بستی بسنا کھیل نہیں ہے بستے بستے بستی ہے : احمد اقبال

0
  • 68
    Shares

میں نے اس ذہنی کیفیت سے باہر آنے کی بہت کوشش کی جس کو آسانی کی خاطرمیں ضمیر کی خلش کہہ سکتا ہوں۔۔ اس دلیل کا سہارا بھی لیا کہ یہ میرا شعبہ نہیں۔۔ اور جب آپ کے گرد سمع خراش آوازوں کا شور محشر بپا ہو اور کوئی کسی کی سننے والا نہ ہو تو بہتر ہے اپنی بین آپ کسی بھینس کے آگے بجالیں اور اس کے خاموشی سے سر ہلانے کو داد سمجھ کے پر سکون ہو جایئں۔۔ مگر خود فریبی ایک احساس پیدا کرتی تھی کہ میں دانستہ زنجیر سے گریز پا ہوں جب کہ میرا مسلک اور طریق تو ہر حلقہ زنجیر میں زباں رکھنا ہی ہے۔

اس اعتراف جرم کے بعد اگر میں سوال کروں کہ دنیا کے نظام کیا کسی فرمان شہنشاہی سے بنے ہیں؟ سیاسی۔۔ معاشرتی اخلاقی۔۔ شہری۔۔ خاندانی۔۔ اخلاقی۔۔ تعلیمی۔۔؟ ان کی نوعیت کا شماربھی مشکل ہے۔۔ دنیا کو چھوڑیں صرف پاکستان میں اس وقت بھی ہر سمت میں پٹریوں پر درجنوں ٹرینیں۔۔ سڑکوں پرسینکڑوں بسیں اور ہزاروں گاڑیاں رواں دواں ہیں۔ خیبر سے کراچی تک سڑکوں کا ایک جال ہے جو پھیلتاجا رہا ہے۔۔ اس پرہر سہولت میں اپنی عمر کے حساب سے کچھ اضافہ آپ نے بھی دیکھا ہوگا۔۔ تاہم گدھا گاڑی سے دیو ہیکل ٹرالر تک سب بائیں طرف چلتے ہیں؟ یہ کب ہوا؟ کس نے کیا اور کیوں کیا؟ جواب کوئی کیا دے گا کیونکہ اب تو جانور بھی اس کے عادی ہیں۔۔ میں نے جی ٹی روڈ پر نصف شب کے بعد بس کے سفر میں دیکھا کہ بھوسے سے لدی بیل گاڑی میں پائیلٹ اوپر سورہا ہے اور بیل ہے کہ بائیں ہاتھ پر رہتے ہوئی چلتا جارہا ہے۔۔ لیکن آج فرض کریں ہمارے قابل فخر قوم جناب ڈاکٹر ادیب رضوی جواب تک کڈنی سنٹر کو مثالی طور پر چلاتے آئے ہیں خدانخواستہ اچانک بولنے لگیں کہ بائیں ہاتھ چلنا انگریزکی غلامی ہے۔ امریکہ فرانس، ایران۔۔ سب میں ٹریفک دائیں ہاتھ پر چلتی ہے۔۔ مسلمان کیلئے یوں بھی دایاں ہاتھ افضل ہے۔۔ یہ نظام کاریں بنانے والے ممالک نے رشوت کے بل پر مسلط کر دیا ہے لیکن میں یہ کرپش نہیں چلنے دوں گا۔ میں پاکستان کو دنیا کے عظیم ممالک میں شامل کرنے کیلئے ٹریفک کے نظام کو دائیں ہاتھ پر چلا کے دکھاوں گا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔ کیا سمجھیں گے اور کیا کہیں گے لوگ۔۔ (ذی شعور لوگ۔۔ ورنہ کرائے پر واہ واہ کرنے والے تو شاعر بھی لے آتے ہیں)۔ یہی کہ خدانخواستہ اس عمر میں ڈاکٹر صاحب کا دماغ چل گیا ہے۔۔اور کہیں گے بھی کہ محترم۔۔ آپ اپنا کڈنی سنٹر چلایئے جو آپ کا شعبہ ہے۔

دنیا کے عدالتی نظام کی تاریخ تو نہ جانے کب اور کہاں سے شروع ہوئی لیکن اس کی جوصورت آج دنیا کے تمام ترقی یافتہ مملاک میں نظر آتی ہے وہ صدیوں کے عمل ارتقا کا نتیجہ ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے کوئی قطعی یا حتمی صورت اختیار کرلی ہے۔۔ یہ مسلسل انسان کیلئے اپنی افادیت کوبہتر بنانے کیئے کوشاں ہے۔۔ کوئی نظام جو خوب سے خوب تر ہونے کی صلاحیت اور لچک نہ رکھتا ہو از خود معدوم ہو جاتا ہے۔ قوانین کو بہتر بنانے کا عمل جاری ہے۔۔ اس کی ضرورت کا احساس اکثردنیا بھرکے وہ عدالتی فیصلے بھی دلاتے ہیں جو تاریخ ساز سمجھے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں بطور نظیرپیش کئے جاتے ہیں۔۔ کیا یہ عجیب نہیں کہ جسٹس ثاقب نثار نے چند روز قبل کہا کہ ان کے سامنے بھارت کی نظیر نہ پیش کی جائے ؟ اس سے قبل وہ فرما چکے تھے کہ ان کے سامنے ہندو کی مثال نہ دی جائے جب کہ ان سے پہلے اسی عدالت عالیہ کے منصب اعلیٰ پر رانا بھگوان داس فائز رہ چکا ہے؟ اور تاریخ میں امر ہو چکا ہے؟

میں مانتا ہوں کہ کرپشن ہے اور بہت زیادہ ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ انسانی تاریخ کے ہر دور میں تھا اور دنیا کے ہر خطے میں اج بھی ہے (ہم کرپشن کا لفظ غبن کے معنی میں استعمال کر تے ہیں۔۔) غریب کا غریب تر اور امیر کا امیرتر ہونا صرف پاکستان کا مسئلہ بنا کے اچھالنا سیاست کا ایک استحصالی حربہ یا نعرہ ہے۔

تاریخ کے پہیے کو الٹا یا اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کبھی کامیاب نہ ہو سکتی تھی نہ ہوئی۔۔مثال کے طور پرہمارے ملک کے جسٹس منیر کا نظریہ ضرورت یہ تسلیم کرنے کےمترادف ہے کہ ڈاکو کو اپنے معاشی حالت کی بہتری کیلئے کسی شہری کو لوٹنے کا حق ہے۔۔ اس کے بر عکس دو غیر مسلم چیف جسٹس ہماری تاریخ میں امر ہوئے۔۔پہلا کارنیلیس جو لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے دو کمروں میں جیا اور مرگیا لیکن وہ کمرے قومی یادگار ہیں اس کا نام لاہور کی ایک شاہراہ پرلکھا نظر اتا ہے اور سنا ہے اس کی پرانی کار آج کی سپریم کورٹ میں انصاف کی علامت بنی ہوئی ہے۔۔ دوسرا رانا بھگوان داس جوجنرل مشرف کی ننگی جارحیت کیے زمانے میں تیرتھ یاترا کیلئے لاہور گیا تو اس نے انڈین گورنمنٹ سے ہر قسم کی مراعات لینے سے انکار کیا۔ میں نے اس کی بیوی کی تصویر دیکھی جو 80 گز یا 3 مرلے کےغریبانہ گھرمیں خود کپڑے دھوکر ڈوری پر پھیلا رہی تھی۔ اس پر بہت دباو ڈالا گیا کہ واپس نہ آئے اور ریٹائرمنٹ پر چلا جائے لیکن وہ لوٹ کر آیا اور ایرپورٹ پر اس نے میڈیا کے ہجوم میں صرف دو لفظ بولے “سب ٹھیک ہو جائے گا” اور جب وہ چیف جسٹس کی کرسی پر بیٹھا تو اس نے افتخار چوہدری کو بحال کیا۔

اور تب ایک عالم نے دیکھا کہ وہ چیف جسٹس جس کے سڑک پربال کھینچےگئے تھے اور جو 5 ماہ نظر بند رہا تھا اس افتخار چوہدری کے سامنے ڈوگر جیسے سب جو آئین۔ قانون اور ضمیر کو نظر انداز کر کے اعلیٰ عدلیہ کے عہدوں پر بھی غاصبانہ قبضہ کر چکے تھے حاضر ہوئے۔ انہوں نے غیر مشروط معافی نامہ کے ساتھ لکھا کہ ہم نے خود کو عدالت عالیہ کے رحم و کرم پرچھوڑا اور سزا ان کو یہ ہوئی کہ ان کے نام کے ساتھ کبھی جج نہ لکھا جائے۔۔ چنانچہ وہ عام آدمی سے زیادہ بے توقیر ہویئے۔۔ بھگوان داس کا فیصلہ ایک نظیر بنا جو دنیا بھرمیں عدلیہ کی تاریخ میں لکھے جاتے ہیں۔

میں نے 70 سال پہلے کا پاکستان دیکھا ہے لیکن اب وہ جو میرے تصور میں ہے وہ تصویر میں بھی ہے۔ پنڈی لاہور کراچی جیسے ہر شہر کے آرکائیوز میں اس کے وقت کا سفر ایک دستاویزی عکس کی صورت میں محفوظ ہےجو آپ بھی دیکھ سکتے ہیں۔۔ پھر میں کیسے مان لوں کہ ان 70 برسوں میں صرف کرپش کا راج رہا اور پاکستان نے ترقی معکوس کی؟ میں مانتا ہوں کہ کرپشن ہے اور بہت زیادہ ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ انسانی تاریخ کے ہر دور میں تھا اور دنیا کے ہر خطے میں اج بھی ہے (ہم کرپشن کا لفظ غبن کے معنی میں استعمال کر تے ہیں۔۔) انسان کی غلامی کے حوالے یونانی تاریخ سے اسلامی۔۔ پھر نو آبادیاتی یا آج کی تاریخ تک آتے ہیں۔ غریب کا غریب تر اور امیر کا امیرتر ہونا صرف پاکستان کا مسئلہ بنا کے اچھالنا سیاست کا ایک استحصالی حربہ یا نعرہ ہے۔ ایک عالمی تنظیم “آکسفیم” نے جو 18 عالمی این جی اوز پر مشتمل ہے 2007 میں یہ رپورٹ دی کہ 3 ارب 30 کروڑ افراد کے پاس اتنی ہی دولت ہے جتنی 378 خاندانوں کے پاس۔۔ دس سال بعد جتنی دولت 3 ارب 60 کروڑ کے پاس تھی وہ 8 افراد کے ہاتھوں میں آگئی۔ ان کے نام سب جانتے ہیں۔۔ بل گیٹس، وارن بوفے وغیرہ۔

ایک بار پھر لوٹ کے اس بے سر و پا بات کی طرف آتے ہیں کہ 70 سال میں حکمرانوں کے کرپشن نے ملک کو پیچھے دھکیل دیا۔۔ہا ہا ہا۔۔ آرکائیوزمیں موجود تصاویر دیکھنے سے پہلے سوچئے کہ:ـ

1۔ حکومت پاکستان کے دفاترنے ابتدا میں پیپر پن کی جگہ ببول کے کانٹے استعمال کئے۔۔30 لاکھ مہاجرین بے سرو ساماں آگئے۔ بھارت نے ریزرو بنک سے تین چوتھائی رقم نہیں دی تو تنخواہیں دینے کے اخراجات ریاست بھاولپور کے خزانے سے قرض لے کر پورے کئے گیئے۔ یہ مفلس و بد حال ملک ایک ایٹمی قوت کیسے بنا؟ یہ کام فرشتوں نے نہیں کیا جیسے کہ 1965 کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کے گرائے ہوئے بم سبز پوشوں نے ہوا میں کیچ نہیں کئے۔۔ کچھ لوگ آج بھی ایسا مانتے ہیں۔

2۔ پاکستان کی کوئی ایر لائن نہیں تھی۔اورینٹ ایرویز کو 1948 میں پی آئی اے بنایا گیا تو اس کے پاس دو انجن اور پنکھوں والے ڈکوٹا جہاز تھے۔آج اس کے علاوہ 4 ایرلائینز کے پاس ہیں جدید ترین بوییؑنگ اور ایر بس اے۔380

3۔ پاکستان میں صرف 2 ریڈیو اسٹیشن تھے۔۔ لاہور اور پشاور۔۔ آج کتنے ہیں؟ سٹلائٹ ٹی وی اسٹیشن کتنے ہیں؟ ایف ایم اسٹیشن کتنے؟

4۔ میڈیکل کالج ایک لاہور میں تھا۔ آج کہاں کہاں ہیں؟ ہسپتال لاہور میں تھے میو۔۔گنگا رام۔۔ گلاب سنگھ جمعیت دیوی یونائیٹڈ کرسچن۔۔ (اب شاید 100 سے اوپر ہی ہونگے جو بڑے ہیں)۔۔ پشاور میں لیڈی ریڈنگ تھا کراچی میں شاید ڈاو بھی نہیں تھا، سول ہسپتال ممکن ہے ہو۔۔ آج کس کس شہر قصبے میں کتنے ہسپتال ہو نگے۔۔ میں اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔۔ہر جگہ کیسے کیسے اسپیشلسٹ بیٹھے ہیں۔ ڈاکتر ادیب رضوی یا انڈس ہسپتال والے ڈاکٹر باری اور شوکت خانم جیسے لاتعداد اسپیشلسٹ ڈاکٹر بہترین رفاہی خدمات بلا معاوضہ فراہم کر رہے ہیں۔۔ یہ سب کیسے ہوا۔۔کس نے کیا؟

5۔ یونیورسٹی ایک لاہور میں تھی ایک پشاور میں۔۔ آج ان کی اصل تعداد کون بتا سکتا ہے؟ اس میں ٹیکنکل۔۔ میڈیکل۔۔ انجینرنگ۔۔ زرعی۔ اسلامک ہر قسم کی یونیورسٹیاں کتنی ہیں۔

سوالات لاتعداد ہیں وہ دھواں دیتا کالا انجن میوزیم میں رکھا ہے۔ تیز گام اور گرین لائین جیسی درجنوں ایر کنڈیشنڈ گاڑیاں آگئی ہیں۔۔ کوریا کی “دائے وو” سے بھی شاندارایر کنڈیشنڈ بسیں تلہ گنگ جیسے دور افتادہ قصبوں کو جارہی ہیں۔۔ موٹرویز کا جال پھیل رہا ہے میٹروبس چل پڑی ہے۔ گاوں دیہات میں اے ٹی ایم اور ہر ہاتھ مین موبایل فون ہے۔

اگر 70 گزرے سالوں میں کام کسی نے نہیں کیا صرف کرپشن کیا تو جناب چیف جسٹس صاحب۔۔یہ سب کس نے کیا؟ یہ سب اس نظام کی وجہ سے ہوا جس میں ہر شخص نے اپنی جگہ اپنے دایرہ کار میں رہ کر صرف اپنا کام کیا۔۔۔کسی وزیر زراعت نے بجٹ پیش نہیں کیا اور وزیر خارجہ نے تعلیمی نظام نہیں بنایا۔ جس نے دائرہ اختیار کی اس حد سے تجاوز کیا غاصب کہلایا۔خود عدالت عالیہ نے اس کو غاصب قرار دیا۔۔مجھے 70 سال کی تاریخ میں ایک مثال یاد نہیں جب کسی چیف جسٹس نے۔ ریلوے کی زبوں حالی پر تنقید کی ہو۔۔ اس وقت بھی جب ٹرین کا گھنٹوں لیٹ ہونا اور جنگل میں کھڑے رہنا معمول تھا اور آیئی ایس آئی کے جنرل اسد اشرف قاضی ریلوے چلارہے تھے۔۔ یایہ کہا ہو کہ تعلیم کا بیڑا غرق ہو گیا اور وزیر تعلیم کو توہین عدالت کے خیال نے جواب دینے سے روک لیا ہو ورنہ وہ پوچھتا کہ جناب اس شعبے کی زبوں حالی بھی دیکھئے جس کے آپ زمے دار ہیں۔۔ اس وقت سب سے زیادہ کرپشن تو نظام انصاف میں ہے۔ عدالتوں میں رشوت کا ریٹ کیا ہے؟ سماعت طلب اپیلوں کی تعداد کتنے لاکھ ہے؟ کیا ایسا نہیں ہوا کہ ایک اپیل پرمجرم کی سزائے موت ختم کی گئی تو اس کومرے ہوئے 12 سال گزر چکے تھے؟ اوریہ ایک سے زیادہ بار نہیں ہوا ؎ مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے۔۔ بلا شبہ آپ کی عدالت میں زیر سماعت ایک بھی مقدمہ نہ ہوتا تو آپ ہاتھ جھاڑ کے پہنچ جاتے جناح ہسپتال کی ڈاکٹر سیمی جمالی کے پاس جو ٹی وی کے زنانہ شو میں شوبز جیسی گلیمر کے ساتھ جلوہ نمائی بھی کرتی رہی ہے۔۔ یا جا پہنچتے لاہور کے مینٹل ہسپتال۔۔ “سو موٹو” نوٹس لینا آپ کا قانونی و آئینی حق ہے اور کسی کو آپ کے سامنے دم مارنے کی اجازت نہیں۔ آپ نے ضرور اس ہسپتال کے بارے میں کچھ سنا یا پڑھا ہوگا۔۔ کیا ابھی تک آپ نے بردہ فروشی کے جدید نام والے ٹھکانوں، ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگریوں اور “دونمبر” کاروبار کے بارے میں کچھ نہیں سنا جس میں پیری فقیری سے مسیحائی اورجعلی ادویات سے زرعی اور صنعتی پیداوارتک بہت کچھ شامل ہے؟ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کی ریٹائرمنٹ میں زیادہ دن نہیں تب تک آپ 70 سال کی خرابیاں کیسے ٹھیک کریں گے۔۔ میرا مطالبہ ہے کہ آپ کو تا حیات ریٹائرمنٹ سے محفوظ رکھنے کے لئے آئین میں فوری ترمیم کی جائے۔ انصاف کا کیا ہےہوتا رہے گا۔ نہ ہوا تب بھی یوم حساب تو مقرر ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: