اسلام کی تعبیر نو : کرنے کا اصل کام —- محمد رفیق شنواری

0
  • 120
    Shares

سماج کے نئے تحدیات کے مطابق اسلام کی تعبیر کی ضرورت ایک ایسا نقطہ اتفاق ہے جس پر متجددین اور اہل روایت یکساں طور پر متحد ہیں۔

اب اس نوع کی تعبیر کیوں کر ممکن ہو۔  یہاں سے اختلاف شروع ہوتا ہے۔ بعض حضرات ایک کلیہ یوں قائم کئے ہوئے ہیں کہ فقہ کی ترتیب و تدوین ایسے دور میں ہوئی جب کہ سماج غالب تھا اور فرد کا کردار مغلوب اور محدود تھا۔ آج فرد کی آزادی اور حقوق غالب آ گئے ہیں۔ تو ایسے آزاد فرد کے حقوق کو مغلوب فرد کے مطابق مرتب ہونے والی فقہ کے سانچے میں ڈھالنا کسی بھی طور مناسب بلکہ قابل عمل بھی نہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کی تعبیر و اجتہاد کے مکمل مہم کو موجودہ سماج کے مزاج اور تقاضوں کے مطابق کیا جائے۔

اسی طرح اگر بالفرض کئی دفعہ ہر دور کے مختلف تقاضوں کے مطابق اسلام کی تعبیر و تشریح کی گئی۔ تو ان مختلف تعبیرات کے درمیان اصولی اتفاقیات کیا باقی رہ جائیں گی؟ ہمارے خیال میں نہیں۔ اگر رہ بھی گئی تو ان متفقات کو جوڑنے اور باقی رکھنے والی شئے آخر کیا ہوگی۔ مثلا آج موجودہ تقاضوں کے مطابق تعبیر نو کا اسکیم تیار ہوتا ہے۔ پچاس سال بعد جدید اور مختلف تقاضوں کے مطابق ایک دوسری تعبیر کی بنیاد پر نیا اسکیم تیار ہوتا پے۔ اب تعبیر اسلام کے ان تینوں اسکیموں میں اصولی متفقات کا رہ جانا کیا ممکن ہے؟ اگر ہے تو وہ کون سی چیز ہے جس نے تیسرے مرحلے پر بھی ان کو زندہ رکھنے میں کردار ادا کیا؟

اہل روایت بھی تعبیر نو کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ مگر ہوں بے ہنگم طریقے سے نہیں کہ جس سے اسلام کی پوری عمارت کے انہدام کا اندیشہ ہو۔ بلکہ اہل روایت کے ہاں ایک طرف اس تعبیر نو کے مجالات(areas) کا تعین ہوتا ہے۔ کہ کہاں کہاں اس تعبیر کی اجازت ہے اور کہاں نہیں۔ ان ایریاز کا تعین اولا ضروری ہے۔ دوسرا تعبیر نو کے نتیجے میں قائم ہونے والی عمارت کی اٹھان ضرور مخصوص اصولوں اور بنیادوں پر ہونی چاہئے۔ ان اصولوں کا ادراک بھی ضروری ہے۔ تیسرے نمبر پر اس تعبیر کے نتیجے میں جس عمارت کی تعمیر کی جا رہی ہے تعمیر کے اس پورے مرحلے کو درست سمت پر رکھنے کیلئے کچھ رولز ہونے چاہئے۔ ان قواعد کی نشان دہی بھی ضروری ہے۔ چوتھے نمبر پر اس نئی تعبیر میں استعمال ہونے والے tools کیا ہوں گے۔ ان tools کو استعمال میں لانے کی معرفت بھی لازمی ہے۔

اہل روایت نئے تقاضوں کے مطابق اسلام کی تعبیر اس انداز میں کرتے ہیں۔ کہ سابقہ عمارت کے ساتھ متصل نئی عمارت کھڑی ہو نہ یہ کہ سابقہ عمارت کو “ڈھا کر” خداوندی نقشہ کی بجائے مختلف نقشے کے مطابق اسلام کی عمارت کھڑی کی جائے۔

جدید مسائل کے حل کی ضرورت پر کافی لکھا اور بولا جا چکا ہے۔ اگلے مرحلے پر ضرورت اسلام کی موجودہ عمارت ڈھانے پر زور دینے کی نہیں، جدید مسائل سے نمٹنے کے طریقہ کار واضح کرنے کی ہے۔ اصل کام یہ ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: