اقبال احمد، ایک فراموش دبستان سیریز 4 : سوویت یونین کا انہدام اور ہم — احمد الیاس

0
  • 33
    Shares

آپ اپنی سیاست کی کیا تعریف کریں گے؟ اس سوال پر اقبال احمد کا جواب یہ تھا:-

“اشتراکی اور جمہوری۔ یہ میری دو دیرینہ وفاداریاں رہی ہیں۔ جمہوری سے مراد برابری، آزادیِ تنظیم، تنقیدی سوچ اور شہریوں کی طرف سے حکمرانوں کے احتساب کے ساتھ حقیقی وابستگی ہے۔ اشتراکی سے مراد دولت کا ریاست یا کارپوریشنز کے نہیں بلکہ لوگوں کے قابو میں ہونا ہے۔”

اقبال احمد کا نام ذہن میں آتے ہی لیفٹ کی تحریک ذہن میں ابھرتی ہے۔ آپ ایک ممتاز اور مکمل مارکسی دانشور تھے۔ بائیں بازو کے ساتھ آپ کی وابستگی تمام شکوک سے بالاتر ہے۔ مگر اس سب کے باوجود نظریہ آپ کی آزاد خیالی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنا اور ماسکو کا دورہ کرنے سے پہلے اور بعد میں انہوں نے کھل کر سوویت یونین پر تنقید کی۔ ایسا کرنا ایک عام گروہی سوچ رکھنے والے اشتراکی کے لیے شاید ممکن نہ تھا۔ مگر اقبال احمد چیزوں کو زیادہ گہرائی سے دیکھنے کے عادی تھے اور ظاہری تضادات سے نہیں گھبراتے تھے۔ نظریات کو حالات کی ظاہری صورتوں کے تابع نہیں جانتے تھے۔ نیز نظریے کی روح اور عملی حالت میں تمیز کرتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبال احمد کو عالمی سطح پر معروف اشتراکی ہونے کے باوجود 1989 تک روس نہیں بلایا گیا اور نہ آپ وہاں گئے۔ اسی کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ سوویت طرز کی کمیونزم کے ناقد رہے۔ ان کے نزدیک یہ اشتراکی معاشرے کو چلانے کی ایک ُبری صورت تھی۔ 1989 میں جب بالآخر انہوں نے ماسکو کا دورہ کیا تو ان کے تاثرات کچھ یوں تھے:-

“میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ سوویت یونین کی نمو اندرونی طور پر کتنی غیر مربوط تھی۔ اس ملک میں جو خلاء، طیاروں، لیزر اور طّبی ٹیکنالوجی میں سب سے زیادی جدید تحقیق اور ترقی کرتا تھا، ایک چھوٹا کیلکولیٹر بھی مارکیٹ میں دستیاب نہ تھا۔ سوویت معاشرے کے ایک حصے اور دوسرے حصے مں کوئی فطری تعلق نہ تھا۔۔۔ تمام تر عسکری اخراجات کے ساتھ اگر آپ سویلین سیکٹر میں ترقی نہیں پہنچا رہے تو آپ ہر چیز ضائع کرہے ہیں”

سوویت یونین ایک نظریاتی ریاست تھی جس کا نظریہ اشتراکیت تھا۔ پاکستان بھی ایک نظریاتی ریاست ہونے کی دعوے دار ہے جس کا نظریہ اسلام بتایا جاتا ہے۔ مگر ایسی نظریاتی ریاستوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ دشمنوں کی موجودگی اور سلامتی کے خطرات ہوتے ہیں۔ لہذا نظریاتی ریاستوں کو اپنے دفاع پر بہت زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ مگر لازم ہے کہ دفاعی اخراجات کے ساتھ ساتھ سویلین شعبوں کی تعمیر و ترقی بھی ملحوظ رہے۔ نیز یہ کہ عسکری شعبے میں ہونے والی سائنسی و صنعتی تحقیق کا فائدہ عوام کو پہنچانے کا بھی بندوبست ہو۔

سوویت یونین میں مذاہب پر پابندیاں عائد تھیں مگر لینن اور سٹالن کے شخصیات کے گرد شخصیت پرستی پر مبنی متبادل مذہب تخلیق کردیا گیا تھا۔ یہ آزاد اور تنقیدی فکر کی موت تھی

سوویت یونین کے انہدام کے تناظر میں ہی اقبال احمد سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں پر اس کے کیا اثرات ہوں گے۔ ان کے اس جواب میں فی الوقت ہمارے دائیں بازو کے لیے بھی ایک بڑا سبق ہے۔

“سوویت یونین کے خاتمے نے اس پر انحصار رکھنے والی تمام کمیونسٹ جماعتوں کو تباہ کردیا ہے۔ ملحقہ لیفٹ پاکستان، مصر اور الجزائر جیسی جگہوں پر ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ میرے نزدیک یہ فائدہ مند ہے کیونکہ الحاقیت یا کسی بھی قسم کی انحصاریت اچھی نہیں۔ اب جب کہ ریاست کا بورژوائی کنٹرول امریکہ اور ورلڈ بینک و آئی ایم ایف پر اور زیادہ منحصر ہوگیا ہے تو خود مختاری کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں۔ مگر کم از کم ایک آزاد چیلنجر یعنی آزاد لیفٹ کے ابھرنے کے امکان موجود ہیں۔

سوویت یونین پر انحصار صرف غلطی نہیں تباہی تھی، یہ کسی بھی گروہ یا فرد کے کیے تباہ کن ہے کہ وہ کسی پر انحصاریت کے رشتے سے بندھا ہو اور پھر وہ بھی ایک ایسی ریاست (سوویت یونین) کے ساتھ جو انتہائی نقص دار تھی۔ یہ آپ کو غیر تنقیدی بنا دیتا ہے۔ سوویت کمیونزم ان گھٹیا ترین تشکیلات میں سے تھی جو انسانیت نے آج تک دیکھیں ہیں”

میخائیل گورباچوف جن کے ہاتھوں سوویت یونین اختتام کو پہنچی

یہ ہے وہ آزاد اور تنقیدی سوچ جس کی آج بھی لیفٹ اور رائٹ، دونوں کو ضرورت ہے۔ اسلام پسند طبقہ جو بری طرح سعودی عرب پر منحصر رہا یا اب ترکی پر انحصار بڑھا رہا ہے یا وہ شیعہ اسلامی طبقہ جو ایران پر منحصر ہے، اس مثال سے سبق اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ جو مذہبی طبقات اس گھٹیا ترین بادشاہت کی مفاد پرستانہ اور جھوٹی مذہبیت سے وابستہ تھے، انہیں اب آزادی سے سوچنے سمجھنے اور اپنے طور طریقے بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔ اسی طرح ‘لبرل’ کہلانے والے طبقات اگر امریکی و یورپی (اور مسقبل قریب میں ممکنہ سعودی) امداد اور ہشت پناہی کی بجائے خود سے معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں تو زیادہ ثمر آور ہوگا۔

ولی عہد محمد بن سلمان جنہوں نے مصلحت کے تحت اسلام کا نام استعمال کرنے کی سعودی پالیسی ختم کردی

اس کے علاوہ بہ حیثیتِ قوم جو انتہائی اہم بات ہم اقبال احمد کے اس تجزیے سے سیکھ سکتے ہیں وہ نوجوانوں کا مستقبل میں یقین بنائے رکھنے کی اہمیت ہے۔ اقبال احمد سوویت یونین کے آخری سالوں بارے بتاتے ہیں:-

اس وقت نوجوانوں میں مستقبل پر کوئی یقین نہ تھا۔ ریاست کی تباہی میں مستقبل پر یقین اٹھ جانے نے یقیناً بڑا حصہ ڈالا”

حوالہ :- کنفرنٹنگ ایمپائر۔ صفحات اکسٹھ تا پینسٹھ


اس سیریز کا پہلا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

اس سیریز کا دوسرا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: