ترقی پسندی جدیدیت اور مابعدجدیدیت ــــ عزیز ابن الحسن

1
  • 91
    Shares

سن 36 کے بعد اردو ادبی تحریکوں یا رححانات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ وہ ابتداً ترقی پسندی و جدیدیت کے دو متوازی دھاروں میں بٹے ہوئے تھے۔ ترقی پسندی زندگی اور اسکے اظہارات کی تمام اوضاع کا مطالعہ مارکسی نظریے کی روشنی میں کرتی تھی۔ ادب کی جمالیاتی و فنی اقدار کی حیثیت اسکے نزدیک ثانوی تھی۔ اسکا مسئلہ اجتماعی آشوب تھا جس کی تعبیر و تشریح وہ اشتراکی آدرشوں کے مطابق کرتی تھی۔

ترقی پسندی انسانی اظہار کی تمام صورتوں اور ادب کو بطور آلۂ انقلاب کے استعمال کرنے کی قائل تھی۔ وہ ادب جو انقلاب (اور وہ بھی صرف مارکسی انقلاب) کا راستہ ہموار نہیں کرتا وہ زوال پزیر اور بیمار ذہنیت کی پیداوار تھا۔ ماضی کا تمام ادب چونکہ بادشاہی اور جاگیرداری دور کا جنما تھا لہذا ترقی پسندوں کے ہراول دستے کے نزدیک وہ گردن زدنی تھا۔ اسکے برعکس جدیدیت (ادبی معنی میں) کا اصل رخ فرد اور اسکی تنہائی اور فرد کے شخصی آشوب کی طرف تھا۔ اسکے اظہار کیلیے وہ ادب و فن کے جمالیاتی اور فنی پہلوؤں پر زیادہ زور دیتی تھی، ادب کو کسی نظریے کے تابع کرنے کے وہ خلاف تھی۔ گردوپیش کی سماجی صورتحال کا اظہار ادب میں ہو اسے جدیدیت ضروری نہیں جانتی تھی۔ ترقی پسندی کا مسئلہ جہاں اجتماعی آشوب تھا وہاں جدیدیت کا سروکار آشوبِ ذات سے تھا۔ ایک طویل عرصے تک ہمارے ادب میں ترقی پسندی اور جدیدیت دو متوازی دھاروں کی صورت میں چلتی رہی تھیں۔ اور اردو کے بڑے بڑے نقادوں کے نزدیک یہ دو طرز فکر اردو ادب کے دو بڑے متخالف اور باہم آویزاں رجحانات کے طور پر جانے جاتے تھے تاآنکہ محمد حسن عسکری نے ۱۹۷۵ کے قریب یہ لکھا کہ ترقی پسندی ہو یا جدیدیت، مذہبی اقدار سے بیگانگی برتنے کے اعتبار سے یہ دونوں جدیدیت ہی کی دو صورتیں ہیں۔ باہمی طور پر یہ جتنی بھی متحارب ہوں، مذہبی شعور کی مخالفت میں یہ دونوں متفق ہیں۔

داد دیجئے اردو کے ایک بے چارے نقاد محمد حسن عسکری کی بصیرت کو، جس نے ترقی پسندی اور جدیدیت کو متخالف رجحانات سمجھے جانے کے عین دور عروج میں اور مابعدجدیدیت کے ظہور اور داخلِ فیشن ہونے سے کہیں پہلے ترقی پسندی اور جدیدیت کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیکر مستقبل کے مشترک ہدف ـــ سیکولرازم اور لبرلزم ـــ کا پتہ دے دیا تھا۔

۹۰ کے عشرے میں سوویت روس کے سقوط کے بعد ہمارے ترقی پسند طبقوں میں جو نظریاتی افسردگی پیدا ہوئ وہ ابھی ڈھلان کے سفر پر ہی تھی کہ ۹/۱۱ ہوگیا اور امریکہ کی سربراہی میں مغربی سرمایہ دارانہ نظام دنیا کا نیا اور اکلوتا ورلڈ آرڈر بن گیا۔ سابقہ ترقی پسندوں کی اکثریت جو پہلے ہی سوویت نظام کی تباہی کے صدمے سے نکل نہیں پارہی تھی بتدیج نہایت خاموشی کے ساتھ نیوورلڈآرڈر کی حامی بنتی چلی گئ۔ جدیدیت پسندوں کو تو پہلے ہی مغرب کے زرپرستانہ نظام سے کوئی مسئلہ نہ تھا۔ لہٰذا دیکھتی آنکھوں کو جلد ہی ان سابقہ حریفوں میں ایک غیر رسمی اور غیر اعلانیہ “اتفاقِ رائے” نظر آنے لگا اور یہ میثاق اس دفعہ سیکولرازم اور لبرلزم کے پھریرے تلے ہوا تھا۔ دوسری طرف یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ مابعد جدیدیت کے نام سے جو ایک نیا طبقہ پیدا ہوا تھا اسکے اکثر و پشتر ہیوی ویٹ چمپین سابقہ لفٹسٹ و مارکسٹ تھے۔ بایں اعتبار بھی جدیدیت و مابعد جدیدیت پسندوں(سابقہ مارکسی) میں یک گونہ بنائے اتفاق بن گیا۔ ان سب میں اختلافات کی جو بھی ظاہری صورتیں کہی جائیں درست ہیں مگر مذہب کو ایک حاوی و کلی و حاکم (Binding) تصورِ حیات کے طور پر رد کرنے میں ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعدجدیدیت تینوں متفق ہیں۔ آئیے داد دیجئے اردو کے ایک بے چارے نقاد محمد حسن عسکری کی بصیرت کو، جس نے ترقی پسندی اور جدیدیت کو متخالف رجحانات سمجھے جانے کے عین دور عروج میں اور مابعدجدیدیت کے ظہور اور داخلِ فیشن ہونے سے کہیں پہلے ترقی پسندی اور جدیدیت کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیکر مستقبل کے مشترک ہدف ـــ سیکولرازم اور لبرلزم ـــ کا پتہ دے دیا تھا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. سید عامر سہیل on

    بہت عمدہ تبصرہ ہے ڈاکٹر صاحب کا تاہم صورت حال شاید اتنی سادہ نہیں ہے۔ ترقی پسند ادبی تحریک بلاشبہ مارکس کی فکر اور اس عہد کی عالمی سیاسی اور معاشی صورت حال سے متاثر رہی ہے مگر اس نے اردو اور برصغیر کی کوکھ سے جنم لیا تھا اور کیا سارے ترقی پسند مذہب بیزار تھے؟ کیا ترقی پسند تحریک سے وابستہ سبھی شاعر ادیب اور نقاد مذہب کی نفی کر رہے تھے۔ میرا خیال ہے یہ تاثر قطعی طور لر درست نہیں ہے۔ ترقی پسند مارکس اور بعد ازاں روس کے معاشی نظام سے متاثر تھے اور سامراج، سرمایہ دار اور جاگیردار کو مزدور دشمن قرار دے کر طبقات سے پاک معاشرے کی بات کر رہے تھے۔ بلاشبہ چند ایک کے ہاں مارکس کے فلسفیانہ تصورات اور مادی تعبیر کے تحت مذہب بیزاری کا رجحان بھی ملتا ہے مگر اکثریت کو مذہب بیزار قرار دینا درست نہیں۔ میں یہاں بیسیوں نام گنوا سکتا ہوں مگر جگہ کی کمی آڑے آ رہی ہے۔ دوسری طرف جدیدیت جس فکری ایجنڈے کو لے کر اردو میں داخل ہو وہ انداز مذہب دشمنی سے زیادہ ترقی پسند دشمنی کو سامنے لاتا ہے۔ اس عہد کی جدیدیت (اگر اسے جدیدیت مان بھی لیا جائے) وہ تاریخ کے مخالف دھارے پر گھڑی نظر آتی ہے۔ سچ پوچھیں تو اس عہد کے ترقی ہسند مخالف ناقدین کا سارا زور اجتماعیت کی روح کے خلاف تھا۔ اس عہد کی سیاسی صورت حال جو عالمی سطح پر اور بالخصوص برصغیر کی سطح پر سامراج اور سرمایہ دار دشمنی کا بیانیہ کو پیش کر رہی تھی۔ اردو کے جدیدیت پسند اس وقت ان قوتوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ اس کے بعد مابعد جدیدت کا غلغلہ بلند ہوا یہاں بھی آئیڈیالوجی کی پر زور مخالفت کی گئی۔ ترقی پسندی ایک آئیڈیالوجی ہے جس کی مابعدجدجدیت والوں نے بھر پور مخالفت کی۔ آج اردو میں بہت سے لوگ مابعدجدیدیت کے علم بردار ہیں (جن میں بہت سے ہمارے دوست بھی ہیں) تو کیا وہ سچ میں مابعد جدید فکر کے حامل ہیں؟ ہمارے مابعد جدید ناقدین بڑے زور شور سے آئیڈیالوجی مخالف ہیں تو کیا وہ اسلام کی آئیڈیالوجی کی نفی کرنے کی جرات کر اسکتے ہیں۔ مارکس ازم کو تو چھوڑئیے ہمارے ہاں اسلام کی اجتماعیت پر کیا وہ ناقدین کوئی رائے دیں گے۔ قران مجید کو (جو کہ ایک متن ہے) کی رد تشکیل بھی کر دیں۔ اگر یہ سب نہیں کر سکتے تو خدارا مابعد جدیدیت کے نعرے مت لگائیں اور نیم ہختہ ذہنوں کو منفی اثرات مت چھوڑیں۔ رہی بات لبرل ازم اور سیکولر ازم کی تو ڈاکٹر صاحب یہ لبرل ازم سرمایہ دارانہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا لبرل ازم ہے۔ اس لبرل ازم کے پیچھے فلسفیانہ سوالات نہیں ہیں بلکہ سرمایہ دارانہ معاشی ایجنڈا ہے۔ باقی رہی سیکولر ازم کی بات تو اگر ملا اسے مذہب دشمنی قرار دے اور کوئی پڑھا لکھا اس پر یقین کر لے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ سیکولر ازم کا مقصد مذہب کو ریاستی سرپرستی کی مخالفت کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص مذہب رکھتا ہے تو اسے مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہ چند ابتدائی معروضات تھیں جو فوری طور پر ذہن میں آئیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: