حسین حقانی نیٹ ورک : ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 122
    Shares

ویسے کسی بھی خیال کا انسان کے سر پر سوار ہو جانا ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ ایک ایسی کیفیت جو انسان سے بہت کچھ کروا لیتی ہے۔ 90 کی دہائی میں ہم پاکستانیوں کے سر پر کرکٹ کا سودا بھی کچھ بڑے ہی زوروں سے سوار تھا۔ تب ہم نے ایک ورلڈ کپ جیتاتو ہم بحیثیت قوم، بڑے زیادہ پراعتماد ہو گئے۔ کچھ زیادہ ہی خود اعتماد۔ پھرجب دوبارہ ورلڈ کپ قریب آیا تو وطن عزیز میں ورلڈ کپ کے کچھ گیت تیار ہوئے جو صبح شام ٹی وی پر آیا کرتے اور قوم کا جذبہ بڑھتا ہی جاتا۔ ان میں سے ایک گیت یہ تھا۔ ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار  جستجو جو کرے وہ چھوئے آسمان محنت اپنی ہو گی، پہچان کبھی نہ بھولو پاکستان کبھی نہ بھولو۔۔۔۔۔۔ یہ گانا آج تک حب الوطنی اور جوش کے لئے مقبول ہے مگر اس گانے کا ذکر میں نے ایک خاص تناظر میں کیا ہے۔ اس کے شروع کے دو مصرعے دوبارہ پڑھتے ہیں اور آگے کے مصرعوں کو وقتی طور پر بھول جاتے ہیں: ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار  جستجو جو کرے وہ چھوئے آسمان۔  واقعی یہ بڑا مثبت خیال ہے۔ جس کے دل میں کچھ کر گزرنے کی خواہش ہو اور سر میں کسی چیز کا سودا سمایا ہو، جس کو کوئی خیال اتنا اکساتا ہو کہ وہ اس کے لئے حیات کے ہم معنی بن گیا ہو، وہ شخص واقعی کچھ نہ کچھ کر ہی گزرتا ہے مگر کیا یہ جذبہ جنوں ہی کسی شخص کے لئے کافی ہے؟ جنون تو انسان کو کسی بھی شے کا ہو سکتا ہے جیسے اندھی طاقت کو حاصل کرنے کا جنون، کسی بھی قیمت پر دولت پانے کا جنون، کسی بھی نفسانی خواہش کا جنون، اب اس تناظر میں اس شعر کو دوبارہ پڑھیے: ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار جستجو جو کرے وہ چھوئے آسمان۔  اِس تناظر میں یہ شعر ہر ہر طاقت، دولت، قوت، اقتدار اور دنیاوی خواہشات کے لوبھی، طاقت کے پجاری کا گیت معلوم ہوتا ہے اور ہمارے ذہن میں نہ جانے کیوں بس ایک ہی تصویر ابھرتی ہے اور وہ ہے حسین حقانی کی۔ جی ہاں وہی حسین حقانی جو پاکستان کے امریکا میں سفیر تھے اور جن کے ہاتھوں امریکی حکومت کو وہی پیارا سا نامہ بھیجا گیا تھا جو ہماری صحافتی زبان میں ’’میمو گیٹ‘‘ کہلاتا ہے۔ مگر تھا کیا یہ میمو گیٹ؟ اور حقانی صاحب کا اس میں کیا قصور تھا بھلا؟ چلئے ہم حقانی کے ماضی سے بات شروع کرتے ہیں، اُن کے زمانہ طالب علمی سے۔

حسین حقانی کراچی کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ایک عام پس منظر کا حامل یہ نوجوان تعلیم میں بھی غیر معمولی نہ تھا۔ یادش بخیر اس دور کے ہونہار بچوں کی بھیڑ چال یعنی ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے بجائے حقانی صاحب بہ مشکل جامعہ کراچی میں داخل ہو پائے۔ اس دور میں طلبہ یونین بحال تھیں اور یہ یونینز طلبہ میں سیاست کا شعور بھی پیدا کرتی تھیں اور ان میں رہنمائی کی اہلیت بھی پیدا کرتی تھیں۔ اب حسین حقانی کو نمایاں ہونے کا ایک راستہ نظر آیا مگر مسئلہ یہ تھا کہ جامعہ کراچی میں طلبہ یونین کے انتخابات جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ جیتتی تھی۔ اس صورت حال میں طاقت، قوت، مقام کی خواہش حسین حقانی کو اسلامی جمعیت طلبہ میں لے آئی۔ ایک راوی کا بیان ہے کہ جب حقانی صاحب جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فار م کی بدولت یونین کا انتخاب جیت گئے تو انہوں نے یہ تاریخی جملہ ادا کیا کہ: ’’ہمارے گلے میں فتح کا ہار ہے اور ہمارے دشمنوں کی قسمت میں ہار ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھئے: اسٹریٹ سمارٹ: حسین حقانی کے روز و شب اور قوی و ضعیف لمحات

 

مگر جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اِس ambitious نوجوان کو اصل سیاست کی دنیا میں جماعت اسلامی کا کوئی مستقبل نظر نہ آیا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر حسین حقانی نے جماعت اسلامی سے جان چھڑائی۔ مگر جماعت چھوڑنے کے باوجود اولاً حسین حقانی کی تحریروں میں (جو روزنامہ جنگ میں بھی ایک عرصے تک آتی رہیں) رائٹ کے نظریات کی جھلک نظر آتی اور با آسانی معلوم ہو جاتا تھا کہ اُن کی سیاسی تربیت جمعیت میں ہوئی ہے۔ یادش بخیر آج سے کوئی 18 سال قبل اِن کا ایک کالم بعنوان ’’مودودیت کے جراثیم‘‘ اخبار جنگ میں چھپا تھا۔ یہ کالم دراصل ایک کالم کے جواب میں لکھا گیا تھا جس میں مخالف نے کہا تھا کہ ’’حقانی صاحب کے کالم پڑھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان میں مودودیت کے جراثیم ہیں‘‘۔ جواباً حقانی نے بڑے فخر سے لکھا تھا کہ جراثیم کیا وہ تو پورے کے پورے، سر تا پا مودودی صاحب کی ہی عنایات سے خود کو لدا محسوس کرتے ہیں اور اگر کوئی اچھائی اُن کی ذات میں ہے تو مودودی صاحب کی ہی صحبت کی دین ہے۔ شائد آج سے اٹھارہ سال قبل بھی حقانی کو رائٹ سے اپنے’’ جذبہ و جنون‘‘ یعنی طاقت کے حصول کی کچھ امیدیں باقی تھیں۔ اسی دوران انہوں نے ایک ناکام پارٹی بھی بنائی مگر بات بنی نہیں۔

مگر ظاہر ہے کہ بقول شاعر اُن کا ’’جذبہ جنون‘‘ انہیں نت نئی راہیں سجھاتا رہا۔ پہلے اُنہوں نے نواز شریف اور پھر زرداری کی قربت حاصل کی اور جب 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو یہی حقانی صاحب امریکا میں پاکستان کے سفیر بننے میں کامیاب ہوگئے۔ مگر آسمان کو چھو لینے کی خواہش رکھنے والے اِس شخص کے سامنے اب ایک نئی منزل تھی۔ یعنی ذاتی ambition کو پورا کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ سے قریبی تعلق پیدا کرنا۔ اب حقانی نے زرداری صاحب کو اپنے شیشے میں اتار ہی لیا کہ وہ امریکا سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مدد طلب کریں۔ وہ اس طرح غالباً پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تنائو کو بڑھا کر اپنے لئے امریکا میں ذاتی کامیابی کے راستے کھولنا چاہتے تھا مگر اس قبیح سازش کا بھانڈا بیچ بازار میں پھوٹ گیا۔

مختصراً یہ کہ زرداری صاحب کی حکومت ختم ہوئے اب تقریباً 5 سال مکمل ہو رہے ہیں مگر حقانی امریکا میں ہی ہیں۔ عدالت نے حال ہی میں اس سات سال پرانے میمو گیٹ کیس کو دوبارہ کھولتے ہوئے اُن کے وارنٹ بھی جاری کردئیے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ جذبے اور جنون سے بھرے ہوئے اس شخص نے امریکا میں اپنا آشیانہ بنا لیا ہے اور وہاں سے کسی کو لانا پاکستان کے لئے ممکن ہی کب ہے۔ مغربی اخباروں بشمول نیو یارک ٹائمز میں حقانی کے کئی مضامین چھپ چکے ہیں جن میں وہ پاکستان کے خلاف خوب خوب ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ پاکستان کی تمام امداد روک دی جائے۔ کبھی کسی مضمون میں الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کو پروان چڑھا رہا ہے۔ یوں حقانی اپنے ملک کی عزت پر کالک پوت کر اپنا مقام امریکا میں بلند کر رہے ہیں۔ وہی پاکستان جس کے وہ خود سفیر تھا، وہی پاکستان جس نے اِن جیسے معمولی پس منظر والے شخص کو سب کچھ دیا۔ حیرت اس بات پر نہیں ہوتی کہ آج اُن کی ٹرین کس اسٹیشن پر کھڑی ہے کیونکہ پاکستان کو گالی بک کر دیگر ملکوں میں عزت، مقام، توجہ پانے والے تو بہت سے غدار پاکستانی پہلے بھی موجود ہیں بلکہ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ حقانی کی ٹرین کا پہلا اسٹیشن اسلامی جمعیت طلبہ تھا۔ مگر آج یہی حقانی پاکستان کے خلاف عالمی تحریک کا حصہ ہیں جو انہی قوتوں کی سرکردگی میں جاری ہے جن کے خلاف جماعت اسلامی اور مودودی صاحب کی کتب بھری پڑی ہیں۔ واقعی طاقت، دولت، اقتدار، اختیار، شہرت، آسائش اور نفسانی خواہشات کا سودا بھی انسان میں بڑا جوش پیدا کر سکتا ہے۔ و اقعی ایک بے حد معمولی شخص بھی صرف اپنے جنون کی وجہ سے بہت آگے جاسکتا ہے۔ مگر کس قیمت پر؟ شاید کسی بھی قیمت پر۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: