عوام اور صحت: کے پی کے ایم ٹی ایکٹ 2015 —- عماد بزدار

1
  • 641
    Shares

کسی قوم کے مہذب اور وہاں کی حکومت کے قوم سے تعلق کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی صحت و تعلیم کی صورتحال دیکھی جاتی ہے۔ حکومتوں کے اقدامات پرکھے جاتے ہیں اور عوام کا شعور ردعمل سے جانچا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں ستر سال سے صحت و تعلیم جیسے غیر منافع بخش کاموں کو کاروبار بنا کر ہر اس شخص نے فائدہ سمیٹا جس کو اسباب میسر تھے۔
اب ایسے معاشرے میں کوئی ایسی حکومت آئے جو اس منافع خور مافیاز کے خلاف سینہ سپر ہوجائے تو ان سب کا بلبلانا تو بنتا ہے۔

لیکن اس بلبلاہٹ سے عام عوام نہ متاثر ہوں، اس کے لیے پیش خدمت ہے تصویر کا وہ رخ جو مافیاز کے حق میں نہیں جاتا۔ لیکن عوام کے لیے اس میں فائدہ ہے۔۔ میرا موضوع ہے کے پی کے ایم ٹی ایکٹ 2015 جس کے تحت کے پی میں صحت کے میدان میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ابتدا سے ہی ڈاکٹرز کا مطالبہ تھا کہ ہسپتالوں کو خود مختاری دی جائے۔ 2002 میں خود مختاری دینے کی کوشش کی گئی لیکن وہ خود مختاری صرف نام کی حد تک تھی کیوں کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیئے گئے تھے وہی بیوروکریٹک اپروچ، وہی سیاسی مداخلت جاری رہی لیکن پی ٹی آئی پہلی حکومت ہے جس نے ہسپتالوں کو صحیح معنوں میں خود مختاری دی اور بورڈ آف گورنر کو ہسپتالوں کے معاملات میں با اختیار بنایا۔

بورڈ آف گورنرز جو ہر ہسپتال کو چلانے کے ذمے دار ہیں ان کے ممبرز کی تعداد سات ہے۔ اب ہر ہسپتال کا اپنا بورڈ آف گورنر ہے ہر بورڈ اپنی پرفارمینس کا ذمہدار ہے۔ مثال کے لیئے سمجھ لیں ایبٹ آباد کا جو ہسپتال ہے اس کا اپنا بورڈ آف گورنر ہے جو ایوب میڈیکل کمپلیکس کے فیصلوں کے ذمہ دار ہیں پشاور میں حیات آباد میڈیکل کمپلیس کا اپنا علیحدہ بورڈ ہے جو اپنے فیصلے کی ذمے دار ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہسپتالوں کے درمیان آپسمیں بھی مسابقت رہتی ہے کہ کونسا ہسپتال مریضوں کو بہتر سروس فراہم کرتا ہے۔ کہیں باہر سے ان کے معاملات میں مداخلت نہیں ہوتی۔

بورڈ آف گورنرز کے ممبران مفت میں کام کرتے ہیں اور حکومت یا ہسپتال سے سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے۔ اس میں کچھ تو دوسرے ممالک سے ہر دو تین مہینے کے بعد اپنے خرچے پر آتے ہیں اور ہسپتال کے معاملات کو دیکھتے ہیں۔ نوشیرواں برکی جو لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چئیر مین ہیں امریکہ سے ہر دو مہینے بعد اپنے خرچے پر آتے ہیں ان کی کوشش سے ہر ماہ امریکہ سے آئی سی یو سپیشلسٹ آتے ہیں اور یہاں پر آئی سی یو میں غریب مریضوں پر راؤنڈ کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ وہاں ڈاکٹروں کو آئی سی یو کئیر سکھاتے ہیں۔  ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ کے بعد ہسپتال کی ضروریات کے مطابق فیصلے ہفتوں اور دنوں میں ہوجاتے ہیں یاد رہے کہ یہ فیصلے ایم ٹی آئی سے پہلے بیوروکریٹس کے تاخیری حربوں کی وجہ سے سالوں میں ہوا کرتے تھے۔

گورنمنٹ نے ڈاکٹروں نرسوں اور پیرا میڈکس کی تعداد دگنی کی ہے۔کے پی کے میں ڈاکٹروں کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو پہلے 3 ہزار کے لگ بھگ تھی اسی طرح ڈاکٹروں نرسوں اور پیرا میڈکس کے تنخواہوں میں 100 سے 200 فیصد اضافہ کیا ہے۔

ان ایم ٹی آئیز کو شوکت خانم ہسپتال نے مفت میں کمپیوٹر سافٹ وئیر دیا ہوا ہے جس کے ذریعے آپ ہسپتال کے کسی بھی جگہ پر اپنا ٹیسٹ ریزلٹ چیک کر سکتے ہیں اس کے علاوہ ہر مریض کا اپنا ایم آر نمبر ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ سالوں پرانے ٹیسٹ بھی دیکھ سکتا ہے۔ مثلا سال پہلے میں اگر بیمار ہو کر ہاسپیٹل ایڈمٹ ہوا اور میرے خون کا کوئی ٹیسٹ ہوا سال بعد دوبارہ میں بیمار ہو کر ہاسپیٹل آیا تو اپنے مخصوص نمبر کے ذریعے میرا پچھلا پورا ریکارڈ ہاسپٹل کے پاس دستیاب ہو گا اور میرے پچھلے اور موجودہ ریکارڈ کو سامنے رکھ کر میری بیماری کی تشخیص ہو گی اور دوایئاں تجویز ہونگی۔

اسی گورنمنٹ نے ڈاکٹروں نرسوں اور پیرا میڈکس کی تعداد دگنی کی ہے۔کے پی کے میں ڈاکٹروں کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو پہلے 3 ہزار کے لگ بھگ تھی اسی طرح ڈاکٹروں نرسوں اور پیرا میڈکس کے تنخواہوں میں 100 سے 200 فیصد اضافہ کیا ہے۔

ایم ٹی آئی کی وجہ سے اب ڈاکٹرز سیٹ نہ ہونے کی وجہ سے پروموشن سے محروم نہیں رہتا بلکہ ٹینیور پورا ہونے پر اس کی ترقی ہو جاتی ہے اسی طرح بڑی تعداد میں سپیشلسٹس داکٹر بھرتی کیئے جو پچھلے 20 سالوں میں نہیں ہو ئے ہونگے۔

پورے پاکستان میں بیسٹ کوالٹی ایم آرآئی مشین آغا خان ہاسپٹل کے علاوہ ایچ ایم سی ایم ٹی آئی میں دستیاب ہے۔ ملٹی ہیڈ (18) ٹیچنگ ماییکروسکوپ جو گورنمنٹس کے ساتھ ساتھ پرایئویٹ ہاسپٹلز میں بھی کمیاب ہے، ایچ ایم سی میں دستیاب ہے۔ ریماٹالوجی ڈیپارٹمنٹ، جس کے بارے خوابوں میں سوچا جا سکتا تھا، لیڈی ریڈنگ ہاسپٹل کے ایڈمنسٹریشن نے شروع کر دیا۔ پیڈیاٹرک یورولوجی کنسلٹینٹ جو کے پی میں موجود نہیں تھے، لیڈی ریڈنگ ہاسپٹل نے ریکروٹ کیئے ہیں۔۔ لیڈی ریڈنگ ہاسپٹل میں سٹیٹ آف دی آرٹ فزیو تھراپی ڈیپارٹمنٹ ایسٹیبلش کر لیا اس کے علاوہ اپ گریڈڈ نرسنگ ڈیپارٹمنٹ، 24 گھنٹے ایمرجینسی میں اسسٹینٹ پروفیسر کی موجودگی کے ساتھ ساتھ فری سی ٹی سکین کی سہولت بھی لیڈی ریڈنگ ہاسپٹل میں دیا جا رہا ہے۔

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں گزشتہ سال 1600 غریب مریضوں کی انجیوگرافی اور 300 غریب مریضوں کی انجیوپلاسٹی بالکل مفت کی گی ہیں. دل کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سی سی یو میں بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔

مزید برآں ایچ ایم سی ایم ٹی آئی میں فروری 2017 سے لیکر اب تک 1273 سی ٹی سکین، 822 ایم آر آئی، 2673 الٹراساؤنڈز اور 1430 ایکسریز بغیر پیسے لیئے ان مریضوں کے کیئے گئے جو ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ بقیہ مریضوں کے لیئے مختلف ٹیسٹس کے ریٹس مندرجہ ذیل ہیں جنہیں دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عام آدمی کو کس حد تک فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

ایم ٹی آئی کے تحت انسٹیٹیوٹ بیسڈ پریکٹیس شروع کرایا گیا جس میں نارمل ورکنگ آورز کے بعد ڈاکٹرز دستیاب ہوتے ہیں (تین سے آٹھ بجے) جیسا کہ یہ پریکٹس سی ایم ایچ میں اور کچھ حد تک شوکت خانم میں بھی جاری ہے۔ اس پریکٹس کے مختصر سمری پیشِ خدمت ہے جو ایچ ایم سی ایم ٹی آئی میں کی گئی۔

 

ابھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے لیکن تحریر طوالت اختیار کر چکی۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سمت درست ہے بہتری آ رہی ہے لیکن یہ سب کچھ بہت سارے مفاد پرستوں کے لیئے قابلِ قبول نہیں وہ بہانے بہانے بہتری کی طرف اٹھائے گئے اقدامات کے راستے روڑے اٹکا رہے ہیں۔ ان میں سر فہرست وائے ڈی اے کے پی ہے۔

یاد رہے کےپی کے میں وائی ڈی اے ڈاکٹروں کی نمایندہ جماعت نہیں بلکہ وہ پی ڈی اے پرونشل ڈاکٹر ایسو سی ایشن ہے جس میں تمام تنظیموں کے عہدے دار موجود ہیں ان تنظیموں میں ملگری ڈاکٹران، پیپلز ڈاکٹر فورم، مسلم ڈاکٹرز فورم، وطن پال ڈاکٹرز فورم وغیرہ شامل ہیں۔

وائی ڈی اے شروع ہی سے ایم ٹی آئی کے خلاف رہی اور پرانے فرسودہ اور گلے سڑے نظام کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی اس کے پیچھے کچھ سینئر ڈاکٹرز اور بیوروکریٹس بھی تھے جو اپنے ویسٹد انٹرسٹ کو بچانے کے لیئے اس آرگنائزیشن کو استعمال کر رہے تھے یہ ایکٹ 2013 میں لایا گیا تھا لیکن ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور کورٹس سے سٹے آرڈر کے ذریعئے لیٹ کروایا گیا اور آخر میں کورٹ نے ان کے اعتراضات کو رد کردیا تب جا کر یہ 2015 میں نافذ ہوا۔

ڈاکٹر نوشیرواں برکی کو پرسنلی ٹارگٹ کیا گیا اور اور پشاور ہائی کورٹ کو اس کے خلاف کیس لے گئے کورٹ نے فیصلہ برکی کے حق میں کیا اس کے بعد یہ ہر وقت کسی نہ کسی طریقے سے ایم ٹی آئی کے خلاف سازش میں لگے رہتے تھے۔ آئے روز ہسپتالوں میں ہڑتالوں کے ذریعے مریضوں کے لیئے دشواریاں پیدا کرتے رہے جب یہ سلسلہ ہڑتالوں کا یہاں تک جا پہنچا کہ ہر ہفتے کسی نہ کسی پسپتال کو لاک ڈاؤن کی کال دے دی جاتی (اس کے ثبوت موجود ہیں) تو ایڈمنسٹریشن نے اس کے خلاف ایکشن لیا اور ان کو لاک ڈاؤن نہ کرنے دیا اس کے بعد مریضوں نے کچھ عرصے کے لیئے سکھ کا سانس لیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: پی ٹی آئی ٹائیگرز : اخلاقیات کا شکوہ — سمیع اللہ خان

 

ایچ ایم سی لاک ڈاؤن سے پہلے وائی ڈی اے کے عہدے داروں (خاص کر وہ لوگ جو اب سی جے پی کو ایم ٹی آئی اور ایڈمنسٹریشن کے خلاف درخواست دے چکے ہیں) نے بے حسی کی حدیں عبور کرتے ہوئے آپریشن تھیٹر اور او پی ڈیز کے تالوں میں ایلفی بھرنی شروع کی تھی (ان تمام کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہیں) تاکہ اگلے دن اپنے ہونے والے ہڑتال دکھایا جا سکے اسی وجہ سے ان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کرنے پر ایف آئی آر درج کی گیئں۔ وائے ڈی اے کے ان عہدے داروں کو اپنے سپروائزرز نے انہیں کاموں کی وجہ سے ٹرمینیٹ بھی کیا تھا جو بعد میں اوتھ آن ایفیڈیوٹ جمع کرا کر بحال ہو گئے۔

اس کے علاوہ ان کے خلاف ایک اور انکوائری بھی کی گئی جس میں ان کو اپنے کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف کام کرتے پایا گیا ہے اور ان کے خلاف ایکشن کی استدعا کی گئی ہے بد قسمتی سے آج یہی لوگ ایم ٹی آئی اور ایڈمنسٹریشن (جنہوں نے ان لوگوں کے آئے روز کے ہڑتالوں کو بریک لگائی تھی) سے اپنا انتقام لینے کے لیئے اس موقع کو استعمال کر عام آدمی کے مسائل میں اضافہ کرنا چاہ رہے ہیں۔

کوئی بھی قانون پرفیکٹ نہیں ہوتا اور بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے لیکن جس خود مختاری کی ڈاکٹرز کمیونٹی خود مدتوں ڈیمانڈ کرتی آ رہی تھی آج اس کو ایک محدود حلقہ اپنی پرسنل انٹریسٹ کی بھینٹ چڑھانے پر تلی ہوئی ہے۔ یہ حقائق سامنے لانے کا مقصد یہ ہے اس محدود حلقے کو ایکسپوز کر کے اصل حقائق عام آدمی کے سامنے لائے جایئں تاکہ بہتری کا یہ سفر یونہی چلتا رہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. جاویداقبال on

    اچھا مضمون ہے۔ ہسپتالوں کو خودمختاری دینا ایک اچھا اقدام ہے۔ لیکن صرف خودمختاری دینے سے نتائج حاصل نہیں ہوتے۔درست بنیادوں پر مزید کام کی بھی ضرورت ہے۔ایک اچھا کام کرنے کے بعد مستقبل کی ضروریات پر بھی کچھ لکھیں تاکہ مزید صورتحال واضح ہو اور آئندہ کیلئے راستہ میسر ہو۔وگرنہ ہمارے یہاں لوگ ایک اچھا کام کرکے صدیوں اسکا کریڈٹ وصول کرتے رہتے ہیں۔ویسے اس وقت ضرورت ہے کہ حکومتوں کے اقدامات پر جامع تبصرہ کیا جائے۔تاکہ شہریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: