جمہوری نظام، سیاسی مٹیریل اور بہتر آپشن : شہزاد حسین

0
  • 38
    Shares

مجھے عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں۔ وجہ عمران خان نہیں، یہ سسٹم ہے جو ڈیلور کرنے کی خاص اہلیت نہیں رکھتا۔ جمہوریت، خاص کر پاکستانی جمہوریت طرح طرح کی مثلحتوں میں الجھی، زمینی حقائق میں جکڑی ایک مجبوری کا نام ہے۔ ہمارے ہاں پرفارمنس پر ووٹ ڈالنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ بھلا ہو عمران خان کا جس نے قومی تاریخ میں پہلی بار ووٹر کو پرفارمنس کو معیار بنانے کی ترغیب دی ورنہ عوام کی ایک بڑی تعداد لسانیت، زبان، ذاتی تعلقات، مراسم، شادی و جنازے میں شرکت اور مشترکہ مفادات جیسی لغویات کی بناء پر ووٹ ڈالتی آئی ہے۔

ایسی جمہوریت کو سپورٹ محض مجبوری کی بناء پر کرتا آیا ہوں کہ فی الوقت یہی سکہ رائج الوقت ہے۔ ہم سب ہی اپنے تعلیمی نظام سے شدید نالاں ہیں، اسکے باوجود اسی نظام کے تحت اپنے تمام تعلیمی مراحل طے کرتے آئے ہیں۔ بلکل اسی طرح، میں بھی مجبوراً موجودہ سیاسی نظام کو سپورٹ کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہوں کیونکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گھر بیٹھے رہنا، مسئلے کا حل نہیں۔

سو، فی الوقت اسی جمہوری نظام کے تحت ملکی نظام کو چلنا ہے۔ موجودہ سیاسی مٹیریل میں عمران خان کو سپورٹ کرنے کی کچھ چیدہ چیدہ وجوہات ہیں:

– دوسری جماعتوں کے برعکس تحریک انصاف کے ہاتھوں پر خون نہیں۔ سندھ میں متحدہ و پیپلز پارٹی کی مثال سامنے ہے۔ متحدہ کا militant ونگ، ٹارگٹ کلرز کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ قتل و غارت میں سر تا پیر ڈوبی جماعت کو سپورٹ کرنا میرے ضمیر کے بس سے باہر ہے، باوجود اس بات کے میرا تعلق اردو اسپیکنگ گھرانے سے ہے۔ امن کمیٹی، عزیر بلوچ و راؤ انوار جیسے فیکٹرز نے قدرے پرامن ماضی رکھنے والی پیپلز پارٹی کے حال اور مستقبل کو اس حوالے سے ہمیشہ کے لیے داغ دار کرڈالا ہے۔ پنجاب میں ن لیگ کی حکومت اس حوالے سے کسی سے بھی پیچھے نہیں رہی۔ متحدہ اور پیپلز پارٹی کے برعکس، ن لیگ نے “سیاسی ایکشن” کو عملی جامہ پہنانے کے لیے براہ راست سرکاری طاقت کے استعمال کو ترجیح دی۔ عابد باکسر جیسے پولیس افسروں کو نرم ترین الفاظ میں سرکاری ٹارگٹ کلرز کہا جاسکتا ہے۔ اسکے علاوہ ماڈل ٹاؤن میں کھیلی جانے والی ناحق خون کی ہولی کبھی بھلائی نہ جاسکے گی۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کا ریکارڈ قابل تقلید ہے۔ کسی قسم کی دہشتگردی، غنڈہ گردی، ہڑتالیں، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگز، قتل و غارتگری سے تحریک انصاف کا دامن صاف شفاف ہے۔ یہ فرق تحریک انصاف کو تمام بڑی جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے۔

– عمران خان سیاست میں اپنے بل بوتے پر آیا۔ کسی جرنیل نے اسے لانچ نہیں کیا۔ نہ تو عمران خان کسی جنرل ایوب کی کابینہ کا حصہ تھا نہ ہی کسی ضیاء الحق کے گھر کے باہر مٹھائی کا ڈبہ پکڑے کھڑا رہا۔ سیاست کو عبادت ایک ایسا شخص ہی سمجھ سکتا ہے جس نے کسی جرنیل کی کاسۂ لیسی کے ذریعے کوئی بڑا عوامی عہدہ کبھی حاصل نہ کیا ہو۔ جرنیلی جمپ اسٹارٹ کی ضرورت صرف ایسی لوگوں کو ہی ہوتی ہیں جو سیاست میں دو کو چار، چار کو آٹھ بنانے کی غرض سے آئے ہوں۔

– عمران خان کا کوئی ذاتی کاروبار نہیں۔ وہ کسی فیکٹری کا مالک نہیں۔ بیوپاریوں کو حاکم بنانا کسی بھی ملک کے لیے کبھی سود مند نہیں رہا۔ کاروباری آدمی کے ہاتھوں ملک کی باگ ڈور تھمادینے سے conflict of interest کا ہمیشہ احتمال رہتا ہے۔ جو افراد ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال دینا چاہیں، انکے لیے پیشگی عرض ہے کہ ٹرمپ کی صدارت سنبھالنے کے بعد سے امریکہ کی عالمی برادری میں جو سبکی ہورہی ہے، اسکو ضرور ملحوظ خاطر رکھیں۔ کاروباری انسان کی فطرتاً پہلی ترجیح اسکا کاروبار ہوتا ہے، ملک نہیں۔

عمران خان کی شخصیت، انکے charisma قابلیت اور اپنا نکتہ نظر سمجھانے کی قابلیت انھیں ملک کے موجودہ تمام سیاسی لیڈروں سے ممتاز کرتی ہے۔ دنیا بھر میں خان صاحب کی عزت کی جاتی ہے، مختلف پروگراموں میں انھیں مدعو کیا جاتا، انھیں دلچسپی سے سنا جاتا ہے، چاہے پڑوسی ملک ہو یا مغربی ممالک۔ خان صاحب میں پاکستان کا مقدمہ دنیا بھر کے سامنے effectively پیش کرنے کی قدرتی صلاحیت ہے۔ اس معاملے میں دوسری جماعت کے لیڈران کا خان صاحب سے کوئی مقابلہ نہیں۔

یہی کچھ وجوہات ہیں، جن کی بناء پر عمران خان کو اگر بہتریں نہیں بھی تو کم سے کم دوسرے سیاسی مٹیریل سے بہت بہتر قرار دیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عمران خان ہمیں کنفیوز کر رہا ہے ۔ محمودفیاض

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: