علی گڑھ یونیورسٹی میں قائداعظم کی تصویر؟ طاہر ملک

0
  • 65
    Shares

جاننا چاہیے کہ بھارت کے انتہا پسند ہندو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے قائداعظم کی تصویر کو کیوں اُتار پھینکنا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ یہ یونیورسٹی قائداعظم کی محبوب درس گاہ تھی۔ برصغیر کے گوشے گوشے سے مسلمان نوجوان یہاں آ کر جدید تعلیم سے فیض یاب ہوا کرتے تھے۔ اسی درس گاہ نے وہ شعلہ بیان سیاست دان پیدا کیے جنہوں نے کلکتہ سے لے کر پشاور تک برصغیر کے مسلمانوں میں عہدِ حاضر کے مروجہ علوم کی روشنی پھیلائی۔ اسی روشنی نے وقت آنے پر تحریکِ پاکستان کی راہیں منور کیں اور یوں مسلمانوں میں اپنی جداگانہ قومی شناخت کا احساس پیدا ہوا۔ اسی قومی احساس نے تحریکِ پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرایا۔

قائد اعظم محمدعلی جناح کو اس یونیورسٹی سے اتنی محبت تھی کہ انھوں نے اپنی دولت کو برصغیر کی تین دانش گاہوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ یہ دانش گاہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی اوراسلامیہ کالج پشاور ہیں۔کہنے کو تو یہ تین مختلف ادارے ہیں مگر ان کے قیام کے محرکات ایک ہیں۔ ان تینوں اداروں نے برصغیر کے نوجوانوں میں قومیت کا وہ احساس پیدا کیا تھا کہ وقت آنے پر ان نوجوانوں نے تحریکِ پاکستان میں انتہائی فعال کردار ادا کیا تھا۔ قائداعظم کو ان نوجوانوں سے بے پناہ محبت تھی۔ انھیں وہ قوم کا مستقبل سمجھتے تھے۔ ان نوجوانوں کی تربیت کا سب سے بڑا اور مرکزی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہے۔ اگر سرسید احمد خان یہ یونیورسٹی قائم نہ کرتے تو مدراس کی ہندو یونیورسٹی پورے برصغیر میں اسی ہندو انتہا پسندی کو فروغ دینے میں کامیاب ہو جاتی جس کی ایک مثال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مسلمان شناخت مٹانے کی خاطر وہاں سے قائداعظم کی تصویر نکال باہر پھینکنا ہے۔ آج علی گڑھ یونیورسٹی کے نوجوان ہندو انتہا پسندوں کی اس حرکت پر جو احتجاج کر رہے ہیں وہ صرف ایک تصویر سے بدسلوکی پر احتجاج نہیں ہے۔ یہ احتجاج بھارت میں مسلمانوں کی تہذیبی ہستی کو بھارت سے نکال باہر پھینکنے کے عزائم کے خلاف احتجاج ہے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: