اقبال اور جرمن فلسفی ہامن : اعجاز الحق اعجاز

0
  • 121
    Shares

(اقبال اور جرمن فلسفی ہامن کا اولین تقابلی مطالعہ)


اقبال اور جرمن فلسفی ہامن (Hamman)کے مابین بعض حیران کن مماثلات پائے جاتے ہیں۔ دونوں کی عمیق اور متلاطم فطرت میں حقیقت الحقائق تک رسائی کی شدید آرزو وں سے پیدا ہونے والے ہیجانات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ہامن اگر یہ کہتا ہے کہ مجھے اپنے جذبات کے جنون کے باعث کسی پراسرار قوت کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے تو اقبال بھی یہ کہتے ہیں کہ در دشت جنون من جبریل زبوں صیدے۔ اسرار حیات کا گہرا ادارک انھیں بحر ِ حقیقت میں بہت گہرائی میں جا کرغوطہ زن ہونے پر اکساتا ہے۔ ان کی ژرف بیں بصیرت پہ جلد ہی یہ حقیقت منکشف ہوجاتی ہے کہ عقل حقیقت مطلق کی تلاش میں شدید تناقضات کا شکار ہے اور ایک مقام سے آگے اس کے پر جلنے لگ جاتے ہیں۔ دونوں کے ہاں وہ پر تقدس اعتقادی ارادہ پایا جاتا ہے جسے ولیم جیمز نے Will to Believe کہا ہے۔ دونوں نے دور جدید کے ریگستان میں ایمان کے قدیم چشمے کو دوبارہ جاری و ساری کرنے کی سعی کی۔ دونوں کی روح مروجہ عقل کی زمینوں سے ماورا ایمان کے آسمانوں پہ پرواز کرتی ہے۔ ان کی قاموسی فکر تخیل اور تاثر کے شہ پروں کو اپنا سہارا بناتی ہے۔ وہ بحر حیات کی ایک آدھ موج پہ اکتفا نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ تجزیہ و تحلیل سے گوہر ِ مقصود ہاتھ لگنے والا نہیں اسی لیے ان کی فکر تالیفی اور ان کی بصیرت ترکیبی اور کلی ہے۔ انھیں حقیقت کے عظیم شہ پارے کے کسی ایک کونے کھدرے سے نہیں بلکہ اس کے پورے منظر نامے سے دلچسپی ہے۔ ہامن کہتا ہے کہ تحلیل کو انتہائی عناصر تک کھینچ لے جانے کی کوشش فقط ایک ادعا ہے کیوں کہ ایسا کرنا الہیت کے غیر مرئی جوہر پہ ہاتھ ڈالنے کی کوشش ہے۔ حقیقت ایسے سربستہ رازوں پہ مشتمل ہے جن کی عقدہ کشائی کوئی ایسی قوت ہی کرسکتی ہے جو عقل کی طرح محدود پرواز نہ ہو اور نہ اس کی طرح تناقضات کا شکار ہو۔ اقبال بھی یہی کہتے ہیں:

عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں

اقبال اور ہامن دونوں حضوری کے متلاشی ہیں۔ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقت نے جسے مجتمع کیا ہے فلسفی کی عقل اسے الگ الگ کر دیتی ہے چناں چہ حقیقت کی الجھی ڈور کا کوئی ایک سرا بھی ہاتھ نہیں آتا اور ڈور مزید الجھ جاتی ہے۔ ہامن اپنی کتاب ’ارتیاب و خیالات ‘ Zweifel und Einfalle میں کہتا ہے کہ مذہب کی اصل ہماری تمام زندگی کی اساس میں پائی جاتی ہے اور اس کی وسعت ہمارے علم کے دائرے سے بہت وسیع ہے۔ اقبال بھی یہی کہتے ہیں۔ ہامن کہتا ہے کہ جذبے ہی سے مجردات عقلیہ کو پر لگتے ہیں۔ اقبال بھی جذبے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور انھوں نے اس جذبے کو عشق کا نام دیا ہے۔ عشق کے بغیر ان کے نزدیک عقل بھی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے اور شرع و دیں بھی بتکدہ تصورات بن کر رہ جاتے ہیں۔

ہامن جرمنی میں روشن خیال تحریک Aufklarung کے مقابلے میں اٹھنے والی رومانی تحریک Sturm und Drang کا نمائندہ فلسفی تھا۔ شلر اور گوئٹے بھی اسی تحریک سے وابستہ ہوئے۔ ہامن نامور فلسفی ہرڈر کا استاد تھااور یہ ہرڈر ہی تھا جس نے گوئٹے کو ہامن کے خیالات سے متعارف کرایا تھااور جن سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوا تھا۔ جرمنی کی رومانی تحریک پر ہامن کے کیا اثرات تھے ان کا اعتراف گوئٹے نے اپنی کتاب Dichtung und Drang میں کیا ہے۔ ہامن، ہرڈر، گوئٹے اور یعقوبی سب روشن خیال تحریک کے اس تصور کے خلاف تھے کہ عقل خود مکتفی اور مطلق ہے اور مذہب، اخلاق اور تمام معاشرتی مظاہر کو اسی کسوٹی پر رکھ کر پرکھنا چاہیے۔ یہ وہ دور تھا جب مغربی فکر و فلسفہ پر عقل کی مطلق العنانیت کا راج تھا اور اس کے سیل ِ بے پناہ کے سامنے ہر شے ریت کا گھروندا ثابت ہو رہی تھی۔ اور اس کی ایک ہو ہر دیوانے کو فرزانہ بنا دینے پر تلی ہوئی تھی۔ ہامن کا اثر اس دور کے نامور فلسفیوں شیلنگ، شلیگل، اور ہیگل پر بھی نمایاں ہے۔ خاص طور پر شیلنگ کی کتاب Positive philoshie پر یہ اثرات اور بھی زیادہ واضح محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ کرکیگارڈ کی فکر پر بھی ہامان کی فکر کے اثرات کچھ کم نہیں جس کے ذریعے سے یہ وجودیت کے فلسفہ میں بھی نمایاں ہوئے۔ ہامن نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عقل جس کی مطلقیت اور خود مختاری کے اتنے گن گائے جا رہے ہیں خود ایک سماجی اور ثقافتی تشکیل ہے اور اس کو تشکیل دینے میں زبان کا بہت زیادہ کردار ہے۔ لہٰذا اسے خود مکتفی اور مطلق کسوٹی مانتے ہوئے مذہب اور اخلاق کو اس پر پرکھنا غلط ہو گا۔ چناں چہ زبان کے اس اہم کردار کو وٹگنسٹائن سے پہلے ہامن نے تسلیم کرانے کی کوشش کی۔ اس نے عقل کی اتھارٹی کو چیلنج کیا اور اس کے محدود کردار کی بات کی۔ ہامن جو جوانی میں ایک سفارتی مشن پر لندن گیا تھااس مشن کی بری طرح ناکامی بلکہ روسی سفارتی عملہ کے ہتک آمیز سلوک کی وجہ سے شدید مایوسی اور ڈیپریشن میں مبتلا ہو کر شباب و کباب اور دیگر بے راہ رویوں کا شکار ہو گیا تھا۔ یک لخت اس نے ان سب خرافات سے خود کو دور کر لیا اور ایک طرح سے گوشہ نشین ہو کر بعض صوفیانہ تجربات سے گزرا۔

ایک طویل غور و فکر کے بعد اس نے اپنا فلسفہ ترتیب دینا شروع کر دیا۔ اس کے فلسفے میں فطرت اور مافوق الفطرت کے درمیان فرق مٹ جا تا ہے۔ وہ فطرت کو خدا کی زبان کہتا ہے۔ اشیا و مظاہر کائنات اس کی نظر میں الوہی علامات ہیں۔ اگر اسے ہم سمجھنے میں ناکام ہو جائیں تو یہ سب علامات مافوق الفطرت معلوم ہوتی ہیں بصورت دیگر یہی فطرت ہے۔ وہ کہتا ہے ـ’’کیا گھاس کا ایک تنکا ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ خدا موجود ہے؟ تو پھر انسان کے چھوٹے سے چھوٹے اعمال بھی اسی طرف اشارہ نہیں کرتے؟‘‘ اس کے خیال میں فطرت اور تاریخ الوہی زبان پر دو عظیم تبصرے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم ان کا مطالعہ کریں۔ خدا انسان کے تمام خیالات اور اعمال کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے کیوں کہ وہ ان میں اپنی شرکت رکھتا ہے۔ روشن خیال تحریک کا اصرار اس بات پر تھا کہ انسان خود شعور ہے اور یہ خود شعوری محض عقل کی وجہ سے ہے۔ ہامن اس خیال کو ناقص قرار دیتا ہے۔ اس کے خیال میں یہ علم کہ اصل میں میں کیا ہوں یہ میں نہیں جانتا بلکہ خدا جانتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ عقل پیدا کردہ ہے لہٰذا پروردگار پر حکم نہیں لگا سکتی۔ ہامن کا کانٹ کو ایک خط جو اس نے 27 جولائی 1759 ء کو لکھا تھا تاریخی اہمیت کا خط ہے۔ اس خط میں اس نے عقل کے ان حملوں کی شدید مزاحمت کی ہے جو وہ ایمان پر کر رہی تھی۔ اس خط کے آخر میں ہامن ڈیوڈ ہیوم کا حوالہ دیتا ہے جس نے یہ کہا تھا کہ انسانی عقل تو چھوٹی چھوٹی چیزوں کا اثبات نہیں کر سکتی خدا جیسی بڑی ہستی کا کیا کرے گی۔ ہامن بھی یہی کہتا ہے کہ ہمارے اردگرد جو کچھ بھی ہے اس پر ہم یقین تو کر سکتے ہیں مگر اس کے وجود کا اثبات عقلی دلائل سے نہیں کرسکتے۔ مثلاً اگر ہمارے سامنے میز ہو تو ہم یہ مان تو سکتے ہیں کہ یہ میز ہے لیکن اس کی موجودگی کے لیے دی جانے والی ہر عقلی دلیل کے مقابل یہ دلیل لائی جا سکتی ہے کہ یہ میز نہیں۔ اس قسم کی بات کانٹ نے اپنی کتاب ’’تنقید عقل ِ محض‘‘ میں بھی کی ہے یعنی جب بھی عقل کا استعمال مابعد الطبیعیاتی حقائق پر کیا جائے تو یہ اضداد (Antinomies) میں پھنس جاتی ہے۔ مگر کانٹ اور ہامن میں یہ فرق ہے کہ کانٹ عقل کو خود مکتفی سمجھتا ہے اگرچہ اس کے حدود کو عالم مظاہر تک محدود کرتا ہے۔ مگر ہامن عقل کی مطلق العنانیت کو چیلنج کرتا ہے۔ ہامن کا یہ کہنا کہ ایمان (ٖFaith)محض مان لینا (To believe)نہیں بلکہ ایک تجربہ ہے اسے اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ ایمان ایک علم ہی ہے مگر ایک خاص قسم کا علم۔ ہامن کہتا ہے کہ علم محض تعقلی علم (Rational or Discursive knowledge) کے مترادف ہرگز نہیں۔ یعنی ایمان کے متضاد کے طور پر علم کو پیش نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ صرف تعقلی علم کو کیا جانا چاہیے کیوں کہ علم کی تعقلی علوم کے علاوہ بھی بہت سی اقسام ہیں۔ عقل جب مابعد الطبیعیاتی حقائق پر تنقید کرتی ہے تو خود اپنے ہی حدود سے تجاوز کرتی ہے اور غیر عقل (unreason) کا کردار ادا کرنے لگتی ہے۔ عقل کو ایک آفاقی مقام سونپنا خود ایک غیر عقلی فعل ہے۔ اقبال کی طرح وہ بھی یہ کہتا ہے کہ اس کے خیال میں ایمان بھی ایک خاص قسم کا احساس (Sensation) ہے اور یہ ایمانی احساس ہمیں ایک خاص قسم کا وجدان عطا کرتا ہے جس کی تحویل ہم تعقلی علم کے طور پر نہیں کر سکتے۔ یہ تمام مباحث ہامن نے اپنی کتاب Sokratische Denkwurdigkeiten میں پیش کیے ہیں۔

یہ امر دلچسپی کا حامل ہے کہ اس حوالے سے علامہ اقبال کے خیالات جو انھوں نے اپنے خطبے Knowledge and Religious Experience  میں ارشاد فرمائے ہیں بہت کچھ ہامن سے ملتے جلتے ہیں۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ ایمان علم کا وہ درجہ ہے جو عمل اور تجربے سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر ان کے نزدیک مذہبی تجربے کی تصدیق کے لیے ایسی آزمائشیں موجود ہیں کہ جن کا اطلاق مذہبی تجربے پر باکل اسی طرح ہوسکتا ہے جس طرح ان کا اطلاق علم کی دوسری صورتوں پہ ممکن ہے۔

شیلنگ کی طرح ہامن یہ سمجھتا ہے کہ حقیقت کے اثبات کا ایک ذریعہ آرٹ بھی ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ شیلنگ کے آرٹ کے حوالے سے تصورات پر ہامن ہی کا اثر ہو۔ ہامن اپنی کتاب Aesthetica in Nuce میں آرٹ کے مابعد الطبیعیاتی تناظرات پر زور دیتا ہے۔ وہ فطرت کا ایک مافوق الفطرتی تصور رکھتا ہے۔ اس کے خیال میں فطرت کے ما فوق الفطرتی پہلو کو جاننے کے لیے یہی پانچوں حواس کافی ہیں۔ اس کے نزدیک فطرت ایک ـ’’کہانی ہے، ایک خط ہے جس میں ہمارے لیے ایک مافوق الفطرتی پیغام پوشیدہ ہے۔ اس کے نزدیک آرٹ کے عقلی اصول متعین نہیں کیے جا سکتے۔ ہامن نے آرٹ کی تجربی روایت جس کے مطابق آرٹ کا کوئی اخلاقی اور مابعد الطبیعیاتی تناظر نہیں بلکہ حواس کی تسکین ہے کے خلاف آواز بلندکی۔ اس کے نزدیک آرٹ بلند اخلاقی آدرش کے حصول اور بعض مابعدالطبیعیاتی حقائق کی عقدہ کشائی کا ذریعہ ہے۔ اقبال بھی آرٹ کے حسی نہیں بلکہ مابعد الطبیعیاتی تناظر پر زور دیتے ہیں۔ مسجد قرطبہ ان کے لیے آرٹ کا ایسا ہی نمونہ ہے جو مابعد الطبیعیاتی تناظر رکھتا ہے۔ ہامن کی طرح وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آرٹ کو حقیقت مطلقہ کا نمائندہ ہونا چاہیے نہ کہ حسی مسرت اندوزی کا ذریعہ۔  وولف اور بام گارٹن کے ہاں آرٹ کے جو تصورات پائے جاتے ہیں ان کے مطابق جمالیاتی تجربے کا تعلق عالم مظاہر ہی کی نمائندگی تک ہے یا پھر حسی حظ تک اور یہ کسی عالم حقیقت کا پتہ نہیں دیتا۔ مگر اقبال اور ہامن دونوں اس نظریے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہامن اس حوالے عقلیین اور تجربیین دونوں پر تنقید کرتا ہے کہ انھوں نے آرٹ کو وسیع تناظر میں سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ کہتا ہے ــ’’او اعلیٰ درجے کے نقادو ! تم حقیقت کا پتہ پوچھتے ہو مگر جواب حاصل کیے بغیر ہی دروازے کی راہ لیتے ہو۔‘‘

اس کے نزدیک آرٹ ایک بلند درجہ علم ہے اور اس کا مرتبہ منطق اور ریاضی سے بھی بڑھ کر ہے۔ کیوں کہ یہ ان علوم سے بڑھ کر حقیقت کا براہِ راست علم دیتا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں: فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت ۔ خالد بلغاری

 

ہامن کا ایک بہت بڑا علمی کارنامہ اس کی کتاب Metakritic (Metacritic ) ہے۔ میٹا کریٹک کا مطلب ہے تنقید پر تنقید۔ ۔ کانٹ نے جس انتقادی فکر کو فروغ دیا تھا، یہ اس کا اگلا درجہ ہے۔ ہامن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ عقل ہر چیز پر تنقید کرتی ہے مگر اس تنقید پر بھی تنقید ہونی چاہیے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمارے لیے ان سوالات کے جواب تلاش کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے کہ عقل کیا ہے ؟، ہم عقل پر کیسے تنقید کر سکتے ہیں ؟، عقل کے حدود و قیود کیا ہیں ؟ وغیرہ۔ تنقید پر تنقید دراصل تنقید ہی کا منہاج ہے جو ناگزیر ہے جس کے بغیر تنقید ادھوری رہ جاتی ہے۔ ہامن نے کانٹ کے انتقاد پر تنقید کرتے ہوئے ہامان یہ کہتا ہے کہ اس نے عالم حقیقت کو عالم مظاہر سے پرے رکھ کر عقل کو hypostatize کیا ہے یعنی اس کو ’محض ‘ کر دیا ہے۔ جس سے وہ تمام ثقافتی مظاہر سے الگ تھلگ ایک خود مکتفی (Self Sufficient) شے بن گئی ہے، ہر قسم کی تنقید سے مبرا ایک اصل الاصول حالاں کہ ایسا نہیں۔ ہامن کا کہنا ہے کہ عقل انسانی سرگرمیوں سے وجود پذیر ہوتی ہے اور یہ حقیقت کو سمجھنے کی اتھارٹی ہر گز نہیں۔ یہ یونی ورسل نہیں بلکہ پارٹیکولر ہے۔ آفاقی نہیں بلکہ مقامیت کی پیدا کردہ ہے۔ پیراڈائم شفٹ کے ساتھ ہی عقل بھی بدل جاتی ہے۔ اس کی روشنی میں دیکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ چیزیں اپنی حقیقت پوری طرح عیاں کر دیں گی کیوں کہ یہ روشنی بھی ان چیزوں ہی کی زائیدہ ہے۔ کانٹ اس روشنی کی مطلقیت مگراس کے حدودپرجب کہ ہامن اس کی اضافیت پر اصرار کرتا ہے۔ اقبال بھی عقل کی مطلقیت کے تصور کی نفی کرتے ہیں۔  کانٹ نے تنقید عقل محض میں جس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی وہ یہ ہے کہ کیسے ترکیبی قبل تجربی تصدیقات (Synthetic a-priori judgements) ممکن ہیں؟ ہامن کے مطابق کانٹ اس سوال کا جواب نہیں دے پایاکیوں کہ یہ طے نہیں ہو پایا کہ حسی ادارک کے منتشر مواد پر فہم کے قبل تجربی مقولات کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟کانٹ کے برخلاف ہامن اور اقبال اس حوالے سے متفق ہیں کہ حقیقت کو موضوع اور معروض میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ان دونوں کے نزدیک حقیقت ایک نامیاتی وحدت ہے۔

ہامن کے نزدیک کانٹ کے فلسفے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ ملکہ حس اور ملکہ فہم کو الگ الگ کر دیتا ہے اور ان کے ربط کی وضاحت نہیں کرتا۔ حسی ادراک زمانی (Temporal) اور مکانی (Spatial) ہے جب کہ فہم لازمانی (Non-temporal) اور لامکانی (Non-Spatial) پھر ان میں ربط و ضبط کیسے ہو گا؟کانٹ کے پاس اس کا تسلی بخش جواب نہیں۔ کانٹ کا فلسفہ عالم حقیقت اور عالم مظاہر کی ثنویت پر مشتمل ہے۔ کانٹ کے برخلاف ہامن اور اقبال اس حوالے سے متفق ہیں کہ حقیقت کو موضوع اور معروض میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ان دونوں کے نزدیک حقیقت ایک نامیاتی وحدت ہے۔ اقبال کے نزدیک:

“The life of the ideal consists, not in a total breach with the real which would tend to shatter the organic wholeness of life into painful oppositions, but in the perpetual endeavour of the Ideal to appropriate the real with a view eventually to absorb it, to convert it into itself and illuminate its whole being.”

اقبال کے خیال میں موضوع اور معروض، حقیقی اور مثالی کی ثنویت درست نہیں۔ وہ حقیقت کے باطنی اور خارجی دونوں پہلووں کو ایک دوسرے کے لیے ناگزیر تصور کرتے ہیں اور یہ پہلو ان کے نزدیک باہم متصادم ہرگز نہیں۔ اگر انھیں باہم متصادم تصور کیا جائے یا کسی ایک پہلو کو ناگزیر اور دوسرے کو غیر ضروری یا اضافی تصور کیا جائے تو اس سے حقیقت کی نامیاتی کلیت تضادات کا شکار نظر آئے گی۔ ظاہر اور باطن کے درمیان ایک عضوی اور نامیاتی ربط ہے۔  زمیں را رازدان ِ آسماں گیر  مکاں را شرح ِ رمز لامکاں گیر پرد ہر ذرہ سوئے منزل دوست نشان راہ از ریگ رواں گیر ہامن کے مطابق علم کو ثنویت سے جو چیز بچا سکتی ہے وہ ہے زبان کیوں کہ زبان کا تعلق صوت کے لحاظ سے ایک طرف ملکہ حس سے ہے تو دوسری طرف معنی کے لحاظ سے ملکہ فہم سے۔ وحدت کی یہی خواہش جو ہامن کے ہاں زبان کے فلسفے کی صورت میں سامنے آتی ہے، رین ہولڈ کے اظہاریوں، شلائر ماخر کے مذہبی وجدان، فختے کے ایغو، شیلنگ کے جمالیاتی وجدان اور ہیگل کے سپرٹ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: