کیا مسلمان اگلا چاند نکلنے پر ویمپائرز بننے والے ہیں؟ عبدالرحمان قدیر

0
  • 12
    Shares

آج کل کچھ عجیب سے احساسات کا سامنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کچھ ہونے والا ہے جو کہ ہر ایک کے دل، دماغ، حتٰی کہ ہماری روحوں پر بھی اثر انداز ہوگا۔ اور یہ بات صرف ایک احساس تک مبنی نہیں ہے۔ یہ ہو کر رہے گا۔ یکدم پوری دنیا میں ایک ہلچل سی ہوگی۔ سلیقے بدل جائیں گے۔ جیسے کہ ہر طلسمی عمل میں رات اور چاند کا بہت گہرا تعلق ہوتا ہے، اس بار بھی ایسا ہوگا۔ وہ یہ کہ اگلے مہینے پہلے دن کا ہلال طلوع ہوتے ہی سب مسلمان ویمپائرز بن جائیں گے۔ ہاں کچھ نابالغ بچے اس عمل سے اثر انداز نہیں ہوں گے۔ اور یہ بات ایسے ہی نہیں کہی جارہی۔ باقاعدہ دلائل اور اثرات بھی مندرجہ ذیل ہیں۔

سورج کی روشنی کا بے پناہ خوف:
آپ سورج میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔ ایک خوف ہوگا۔ ہر وقت ایسا لگے گا کہ باہر جاتے ہی کھال جل جائے گی اور موت ہی واقع ہو جائے گی۔ مگر۔۔۔ یہ صرف ایک خوف ہی نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہوگی۔ آخر یہ رمضان مئی اور جون کے مہینوں میں وقوع پذیر ہوگا۔ اور گرمی، وہ بھی روزہ دار ہوتے۔۔۔ اس سے مہلک اور کیا ہو سکتا ہے؟ اس لیے۔۔۔ روزہ رکھ کر آپ دن کے وقت اپنی دہلیز سے قدم باہر رکھنے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔

اعصاب شکن بھوک:
اعصاب شکن بھوک چھائی رہے گی۔ سارا دن بالکل ایک خون آشام کی طرح۔ اور بے شک ناقابل برداشت بھی ہوگی۔ مگر۔۔ آپ پھر بھی برداشت کریں گے۔ کیوں کہ بے شک آپ اچھے رہنا چاہیں گے۔ آپ بھوکے کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ اپنے خالق اور رازق کی خوشنودی کے لیے اس بھوک کو نہ صرف قابو میں رہیں گے بلکہ تمام فرائض بھی نبھاتے رہیں گے۔ اور صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک مکمل ماہ۔ اور یقینا” اس بھوک میں بھی ایک خوبصورت احساس ہوگا۔ آخر یہ ایمان کا معاملہ ہے۔ اور یہ سلسلہ غروبِ آفتاب تک جاری رہے گا۔

دن کو سونا، راتیں جگنا:
آپ یہ تو جانتے ہیں اور اکثر فلموں میں بھی دیکھا ہوگا کہ ویمپائرز سارا دن سوتے ہیں، اور پھر سورج ڈھلتے ہی جی اٹھتے ہیں۔ تو جی رمضان میں یہ ہوگا کہ اکثر نمازِ تراویح رات کو دیر سے پڑھی جاتی ہے۔ اور رمضان میں قیام اللیل کی بھی بہت فضیلت ہے۔ اور لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ثواب کمایا جا سکے۔ اور اسی طرح اکثر لوگ صلاۃ الفجر کے بعد ہی سوتے ہیں۔ بالکل اس وقت جب سورج طلوع ہونا شروع ہو جائے۔ اور اسی اثناء میں سارا دن سوئے رہتے ہیں۔ اور کچھ لوگ تو نیند میں نمازیں بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اگر آپ فرائض ہی ادا نہیں کر سکتے تو بھوکا رہنے کا فائدہ؟

جامِ احمر پینا، اور بہت پینا:
احمر مطلب سرخ۔ ایک سرخ رنگ کا جام۔ آپ آزادی ملتے ہی، میرا مطلب ہے روزہ کھلتے ہی سرخ رنگ دیکھ کر آپ اپنے ہوش کھو بیٹھیں گے، شکار پر ٹوٹ پڑیں گے اور شکار میں موجود وہ جام پیتے جائیں گے، اور ہو سکتا ہے شکار کی گردن ہی ٹوٹ جائے۔ اوہ رکیے۔۔۔ یہاں جامِ احمر سے مراد “لال شربت” ہے اور شکار سے مراد گلاس یا پیالہ ہے۔ ہاں۔۔۔۔ کچھ لوگوں کے لیے جگ بھی ہو سکتا ہے۔ اور کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جن کو ڈرم بھی کم پڑ جائے۔

رات کی آزادی اور زندگی:
رات کو ہر وقت چہل پہل ہوتی ہے۔ چونکہ روزہ بھی افطار ہو چکا ہوتا ہے اور مرجھائے ہوئے چہرے کھلکھلا اٹھتے ہیں۔ باتیں ہوتی ہیں۔ محلوں میں رواج ہوتا ہے مل بیٹھنے کا۔ اور اپنی بات کریں کے ایک وقت تھا کہ ساری تراویح کے بعد سے لے کر وقت سحر تک جاری رہتی تھی۔ اور اکثر مقامات پر ابھی بھی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ خواتین کو بھی جب وقت مل جاتا ہے تو اکٹھے ہو کر تسبیح نماز اور دیگر عبادات کا مل کر اہتمام کرتی ہیں۔ اور اسی بہانے دوسروں کے “معاملات” پر بات کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔

ایک خاص اتحاد:
انڈر ورلڈ سیریز تو دیکھی ہی ہوگی آپ نے۔ تمام ویمپائر مخلوق کیسے مل جل کر رہتی ہے۔ ہر ایک کا خیال رکھا جاتا ہے۔ بدقستی سے اب مسلمانوں کو صرف رمضان میں ہی تھوڑا بہت اتحاد آزمانے کا خیال آتا ہے۔ پھر بھی شکر ہے۔ مسجدوں میں نمازوں اور دروس کے لیے اکٹھے ہونا۔ اور ایک دوسرے کی دعوتیں اور اہتمام۔ اکثر خاندانوں میں آدھے سے زیادہ رمضان اجتماعی افطار ہوتی ہے جو کہ روایاتِ اسلامیہ کو بہت ہی خوبصورت پہلو ہے۔

اور اس تحریر کا مطلب تھا استعارتا” ویمپائرز۔ اور بالکل دنیا کہ ایک بہت بڑا حصہ ایک مہینے کے لیے اپنے انداز مکمل طور پر بدل دے گا۔ تمام مسلمان ایک خوبصورت اور طلسمی احساس جو روح تک کو سرشار کر دے، اس احساس سے دوچار ہونگے۔ دنیا بھلا کر عبادتیں ہونگی، روزے رکھے جائیں گے۔ نیکیاں کمائی جائیں گی، دعوتیں ہونگی۔ افطاریاں ہونگی۔۔۔ کسی نے کیا خوب ہی کہا ہے کہ “مجھے دعوتِ افطاری سے پیار ہے”۔

مگر۔۔۔ کوشش کیجیے کہ خالق کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔ کوئی اس وجہ سے اپنی افطاری نہ کھو دے کہ اسکے پاس خریدنے کی استطاعت نہیں تھی۔ کوشش کیجیے کہ آپ کے اردگرد روزے رکھنے والے افطار بھی پیٹ بھر کر کریں۔ خوش اخلاقی سے پیش آئیے۔ اور اپنے رشتوں کا خیال رکھیے۔ بہت ہی خوبصورت مہینہ ہے، کوشش کیجیے کہ یہ مہینہ ہر انسان کے لیے خوبصورت ہو۔ مگر یاد رکھیے، رمضان کا مقصد صرف ایک مہینے کے لیے بہتر انسان ہونا نہیں، بلکہ رمضان کا تقاضا یہ ہے کہ تمام زندگی ہی ایک بہتر شخص بن کر گزاری جائے۔

سب کو دعا میں یاد رکھیے۔ اور ایک چیز ہرگز نا بھولیے گا جس کا نام ہے “دعوتِ افطاری”۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: