راوی روتا ہے —- محمد فاروق بھٹی

0
  • 101
    Shares

میری پیدائش کوہ ہمالیہ کے طویل سلسلے میں پھیلے چھوٹے چھوٹے برفانی تودوں کے درمیاں ہوتی ہے۔ پیر پنجال اور دھالا دھار (Dhauladhar) سے ہی میرا بچپن کروٹیں لیتا ہے اور میں کرولنگ کرتا، اچھلتا کودتا، ملتھان جا پہنچتا ہوں۔ کانگرہ، بارا بھنگال اور بارا بانسو سے ہوتا ہوا چمبہ پہنچ جاتا ہوں۔ 72 کلومیٹر کا سفر طے کر کے بودھل اور 64 کلومیٹر کا سفر طے کر کے تری کولی ناتھ سے نکلتا دھونہ بھی مجھ سے آن ملتے ہیں۔ بھارمور سے ہماچل پردیش کی وادیوں میں داخل ہوتا ہوں تو شیشم کے سرسبز و شاداب جنگلات خوشی سے جھوم اُٹھتے ہیں۔ میں صدیوں سے انہی راستوں سے گزرتا چلا آ رہا ہوں۔ 1858ء میں بھارمور (Bharmour) کے راجہ نے ہندوستان کے نئے مالکوں کو خوش کرنے کے لئے میرے ساتھ ساتھ چلنے والے شیشم کے جنگلات کاٹ کاٹ کر گوروں کو پیش کر دئیے تھے۔ باغاتِ چمبہ کو سیراب کر کے نکلتے ہی شمال سے آتا دریائے سیول (Seul) میرے ساتھ آن ملتا ہے، میرا حجم بڑھنے لگتا ہے۔ Bissoli کے قریب جموں سے آتی سیاوہ بھی مجھ سے بغلگیر ہوتی ہے۔ پھر بھیرا نالہ اور تانت گری میرے جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔ تانت گری بھارمور کے مشرق سے پیر پنجال کی طرف سے میری طرف روانہ ہوتی ہے۔ یہاں میں ’’U‘‘ کی شکل اختیار کرتا ہوا وائسرائے ہند لارڈ ڈلہوزی سے منسوب گائوں کو کراس کرتا ہوا دھالا دھار کی طرف بڑھتا ہوں۔ میرے اوپر شیشم کے ذبح شدہ درختوں کا ایک طویل پُل قائم ہے۔ میری اگلی منزل مادھوپور ہے جہاں سے آگے مجھے پٹھان کوٹ سے ہوتے ہوئے پنجاب کے میدانوں کا رُخ کرنا ہے۔ جی ہاں… آپ بالکل صحیح سمجھے میں دریائے راوی (Travati) ہوں۔ ہزاروں سال تک ویدوں میں میرا ذکر چلا آتا ہے۔ وہ جو دس باشاہوں کی مشہور جنگ ہے وہ میرے سامنے لڑی گئی تھی۔ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے الینا، انو، بھریگس، بالاناس، داسہ، گندھاریز، مٹسیا، پُرسوفارس، پُرسو اور پانس کی خونریز جنگ… جس نے میرے پانیوں کو 6666 مقتولوں کے خون سے سرخ کر دیا تھا۔

ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ پنچاب میں داخل ہو کر پاک بھارت سرحد کے ساتھ ساتھ 80 کلومیٹر کا سفر طے کر کے نین کوٹ کے قریب میں پاکستان میں داخل ہو جاتا ہوں۔ اس دوران 14000 فٹ بلندی سے چلنے والا دریائے اُجھ کیلاش کی وادیوں سے گزرتا 100 کلومیٹر کا سفر طے کر کے نین کوٹ میں آ کر میرے پہلو میں جذب ہو جاتا ہے۔ لاہور سے میرا واسطہ 26 کلومیٹر تک پڑتا ہے اور پھر میں بھارت میں داخل ہو کر امرتسر کو چھوتا ہوا دوبارہ پاکستان میں کمالیہ اور احمد پور سیال کو سلام کرتا آگے بڑھ کر خود چناب میں جا گرتا ہوں جو مجھے دریائے سندھ اپنا حصہ بنا کر بحرہ عرب کے حوالے کر دیتا ہے۔

تازہ پھلوں کی خوشبو، شیشم کے معطر درختوں کی سوغات اور برفانی تودوں سے چھن چھن کر اچھلتا کودتا، خوشیاں مناتا اور خوشحالی بانٹتا… اپنے اردگرد کی وادیوں کو غلہ عطا کرتا… ہما چل پردیش اور جنت نظیر کشمیر کو الوداع کہتا… صدیوں سے اپنی گزرگاہوں کو آباد کرتا… بالآخر میں پنجاب میں آ کر خود مؤدب ہو جایا کرتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہاں کے کسان کو میرا کتنا انتظار رہتا ہے، میں خاموشی سے سرتسلیم خم کئے اُس کا ہر حکم بجا لاتا تھا، یہ پنجابی کسان میرے پانیوں سے گندم اگاتا، چاول اگاتا، پھل اگاتا، کپاس اگاتا اور پھر دنیا بھر میں تقسیم کر دیتا… اس کسان کی خاصیت تھی کہ امن، پیار، بھائی چارہ… اور جانتے ہیں مٹی میں یہ خاصیت کہاں سے آئی… میری خدمات سے… میری قربانیوں سے… میرے انجذاب سے… میرے تحلیل ہونے سے… میرے کنارے ہزاروں سال پہلے اِک شاندار شہر لاہور بسا تھا، جس میں مختلف قوموں کی تہذیبی وراثت جمع ہوتی گئی… میرے وجود نے پنجاب بھر کے زیر زمین پانی کے ذخیرے ہمیشہ بھرے رکھے۔ میرے پانی چند فٹ کھدائی پر پیاسوں کے لئے دستیاب ہوا کرتے تھے۔

1947ء میں برصغیر کی سیاسی تقسیم نے جب جغرافیائی تقسیم کی شکل اختیار کی تو میری قدر و قیمت بڑھ گئی… فریقین مجھ پر قبضے کے لئے، میرے پانیوں کو چھیننے کے لئے الجھ پڑے۔ نکمے اور خائن انگریز جاتے جاتے فساد کا بیج بو گئے تھے۔ میرا پورا راستہ مسلمانوں کی گزرگاہ تھا، کشمیر سے کیلاش تک، ڈلہوزی ٹائون سے گورداسپور تک سب پاکستان میں آنا تھا اور میری عصمت محفوظ رہنی تھی مگر انگریز فساد فی الارض کا شوقین تھا، اُس نے بائونڈی کمشن کا سربراہ ریڈکلف جیسے شیطان کو بنایا جس کو میں ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ چنانچہ مجھے بھی تقسیم کر دیا گیا۔ کشمیری چیختے چلاتے رہ گئے مگر میری شہ رگ کمینے دشمن کے حوالے کر دی گئی… امرتسر میں مجھے آج بھی دریائے لاہور کہا جاتا ہے۔ میری شناخت لاہور قرار پائی… میں نے بھی صدیوں تک اس شہر کی بہت خدمت کی ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر نے میرے سرہانے عالمگیری مسجد تعمیر کی… شاہجہاں نے شالیمار باغ اور شاہی قلعہ تعمیر کروایا… کامران نے میرے بیچوں بیچ بارہ دری بنائی… شیخوپورہ میں ہرن مینار تعمیر ہوا جس کے تالاب کے لئے پانی میں فراہم کرتا تھا… بعد ازاں جہانگیر نے اپنی آخری آرام گاہ کے لئے میرا پہلو چُنا… ملکہ نور جہاں اور آصف جاہ نے بھی میرا انتخاب کیا۔ لاہور میں جہاں سے میرا گزر ہوا وہ شاہ درہ کہلایا، شادباغ کہلایا، باغبانپورہ اور مغلپورہ کہلایا۔ پورا شہر لاہور میرے کنارے اپنی فصیلوں میں بند ہو کر کبھی میرے پانیوں سے محروم نہیں رہا۔ زیر زمین واٹر ٹیبل ہمیشہ بھری رہتی تھی۔ مچھیرے راوی سے مچھلیاں اور کھگے پکڑتے اور موری دروازہ کی مچھلی منڈی آباد کرتے… میرا وجود ہی تھا جس نے تہذیبوں کے اتالیق اس شہر لاہور کو آباد رکھا۔ شومئی قسمت… جہاں سے میرے سوئے پھوٹتے تھے وہاں بنیا قابض ہو گیا۔ قائد اعظمؒ نے بھی میرے جنم استھان کو پورے پاکستان کی شہ رگ کہا… مگر سازشیں ہوتی رہیں اور میں سکڑتا رہا۔

بھارت نے Interbasin Water Transfer مجھ پر لگایا اور میرا پانی راوی بیاس لنک کے ذریعے سیدھا دریائے بیاس میں ڈال دیا اور پھر بیاس سے بھاکرہ ڈیم میں اور پاکستان میں میرے سارے راستے خشک ہو گئے۔ پتہ نہیں سندھ طاس معاہدہ کرنے والے پاکستان کے دوست تھے یا دشمن… آج کل میری گزرگاہ گندا نالا بنا ہوا ہے۔ دنیا کے گندے ترین دریاوں میں میرا شمار ہونے لگا ہے۔ ہڈیارہ ڈرین پر میری آلودگی شمار سے باہر ہے۔ 2006ء میں UNDP نے مجھ پر ترس کھا کر ایک کوشش کی تھی جو رائیگاں گئی۔ جس شہر کی میں بنیاد تھا وہاں واٹر ٹیبل 1000 فٹ سے نیچے چلا گیا ہے۔ جگہ جگہ ٹیوب ویل لگ گئے ہیں اور روز بروز واٹر ٹیبل نیچے جا رہا ہے۔ پانی میں کیڈمیم، کاپر، پلاٹینیم، کرومیم کی بڑی مقدار شامل ہو چکی ہے۔ لوگ کینسر اور گردے فیل ہونے سے مر رہے ہیں۔ سینکڑوں بیماریوں نے اس شہر پر حملہ کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں جب چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب سے پوچھا کہ پلاننگ تو یہ تھی کہ لاہور کے گردا گرد بڑے بڑے تالاب بنائے جائیں گے تاکہ واٹر ٹیبل اوپر آئے وہ کیوں نہیں بنائے گئے تو اُس نے کندھے اُچکا دئیے۔ سڑکوں اور نالیوں کے پکا ہونے سے بارش کا پانی بھی لاہور کی زمین میں جذب ہو کر زیر زمین نہیں جا پاتا، سیدھا سیوریج کے ذریعے شہر سے باہر نکل جاتا ہے۔ محمود بوٹی بند سے لے کر مانگا منڈی تک بدبو اور تعفن کا راج ہے۔ فیکٹریوں کے زہریلے پانی اور شہر کے گندے نالوں نے میرے وجود کو گٹر بنا کر رکھ دیا ہے اور کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ میرے وجود سے آباد ہونے والا شہر موت کی طرف بڑھ رہا ہے اور شہری RO پلانٹ کی زہریلے پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی بھر بھر کر رقمیں لٹا کر موت خرید رہے ہیں۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا اہم کردار میں تھا اور مجھے ہی مشق ستم بنا دیا گیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سندھ طاس معاہدہ اور ماہرین فطرت: راو جاوید

 

برصغیر کی آزادی کے فوراً بعد سابق چیئرمین امریکی ایٹمی انرجی کمشن David Lilienthal کی پتہ نہیں کیوں مجھ میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی، وہ مجھ سے ملنے کے لئے بے چین ہوا اور پھر اُس نے مجھ سے کئی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کی روداد اُس نے Collier’s میگزین میں چھپوا دی۔ وہ نہ صرف مجھ پر بلکہ میرے جڑواں بھائیوں بیاس، ستلج، چناب، جہلم اور سندھ پر بھی یکے بعد دیگرے کئی مضامین لکھ رہا تھا۔ اُس نے کہا کہ اگر ان کے پانیوں کی تقسیم واضح نہ ہوئی تو دونوں ملکوں میں پانی پر جنگ ہو گی۔ دنیا خوفزدہ ہو گئی۔ ایسے میں ڈیوڈ ورلڈ بنک کے چیئرمین Eugene R. Black سے ملاقات کرتا ہے اور دونوں آپس میں مل کر دنیا کو بتاتے ہیں کہ پانی بھی تقسیم کرو تاکہ دونوں ملکوں میں کبھی جنگ نہ ہو۔ ڈیوڈ اُن دنوں دونوں ملکوں میں معتبر مانا جاتا تھا چنانچہ اُس کی بات مان لی گئی اور ورلڈ بنک ثالث بن کر سامنے آ گیا۔ کافی دنوں کی گِٹ مِٹ کے بعد 19 ستمبر 1960ء کو فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان اور پنڈت جواہر لعل نہرو کراچی میں میری لاش پر دستخط کر رہے تھے۔ کسی کے علم میں نہیں تھا کہ حکمرانوں نے سندھ طاس معاہدے پر دستخط نہیں کئے بلکہ راوی کے ڈیتھ وارنٹ پر سائن کئے ہیں۔ فوجی سٹائل کے اس معاہدے میں 3/3 کا فارمولہ بنایا گیا یعنی ستلج، راوی، بیاس بھارت کا اور جہلم، چناب اور سندھ پاکستان کی ملکیت۔ اس معاہدے کے ٹھیک پانچ سال بعد دونوں ملکوں میں ایک بڑی جنگ ہوئی، پھر چھ سال بعد دوسری جنگ ہوئی جس میں بھارت کی سازش سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ Eugene R. Blackاور David Lilienthal کے خدشات غلط ثابت ہوئے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ میں صدیوں سے جن کا فطری حصہ تھا انہوں نے مجھے گھر سے نکال باہر کیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: