اپنے گناہوں سے مسلسل توبہ کرتے رہنا چاہیے اور مصیبت کے وقت زیادہ کرنی چاہیے اور بے شک آدمی کو صدقہ و خیرات کرتے رہنا، اچھے اخلاق اپنانا اور نیت صاف رکھنی چاہیے لیکن اول، اگر آپ یہ سب صرف مالی خوشحالی کیلئے کر رہے ہیں تو آپ کو اپنے مذہبی فلسفے پر یقیناً نظر ثانی کی ضرورت ہے اور دوم آپ کو مذہبی لٹریچر میں خوشحالی کی قارون جیسی مثالیں اور بیماری کی حضرت ایوب جیسی مثالیں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اور آپ کو وسائل اور دولت کی نا منصفانہ  اور منصافہ تقسیم اور اس کے مضمرات کے متعلق مباحث سے واقفیت کی شدید ضرورت تو یقیناً ہے!


یہ بھی پڑھئے:
کامیابی میں پیشن (Passion) کا کتنا کردار ہے؟

موٹیویشنل اسپیکراور این جی او کلچر : نبیلہ کامرانی 

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: