تخلیق کار، بنیادی ضروریات اور عام انسان : نعمان علی خان

0
  • 21
    Shares

گذشتہ صدیوں میں جب مغرب کے تخلیق کار معاشی بد حالی کا شکار رہے اس زمانے میں وہاں کےعام آدمی کی معاشی حالت بھی بد حالی کا شکار تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغرب میں ویلفئیر سٹیٹ اپنی مستحکم شکل میں وجود میں نہیں آئی تھی۔ مغرب کے تخلیق کار نے کبھی بھی یہ کہہ کر معاشرے سے معاشی خوشحالی اور مراعات کا تقاضہ نہیں کیا کہ چونکہ وہ تخلیق کار ہیں اس لئیے وہ عام آدمی سے مختلف، “خاص لوگ” ہیں اور انہیں اسی بنا پر بنیادی معاشی سہولیات اور مراعات مہیا کی جائیں۔ انہوں نے تو بلکہ عام آدمی کی بنیادی انسانی ضروریات کا معاشرے سے حق دلوانے کیلئیے اپنی ضروریات اور خواہشات کو قربان کردیا اور یہ انہی کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ انسانوں نے گزشتہ ڈیڑھ سو سال میں رفتہ رفتہ بنیادی انسانی ضروریات اور حقوق کا تعین کیا۔ نتیجتاً مغرب میں جدید ویلفئیر سٹیٹ (فلاحی ریاست) وجود میں آئی جس میں کہ ہر انسان خواہ تخلیق کار ہو یا نہ ہو، اس کی بنیادی انسانی ضروریات کو مہیا کرنے کی ذمے داری، ریاست کا بنیادی وظیفہ ٹہرا۔

پاکستان کے آئین میں بھی مغرب کی ویلفئیر سٹیٹ کے اصولوں کے مطابق، بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کے احکامات ریاست ہی کی ذمے داری کے طور پر درج ہیں، لیکن ہمارے صدیوں پرانے برھمنی سماج نے آئین کی یہ شقیں نہایت خاموشی سے عملاً معطل کی ہوئی ہیں۔ چنانچہ اس ملک کے کروڑوں عام انسان اپنے آئینی فلاحی حقوق سے بے خبر، مغرب کے دو صدیوں پہلے کے عام آدمی سے بھی بدتر معاشی حالت میں جی رہے ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارا تخلیق کار، قلمکار، دانشور، استاد اور کوئی بھی باشعور شخص مجال ہے جو اس غیر آئینی، غیر انسانی اور استحصالی صورتحال پر ایک لفظ بھی بولتا ہو۔ اپنی معاشی حالت کا رونا جب بھی یہ لوگ روتے ہیں تو عام انسان سے خود کو علیٰحیدہ کرکے روتے ہیں۔ اپنے لئیے بنیادی انسانی ضروریات اور مراعات کا معاشرے سے تقاضہ کرتے ہیں تو یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ چونکہ ہم تخلیق کار، قلم کار، استاد اور دانشور ہیں اس لئیے یہ سب تو ہمارا ہی حق ہے اور ہمیں یہ سب پلیٹ میں رکھ کر دیا جانا چاہئیے۔ جو کچھ یہ لوگ علی الاعلان نہیں کہتے لیکن اِس موضوع پربین السطور بالکل واضع ان کی تحاریر میں پڑھا جاسکتا ہے وہ یہ بات ہوتی ہے کہ معاشرے کے جو کروڑوں لوگ ان کی تخلیقات سے بے بہرہ ہیں، ان کی کتابیں خرید کر نہیں پڑھتے، ان کی دانشوریوں پر کان دھرنے کا جن کے پاس اپنی روزی روٹی کے چکر میں وقت نہیں، وہ جاہل ہیں۔ ہمارے ان باشعور تخلیقی اذہان کی نظر میں “جاہل” ہونا سب سے بڑا جرم ہے۔ جاھل انسان، ان کی نگاہ میں کسی حسنِ سلوک کا “حقدار” نہیں۔ وہ فقط خیرات اور دھتکار کا مستحق ہے۔ ریاست اور اس کی سہولیات پر اس کا کوئی حق نہیں۔ اس کی معاشی محرومیاں اس کے جاھل ہونے کی سزا ہیں۔ ان خاص لوگوں نے یہ خیال پوری قوم کے ذہنوں میں راسخ کیا ہوا ہے کہ علم اور تعلیم حاصل ہی اس لئیے کئیے جاتے ہیں کہ ان کے زور پر انسان اپنی بنیادی ضروریات حاصل کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔ یہ لوگ یہ خیال عام ہونے ہی نہیں دیتے کہ تعلیم بنیادی ضروریات کے حصول کیلئیے نہیں بلکہ معاشرے کے زیادہ کارآمد شہری بننے، اپنے ذاتی جوہر کی افزائش و طمانیت اور معاشرے میں بہتر آسائش اور سہولیات کیلئیے حاصل کی جاتی ہے، بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئیے فلاحی ریاست میں تعلیم کی شرط نہیں ہوتی صرف انسان ہونا اور ریاست کا شہری ہونا شرط ہوتی ہے۔ یہ “خاس لوگ” اپنی فنی اور علمی قابلیت کے اختصاص کی بنیاد پر معاشرے سے وہ بنیادی انسانی حقوق اور مراعات مانگتے ہیں جو دراصل اِس ملک کے ہر شہری کا آئینی حق ہیں۔ ان خاص لوگوں کیلئیے کہیں تو ریاست صحافی کالونیاں بناتی ہے، کہیں رائٹرز گِلڈ قائم کرتی ہے، کبھی ٹیچرز سوسائٹیٹیز، کبھی ڈی ایچ ایز، کبھی انٹیلکچول ویلیجز، کہیں پبلشنگ ہاوٰسز، بک فاوٰنڈیشنز، کہیں سوشل سیکیورٹیز اور میوچول فنڈز، کہیں آرٹس کونسلز، کہیں لائبریری مینیجمنٹ، کہیں شعبہ ہائے اقبالیات، پاکستانیات، اسلامی ریسرچ سینٹرز، کہیں لوک ورثہ تو کہیں الحمرا، قائد اعظم اکیڈمیز، اردو اکیڈمیز اور ڈکشنری بورڈز اور نہ جانے کیا کیا الم غلم۔ لیکن ان “خاص” لوگوں کا رونا دھونا ہے کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔۔ ہر ہفتے ان کا کوئی شاعر، ادیب، دانشور یا آرٹسٹ معاشرے کی بے حسی کا شکارہوکر، صاحبِ فراش ہوجاتا ہے اور بستر مرگ پر ایڑھیاں رگڑ رہا ہوتا ہے۔ اس کے بال بچے معاشرے کی ستم ظریفی کا شکارہونے کی حیثیت میں، ہر آنے والے کے سامنے موصوف نے اپنے تخلیقی فن کے ذریعئیے قوم کی جو خدمت کی ہے اس کا رو رو کر اور یہ کہہ کر ذکر کرتے ہیں کہ ان خدمات کے بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ ہمارے پاس ان کی دوا علاج اور کھانے پینے کے پیسے اور سر چھپانے کی جگہ تک نہیں۔ یہ ہے صلہ اس ملک میں خون تھوک کر فن کی خدمت کرنے کا؟ اس گھرانے کا دکھ اس گھرانے کے دوست یعنی یہ”خاص” لوگ سوشل میڈیا اور باقی میڈیا پر ایسی دلخراش داستان کے طور پر سناتے ہیں کہ ہر پڑھنے والا خود کو اس معاشرے کا فرد ہونے کے ناطے، مجرم سمجھنے لگتا ہے؛ یہ خاص لوگ اعلان کرتے ہیں کہ موصوف کے افسانوں یا فکری شذروں یا غزلوں کا مجموعہ، جسے پبلش کروانے کی تمنا ایک عرصے سے موصوف کے دل میں کلبلا رہی تھی لیکن تخلیق کاروں کی بے قدری کرنے والے اس معاشرے کی بے حسی کی بنا پر جو آج تک پبلش نہ ہوسکا، یہ خاص لوگ چندہ اکٹھا کرکے یا فلاں اکیڈمی آف لیٹرز کے تعاون سے (موصوف کے تخلیقی قد اور پی آر کے مطابق) پبلش کروائیں گے۔ یہ سب کچھ ہوتا ہے لیکن مجال ہے جو ان میں سے کوئی ایک بھی اپنے اس بیانئیے میں صاحب فراش تخلیق کار کی اِس بدحالی کا، ریاست کے شہری کی حیثیت سے، براہ راست ذمے دار ریاست کو ٹہرائے۔ جب بھی یہ اپنا حق ریاست سے مانگیں گے، بحیثیت انسان اور ریاست کے عام شہری کی حیثیت سے نہیں مانگیں گے بلکہ تخلیق کار، استاد، مفکر اور دانشور کی حیثیت سے مانگیں گے۔ جبکہ ملک کے آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ ریاست بنیادی ضروریات فقط پڑھے لکھے “خاص” لوگوں ہی کو عطا کرے گی۔

چونکہ ہمارا یہ عالم و فاضل تخلیق کار، عام آدمی کا، اس کی جہالت کی بنا پر، ریاست پر کوئی حق ہی نہیں سمجھتا اس لئیے، وہ عام آدمی کے بنیادی انسانی ضروریات کے حقوق دلوانے کیلئیے ایسی کوئی فکری یا عملی جدوجہد کرنے پر بھی آمادہ نہیں جیسی گزشتہ صدیوں تک مغرب کے دانشور کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا تخلیق کار عام آدمی اور اس کی صورتحال سے، انتہائی بے حسی کے ساتھ، یکسرکٹا ہوا ہے۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ “خاص لوگ” یہ بات خوب جانتے ہیں کہ ان کی تخلیقی قوت میں زندگی کے عام تجربے اور کرب کے حوالے سے شدید کمی اور کجی ہے جو ان کی تخلیقات کو مقامی سطح سے کسی طرح بھی بلند نہیں ہونے دیتی۔ لیکن یہ کسی تخلیقی دیانتداری کا مظاہرہ کرکے یہ بات تسلیم کرنے میں سبکی محسوس کرتے ہیں اور نہائت بددماغی کے ساتھ ادب برائے زندگی اور ادب برائے ادب کے مباحث چھیڑ کر خود کو ادب براہ ادب کا پرچم بردار ثابت کردیتے ہیں اور یوں اپنا ضمیر اور دیانت داری سب کچھ اس پرچم میں لپیٹ کر دفن کردیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اقبال کے علاوہ ہمارے پاس کوئی عالمی سطح کا مفکراور دانشور نہیں اور غالب اور فیض کے علاوہ کوئی عالمی سطح کا شاعر نہیں۔ اور رہا باقی ادب۔ تو یہ وہ مقام ہے جہاں ہمارے پاس انارکلی، امراوٰ جان ادا اور منٹو کی طوائفیت، آگ کا دریا، اداس نسلیں اور اشفاق احمد کے گریڈ انیس سے اوپر کے باباوٰں کے قصے جیسی بے سروپا حکایات کے اور کچھ نہیں۔ اور کون کہے گا کہ یہ سب ادب براہ ادب ہے یا ادب براہ زندگی ہے؟ اِن خاص لوگوں سے کوئی پوچھے کے بھائی، چلو ادب براہ ادب ہی سہی لیکن وہ ہے کہاں؟ اور کہیں کچھ ہے بھی تو دنیا میں کون ہے جو تمہارے ادب براہ ادب کو بھی گھاس ڈالتا ہے؟

جب تک یہ چند لاکھ لوگ، “خاص” لوگوں کی حیثیت سے ریاست سے اپنے بنیادی انسانی ضروریات کے حقوق صرف اپنے لئیے مانگتے رہیں گے، اس ملک کے کروڑوں عام شہریوں کو جاھل ہونے کی بنا پر کمتر انسان اور کمتر حقوق کے سزاوار گردانتے رہیں گے اور جب تک یہ عام انسانی زندگی کی المناکی سے اپنی فکر و تخلیق کشید کرنے پہ آمادہ نہیں ہوں گے، تب تک اس ملک میں یہی بے رحم برھمنی سماجی نظام، یونہی اپنی وحشت و درندگی کے ساتھ جاری و ساری رہے گا۔ اور تب تک ان کی تخلیقات میں نہ ادب براہ زندگی اور نہ ہی ادب براہ ادب کی وہ شان و عظمت پیدا ہوگی جو چارلس بوڈلئیر، فرانز کافکا، پاسٹرناک، ٹولسٹائے اور وکٹر ھیوگو کی تخلیقات میں تھیں۔ اور نہ ہی یہاں کوئی بڑا فلسفی، تخلیق کار اور دانشمند پیدا ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: