پنجابی خون: رزق خاک —– عابد آفریدی

0
  • 433
    Shares

تاریخ گواہ ہے زمین کے جس حصے پر پنجابی مزدوروں کا پسینہ گرا ہے وہاں لازماََ زرخیزی و ہریالی نے اپنے رنگ دکھائے۔ زمانہ اس بات کا بھی گواہ ہے کہ جب کہیں پنجابیوں کا خون گرتا ہے تو وہاں پاکستان وجود میں آتا ہے۔

پنجابیوں کا یہ خون پسینہ بڑا زرخیز ہے۔۔۔

انگلینڈ میں بلوائیوں کے حملے میں دو پاکستانی پنجابی شہید ہوئے تو برطانیہ کا وزیراعظم ان کے گھر آیا۔ کہا ہم آپ کے بچے واپس نہیں لا سکتے مگر آج سے اس علاقے کا نام منی پاکستان ہوگا۔۔

تاریخ کی سوئی اور مشاہدے کی آنکھ کو ذرا اور پیچھے لے جائے تو پنجابیوں کا یہ خون ہندوستانی زمین پر اس وقت بھی بہتا ہوا نظر آئے گا جب اردو بولنا لکھنا قابل گردن زدنی جرم ٹھہرا۔۔۔ جب ہندوستان کے سینے پر کسی مسلمان دہقان کا ہل چلانا حرام قرار پایا۔۔ تب بھی انہی پنجابیوں کا خون بہا۔۔ خون کے اس سیلاب میں جان مال سمیت بیٹیوں کی عصمتیں تک بہا دیں۔۔

مارنے والا کم فہم اس انمول خون کی تاثیر سے واقف نہیں تھا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھاکہ یہ خون جمے گا نہیں، جذب ہوجائے گا۔ زمین کی رگوں میں اتر کر دوڑے گا۔

جب ہندوستان کی زمین پنجابیوں کے اس خون سے تر ہوگئی، خوب نم ہوئی۔۔۔ تب جاکر ایک آزاد ریاست کا جنم ہوا،خون کی اس زرخیزی سے ایک ملک وجود میں آیا۔۔

تحریک پاکستان کے لئے قربانیاں تو سب کی ہیں ۔بے شمار ہیں۔ مگر اس بات سے انکار زیادتی ہوگی کہ پنجابیوں کی قربانیاں اس تحریک کے لئے کسی طور کسی سے کم نہیں تھیں۔۔ قربانی دینے والوں کی عظمت دیکھیں حق نہیں جتایا۔ حاصل وطن کو اپنے نام سے منسوب نہیں کیا، بلکہ مسلمان بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ اسے “پاکستان” کا نام دیا۔۔

آج سے کچھ سال پہلے تک پنجاب بڑا بھائی کہلاتا تھا۔ مگر اب وقت بدل گیا اب پنجاب بڑا بھائی نہیں بلکہ زخمی ماں کی مانند ہوگیا۔ چوٹ سہتا ہے خاموش رہتا ہے۔ سب کی سنتا ہے اپنی نہیں سناتا۔۔

آج بلوچستان کی زمین بلا امتیاز پنجابیوں پر تنگ کردی گئی ہے۔۔ ایک آئین شکن سابق سربراہ ریاست کے جرائم کی سزا معصوم غریب مزدوروں کو دی جارہی ہے۔۔

پنجابی مزدوروں کے قتل عام کا یہ واقعہ پہلا نہیں، بلوچستان میں پنجابیوں کی شہادتوں کی کہانیاں گنتی سے باہر ہوگئی ہیں۔۔ ایسی ایک کہانی میرے پاس بھی ہے۔۔ یہ کہانی میرے ایک پنجابی دوست آصف کی کہانی ہے۔۔

آصف ہمارے پڑوسی انکل منصور کا اکلوتا بیٹا تھا۔
اس کی پرورش بلکل ویسے ہی ہوئی تھی جو اکلوتی اولاد کی ہوتی ہے۔۔
ہم اس کے کھلونے اس کی خوبصورت چھوٹی سی چارپائی، چارپائی پر بچھا رنگ برنگے کارٹونوں کی تصاویر سے مزین بستر، اس کا جھولا!! یہ سب چیزیں دیکھ کر اکثر اپنے والد سے فرمائش کرتے کہ ہمیں بھی یہ سب لاکر دیں۔۔۔ مگر کہاں اکلوتا اور کہاں سات بچے!!!

اسکول کے زمانے سے ہی اسکی ذہانت عیاں ہوگئی تھی۔
اس کی جو تربیت والدین کو مطلوب تھی عین اسی طرز پر اس کی شخصیت پروان چڑھ رہی تھی۔
والدین اپنے اکلوتے بیٹے کو ایسی نظروں سے دیکھتے تھے جیسے کوئی اپنے خوابوں کے محل کی تعمیر کو دیکھ رہا ہو۔۔
والد کی ہر بات والدہ کے ہر تذکرے کا موضوع آصف تھا۔

جوان ہوا، گریجویشن کے بعد فرم نے ایک ٹیم کے ساتھ اسے بلوچستان کسی پروجیکٹ پر بھیج دیا۔
کچھ دن تک والدین سے رابطے میں رہا،اس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔ والدین تو اس کی آواز کے عادی تھے۔۔ بیٹے سے بات نہ ہونا ان کے لئے بے قراری کے سمندر میں ڈوب جانا تھا۔ بار بار رابطہ کیا، کمپنی سے بات ہوئی۔۔
جواب آیا “رابطہ ہوجائے گا وہاں سگنل کام نہیں کرتے”۔
ماں باپ کےمضطرب دلوں کے لئے یہ تسلی کافی تو نہیں تھی مگر ضبط کا بھی کچھ تقاضا ہوتا ہے۔ بلوچستان کی سہولیات کا سوچا تو مان لیا کہ ایسا ہی ہوگا۔

ہائے ربا جس رات آصف مجھ سے آخری بار ملا تھا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ اس کی مجھ سے آخری ملاقات ہے تو میں کس قدر اہتمام سے ملتا۔۔ میں کتنی آو بھگت کرتا!!!! میں اسے دیر تک گلے لگاتا!!!

دن گزر گئے ہفتے گزر گئے۔۔ وہ لاڈلہ وہ اکلوتا بیٹا لوٹ کر نہ آیا۔۔۔ واپس اگر کچھ آیا تو وہ بس گولیوں سے چھلنی نوجوان کی ایک لاشہ آیا!!
جس کے پاوں کے انگوٹھے سے جھولتے کاغذ کے ٹکڑے پہ لکھا تھا:
“آصف ولد منصور شاہ”

وہ دن بہت طویل تھا، وہ لمحات ان مٹ تھے۔ ایمبولینس کا آنا۔ اس میں پڑی لاش، اسے گاڑی سے اتارنا، اتارتے ساتھ مرد اور عورتوں کی چیخیں، ماتھوں پر پڑتے تھپیڑوں کی آوازیں، ٹوٹتی چوڑیوں کی کھنک، سینوں کی دھمک، چہروں پر بکھرے آنسوؤں کی چمک، وہ سارے مناظر دماغ میں محفوظ ہیں۔ گھروں کو تالے پڑگئے محلے کے سب لوگ آصف کے استقبال کو اس کے گھر امڈ آئے تھے۔۔

اکلوتے معصوم کے اس غم نے لوگوں کے چہروں کو دشت، ہونٹوں کو صحرا میں تبدیل کردیا۔۔

جنازہ جب قبرستان میں رکھا گیا تو منصور بھائی نے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
‘”بیٹا تم جانتے ہو یہ جنازہ کس کا ہے؟ یہ جنازہ میری امیدوں کا جنازہ ہے۔۔ میرے ارمانوں و خوابوں کا جنازہ ہے۔ یہ اس چراغ کا جنازہ ہے جس کی روشنی تلے خوشی کی پگڈنڈیوں پر سے ہمیں گزرنا تھا۔
اب میں اندھا ہوگیا ہوں، میری روشنی بجھ گئی ہے،آگے جو راستہ ہے بہت تاریک ہے، اس راستے پر چلنا میرے لئے اب ممکن نہیں۔

منصور بھائی کی بات سچ ہوئی۔ انہوں نے جیسے تیسے ٹٹول ٹٹول کر کچھ دن گزار لئے۔ بالآخر ایک دن خون جگر تھوک دیا اور ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئے۔۔

ہمیں اللہ کی ذات پر کامل یقین ہے بلوچستان میں گرتا پنجابیوں کا یہ خون یہاں جذب ہورہا ہے۔
یہ بہتا خون بلوچستان سے شورش کو بہا لے جائے گا۔۔
یہ عظیم خون بلوچستان کی فضاء کو پاک کردے گا۔
جہاں سے شورش اٹھ رہی ہے اسی جگہ سے پاکستان کا پرچم اٹھے گا۔
انشاءاللہ۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: بلوچستان کی شورش اور زمینی حقائق ۔ چوہدری بابر عباس

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: