نوحہ گر —— فیصل سعید ضرغامؔ کا افسانہ

0
  • 22
    Shares

ایک بوسیدہ مکان میں ہم چار “جاندار” اکھٹے رہا کرتے تھے۔ اَبّا، اَمّاں، میں اور ایک سفید بکری۔ میں چارپائی سے بندھاہر روز۔۔۔ بکری کو مِمیاتے، ماں کو بڑبڑاتے اور اَبّا کے ماتھے پر موجود لکیروں کو سکڑتے پھیلتے دیکھا کرتا۔ میری ماں زیرلب کیا بڑبڑایا کرتی تھی؟ کبھی سن نہ پایا بکری درد بھری آواز میں چلا چلا کر کیا بتانا چاہتی تھی؟ اُس پر کبھی دھیان ہی نہیں دیا اَبّا، ہونٹوں سے بیڑی دبائے کن سوچوں میں گم رہتا اور اُس کے ماتھے کی تہہ دار لکیریں کیوں سکڑا، پھیلا کرتی تھیں؟ میں یہ سمجھنے سے قاصر رہا۔

میں، اپنے اور بکری کے گلے میں بندھی رسی تو بخوبی دیکھ سکتا تھا لیکن اماں اور اَبّا کی گردن سے کسا ہوا چمڑے کا پٹا مجھے کبھی نظر نہ آیا۔ وہ د ونوں بھی شاید اس سے بے خبر تھے بالکل ویسے ہی کہ جب دو آنکھوں والی مچھلی اپنا پیٹ بھرنے کے لئے شکار تو ڈھونڈ لیتی ہے لیکن نائلون کے تارسے بندھا کانٹا اُسے دکھائی نہیں دیتا۔

ساتھ والے مکان میں خالہ صغریٰ رہا کرتی تھیں۔ اُن کا ایک بیٹا بھی تھا، جس کی عمر لگ بھگ سات آٹھ برس ہوگی، سب اُسے کاچیؔ کہہ کر بلایا کرتے۔ خالہ میری اَمّاں کو اکثر بتایا کرتی ہیں کہ کاچیؔ پیدائش کے وقت سفید اُون کے گولے کی طرح تھا لیکن مسلسل دھوپ میں کھیلتے رہنے کی وجہ سے کاچیؔ کی رنگت اب سیاہ ہوگئی ہے۔

“اپنے کالی رنگت والے بچے کے لیے ایسا سفید جھوٹ، صرف ایک ماں ہی بول سکتی ہے۔” کاچیؔ کا باپ ہر دوسرے مہینے اس کے سر پر اُسترا پھروا دیا کرتا۔ چاول کے دانے جتنے بال اب کاچیؔ کی شخصیت کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔ میں نے اُسے ہمیشہ سے ادھ ننگا ہی دیکھا۔ کبھی اُسے لمبی قمیض پہنا دی جاتی کہ جس کا دامن گھٹنوں تک آیا ہو تا یا پھر کبھی سرخ رنگ کا جانگیا۔

چاول کے دانے برابر بالوں والا۔۔۔ اَدھ ننگا کاچیؔ، جب کبھی خالہ کے ہمراہ گھر میں داخل ہو تا تو میری جان پر بن آتی۔ اُسے دیکھتے ہی مجھ پر ایک خوف کی سی کیفیت طاری ہونے لگتی۔

خوف۔۔ اور نفرت کی ملی جلی کیفیت۔

وہ گھر کا دروازہ پار کرتے ہی مجھےللچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگتا۔ اُسے جب موقع ملتا تو وہ مجھے دبوچ لینے کی کوشش کرتا۔ میں بچنے کے لئے جب چارپائی کی دوسری جانب چھلانگ لگا تا تو وہ گھوم کر میرے سامنے آکھڑا ہوتا۔ اسے سامنے کھڑا پاکر میں الٹے پاؤں دوڑ لگاتا لیکن میری دوڑ کبھی ڈھائی میٹر سے آگے نہ جاسکی۔ میری گردن میں بندھی ہوئی رسی تن جاتی اور وہ ایکا ایکی کسی پہلوان کی طرح مجھ پر جھپٹ پڑتا اور میری گردن کو اپنی بدبودار بغل میں داب لیتا۔ میرا سانس رک جاتا اور تکلیف کی شدت سے میرے حلق سے گھٹی ہوئی چیخیں برآمد ہونے لگتیں۔ اس ہڑبونگ اور چیخ و پکار میں ساتھ بیٹھی خالہ کا دھیان ہماری جانب ہوجاتا اور وہ کاچیؔ کو مجھ سے یوں دست و گریباں ہوتے دیکھ کر کرخت آواز میں چلاتے ہوئے کہتیں۔۔۔
’’ارے او کم عقل کاچیؔ، کیوں چھنال کے لونڈوں کی طرح اس بے زبان سے دھینگا مشتی میں لگا ہے؟

(2)

اگر تجھےاس کی ہائے لگی۔۔۔ تو سچ کہتی ہوں، تو کہیں کا نہیں رہے گا۔ارے او بدبخت! تو اِسے چھوڑتا ہے کہ میں چپل دھروں تیرے سر پر۔‘‘
خالہ کو یوں غصے میں سانڈنی کی طرح بپھرتا دیکھ کر کاچیؔ کی گرفت میری گردن پر ڈھیلی پڑنے لگتی،اور میں اپنے جسم کو ایک زور دار جھٹکا دے کر اس کی قید سے آزاد ہوجاتا۔میں لپک کر خالہ کی اوٹ لے لیتااور کاچیؔ مجھے للچائی ہوئی نظروں سےایسے دیکھتا، مانو جیسے اُس کا من پسند کھلونا اُس سے چھین لیا گیا ہو۔ مارپڑنے کے خوف سے وہ مجھے دوبارہ دبوچنے کا ارداہ ترک کرد یاکر تا اور آم کے درخت سے بندھی بکری کی طرف بڑھ جاتا کہ جہاں وہ سر جھکائے سکون سے چارا کھا رہی ہوتی۔ وہ کبھی بکری کو سینگ سے پکڑ کر اُس کی گردن کو دائیں بائیں گھماتا یا پھر کان کو اِس زور سے مڑوڑا کرتا کہ بکری درد سے بلبلا اُٹھتی۔ اُسے بکری سے چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھ کرخالہ بغیر کچھ کہےزمین پر پڑی اپنی چپل اُٹھاتی اور بیٹھے بیٹھے تاک کر ایسا نشانہ سادھا کرتیں کہ چپل ٹھیک کانچیؔ کی کمر سے جا لگتی۔ کاچیؔ بکری کا کان چھوڑ کر اپنی کمر سہلاتا ہوا گھر سے باہرکی جانب بھاگ کھڑا ہوتا۔ بکری اس اچانک سر پر پڑی اُفتاد سے چھٹکارا پاتے ہی دوبارہ چارہ کھانے میں جت جاتی، ایسے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

۔۔۔سفید بکری لمحے بھر میں سب کچھ کیسے بھول جایا کرتی مجھے نہیںمعلوم۔ کاچیؔکے چلے جانے کے بعدمیرے دل سے اُس کا خوف تو زائل ہوجاتا لیکن نفرت پھر بھی باقی بچ رہ جاتی۔ یہ ایک بار کا قصہ نہیں، ہر دفعہ ایسا ہی ہو تاہے۔ اور میں نے ہمیشہ یونہی ہوتے دیکھا۔۔کاچیؔ کے چلے جانے کے بعد خالہ صغرؔیٰ غیبت میں لِتھڑےہوئے محلے بھر کے قصے کہانیاں نئے سرے سے کہنا شروع کرتیںاور میری ماں بغیر کچھ بولے انہیں چپ چاپ سنتی رہتی۔ میں نے خالہ کو اکثر یہ کہتے سنا۔۔۔

’’اری او نیک بخت !کچھ اپنے منہ سے بھی کہہ سن لیا کر، دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ ایسے خاموش بیٹھی رہے گی توکسی دن، خدا نہ کرے تیرا دل پھٹ جائے گا۔۔۔لیکن ہائے، مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے تجھ کرم جلی کے منہ میں زبان ہے ہی نہیں۔ میں نے لاکھ سمجھایا تھا تیری ماں کو کہ اپنی اس چاند سی بیٹی کو شعبدہ بازوں کے گھر مت دے لیکن تیرے گھروالے نے ایسا نظربند کیا کہ ان کی عقل پر پردہ پڑ گیا۔ اور وہ شعبدہ باز تجھے لے اُڑا۔۔۔‘‘خالہ صغرؔیٰ اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے جملے مکمل کرتیں اور سر پر اوڑھنی جما کر باہر نکل جاتیں۔
میںسچ کہہ رہا ہوں! یہ سب ایک بار کا قصہ نہیں، ہر دفعہ ایسا ہی ہوتا۔ اور میں نے ہمیشہ یونہی ہوتے دیکھا۔کبھی کبھی مجھے شک ہوتا تھا کہ اَبّا کہ منہ میں بھی زبان نہیں ہے۔میں نے اُسے بھی کبھی۔۔ ہونہہ۔۔ ہاں سے زیادہ کہتے کچھ نہیں سنا۔ لیکن خالہ نے کبھی اُسے بے زبان نہیں کہا۔

بس یوں سمجھ لیجیےکہ ! اس بوسیدہ مکان میں ہم چار۔۔”بے زبان” اکھٹے رہا کرتے تھے۔ ۔۔۔ میں، ابـا، میری ماں اور ایک سفید بکری۔

اَبّا جب کبھی مجھے نطر بھر کے دیکھتا، تو ا س کی آنکھ کی پتلیاںآسودگی کے چراغ بن کر جل اٹھتیں۔وہ ہر روز شام واپسی پر میری رگوں میں اپنا ہنر انڈیلتا۔ دن بھر مجھے کئی کئی گھنٹے مشق کراتے ہوئے نہ تھکتا۔زندگی کی آخری جنگ کی تیاری کرتے ہوئے بوڑھا جسم ہانپ جاتا۔ لیکن اُ س ناتواں جسم نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ زندگی کی بساط پر میں اس کا واحد پیادہ تھا، جسے آگے چل کراپنے بوڑھے اور کمزور بادشاہ کا دفاع کرنا تھا۔
جب کبھی مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوجاتی۔ تو وہ میرے سر پر ایک ہلکی سی چپت رسید کر دیا کرتا۔ لیکن میری غلطی کی سزا بیچاری بکری کو بھگتنا پڑتی۔ اَبّا کا بے رحمی سے برستا ڈنڈا، اور کھونٹے سے بندھی درد سے ممیاتی ہوئی سفید بکری کو دیکھ کر میں سہم جاتا۔ اَبّا کی یہ نا انصافی مجھے کبھی سمجھ نہ آئی۔

(3)

آخرمیری غلطی کی سزا بکری کو کیوں؟نہ جانے وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟۔۔۔ مجھے نہیں معلوم  بس اُس کے بعد میری یہی کوشش ہوتی کہ میں وہ غلطی دوبارہ نہ دہراوں کہ جس کی سزامیری پیاری دوست کو ملے۔

اَبّا جب بکری کو مارتے مارتے تھک جاتا تو ڈنڈا زمین پر پھینک دیتا اوراپنی دونوں بانہیں پھیلا کر مجھے اپنے قریب آنے کا اشارہ کرتا۔ میں دوڑتا ہوا اَبّا کی گود میں چڑھ جاتا اور وہ مجھے پیار سے چمکارنے لگتا۔۔۔ میں اَبّا سے نظریں بچا کر درد سے ہانپتی، ممیاتی بکری کو کن انکھیوں سے دیکھتا اور دل ہی دل میں دوبارہ غلطی نہ کرنے کا عہد کرلیتا۔ ہرگزرتا دن میری غلطیوں کوسدھارتا چلا گیا، ابا کا ہنر میرے سینے پر تمغہ بن کر چمکنے لگا اورمیری دکھ کی ساتھی، سُکھ کی جگالی کرنے لگی۔   ایک شام اَبّا نے بکری کے گلے سے بندھی رسی کھولی اور اسے میرے سامنے پچھاڑ دیا۔ بکری گھٹی ہوئی آواز میں چلاِئی لیکن اَبّا نے بڑی ہی بے دردی سے اس کے گلے پر چھری پھیر دی۔ کٹے ہوئے نرخرے سے خون کا فوارہ بلند ہوا اور میرا پورا چہرہ خون سے رنگ گیا۔ میں بدحواسی کے عالم میں اِدھر اُدھر بھاگنے لگا۔ اَبّا نے میری حواس باختگی پر ذرا بھی دھیان نہیں کیا۔ میرے سامنے بیٹھ کر سالم بکری کو گوشت کی چھوٹی چھوٹی بوٹیوں میں کاٹ لینے کے بعد اسے آگ پر چڑھی دیگ میں پکانے لگا۔۔۔۔ شام ڈھلتے ہی آس پڑوس کے بزرگ اور خاندان کے کچھ افراد گھر میں مدعو کیے گئے۔۔ وہ سب بہت دیر تک میری محسن کو اپنے حریص جبڑوں سے چباتے اور نہ نگلی جانے والی ہڈیوں کو ہوا میں اچھال دیتے۔ میں ہوا میں قلابازی لگاتا اوران ہڈیوں کو زمین پر گرنے سے پہلے ہی دبوچ لیتا، پھر تو جیسے لوگوں نے اسے کھیل ہی بنا لیا اور دیگ میں بچی آخری بوٹی تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ رات ہوجانے پر لوگ بھرے پیٹ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ گھر خالی ہوتے ہی اَبّا نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور پھر وہ سونے چلا گیا۔۔۔ میں نے جمع کی ہوئی تمام ہڈیوں کو اکھٹا کیا اور اسے ایک ترتیب کے ساتھ خون آلود رسی اور کھونٹے کے گرد رجمع کیا۔۔۔ سپیدۂ سحری تک میری سماعت قُم باذن اللہ سننے کو ترستی رہی۔ میرا اَبّا ! ایک مداری تھا۔
گلی گلی کرتب دکھانے والا ایک مداری!

دعوت کے اگلے روز سے میں اَبّا کیساتھ کام پر جانے لگا۔گھر سے باہر کی دنیا بڑی تیزگام تھی۔ وہ بھری دوپہر گلی گلی صدا لگاتا، کرتب دکھاتاجب تھک جاتا تو کسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر بیڑی سلگا لیا کرتا۔ بیڑی اَبّا کی عیاشی کا واحد سامان تھی۔ وہ بیڑی کے ایک سرے سے ادھوری خواہشوں کو کشید کرلیا کرتا اور تازہ دم ہوکر روٹی کی تلاش میں اٹھ کھڑا ہوتا۔ “ابا ! خدا کے نزدیک میری سفید بکری سے کم نہ تھا۔”

وہ خاندان کا دکھ اپنے بدن پر جھیلتا۔ ہماری ضرورتوں کے عوض اُس کے جسم پر روزانہ ڈنڈے برسائے جاتے۔ ڈنڈے برسانے والا ہاتھ، اور اَبّا کے جسم پر پڑے نیل مجھے کبھی دکھائی نہ دئیے۔۔۔ لیکن اَبّا کے ہموار ماتھے پر پھیلتی سکڑتی لکیروں اور بیڑی کے ہر کش کے بعد اترتے چڑھتے تاثرات کا بھید اب میںجانننے لگا تھا۔ ۔۔۔۔خدا جانے! اَبّا تماشہ دکھایا کرتا تھا یا وہ خود ایک تماشہ تھا کہ جسے آسمان کی کھڑکی سے کوئی اور بھی دیکھا کرتا ہوگا۔

اب تماش بین اَبّا کی آواز اور ڈکڈگی کی ڈگ ڈگ سن کر اکھٹے ہوجاتے، تماشائیوں کا ہجوم اَبّا کے اندر ایک نیا جوش بھر دیتا۔ اَبّا کےنحیف بدن سے گرجدار آواز ایک معجزہ بن کر نکلتی۔ ڈگڈگی کی تال پر صدا لگا کر وہ تماشے کا آغاز کرتا۔ تماش بینوں کی نظرشروع ہونے والے تماشے پر ٹکی ہوتیں اور اَبّا کی آنکھیں تماش بینوں کی روپے پیسے سےٹھنسی ہوئی جیبوں پر۔ وہ ترسی ہوئی نگاہوں سے جیبوں کی جانب رینگتے ہوئے ہاتھوں کو بڑی آس لگ کر دیکھا کرتا، اس خیال سے۔۔ کہ نہ جانے کب کوئی ہاتھ اسکی جانب پیسہ اچھال دے۔

(4)

اَبّا اور تماش بینوں کی نظریں کیا دیکھا کرتیں، مجھے اس کی بالکل بھی پرواہ نہ تھی۔ لیکن میری نظر اَبّا کے ڈگڈگی بجاتے ہاتھ اور ڈنڈے کی مانوس سفاکیت پر ہوتی۔اور پھر مجھے اپنی پیاری بکری یاد آجایا کرتی۔آج ناانصافی اور درد جھیلنے کے لئے میری بکری تو موجود نہ تھی لیکن پھر بھی میں ڈنڈے کو د یکھ کر د ل ہی دل میں کوئی غلطی نہ کرنے کا عہد دہرا کر اپنی دوست کو یاد کرلیا کرتا۔ میں سارے دن زمین پر پڑے سکے جمع کرتا اور انہیں اَبّا کے آگے رکھے برتن میں ڈال دیتا۔ روپیہ دیکھ کر ڈگڈگی کی۔۔ ڈگ۔۔ڈگ۔۔ اور اَبّا کی آواز اس قدر بلند ہوجاتی کہ آسماں پر سوئے ہوئے فرشتے تک جاگ جاتے۔۔

لیکن خدا کی آنکھ پھر بھی نم نہ ہوتی۔

’’خدا کو یوں خاموش اور مصروف پا کر ڈگڈگی کے شور سے جاگ جانے والے فرشتے، فرات کے اُجلے پانیوں اورسرخ ریت کو یاد کرتے ہوئے دوبارہ سوجاتے۔‘‘ نیم خوابیدہ حالت میں ایک فرشتہ زمین پر اتر کر میرے پاس آیا اور میرے کان میں آہستگی سے کہا “تمہارا باپ! گھر والوں کے پیٹ کا دوزخ اپنی کمائی سے بجھایا کرتا ہے، تم پر احسان نہیں کرتا یہ اُس کی ذمہ داری ہے۔”  فرشتے کی بات سن کر میں افسردہ ہوگیا اور سوچنے لگا کہ واقعی ذمہ داریاں محبت کے ذیل نہیں آتیں۔ شاید اسی لیے میرے ابا کے پیروں تلے جنت نہیں ہے بس خدا نے اس کے پیروں تلے پہیے لگا دیے ہیں جو ہمیشہ اسے گھمائے رکھتے ہیں” گھر میں ایک ننھےفرشتے کی آمد متوقع ہے۔ سچ کہوں تو! گھر میں ایک اور نوحہ گر ماں کی کوکھ میں اپنی باری کے انتظار میں تھا۔ ’’واہ رے مولا ! تو بھی فرشتے کے جسم میں پیٹ ٹانک کر اُسے انسان بنا دیتا ہے اور بھوک۔۔ اسے حیوان۔‘‘

ذمہ داریاں آکاس بیل بن کر اَبّا کے جسم سے لپٹی ہوئی تھیں۔ ایک دن، اَبّا سورج سے جنگ ہار گیا، وہ اپنی شکست خوردہ سوکھی ہوئی جڑوں کے سہارے زیادہ دیر کھڑا نہ رہ سکا۔ اور ایک جانب ڈھے گیا۔نئے مداری کی آنکھ کھلنے سے پہلے ہی پرانے مداری کی آنکھ بند ہوگئی۔ اس بار ہوا میں خون کا فوارہ بلند نہیں ہوا۔ ہاں البتہ اَبّا کے حلق سے گھٹی ہوئی آواز ضرور نکلی تھی۔

تماشہ وقت سے پہلے اپنے انجام کو پہنچا!۔۔۔ لیکن رکا نہیں۔ اب ڈگڈگی ماں کے ہاتھ میں تھی اور نیا مداری ماں کے پیٹ میں۔ میری پیاری ماں اب گلی گلی ڈگڈگی بجا کر ابا کا نوحہ دہرانے لگی۔ تماشہ وہی پرانا تھا اور تماش بین بھی، لیکن پیسہ۔۔۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ برستا تھا، میری عقل چھوٹی تھی اس لئے دیر سے سمجھ آیا کہ اب تماش بین کی آنکھوں میں حیرت اور دلچسپی کے ساتھ ساتھ ’ہوس‘ بھی شامل ہے۔

پھر ایک دن اچانک ڈگڈگی بجتے بجتے دوبارہ خاموش ہوگئی، جب میں نے پلٹ کر دیکھا تو ماں اپنا پیٹ پکڑے زمین پر پڑی درد سے تڑپ رہی تھی۔ میں اس درد کو سمجھنے سے قاصرتھا۔ ایک دفعہ ڈگڈگی بجنا بند ہوئی تھی تو میرا باپ مجھ سے جدا ہوگیا۔ اور پھر! جب آج دوبارہ ڈگڈگی کھیل ختم ہونے سے پہلے خاموش ہوئی تو دل میں خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ میری ماں بھی مجھ سے بچھڑنے والی ہے۔۔

میں دوڑتا ہوا ماں کے قریب پہنچا، وہ درد سے کراہ رہی تھی۔ مجھ بے عقل کو کچھ سجھائی نہیں دیا سوائے اس کے کہ میں نے ماں کے ہاتھوں میں ڈگڈگی اور ڈنڈا تھمایا اور اپنی پہلی والی حالت میں کھڑا ہوگیا۔ اس انتظار میں کہ ڈگڈی دوبارہ بجے۔۔ اور اس بار میں وہ شاندار قلابازی لگاؤں کے پیسہ پہلے سے زیادہ ملے۔۔۔ دل میں سوچا۔ اس بار اونچی چھلانگ لگا کر آسمان کےاُس پار سے اَبّا کو زمین پر کھینچ لاؤں گا، وہ اتنا غیر ذمہ دار نہیں کہ ہمیں اس حال میں اکیلا چھوڑ دے۔ بس وہ تھک گیا ہوگا اور کسی درخت کے نیچے بیڑی سلگا ئے بیٹھا ہوگا۔۔۔‘‘ لیکن ڈگڈگی پھر بھی نہ بجی پلٹ کر دیکھا تو ڈنڈا اور ڈگڈگی ایک بار پھر زمین پر تھیں۔۔۔ بے حسی چاروں جانب رقصاں تھی۔ لوگوں کے لئے ایک نیا تماشہ شروع ہو چکا تھا۔ چیختی چنگھاڑتی ایمبولینس مجمع کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی اور اُس نے میری ماں کو زندہ نگل لیا۔ بس اس دن کے بعد سے میں اپنی ماں کا چہرہ دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکا۔۔۔

(5)

میرے پاس وہ ڈگڈگی آج بھی موجود ہے، جب کبھی مجھے اپنے اَمّاں اَبّا کی یاد آتی ہے تو میں اپنے گلے سے بندھی ہوئی رسی کا دوسرا سرا پکڑ کر بازار کی جانب نکل آتا ہوں۔ بالکل ویسے ہی کہ جیسے ابا میری رسی تھام کر بڑی شان سے چلاکرتا تھا۔ میں بازار کے وسط میں کھڑا ہوکر زور زور سے ڈگڈگی بجاتا ہوں اور اپنے دونوں ہاتھ اوپر کئے دیوانہ وار ناچنے لگتا ہوں۔۔۔ پرانے تماش بین مجھے پہچان کر میری جانب روٹی اچھال دیتے ہیں مگر کچھ لوگ اب بھی خدائی صفت کا بھرم قائم رکھتے ہیں اور مجھ پر نگاہ کئے بغیر ہی گزر جاتے ہیں لیکن میں ان باتوں کی پرواہ کئے بغیر ناچتا ہی چلا جاتا ہوں۔
اکیلا دیکھ کر چند شرارتی بچے مجھے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نزدیکی درخت پر چڑھ کراس کی شاخوں کو اس زور سے ہلاتا ہوں کہ اسکے سارے پتے جھڑ نے لگ جاتے ہیں۔۔۔۔ جب میں اُن کے ہاتھ نہیں آتا تو وہ سب مل کر مجھے پتھر مارنے لگتے ہیں۔میں درخت کی ننگی شاخ پر بیٹھا آسمان کی جانب سر اُٹھا کر ایک بار پھر ڈکڈگی بجا کر اپنے اَبّا کا نوحہ دہرانے لگتا ہوں۔۔۔

ڈگ، ڈگ، ڈگ۔۔ڈرپ۔۔۔ڈگ، ڈگ،، ڈرپ، ڈرپ، ۔ڈگ ڈگ۔۔ نامعلوم سمت سے اچانک کاچیؔ نمودار ہو کر میرے اور پتھر مارنے والے بچوں کے درمیان ایک دیوار بن کر کھڑا ہو جاتاہے۔ سیاہ مائل رنگت والا کاچیؔ کہ جس کے بال چاول کے دانے کے برابر تھے وہ دوڑ کر بچوں کی گردنیں اپنی بدبودار بغل میں سختی سے داب لیتا اور انہیں چلاتے ہوئے کہتا ہے۔۔ ’’کم عقلو! اگراس بے زبان کی ہائے لگی تو کہیں کے نہیں رہو گے۔ اگر آیندہ ایسا کیا تو اس سے بھی زیادہ برا حشر کروں گا۔‘‘ صغریٰ خالہ جھوٹ کہا کرتی تھیں کہ بے زبان کی آہ لگ جایا کرتی ہے۔ وہ کبھی مجھے ملیںتو میں اُن کی یہ غلط فہمی ضروردور کردوں گا۔۔ اور ان سے کہوں گا کہ ’’بے زبان کی آہ۔۔۔ ساتویں آسمان سے ذرا پہلے ہی دم توڑ دیا کرتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا۔۔۔ تو کاچیؔ کب کا مرچکا ہوتا۔‘‘

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: