بارے کچھ بیان آزادیِ صحافت کا ہو جائے : سید مظفر الحق

0
  • 19
    Shares

آزادئِ صحافت پہ برادر اسلم ملک کی مختصر تحریر دیکھ کر یاد آیا کہ آزادیِ صحافت کارکن صحافیوں اور نظریاتی اہل قلم یا سیاسی وابستگی رکھنے والے اہلِ قلم کا رومانس اور خواب ضرور رہا ہے لیکن سیاستدانوں اور اخباری صنعت کے مالکان کے لئے یہ بالترتیب ایک نعرے اور تجارتی مفادات کے سوا کچھ اور نہیں رہا۔ ہم شخصی صحافتی جرائد کو اس سے کسی حد تک استثنا دے سکتے ہیں جن کے نزدیک صحافت ایک مشن تھا، جیسے مولانا ظفر علیخاں یا قریب ترین ماضی میں آغا شورش کاشمیری۔

اپنے انتقال سے کچھ عرصے پہلے مجید نظامی کا قسط وار انٹرویو ایک ٹی وی چینل پہ نشر ہوا تھا جس میں انہوں نے بیان کیا تھا کہ ایوب خان نے اخبارات کے مدیروں اور مالکان کے ساتھ ایک نشست میں ان کے مسائل دریافت کئے تو میر خلیل الرحمٰن نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا
“آزادیِ صحافت ان کا مسئلہ ہے ہمارا مسئلہ تو اشتہارات کا حصول ہے”

اسی طرح میں نے خود یہ آغا شورش کاشمیری سے سنا ہے کہ ایسی ہی ایک کانفرنس میں ایوب خان نے بڑے غصّے میں اتفاق ڈھاکہ کے ایڈیٹر تفضل حسین عرف مانک میاں سے کہا
“تم کیا میرے وزیروں کے خلاف لکھتے رہتے ہو ”
جس پہ مانک میاں نے تڑک کر کہا
“تمہارے وزیر کوئی عوام کے منتخب نمائندے ہیں؟.وہ تو تمہارے ٹشو پیپیرز ہیں ( یہاں کسی اور شے کی مثال دی تھی جسے میں نے ٹشو ہیپرز سے تبدیل کردیا ہے)”
اس جواب پہ ایوب خان کے ایسی آگ لگی کہ اس نے مانک میاں کے منہ پہ زوردار طمانچہ مارا جس کی وجہ سے انہیں دل.کا دورہ پڑگیا جو جان.لیوا ثابت ہوا۔ لیکن کسی اخبار یا صحافی کو اتنی جرات نہ ہوئی کہ یہ واقعہ رپورٹ کر سکتا۔

اسی طرح شہنشاہ ایران کی آمریت اور چیرہ دستیوں کے خلاف لکھنے پہ جماعت اسلامی کے جرائد کوثر اور تسنیم پہ پابندی لگی تو کسی اخبار یا صحافتی تنظیم نے اس کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلائی ، شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ اس وقت تک صحافت اور صحافی تنظیموں پہ بائیں بازو کا مکمل قبضہ تھا جن کے نزدیک جماعت ایک رجعت پسند تنظیم تھی اور اس کے خلاف ہر اقدام ترقی پسندی اور آمدِ انقلاب کی دلیل تھا۔

یہ جو آج کل اخبارات میں سیاست دانوں کے بیانات نے خبروں کی جگہ لے لی ہے یہ ایوب خان کے دورِ حکومت کی یادگار ہے جب پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس نافذ ہونے کی وجہ سے خبروں کی اشاعت جرم بن گئی تو یہ راستہ تلاش کیا گیا کہ سیاستدانوں کے بیانات اور پریس ریلیز کو متبادل کے طور پہ استعمال کیا جائے۔

آزادئِ صحافت سے سیاستدانوں کو کتنی محبت ہے اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے. پیپلز پارٹی کے منشور میں پریس آرڈیننس کی منسوخی بھی شامل تھی لیکن بھٹّو کے پورے دورِ حکومت میں اسے استعمال کیا جاتا رہا۔

محمد خاں جونیجو مرحوم کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پریس آرڈیننس اور بھٹو دور سے نافذ ہنگامی حالات کا خاتمہ کیا۔

آج جو صحافی حضرات گلا پھاڑ پھاڑ کے مرحوم ضیاءالحق کے صحافیوں پہ ظلم اور آزادی صحافت پہ قدغن کی بات کرتے ہیں وہ ذرا اس دور میں اے پی این ایس اور سی پی این ای کی ان قرادادوں کو نکال کر پڑھیں جن میں کہا گیا تھا کہ
” آج صحافت کو جتنی آزادی حاصل ہے اتنی پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں رہی”
ان قراردادوں کے خلاف کسی صحافی یا صحافتی تنظیم نے لب کشائی نہیں کی جو آج بڑے پھنّے خان بنے پھرتے ہیں۔

آزادی صحافت اور برقی میڈیا کی.موجودہ منہ زوری ، آشفتہ سری اور بے ضمیری و بدزبانی کا سہرا بلا شبہ پرویز مشرف کے سر جاتا ہے ورنہ کسی سیاستداں سے اس قسم کی آزادی کے حصول کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: