می ٹو ھنگامہ: تکریم کیا ھوئی ؟ ۔۔۔۔ صائمہ نسیم بانو

0
  • 66
    Shares

ہیش ٹیگ می ٹو کے ساتھ میشا شفیع کی ایک ٹویٹ آتی ہے اور سوشل میڈیا پر بھونچال مچ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا خاص کر ٹویٹر نے ایک الیکٹرانک چوپال یا بیٹھک کی سی شکل اختیار کر لی ہے ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ یا کہانی زبان زد عام ہوتی ہے اور پھر سبھی اپنے اپنے من کی کہا کرتے ہیں کچھ ایسا ہی معاملہ میشا شفیع صاحبہ کی ٹویٹ آنے کے بعد بھی ہوا۔

اختلاف کی مضبوط دیواروں نے ہمیں سوچ کے دو مختلف دھاروں میں بانٹ رکھا ہے۔ سوشل میڈیا بھی سوچ کی اس تقسیم کی پرانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دو کیمپس میں بٹ چکا ہے جہاں بھانت بھانت کی بولیاں سنی جا سکتی ہیں۔ ترقی پسند اور انسانیت نواز گروہوں نےاس ٹویٹ کو آزادئ اظہار اور افکار کا پیامبر جانا تو روایتوں اور انسانی تہذیب کے قدیم طرزِ فکر سے جڑے افراد شدید دکھ کے باوجود بھی اس واقعہ کا ذمہ دار خود میشا شفیع کے کردار اور اعمال کو ٹھہراتے رہے۔

جس بات نے مجھے سب سے زیادہ تکلیف دی وہ تھا ان کے کردار کے حوالے سے انتہائی غیر محتاط الفاظ کا بےدریغ اور ظالمانہ استعمال، بہت سے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ مجبور اور لاچار صرف وہی عورت ہوتی ہے جو غریب، ناچار، ناخواندہ، کم صورت اور کم فہم ہو جبکہ خوش شکل، حسین، فہیم، متین، صاحب قدرت اور صاحب ثروت خواتین کو مضبوط، مستحکم، ثابت قدم اور بااختیار سمجھا جاتا ہے۔ زمانہٌ طالب علمی میں، میں بھی یہی سمجھا کرتی تھی کہ تعلیم، خاندان، بہتر معاشی حالت اور سماجی تعلقات کسی بھی عورت کیلئے مضبوط سہارے ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر خود اس کا اپنا کردار یا رویہ جو اسے ممتاز اور محفوظ بناتا ہے۔ لیکن یہ سب باتیں ہوا میں کئے گئےدعوے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کچھ لینا دینا نہیں۔ عمومی خیال یہ ہے کہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل باکردار عورت اور صاحبِ تکریم مرد کے ملاپ پر مکمل ہوتی ہے یعنی عورت کی تمام تر جہت، کاوش اور جہد کے نتیجے میں شرافت کا تاج اس سے منسلک مرد کے سر پر سجتا ہے جبکہ میرے نزدیک معاشرے کو باکردار مرد اور صاحبِ تکریم خواتین کی موجودگی حسن عطا کرتی ہے۔ وہ مرد جو اپنی خواہش پر پہرے باندھ لے اور اسے صرف شرعی طور پر ہی پورا کرے وہ محض اپنی ذات اور نفس کا پہرےدار نہ ہو بلکہ اپنے سے منسلک ہر عورت کے لئے حصنِ حصین بن جائے، وہ اپنے ہر تعلق، ہر خواہش، ہر طلب کو عزت و تکریم سے اپنا نام دینے کی صلاحیت اور طاقت رکھتا ہو۔

یہ بھی ملاحظہ کریں: کیا مرد بھی ’می ٹو‘ Me Too کہہ سکتے ہیں؟ — سمیع کالیا

 

مردانہ فطرت کا ایک عجب المیہ ہے جو عمومی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد جب اپنے لئے شریکِ حیات چننے نکلتا ہے تو پہلی بات جو اسکے ذہن میں آتی ہے وہ ہے “اچھی عورت” دوسری جانب یہی مرد جب اپنی مکروہ اور نامطبوع خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہو کر تفریحِ طبع کا قصد کرتا ہے تو اسکے انتخاب کا سفر ایک “بری عوت” پر آن رکتا ہے۔ میں بہت دیر تک صرف یہی سوچتی رہی کہ ہمارا معاشرہ کن بنیادوں اور کسوٹی پر ایک عورت کو “اچھی عورت” یا “بری عورت” کی درجہ بندی پر تقسیم کرتا ہے۔ یہ بات جاننے کیلئے ہمیں عمومی طور پر انسانی اورخصوصی طور پر مرد کی نفسیات کی کھوج کرنا ہو گی۔ علمِ نفسیات کے مطابق یوں تو انسان مختلف قسم کے complexes میں مبتلا ہے جیسے احساسِ کمتری یا احساسِ برتری وغیرہ لیکن Sigmund Freud جو ایک آسٹرین نیورولوجسٹ اور psychoanalysis کے بانی بھی تھے انہوں نے پہلی بار complex کی ایک بڑی عجیب سی اصطلاح متعارف کروائی Madonna-Whore complex۔۔ میڈونا کا لفظ ایک پاکیزہ اور باکرہ عورت کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ whore کا لفظ جو آج کے دور میں ایک مستقل گالی کی شکل اختیار کر چکا ہے یہ قدیم انگریزی کے لفظ hora سے مشتق ہے جس کے معنی wish, desire, passion, crave کے ہیں یعنی خواہش، تمنا، آرزو یا طلب کے لئے جاتے ہیں۔ اسےسنسکرت میں kama بھی کہا جاتا ہے۔ اس کمپلیکس میں مبتلا فرد یا افراد میڈونا سے محبت یا love جبکہ دوسری طرف کھڑی عورت سے خواہش یا desire کا سوالی ہوتا ہے جدید دور میں ماہرینِ نفسیات کے مطابق عورت کیلئے ایسے ڈیس ریسپیکٹ فل رویوں کے حامل افراد کو میسوگینسٹ misogynist بھی سمجھا جاتا ہے، گو یہ کلیہ تمام مردوں پر یکساں طور سے تھوپا نہیں جا سکتا لیکن بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میشا شفیع کی ٹویٹ کے ردِ عمل میں جو دشنام ان کا مقدر ہوئیں وہ اس بات پر دلیل ہیں کہ سماج کے وجود میں یہ میڈونا ہور سینڈروم بری طرح سرایت کر چکا ہے۔

مردانہ فطرت کا ایک عجب المیہ ہے جو عمومی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد جب اپنے لئے شریکِ حیات چننے نکلتا ہے تو پہلی بات جو اسکے ذہن میں آتی ہے وہ ہے “اچھی عورت” دوسری جانب یہی مرد جب اپنی مکروہ اور نامطبوع خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہو کر تفریحِ طبع کا قصد کرتا ہے تو اسکے انتخاب کا سفر ایک “بری عوت” پر آن رکتا ہے۔

میشا شفیع کےاس الزام کے بعد سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور تضحیک آمیز آراء کا ایک طوفان سا امڈ آیا ہے لیکن سچ کیا ہے یہ ابھی تک ثابت نہ ہو سکا اور ایسے میں می ٹو کو انٹی اسلامک تحریک کہنا، جدیدیت پر شذرے لکھنا، میشا کی مسلسل کردار کشی کرنا اور علی ظفر صاحب اور محترمہ میشا کی انتہائی نجی تصاویر لگا کر ایک ایک پوز اور انگ پر باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہوئے اپنی ذہنی غلاظتوں کو انڈیلنا نہایت گرا ہوا فعل ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ میشا اور علی ظفر کسی مدرسے کے فارغ التحصیل علماء نہیں بلکہ انکا تعلق فیشن اور میڈیا سے ہے لہذا انکا لباس، رکھ رکھاؤ بیٹھنا اٹھنا سبھی انہی کے فیلڈ کے مطابق ہو گا دوسری اہم ترین بات یہ کہ سماج کسی اسلامی جماعت کا مینوفسٹو ہےاور نہ ہی کسی لبرل کے ڈرائینگ روم میں جمع سو پچاس افراد کا نیو ائیر ریزولوشن، جناب سماج کا اپنا ایک بیانیہ ہے جو سوشل میڈیا کی اس ورچوئیل چوپال سے بے نیاز خود اپنے وجود میں ایک مسلم حقیقت ہے۔ سیکشوئیل ہراسمنٹ ایک انتہائی حساس اور سنجیدہ موضوع ہے اس معاملے پر مین سٹریم میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر حد درجہ محتاط اور ذمہ دارانہ رویے اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں وکٹم کو گالیاں دینا اور اسکی کردار کشی کرنا انتہائی بودا عمل ہے۔

یہاں بات صرف مدعا علیہ کی تکریم یا عزت کی ہی نہیں بلکہ دوسری جانب کھڑے مدعی کے سوال، انصاف اور انسانی حقوق سے متعلق بھی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: