جذباتی بول اور عقلی آراء —– محمد تہامی بشر علوی

0
  • 61
    Shares

زبیر نے اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ آپ چوں کہ زبیر کو جانتے نہیں یا جانتے ب ی ہوں تو اس سے آپ کو کوئی رشتہ نہیں۔ اس کی اس کامیابی کی خبر ملنے پر آپ کے جذبات میں کسی قسم کی کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوگی۔ زبیر کے ساتھہ آپ کی وابستگی آپ کے جذبوں میں اتری ہوئی نہیں تھی۔ اس لیے اس کی پہلی پوزیشن لینے کی یہ خبر آپ کے لیے زیادہ سے زیادہ بس ایک اچھی خبر ہے۔ فرض کرتے ہیں کہ آپ کے بیٹے کا نام ایان ہے۔ اسی اوپر والی خبر میں زبیر کا نام ہٹا کر آپ کو یوں خبر دی جائے کہ “ایان نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے”۔ اب یہ خبر آپ کی معلومات میں ہونے والا محض ایک اضافہ نہیں ہو گا بلکہ ایان سے جڑا جذباتی تعلق آپ کے جذبات میں سرور گھول دے گا۔

ایک صاحب کی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ناراضگی چل رہی تھی۔ اس کے بیٹے نے دوبئی ملازمت کے حصول کی غرض سے وہاں کے کسی صاحب کو رقم تھما دی۔ پڑوسی کو خبر ملی تو اس نے چھوٹتے ہی تبصرہ کیا کہ “وہ شخص پیسے ہڑپ کر جائے گا، یہ لڑکا دوبئی نہیں جا سکے گا” اس صاحب نے پڑوسی کی دشمنی کو خیال میں لا کر یہ خیال کیا کہ یہ دشمنی کی وجہ سے منفی بات کر رہا ہے۔ میرا بیٹا ان شاء اللہ ضرور دوبئی جائے گا۔ یہ بیٹے سے جذباتی تعلق کی وجہ سے یہی خیال جمائے بیٹھا تھا کہ بس میرا بیٹا وہاں چلا جائے گا۔ مگر وہ جس شخص کے ذریعے جانا چاہتا تھا اس کی درست معلومات پڑوسی سے ملنے کے باوجود اس نے پڑوسی کی بات اس وجہ سے ٹھکرا دی کہ یہ شاید دشمنی میں منفی بات کہہ رہا ہے۔ جذباتی بہاو اور بدگمانی نے اسے درست بات معلوم ہو جانے کے باوجود بھی اس پر غور کی مہلت نہ دی۔

جذباتی بہاو عقلی صلاحیت کو اپنا تابع کر دیتا ہے۔ انسان کو سنجیدہ فیصلوں میں عقل سے مدد لینے میں جذبات کے عمل دخل سے خود کو بچانا ہوتا ہے۔ جذباتی بہاو کے خلاف پڑنے والا عقلی فیصلہ گو انسان پر سخت ناگوار گزرتا ہے مگر وہ اسے کسی برے انجام کی ناگواری سے بچا لیتا ہے۔

ایسے نوجوان جوڑے بھی دیکھے گئے ہیں کہ جنہوں نے اس اس جگہ محبت کے رشتے استوار کیے کہ ان کا آپس میں اکٹھے ہونے کا عمر بھر کوئی امکان ہی نہ تھا۔ مگر وہ جذباتی لذتوں میں کھو کر عقل کو حکمت عملی کی تشکیل سے مکمل بے دخل کر چکے ہوتے ہیں۔ وہ کسی نتیجے کی پرواہ کیے بغیر جذباتی لذتوں کے سرور میں کھوئے رہنا بہ خوشی گوارا کر لیتے ہیں۔

مجھے کرکٹ سے والہانہ دلچسپی نہیں ہے۔ میرے دوستوں میں کرکٹ کے دیوانے بھی پائے جاتے ہیں۔ میچوں میں کسی ٹیم کی ہار یا جیت کی خبر میرے لیے محض خبر ہوتی ہے۔ وہی خبر میرے کرکٹ کے متوالے دوستوں کے لیے نہایت خوش گوار یا نہایت مایوس کن خبر ثابت ہوتی ہے۔ کرکٹ کے جیالے میچوں میں اپنی اپنی ٹیمیں تقسیم کر لیتے ہیں۔ لاہور قلندر کی محبت میں مبتلا دوست ہر بول میں یہی تمنا خبر بنا کر سناتے ہیں کہ ان شاء اللہ میری ٹیم جیتے گی۔ پشاور زلمی کے چاہنے والے جیت کی خبریں صرف اپنی ٹیم سے جوڑنا پسند کرتے ہیں۔

یہ جیت کی خبریں محض جذباتی بہاو کے زیراثر دی جا رہی ہوتی ہیں۔
اپنی اپنی ٹیم کی جیت کی خبریں دینے والے کسی ماہر تجزیہ کار سے ملے۔ معلوم کیا کہ بتائیے کون سی ٹیم جیتے گی؟

تجزیہ کار نے بتایا کہ یقین سے کچھہ کہنا مشکل ہے البتہ ٹیموں کی کوالٹی کو سامنے رکھہ کر کسی حد تک پیشین گوئی کی جا سکتی ہے۔ اس نے ہر ٹیم کے کھلاڑیوں کی فہرست بنا کر ان کی استعداد کو سامنے رکھہ کر بتا دیا کہ پشاور زلمی جیتے گی۔ یہ رائے جذباتی وابستگی کی وجہ سے دی گئی رائے نہیں تھی۔ اس رائے کے اظہار میں تجزیہ کار کو کسی غیرمعمولی خوشی کا کوئی تجربہ بھی نہیں ہوا۔ اس کے جذبات میں کسی قسم کا سرور پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن زلمی کے جیالوں کے لیے یہ خبر سرور سے بھری ہوئی خبر بن جاتی ہے۔ ایک ہی خبر کا یہ مختلف اثر جذباتی تعلق کی وجہ سے تھا۔ “پشاور زلمی جیتے گی” کی خبر اگرچہ زلمی کے جیالوں کے علاوہ اس ماہر تجزیہ کار نے بھی دی ہے۔ مگر ایک جیسی ہونے کے باوجود یہ خبر ایک وجہ سے نہیں ہے۔

جیالے کی بات جذباتی بول کی حیثیت کا تھا جبکہ ماہر کی رائے ایک عقلی رائے تھی۔

یہی معاملہ انسانی زندگی کے دیگر معاملات میں بھی جاری رہتا ہے۔ جذبوں پر عقل کو حاکم رکھنا کم لوگوں کے لیے ریاضت کے بعد ممکن ہو پاتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت عقل کی مخالفت میں محض جذبات کے بہاو میں جینا قبول کر لیتی ہے۔

مذہبی اور سیاسی تحریکوں میں لوگوں کا ہجوم جذبات کے سمندر میں بے عقل بنا بہتا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں کو حیرت ہوتی ہے کہ ایک مذہبی جماعت کے رہنما جو گالیاں دینے کو جایز سمجھتے ہیں، ان کے اشارے پر انکے شیدای جان تک دینے کو بے تاب نظر آتے ہیں؟ آخر کیوں؟
یہ حیرانی انھی لوگوں میں دیکھی جا سکتی ہے جو ان مولانا سے جذباتی ربط قائم نہیں کر سکے۔ ان کے لیے اس معاملہ میں عقل سے مدد لینا پوری طرح ممکن رہ جاتا ہے۔ جذباتی تعلق جوڑ دینے والے مگر اب اس سہولت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ان کے کسی جیالے کو کسی عقلی دلیل سے قائل کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ عقلی گفتگو سے پہلے ان کی عقل کو جذبات کی گرفت سے نکالنے کی ترکیب ضروری ہے۔ اس میں کامیابی کے بغیر جیالوں کو بے عقلی سے باز رکھنا ناممکن ہے۔ سیاسی تحریکوں میں جذباتی روابط میں بندھہ جانے والے جیالوں کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہو جاتا ہے۔

وہ اچھائی یا برائی کی عقلی تمیز سے دور ہو کر جذباتی انداز اپنانے کو کافی جاننے لگتے ہیں۔
مثلا میاں صاحب پر آج کریپشن کا کیس دائر ہو جائے تو ان کے جیالوں کے جذبات کا بہاو اس طرف ہو گا کہ کاش یہ کیس جھوٹا ثابت ہو جائے۔

جب کہ میاں جی کے حریف گروپوں کا ارمان یہی ہو گا کہ کاش میاں پھنس جائے۔ ان دونوں گروپوں کی دلچسپی اس سے نہیں ہے کہ کاش میاں صاحب کے معاملے میں حقیقت پر مبنی فیصلہ ہو۔ جذباتی تعلقات میں بندھہ کر دل میں حقیقتوں کے ادراک کی تمنا رخصت ہو جاتی ہے۔ انسان جذباتی تسکین کے لیے کسی بھی اچھائی یا برائی کا ساتھہ دینا اچھا سمجھنے لگتا ہے۔

معاملہ تب قابل توجہ ہو جاتا ہے جب ایک ہی جرم میں دو ایسے افراد شریک ہوں کہ ایک کا تعلق جیالے کی اپنی جماعت جبکہ دوسرے کا تعلق اس کی مخالف جماعت سے ہو۔

ہم تازہ مثالوں میں جہانگیر ترین اور خواجہ آصف کو لے سکتے ہیں۔

دونوں نااہل قراردیے گئے۔ مگر نا اہلی کی دونوں خبروں کا اثر افراد پر مختلف تھا۔ پی ٹی آئی کے جیالوں میں ترین کی نااہلی کی خبر پر کسی قسم کا والہانی جوش و خروش دکھائی نہیں دیا، جیسا کہ خواجہ کی نااہلی پر دکھائی دیا۔ نون کے جیالوں میں یہی معاملہ برعکس ہو جاتا ہے وہ ترین کی نااہلی پر خوش جبکہ خواجہ کی نااہلی پر پشیماں ہوتے ہیں۔

ترین کی نااہلی پر مایوس ہونے والوں کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بددیانتی کے حامی ہیں اس لیے بددیانت کے پکڑے جانے پر مایوس ہوئے۔ یہاں مایوسی کی وجہ وہی ہے جو بیان کر دی گئی۔ یہی معاملہ نون کے جیالوں کا بھی ہے۔

جذباتی بندھن میں جڑ کر جیالہ نہ بن جانے والے فرد کے لیے البتہ ممکن ہوتا ہے کہ کسی بھی معاملے کو عقلی سطح پر جانچ سکے۔

زلمی کی جیت کے فیصلے کی خبر میں ہم جان چکے تھے کہ یہی ایک خبر دو مختلف وجہوں سے دی جا سکتی ہے۔ زلمی جیالے کی خبر اور تجزیہ کار کی خبر اسی وجہ کے مختلف ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مختلف تھی۔

جیالوں کو زیادہ نہیں تو یہ ضرور سمجھنا چاہیے کہ رائے رکھنے اور دینے والوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی رائے کی بنیاد جذباتی روابط نہیں ہوتی۔ جب کوئی شخص یوں کہے کہ جماعت اسلامی کے لیے حکومت بنانا ممکن نہیں۔ تو اس بیان کو فوری طور پر جماعت کے خلاف یا منفی بیان نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ بیان جذباتی رشتوں سے الگ رہ کر سیاسی حرکیات کو سامنے رکھ کر دیا جا سکتا ہے۔ ایسی رائے رکھنے والوں کو کسی جماعت کا دشمن نہیں کہا جا سکتا۔ یہی معاملہ دیگر جماعتوں کا بھی ہے۔ ان کے بارے میں رائے رکھنے کی وجہ لازم نہیں کہ جذباتی بندھن میں بندھ کر دی جا رہی ہوتی ہے۔ رائے رکھنے کی عقلی وجوہات بھی ہوتی ہیں جن کو سامنے رکھ کر آرا سامنے آتی رہتی ہیں۔ یہ بات مگر ایسے لوگ نہیں جان پاتے جنہوں نے خود کبھی عقلی بنیاد پر رائے رکھنے کا تجربہ نہ کیا ہو۔ وہ سمجھتے ہیں شاید دنیا بھر کے لوگ پہلے جذبات میں بہتے ہیں پھر کچھ کہتے ہیں۔ وہ اپنے جذبات کے خلاف ہربات کو منفی بنیادوں پر مبنی ہی سمجھ پاتے ہیں۔ ان کا اندرون غصے سے بھر جاتا ہے۔ اپنے جذبات کے خلاف رائے دینے والوں کو برابھلا کہنا ان کی تسکین کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔

ہم خود جذباتی بنیادوں پر سوچنا اور کہنا چاہیں تو اپنی حد تک اس عمل کو جاری رکھہ سکتے ہیں۔ مگر دوسروں کو بھی اپنے جذبات کا پابند بنانا غلط رویہ ہے۔

عقلی آراء غلط بھی ہو سکتی ہیں مگر انہیں جذباتی بولوں کی طرح کا نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہم عقلی آراء سے اختلاف کی صورت میں دوسری عقلی رائے پیش کر سکتے ہیں۔ عقلی رائے کے جواب میں جذباتی بول پیش کرنا خود اپنے انسانی شرف کی توہین ہے۔

حقیقی تبدیلی یہی ہو گی کہ سوچوں کو جذبات کی گرفت سے آزاد کر کے انہیں عقل کے حوالے کر دیا جائے۔ افراد اس ریاضت سے گزرنے کو آمادہ نہ ہوں گے تو ہم کسی نئے پاکستان میں بھی پرانے ہی رہیں گے۔

جذباتی بولوں کی بہتات میں عقلی آراء کا مستقبل خطرے میں ہے۔ ہوشیار اے صاحبو! ہوشیار۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: