اظہار پہ غالب : ایک اظہاریہ —- اے وقار

0
  • 20
    Shares

بہ پروازش آں گل افشاں نوائے
نگویم غم از دل دل از من ربائے

“اپنی وہ گل افشاں آواز سنا کہ ںہ صرف دل سے غم کو بلکہ سینے میں سے دل کو بھی اڑا لے جا۔”

یہ کائنات خالق کی تخلیق ہے خالق کا اظہار ہے اور اظہار کرنا انسان کی جبلت میں ہے اس کے کئی انداز ہیں۔عام طور پر اظہار تین طرح کا ہوتا ہے، بیرون میں اظہار، یعنی جب انسان اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اندرون میں اظہار، جب انسان اپنے خیالات خود تک محدود رکھتا ہے اور زبان تک نہیں آنے دیتا مگر یہ بھی بجائے خود اظہار ہے کہ خیال خود پہ خود ہی ظاہر ہو جاتا ہے اور تیسرا بین بین ہے یعنی خود کلامی۔ قصہ مختصر جہاں خیال ہے وہاں اظہار ہے۔

دنیا اسدللہ خان غالب کو اس کے آفاقی اظہار کی بدولت جانتی ہے مرزا کا اظہار اردو اور فارسی ادب کے تناظرمیں جانا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ غالب اگر تخلیق نہ کرتا تو شائد اس کے حواس ساتھ چھوڑ جاتے اور وہ مخبوط الحواس ہو جاتا۔

“سچ تو یہ ہے اگر تیرے کرم کے حوصلے کی وسعت میرے ضمیر میں جاگزیں نہ ہوتی تو کب کا ہوش و حواس کی بھاگ توڑ چکا ہوتا”

مرزاغالب پہ بہت کچھ لکھا جا چکا بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا، جوں جوں اس کے دقیق خیالات فہم میں آئیں گے لوگ ان خیالات کو الفاظ کا جامہ ضرور پہنائیں گے۔

مرزا کو جو چیز دوسرے شاعروں سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کی حقیقت پسندی ہے اس کی شاعری سے حقیقت پسندی جھلکتی ہے۔ اس کے پاس جو ایک زبردست اثاثہ تھا وہ اس کی ایموشنل انٹیلیجنس تھی اور اس نے اس سے بہترین کام لیا اور یہی وجہ ہے کہ اس کے اشعار کی تصدیق نہ صرف دل بلکہ عقل بھی کرتی ہے- اس نے عقل اور جذبے کے درمیان ایک زبردست مطابقت قائم کی- غالب کی شاعری کی مقبولیت اور دوام کی ایک اور اہم وجہ اس کا روزمرہ کی نفسیات پہ قلم اٹھانا بھی تھا یعنی ان معاملات پہ لکھا جن سے انسان تقریباٰ روزانہ گزرتا ہے- اس کا ادراک آفاقی ادراک ہے جس نے ہستی کے ہر شعبے کو اپنے دائرے میں لے لیا۔

کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
کس کی حاجت روا کرے کوئی

یہ دنیا میں ایک آفاقی حقیقت ہے کہ جذباتی، معاشرتی اور معاشی لحاظ سے ہر انسان حاجت مند ہے اور حاجت بھی ایسی کہ ہر حاجت پہ دم نکلے۔ یہ حاجتیں کبھی پورا نہیں ہوتیں۔ باالفرض مادی حاجتیں پوری ہو بھی جائیں تو تصوراتی پوری نہیں ہوتیں اور یہی وہ چیز ہے جس سے زندگی کا پہیہ رواں دواں ہے۔

غالب محض ایک شاعر نہیں بلکہ دور اندیش مفکر بھی تھا۔ عام طور پہ برصغیر میں مغربی علوم اور انگلش کی اہمیت کو فروغ دینے کے لیے سر سید احمد خان کو کریڈٹ دیا جاتا ہے مگر حیقت یہ ہے کہ جب سر سید نے ایک کتاب آئینہ اکبری کی تدوین لکھی اور ان کو توقع تھی کہ اسؔد ان کی اس کوشش کو داد دے گا لیکن معاملہ الٹ ہوا۔ غالب نے سر سید سے کہا کہ آُپ نے اپنا وقت اور ٹیلنٹ ضائع کیا ہے کیونکہ مردہ پرستی کا کوئی فائدہ نہیں۔ برطانیہ کی طرف دیکھیں ان سے سیکھیں وہ کہاں جا رہے ہیں۔ ان کے قوانیں اور ان کے نظام سے سیکھیں اور تاریخ پہ وقت ضائع نہ کریں۔ سر سید کی سوچ بدلنے میں مرزا کا کردار رہا ہے۔ پھرسر سید نے انگریزی کی افادیت کے حق میں لکھنا شروع کیا-

اقبال کے ہاں جو خودی کے تصورات ملتے ہیں یہ اس سے پہلے غالب کے ہاں بھی بہت مضبوط شکل میں ملتے ہیں جس میں غالب انسان کی شخصیت کو کائنات میں سب سے اہم جانتے ہیں۔

ہنگامہ زبونی ہمت ہے انعفال
حاصل نہ کیجیے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو

یہ انسانی ارادے اور ہمت کی شرمندگی ہے کہ وہ دوسروں سے کوئی شے وصول کرے۔

بندگی میں بھی وہ آزاد و خود بیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے در کعبہ گر وا نہ ہوا

مرزا ہستی کو کائنات کے مقابلے پہ بھی رکھتے ہیں اور اس میں کائنات کو تنگ اور محدود تصور کرتے ہیں۔ غالب شائد اس کائنات کو شعوری طور پہ فتخ کر چکا تھا اور اب اس سے آگے جانے کا خواہاں تھا۔

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا

غالب کہتے ہیں کہ شاعری محض قافیہ پیمائی نہیں بلکہ یہ معنی آفرینی ہے اور مرزا نے اپنی شاعری سے اپنے قول کو درست ثابت کیا۔

مرزا سے پہلے کی شاعری کا مرکز دل یعنی محض جذبات تھے مگر غالب نے اردو شاعری کو جدت عطا کی اورعقل پہ تکیہ کیا مگر دل کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ میؔر کی شاعری دل کی شاعری ہے وہ محض جذبات کے گرد گھومتی ہے اور عقل کو اس میں کم دخل ہے جبکہ مرزا کی شاعری میں علم،عقل، جذبہ و تخیل سب ایک دوسرے میں جذب ہیں اور ان سب سے بڑھ کر معنی آفرینی-

یاد رہے مسلمانوں کے زوال کی ایک اہم وجہ عقل کو اہم نہ جاننا بھی ہے۔عقل کی اہمیت تو ایک طرف مسلمان تو عقل کی تحقیر کرتے رہے ہیں۔ فارسی شاعری عقل کی تحقیر سے بھری پڑی ہے۔ عقل کی افادیت اجاگر کرتے ہوے مرزا کہتے ہیں۔

سخن گر چہ گنجینہ گوہرست
خورد را ولی تابش دیگرست

“سخن اگر چہ موتیوں بھرا خزانہ ہے لیکن عقل کی بات اگر اسمیں آئے تو اس کی آب و تاب ہی اور ہو جاتی ہے۔”

اس بات سے تو ادب کے طالب علم بخوبی آگاہ ہیں کہ مرزا کو اپنے دور میں مقبولیت نہیں ملی تھی اس وقت محض عوام نہیں بلکہ خواص بھی لفاظیت، رومانویت اور قافیہ پیمائی کی طرف مائل تھے مگر مرزا نے ہمت نہ ہاری اوراپنی شاعری کی مقبولیت کی پیش گوئی انہوں نے فارسی میں ایک مشہور شعر میں کی جسے وقت نے درست ثابت کیا۔

کوکبم را در عدم اوج قبولے بودہ است
شہرت شعرم بہ گیتی بعد من خواہد شدن

” میرے مقدر کے ستارے کو عدم میں ہی مقبولیت کی بلندی حاصل تھی اور اس دنیا میں بھی میرے ساتھ یہی ہو گا جب نہیں رہوں گا تو میری شہرت ہر طرف پھیل جائے گی۔”

مرزا سے پہلے کی شاعری کا مرکز دل یعنی محض جذبات تھے مگر غالب نے اردو شاعری کو جدت عطا کی اورعقل پہ تکیہ کیا مگر دل کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

مرزا کی مقبولیت میں جہاں تیزی سے ہوتی ہوئی ذہنی ترقی نے کردار ادا کیا وہیں غالب کے تین ذہین شاگردوں کا بھی ہاتھ ہے۔ ان میں حالیؔ، اقبالؔ اور ڈاکٹر عبد الرحمٰن بجنوری سر فہرست ہیں۔

اور اب مقبولیت کا یہ حال ہے کہ بقول ڈاکٹر عبدالرحمٰن بجنوری ” ہندوستان کی دو الہامی کتابیں ہیں وید مقدس اور دیوان غالب”

مگر مرزاکہتے ہیں

ﺗﻮﮌ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺟﺎﻡ ﻭ ﺳﺒﻮ، ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ؟
آسمان سے بادہ ء گلفام گر برسا کرے

اقبال کے مطابق “گوئٹے کی شاعری سے جرمن قوم نے کام لے لیا ہے لیکن غالب کی شاعری سے کام لینا ابھی باقی ہے۔ گوئٹے کائنات سے ہو کر اندر کو سفر کرتا ہے جبکہ غالب اندر سے باہر کو سفر کرتا ہے۔”

مرزا غالب کا علم کافی وسیع تھا وہ قدیم مذاہب، فلسفہ، منطق، فقہ اور علم النجوم وغیرہ سے وہ بخوبی آگاہ تھا۔ غالب کی شاعری میں چند الفاظ تماشا، تمنا، آئینہ وغیرہ کثرت سے پائے جاتے ہیں جبکہ آتش، آگ گرمی وغیرہ کا بھی تصور ملتا ہے مرزا نے یہ تصؤر غالباٰ زرتشت سے لیا تھا اور اس مقدس آگ کا اپنی ہستی پہ اطلاق کر دیا۔

آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سرگرم ہائے نالہ شرر بار دیکھ کر

غالب جیسی شخصیت پہ لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر تحریر طویل ہوتی جا رہی ہے۔ مرزا غالب کی ہستی کی فلاسفی کو اگر بہت مختصر یا ایک لائن میں بیان کیا جائے تو کچھ یوں ہو گی۔

انسان کے پاس اگر زندگی کے جینے کے لیے کوئی سہارا نہ ہو اور ہستی تہی دامن ہو تو غالب اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کچھ بھی نہیں تو “نہیں” سہی۔

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: