ٹیپو سلطان انگریزی ادب میں — اعجاز الحق اعجاز

0
  • 52
    Shares

انگریزی ادب میں ٹیپو سلطان کے حوالے سے چند ایک نظمیں، ناول اور ڈرامے ملتے ہیں۔ جن انگریز شعرا نے ٹیپو سلطان کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا ہے ان میں ڈاکٹر جان لیڈن (Dr John Leyden)، برنارڈ وائی کلف (Bernard Wycliffe) اور سر ہنری بولٹ (Sir Henry Bolt) نمایاں ہیں۔ برنارڈ وائی کلف ایک اچھا شاعر تھا۔ وہ اپریل 1823ء کی شام کو ٹیپو سلطان کی جائے شہادت پہ حاضر ہوا۔ اس کا دل بے حد سوگوار تھا۔ وہ غروب ہوتے ہوئے سورج کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس کی چشم تصور نے ٹیپو سلطان کو شہید ہوتے دیکھا۔ وہ کیسا سورج تھا جو غروب ہو کر بھی غروب نہیں ہوا اور دلوں کے آفاق پہ ہمیشہ طلوع ہی رہا ہے۔ اس کی شاعرانہ طبیعت مچل اٹھی اور اس نے ایک مرثیہ لکھنا شروع کر دیا جس میں وہ اس کیفیت کو موضوع بناتا ہے جو ایک مسلمان کے دل پہ ٹیپو کی شہادت کا سن کر گزرتی ہے۔ وہ لکھتا ہے:

Allah it is better to die
With war clouds hanging really o’er us
Than to live a life of infamy
With years of grief and shame before us

ـ’’یا اللہ ! موت بہتر ہےجب ہنگامہ کارزار کے خونیں بادل ہمارے سروں پہ منڈلا رہے ہوں ایسی رسوا کن زندگی سے جو اندوہ و انفعال کے سال رکھتی ہو۔

ڈاکٹر جان لیڈن میسور سروے میں ایک سرجن تھا اور ایک عمدہ شاعر بھی۔ اس نے ایک نظم ٹیپو سلطان پہ لکھی جس پہ مقامی لوک گیتوں کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ اس نظم کی یہ لائنیں پیش خدمت ہیں:

Pournia sprung from Brahma’s Line
Intrepid in the martial fray
Alike in council formed to shine
How could our Sultan’s power decay

سر ہنری بولٹ نے 1898ء میں ایک نظم سرنگا پٹم کے عنوان سے لکھی۔ جو لندن کے رسالے دی آئی لینڈ ریس میں شائع ہوئی تھی اور بعد ازاں اس کے شعری مجموعے میں بھی شامل تھی جو 2 191ء میں شائع ہوا۔ اس نظم میں ٹیپو سلطان کو وہ مرتبہ نہیں دیا گیا جس کا وہ حق دار تھا۔ دراصل یہ نظم جنرل بئیرڈ کی داستان قید و بند پہ مشتمل ہے۔

عظیم رومانی شاعر جان کیٹس بھی ٹیپو سلطان کا مداح تھا۔ وہ اس کی جرات و بہادری میں ایک رومانی شان دیکھتا تھا۔ اس نے ٹیپو پہ الگ سے تو کوئی نظم نہیں لکھی مگر اپنی ایک نظم The Cap and Bells جو پرنس ریجنٹ پہ لکھی گئی تھی میں ٹیپو کے انگریز اور شیر والے ساز کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس ساز کی تفصیل یہ ہے کہ ٹیپو سلطان کے پاس ایک ساز تھا جو انگریز اور شیر کی صورت میں ہے۔ اس میں ایک انگریز لکڑی کے ایک تختے پہ چت لیٹا ہو ا ہے اور اس پر ایک شیر سوار ہے جس کے دانت انگریز کی گردن میں اور پنجے سینے میں پیوست ہیں۔ شیر کا پیٹ ہارمونیم کی قسم کا ایک ساز ہے۔ یہ ساز ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں کے ہاتھ لگا اور اب لندن کے وکٹوریہ البرٹ میوزیم میں محفوظ ہے۔ کیا پتہ کہ جان کیٹس نے اسی میوزیم میں اس ساز کو دیکھا ہو اور اس کا دل ٹیپو کی ہیبت اور عظمت و شکوہ سے بھر گیا ہو۔

ناولوں میں سے ٹیپو سلطان پہ انگریزی میں لکھا گیا جو سب سے پہلا ناول ہمارے سامنے آتا ہے وہ ہے کرنل میڈوز ٹیلر کا TIPU SULTAN: A Story of Maysor War جو 1840 میں لندن سے تین جلدوں میں شائع ہوا۔ اس ناول میں قلعہ ادونی کا ایک نوجوان دیہاتی قاسم علی اپنی محبوبہ امینہ کی تلاش میں سرنگا پٹم آتا ہے اور ٹیپو سلطان کی فوج میں بھرتی ہوجاتا ہے۔ بعد میں وہ نظام علی خاں کی طرف ٹیپو کی شادی کا پیغام لے کر جاتا ہے۔نائروں کے خلاف جنگ میں حصہ لیتا ہے اور آخر میں وہ ٹیپو کے مخالفوں کے آگے آگے خندق میں سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ناول نگار نے اس ناول کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ اس ناول کے تمام واقعات تاریخ سے لیے گئے اور حقیقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس ناول کی منظر نگاری کمال کی ہے اور قاری ناول کے آغاز ہی میں اس کے سحر میں کھو جاتا ہے۔

ٹیپو سلطان پہ ایک ناول بھارتی ناول نگار بھگوان ایس گڈوانی نے 1976 میں The Sword of Tipu Sultan کے نام سے لکھا تھا۔ اس میں ناول نگار نے ان لوگوں کو موضوع بنایا ہے جنھوں نے ٹیپو سے محبت کی اور جنھوں نے غداری کی۔ اس ناول میں ٹیپو کے نقوش ایک عظیم ہیرو کے طور پر ابھارے گئے ہیں۔ اس میں ٹیپو کے بارے میں پائے جانے والے تعصبات کا پردہ چاک کیا گیا ہے اور اسے ایک خود سر اور انانیت پرست حکمران کے بجائے ایک انتہائی مہذب، بااخلاق اور انسانیت کے ہمدرد انسان کے طور پر دکھایا گیا ہے جو مذہبی رواداری پہ یقین رکھتا ہے۔

امریکا میں مقیم ایک پاکستانی ناول نگار محمد فیصل افتخار کا ناول The Only King who Died on the Battlefield امریکی آتھر ہائوس نے شائع کیا۔ دو سو چھپن صٖفحات پہ مشتمل اس ناول میں ٹیپو سلطان کی بے مثل شجاعت،حمیت اور خودداری کو موضوع بنایا گیا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: