تارکین ِ وطن کا اہم مسئلہ —- شاہانہ جاوید

0
  • 44
    Shares

پاکستان سے روشن مستقبل کے خواب آنکھوں میں بسائے سینکڑوں پاکستانی یورپ، یو کے، اور یوایس اے جاتے ہیں کہ ایک بہتر طرز زندگی اور خوشحال زندگی گذار سکیں، وہاں جاکر سالوں کی محنت اور ریاضت کے بعد ایک اچھا لائف اسٹائل حاصل کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب حاصل کرنے میں وہ ایک بڑی چیز جو کھو دیتے ہیں وہ ہے اپنا مشرقی طرز زندگی، کچھ گھرانے مکمل اسلامی طرز میں ڈھل جاتے ہیں اور کچھ بالکل مغربی انداز اپنالیتے ہیں۔ جب تک بچے ان کے قابو میں رہتے ہیں اور خود مختاری کی عمر کو نہیں پہنچتے تو ان کی پہنچ میں رہتے ہیں لیکن مغرب میں رہنے والوں کا گھمبیر مسئلہ بچوں کےبڑے ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے وہ ان کی شادیوں یا رشتوں کا ہے۔ وہاں رہنے والے پاکستانی برسوں نیشنلٹی کے لیے اس ملک میں رہتے ہیں ان کے بچے اس ماحول کے عادی ہوجاتے ہیں۔ لڑکے لڑکیاں اس ملک کے رنگ میں رنگ کر ویسی ہی زندگی گزارتے ہیں، وہ چونکہ پیدائشی اس ملک کے شہری ہوتے ہیں انھیں ہر سہولت اس ملک کے حساب سے ملتی ہے یہ بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں وہاں کے ماحول کے مطابق آزادی مانگتے ہیں۔

اب ماں باپ کی مشکل شروع ہوتی ہے۔ لڑکوں کی تو خیر لڑکیوں پر پابندی لگانے لگتے ہیں، انھیں پاکستان لے جاکر شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بچیاں پاکستانی ماحول کی عادی نہیں ہوتیں تو وہ صاف منع کردیتی ہیں یہاں باپ، بھائی، چچا کی غیرت جاگ جاتی ہے اور وہ تشدد سے بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بچیوں کو اپنے حقوق کا پتہ ہوتا ہے کہ اٹھارہ سال کے بعد کوئی زبردستی نہیں کرسکتا تو وہ مزاحمت کرتی ہیں۔ کچھ پاسپورٹ وغیرہ لیکر متعلقہ ایمبیسی سے مدد طلب کرتی ہیں اور ایمبیسی انھیں ماں باپ کے چنگل سے نکال لے جاتی ہیں اور واپس اسی ملک بھیج دیتی ہیں جہان کے وہ شہری ہوتے ہیں۔ بہت سی لڑکیوں کی زبردستی شادی بھی کردی جاتی ہے اور وہ ایک تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ بہت سی لڑکیاں اپنوں کے تشدد سے جان سے چلی جاتیں ہیں اور باپ چچا بھائی طبعی موت قرار دے کر دفنا بھی دیتے ہیں ایسے بے شمار واقعات پاکستان کے کئی شہروں میں ہوچکے ہیں۔ ایک نسل وہ ہوتی ہے جو یہاں سے جانے والے پاکستانیوں کی مقامی لڑکیوں سے نیشنلٹی کے نتیجے میں جنم لیتی ہے ان کا معاملہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا ہوتاہے، وہ کہیں کے نہیں رہتے۔

یہاں میں حالیہ ہونے واقعہ کا حوالہ دوں گی، گجرات میں اطالوی نژاد ثناء چیمہ کا ہے جو اٹلی میں کار ڈرائیونگ اسکول میں کام کرتی تھی ماں باپ کے ساتھ جنوری میں پاکستان آئی اور اٹھارہ اپریل کو اس کے گھر والوں کے مطابق ہارٹ اٹیک سے اس کی موت واقع ہوئی لیکن کسی کی مخبری سے علاقے کے ایس ایچ او کو پتہ چلا کہ لڑکی کو باپ اور چچا نے تشدد کر کے جان سے مارا اور تدفین کردی تو ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا، باپ اور بھائی کو گرفتار کرلیا گیا، چچا ہنوز فرار ہے۔ مقامی مجسٹریٹ نے قبر کشائی کا حکم دیا اور پوسٹ مارٹم کیا گیا، اب رپورٹ ہفتہ بھر میں آئے گی۔ اس قسم کا واقعہ یہ پہلا نہیں بلکہ اس سے پہلے کئ لڑکیاں تشدد کا شکار ہو کر مر چکی ہیں اور کوئی شنوائی نہیں ہوئی، کئی لڑکیوں کی جبری شادی کردی گئی اور کئی فرار ہوکر واپس چلی گئیں۔ کتنا بڑا المیہ ہے اپنی نازوں کی پالی کو اپنے ہاتھ سے مار دینا۔

جب ماں باپ یورپ یا امریکہ میں اپنے بچوں کو پروان چڑھاتے ہیں تو اس وقت وہ بہت خوش ہوتے ہیں، ان کے رہن سہن بول چال پہ وہاں کے رنگ ڈھنگ میں ڈھلنے کے بعد اچانک ان میں غیرت اور عزت کی رگ پھڑک اٹھتی ہے؟ اولاد آزادی کا فائدہ اٹھا کر کسی نان مسلم یا اپنی مرضی کے شخص سے شادی کرنے کی خبر دیتی ہے تو ان کا خاندانی خون جوش مارنے لگتا ہے اور وہ کسی بھی بہانے سے پاکستان لا کر اپنی بیٹی کو کسی ان پڑھ جاہل سگے سے شادی کرکے زندہ درگور کردیتے ہیں یا پھر تشدد کرکے مار ہی ڈالتے ہیں۔

اس میں سراسر والدین کا قصور ہوتا ہے جس ماحول میں بچہ پلے گا وہ وہی اپنائے گا۔ اس وقت تو آپ بہت مطمئن تھے۔ آپ نے اس وقت انھیں ان کی حدود کیوں نہیں بتائیں اور انھیں وہ ماحول کیوں نہیں دیا جو آپ چاہتے تھے، جب وہ اس ماحول میں رچ بس گئے تو آپ ان پر اپنی مرضی ٹھونسنے لگے۔ ایسا نہین ہوتا۔ آپ کو بچوں کی تربیت ہی اس طرح کرنی چاہیئے تھی کہ وہ وہاں رہتے ہوئے بھی مشرقی اقدار کو پسند کرتے، ان کے لاشعور میں یہ بات بٹھاتے کہ ہم یہاں وقتی طور پر رہ رہے ہیں ہماری اصل مشرق ہے، لیکن اس وقت ان کے مغربی رنگ ڈھنگ، فر فر انگریزی یا بدیسی زبان بولنے پر فخر محسوس کرنے والے والدین ایک دم سے اتنا کیسے بدل جاتے ہیں؟ کیونکہ وہ دورنگی زندگی جی رہے ہوتے ہیں اور جب ان کی بے بے، بی جی، ماں جی، یا بابا جی بچوں سمیت واپس بلاتے ہیں تو دوڑے چلے آتے ہیں ان کے بزرگ بچوعں کے رشتے بھی طے کردیتے ہیں جو وہ بچے بالکل نہین مانتے، دوسرا نکتہ یہ بھی ہوتا ہے کہ چاچے، مامے، بوا کے بیٹے سے بچی کی شادی کروا کر باہر سیٹ کرلیں گے اب لڑکی نے جس چاچے مامے بوا کے بیٹے کو دیکھا نہیں ملی نہیں اس سے زبردستی کیسے شادی کرسکتی ہے، نتیجہ تشدد اور پھر موت کی صورت نکلتا ہے۔

تارکین وطن کو بچپن میں ہی اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرنی چاہیئے کہ وہ غیر ملک میں رہتے ہوئے اپنا تشخص نہ بھولیں۔ اس میں مذہب اسلام سے قربت ان کے مسئلے کو حل کرنے میں بہت مدد دے گی۔ اپنے بچوں کو حلال حرام کا فرق سمجھائیں، جائز ناجائز کی تمیز دین اور بڑوں کا ادب چھوٹوں کا لحاظ سکھائیں، بہت سے خاندان غیر ممالک میں رہتے ہوئے بھی اپنی روایات نہیں بھولے۔ اپنے بچوں پہ زبردستی اپنے فیصلے نہ ٹھونسیں بلکہ ان سے مشورہ بھی لیں انھیں اپنی اسلامی خاندانی حدود بھی بتادیں، تاکہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: