نابود سے موجود اور اسٹیون ہاکنگ کا مخمصہ : مجیب حقّی

0
  • 61
    Shares

ہمارے اطراف دو طرح کی سائنس موجود ہوتی ہیں۔ ایک انسان کی اور دوسری خالق کی۔

کبھی آپ نے اس پر غور کیا کہ خالق کی سائنس (علم اور قدرت) اور انسان کی سائنس میں کیا فرق ہے ؟
انسان کی ہر ایجاد اور تخلیق کائنات میں موجوداشیاء things پر ہی منحصر ہوتی جبکہ خدا کی تخلیق جدا ہے۔ انسان اور خالق کی تخلیق میں یہ جوہری فرق ہمیشہ رہے گا کہ انسان جو تخلیق کر رہا ہے وہ شئے thing سے شئے thing ہے جبکہ اللہ نیست nothing سے شئے thing بناتاہے۔گویاخالقِ کائنات کی نیست nothingسے تخلیق کی قوّت ایسا وصف ہے کہ جس سے انسان عاجز و نابلد ہے۔ یہی اللہ کے ارادے کی قوّت کی کرشمہ سازیاں، یہی خالق کی سپرسائنس اور یہی وہ معمّہ ہے جس نے جدیدیت کے پروردہ سائنسدانوں، اسکالرز اور مفکّرین کو حیران کیا ہوا ہے۔

تخلیق کائنات کے حوالے سے سائنسی نظریات پر نظر ڈالیں تو دلچسپ بات یہ ہے کہ بگ بینگ تھیوری کے بموجب جدید سائنس اس نتیجے تک تو پہنچ چکی ہے کہ کائنات nothing سے عیاں ہوئی لیکن سائنسداں نیست سے لامحدود کائنات کے ظاہر ہونے کی علمی تشریح سے ابھی تک قاصر ہیں۔ یہ ایک معمّہ ہے کہ کچھ نہ ہونے میں سے کائنات اتنے کھرب ہا کھرب سیّاروں اور ستاروں کے ساتھ کیسے ظاہر ہوئی؟ بگ بینگ وہ ثانیہ ہے جس میں کائنات عدم سے ایک نقطے کی طرح ظاہر ہونی شروع ہوئی اور روشنی کی رفتار یا اس سے زیادہ رفتار سے آج تک پھیل رہی ہے۔

آنجہانی سائنسدان اسٹیون ہاکنگ اپنی آخری کتاب میں یہ تو کہہ گئے کہ قانون ثقل کی موجودگی میں کائنات خود بن سکتی ہے اور یہ کہ سائنس خدا کے بغیر بھی کائناتی ابتدا اور ارتقاء کی تشریح کر سکتی ہے(صفحہ ۲۲۷ دی گرینڈ ڈیزائن) لیکن نابود سے وجود کے سنگم یعنی بگ بینگ پر اسٹیون ہاکنگ اورسائنس دانوں کی سوچ کے دھارے کائناتی تخلیق کے غیر طبعی پیرایوں کی ماہیت نہیں سمجھ پائے اور نہ وضاحت کرسکے کہ بگ بینگ سے قبل نیست میں درحقیقت وہ کیا ہوسکتا ہے جسے یہ قانون ثقل کہہ رہے ہیں، نہ یہ بتا سکے ہیں کہ نیست سے اتنا کثیر کائناتی مادّہ کیسے ظاہر ہوا۔ یہاں یہ نکتہ یاد رکھیں کہ سائنسدانوں کا مخمصہ یہ بھی ہے کہ مادّہ نیست سے کیونکر ظاہر ہوسکتا ہے۔ اسی مخمصے سے نکلنے کے لیئے بگ بینگ سے قبل نیست میں قانون ثقل کی موجودگی کا مضحکہ خیز ڈول ڈالاگیا۔ کیونکہ سائنسی نظریات ابھی تک اس معمّے کو حل کرنے سے قاصر ہیں لہٰذا ثابت یہی ہوتا ہے کہ فی الوقت اس سوال کا جواب سائنسی تھیوریز میں نہیں مل سکتا۔اگر ایسا ہی ہے تو ہم کوئی یقینی یا منطقی جواب کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

کائناتی ابتدا کے راز نیست سے ہست کو جاننے کا ہمارے پاس کیا کوئی متبادل واسطہ ہے؟
یہ نکتہ اسی وقت سمجھ میں آئے گا جب ہم پوری طرح مطمئن ہوجائیں کہ ہماری چھان بین کی صلاحیتیں ایک حد تک ہی ہمیں طبعی آشنائی دیتی ہیں جبکہ اس سرحد سے باہر بھی حقائق ہو سکتے ہیں جس کا ثبوت خود ہمارا نامکمّل علم ہے۔طبعیات کی مجبوری یا ناکامی کی صورت میں اس سلسلے میںکسی نتیجے تک پہنچنے کے لیئے ہم غیر طبعی عوامل کی طرف ہی رجوع کریں گے۔ یعنی ہست و نیست، بود و نابود یا وجود و لا وجود کے اس معمّے کے حل کے لیئے ہمیں غور و فکرکو طبعی خول سے نکال کر عقل و وجدان کے سہارے کسی منطقی پیرائے کو اپنانا ہوگا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ نیست سے ہست کی پیدائش ایک سپر سائنس ہے مگرادھورے علم کے اس مرحلے پرایمان بالغیب کے بغیر ہم مطمئن نہیں ہوسکتے، لیکن ایسا ایمان اور عقیدہ جو ٹھوس جواز اورمناسب قابل قبول منطق بھی رکھتا ہو۔

ہمارا یقین کرنا دراصل ایک غیر طبعی مظہر ہے جو ہمارے تجسّس کو تسکین دیتا ہے۔ سائنس طبعی بنیادوں پر یقین دلاتی ہے لیکن طبعی دائرے میں ہمارا یقین مابعدالطبعیاتی پیرایوں کو اجنبی ہی گردانتا رہے گا۔ لاوجود سے موجود کو سمجھنے کے لیئے ہمیں کسی مضبوط دلیل کی ضرورت ہے ایک ایسی دلیل جو خالق اور اس کی تخلیق کے باہم رابطے کے پیرایوں میں وہ طلسم آشکارہ کرے جس میں مخلوق مقید اور بے بس رہتی ہے۔انسانی فکر کی کوئی گرہ جو یقین اور علم کی وہ جبلّت ہو سکتی ہے جو اسے وجود اور لاوجود کے مخمصوں میں غلطاں رکھتی ہے۔ یعنی انسان سوچ کے ایک بھنور میں گردش کرتا ہے جو اسے موجود ہونے کے مظہر سے نکلنے نہیں دیتا اور اسی دائرے میں ہوت و لاہوت اور عقلِ کُل کی بھول بھلیّوں میں بھٹکتا ہے۔ ہمیں کسی پنہاں رابطے کی تلاش اور وضاحت کرنی ہے جوتشکیک کی دھند چھانٹ دے اور کائنات کی ٹھوس منطقی و عقلی تشریح کردے۔

اتنا جان کر ہم پھر “نیست سے ہست thing from nothing ” کے معمّے کی طرف پلٹتے ہیں۔
نیست کیا ہے؟what is nothing?
کچھ بھی نہ ہونا۔

کوئی شئے جو فنا ہوکر انسانی حواس سے گم ہوجاتی ہے وہ ہمارے لیئے نیست و نابودہوجاتی ہے جبکہ یہ شئے جو ہمارے لیئے معدوم ہے درحقیقت یہ کسی انجانے مظہر میں روپوش بھی ہوسکتی ہے۔یعنی نیست ہمارا وہم ہے کیونکہ یہ ہمارے حواس کی سرحد کے پار کے مظاہر بھی ہو سکتے ہیں۔ کائنات کی ابتدا ایسے مظاہر کے انسانی حواس کی گرفت میں آنے کے مرحلے کا نام ہے جو ابھی ہم سمجھ نہیں پائے۔ یعنی کائنات کسی تسلسل کا ایک جزہے جو انسان کے لیئے اس وقت ظاہر ہوئی جب اس کے حواس تشکیل پذیر ہوئے۔ کائنات کے عیاں ہونے سے قبل کسی نامعلوم مظہر کے تسلسل کا علم کائنات سے قبل کا ایسا علم ہے جو نیست سے متعلق ہے مگر انسان کی حد ِفکر سے پرے۔ بگ بینگ وہ مرحلہ ہے جب انسانی حواس سے تخلیق کا عمل ہم آہنگ compatible ہوا۔ اس سلسلے میں ایک نکتہ یہ بھی مدّنظرر ہے کہ انسان نے یہ قدرت حاصل کرلی ہے کہ مادّے یعنی ایٹم کو توانائی میں تبدیل کر کے معدوم کر سکتا ہے جو ہست کو نیست کرنا ہی ہے لیکن انسان فی الوقت اس پر قادر نہیں کہ ایٹمی دھماکے سے پیدا ہوکر معدوم ہونے والی توانائی کو مادّے میں تبدیل کرسکے۔ یعنی انسان وجود کو لا وجود کرنے پر تو قادر ہے لیکن معدوم کو وجود دینے پر نہیںاور یہی خالق اور مخلوق کی تخلیق کا فرق ہے۔

دیکھیں جناب ہمارا مشاہدہ یہی ہے کہ ہر وڈیو بنتے وقت ایک تسلسل میں ہر فریم ریکارڈ کرتی ہے جس کو ہم ریوائنڈ بھی کرسکتے ہیں۔ ہر بنائی ہوئی manufacturedچیزایسی ہی معکوس ترتیب لیئے ہوتی ہے جس کی بنا پر اسے کھولا dismantle کیا جاتا ہے۔ گویاہر پروان چڑھنے والا درخت یا کوئی فطری مظہر ایک معکوس ترتیب کا خوگر ہوتا ہے۔ بالکل ایسے ہی ہر ارتقاء پذیر تخلیقی عمل ایک ترتیب کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے جسے معکوس سمت میں پلٹایا جاسکتا ہوگا، بس سوال یہ ہے کہ کیا انسان کے پاس وہ علم یا قوّت ہے کہ کسی فطری وقوعے کی معکوس ترتیب کو روبہ عمل لاسکے یعنی اس کو ریوائنڈ rewindکرسکے۔ اسی ضمن میں کائنات کی پیدائش کی بابت سائنسداں یہ دعویٰ کرتے ہیںکہ وہ دانش اور علم کے بموجب اس معکوس تخلیقی ترتیب سے تو بہت حد تک واقف ہوگئے جو کائنات کے ظاہر ہونے سے لیکر آج تک ہوئی یعنی بگ بینگ کے تئیں کائنات کی ابتدا سے آج تک کیا کیا ہوتا رہا ہے اس کو بڑی حد تک بیان کیا جاسکتا ہے، لیکن کیونکہ کائنات کسی نقطۂ لاوجود یا نیست سے ابھری تو اس انوکھے پراسس کو انسان جاننے سے قاصر ہے۔ گویا کائنات کے ظہور اور اس سے قبل کی معکوس تخلیقی ترتیب ابھی ایک راز ہے۔ لیکن انسان کا کائنات سے قبل کے مظاہر اور مراحل کی طبعی شناخت recognition کی صلاحیت سے عاری ہونا ایسے کسی نامعلوم مظہر کے انکار کا جواز بھی نہیں بن سکتا، ہاں مگر ہم اپنی فکر و عقل سے کھوج ضرور لگا سکتے ہیں کہ ایسا کوئی مظہر اگر ہے تو وہ کیا ہوسکتا ہے یا کائنات کی تخلیق کی گمشدہ کڑی کیا ہوسکتی ہے؟

آیئے تلاش کرتے ہیں کسی منطقی بیانیے کی جو اچانک تخلیق spontaneous creation کے نامکمل نظریئے کو ایک منطقی استدلال دیکر کائنات کی تخلیق کی درست تصویر سامنے لائے۔

ہماری مادّی دنیا میں ہروجود یا تخلیق کے پیچھے ایک دلیل reason یا وجہ ہوتی ہے۔ یہ وجہ ایک کام یا تخلیق کا عمل بھی ہوسکتا ہے۔کائنات کے موجود ہونے کی بھی ایک وجہ ہونا ضروری ہے اور اس کے پیچھے کسی تخلیقی عمل کا ہونا بھی منطقی ہے جوفطری طور پر کسی مظہر سے منسلک ہوگا۔ نیست سے بود ہونے کا سسٹم یا پراسس کیونکہ انسان کی سمجھ سے باہر ہے اس لیئے کائنات کی وجہ خدا ہے کیونکہ خدا کے بغیر کائنات کی کوئی توجیہہ نہیں۔ گویاخدا وجود سے بھی بالا ایک مظہر ہوا جس نے کائنات اور انسانی حواس وشعور کی تخلیق کی۔ وجودیت کے دائرے میں سانس لیتے حواس سے خدا ماورا تو ہوا لیکن کیا خدا شعور سے بھی ماورا ہے؟ خداکے ادراک سے ہمارا شعور ناآشنا نہیں کیونکہ شعور تو اس کی تصدیق یا تردید کرتا ہے۔اس طرح خدا شعور سے ماورا نہیں کیونکہ اگرخدا نہیں ہوتا تو اس کا خیال بھی نہیں ہوتا۔ مگر خدا اس لیئے بھی ہے کہ انسان کے پاس شعور کی اور کوئی توجیہہ نہیں۔

دوسری طرف سا ئنسداں اس لاوجود سے وجود کے ظاہر ہونے کے معمّے کے حل کی تلاش طبعی پیمانوں میں بگ بینگ کے اندر اور آس پاس کر رہے ہیں۔ وہ اسی ثانیے friction of a second کی پراسراریت میں گم ہیں اور اس پر مصر ہیں کہ یہ سب خدا کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔ ان کے اعتماد کی بنیاد ان کا علم ہے جس کے باوصف وہ اس قابل ہوچکے ہیں کہ کائنات کی تخلیق کے مادّی اسباب کی تشریح عمدگی سے کر سکیں۔ دوسرے الفاظ میں جدید علوم کے ماہرین ہماری کائنات کے منصۂ شہود پر ظاہر ہونے سے لیکر اب تک کے ارتقائی مراحل کی علمی تشریح کرنے پر بہت حد تک عبور حاصل کر چکے ہیں گویاوہ اپنے علم کی بدولت اس دوراہے پر پہنچ چکے ہیں جو ایک طرف خالق کی پہچان کی طرف لے جاتا ہے تو دوسری طرف علم کے سُراب کی طرف۔

کیا خدا اپنی تخلیق سے لاتعلّق ہوسکتا ہے؟
جی نہیں! یہ تو غیر فطری ہوتا۔ خدا اپنی تخلیق سے لاتعلّق نہیں اسی لیئے وہ بالائے وجود سے وجودیت کے پیرائے میں موجود اپنی مخلوق کو اپنے موجود ہونے کا احساس ایک غیر مرئی واسطے سے دلاتا ہے۔ وہ اس طرح سے کہ خدا مظہرِبالائے وجود میںرہ کر وجودیت میں مخلوق سے بالواسطہ مخاطب ہوتا ہے۔ یہ واسطہ رسالت ہے۔ خیال اور خطاب ایسے غیر مرئی آثار ہیں جو خالص طبعی شکل میں محفوظ کیئے جاسکتے ہیں جیسے کہ تحاریر اور کتابیں۔ خدا کا مخلوق سے خطاب تخلیق کائنات کی وہ مخفی کڑی ہے جو مابعد الطبعیات یعنی بالائے کائنات میں پنہاں رہ کر وجود میں عیاں ہوئی۔ انسان اپنی فکر کے دائرے میں خدا کو وجودیت کے پیرائے میں قبول اور مسترد توکرتا ہے لیکن خدا کو قبول کرنا مادّی پیرایوں میں جواز کا طلبگار بھی ہوتا ہے، تویہاں ایمان بالغیب کو توانائی قرآن کی موجودگی سے ملتی ہے جو خالق کا خطاب ہے۔ یعنی دنیا میں قرآن کی تحریر کا موجود ہونا کوئی بھی ایسا مستند طبعی جواز نہیں رکھتا جو یہ ثابت کرے کہ یہ تحریر اسی دنیا کی ہے۔تاریخ انسانی میں کوئی بھی اس کے مصنّف کو ڈھونڈ نہیں پایا سائنسداں بھی نہیں۔ لہٰذا قرآن خالقِ کائنات کا خطاب ہے کیونکہ قرآن کی موجودگی کے پیچھے اور کوئی مستند جواز نہیں۔

تو پھر خدا کا انکار کیوں کیا جاتا ہے؟
وہ اس لیئے کہ ہمارے ذہن کے کمپیوٹر میں کسی نامعلوم سمت سے کوئی خیال کا وائرس وسوسوں سے لیس حملہ آور ہوتا ہے جو آکر خدا کے حوالے سے موجود پروگرام کو تہس نہس کرنے پر تلا ہوتاہے۔ یہ وائرس بھی خدا کے اِذن سے ہی ایک آزاد ذی نفس وجود ہے۔

لیکن جدید نظریات پر یقین رکھنے والا اسکالر اورسائنسداں قرآن کو دلیل کیوں مانے؟
اس کے لیئے ہمیں قرآن سے ہی کوئی سائنسی دلیل دینی پڑیگی، یعنی اگر قرآن ایسی معلومات فراہم کرتا ہے جو جدید تحقیق سے منطبق ہوتی ہوں تو یہ اس بات کی تصدیق ہوگی کی قرآن خالق کا خطاب ہے۔ ہم یہاں کائنات کے بارے میں قرآن کی چند آیات کے ترجمے رکھتے ہیں تاکہ ہمارے یہ دوست دیکھ لیں کہ سچ کیا ہے۔
قرآن: (سورۃ ۲۱، آیت ۳۰)
ـ”کیا وہ جو ایمان نہیں رکھتے، انہوں نے دیکھا نہیں کہ زمین اور آسمان بندتھے پھر ہم نے انہیں کھول دیا”
قرآن: (سورۃ ۵۵، آیت۷)
“اس نے کائنات کو بلند کیا اور توازن قائم کیا۔
قرآن:( سورۃ ۵۱، آیت۴۷)
“ہم نے آسمان بنائے اور ہم ہی ان کو پھیلا رہے ہیں”۔
کائنات کے یہ تین مظاہریعنی اس کی ابتدا کا ذکرکہ یہ بند تھی جسے کھول دیا گیا، اس میں اربوں کھربوں ستاروںاور سیّاروں کا ایک توازن میں معلّق ہوکر گردش میں ہونا اور سب سے اہم کائنات کے ہر لمحہ پھیلتے رہنے کاذکر۔ یہ تمام معلومات تو اب انسان کے علم میں آئی ہیں۔ ان کا قرآن میں درج ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ انسان کی لکھی تحریر نہیں۔

مختصراً انسان کائنات کا جواز ڈھونڈتے ہوئے بگ بینگ تک تو پہنچ گیا لیکن وہاں جاکر اس لیئے الجھ گیا کہ آگے جواز کے پیرائے طبعیات سے کسی اجنبی مابعدالطبعیات میں تبدیل ہو گئے جہاں کسی پوشیدہ اور جداگانہ پیرایوں میں تخلیق کا کوئی اچھوتا عمل ہونا تھا یعنی نیست سے ہست۔ اس ثانیے میں تخلیقی جواز کے پیرائے کسی نامعلوم مظہر میں تکمیل پذیر ہوکر دوبارہ دنیا میں طبعی پیرایوں میں خالق کے عکس کے بطور ظاہر ہوئے۔ وہ اس طرح کہ لاوجود سے وجود کی تخلیق ( بگ بینگ )ہی وہ راز ہے جو ایک قادر مطلق کی صفت ہے جس نے ایک ارادے کے تحت اس کو انجام دیا۔ لیکن خدا نے اپنی مخلوق کو حیران بھی نہیں چھوڑا بلکہ اپنی ماورائے تخیّل ذات و صفات کا عکس ایک خطاب کے ذریعے طبعی دنیا میں عیاں کیا جو مربوط ہوکر قرآن کی شکل میں سامنے آیا۔ قرآن طبعی دنیا اور غیر طبعی دنیا کو جوڑنے والی ایک ایسی کڑی ہے جوانسان کو ان دونوں(طبعی و غیر طبعی) کے جواز کے بندھن عطا کرتی ہے یعنی تخلیق کا جواز کہ کائنات کا بھی ایک خالق ہے کیونکہ قرآن میں موجود چیلنج اور مذکور ہ تخلیقی حقائق کے رد کے جواز اور دلیل نہیں۔

تخلیق کی اسی ناقابل شناخت پر اسراریت کو اسٹیون ہاکنگ نے طبعیات کی زبان میں تخلیق سے قبل نیست میں کسی قانونِ ثقل سے تعبیر کیاجو در حقیقت طبعیات کا اعتراف شکست ہے۔ یعنی دور جدید کا قابل ترین سائنسداں کائنات کی ابتدا کی تشریح نیست سے ہست کی بنیاد پرخدا کے بغیر سائنسی اور عقلی بنیاد پر نہیں کرسکا۔

ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہم نیست سے تخلیق کے عمل کی جزیات جان گئے مگرہم اس ما قبل تخلیق ِکائنات کے ایک ماحول کی نشاندہی پا گئے جو خالق کی ہستی کی تصدیق کا خوگر ہے۔

اب اس مرحلے پر منکرین خدا اپنے موقف کو اسی وقت صحیح ثابت کر سکیں گے جب کسی تجربے سے اشیاء کی تخلیق نیست میں ہوتے دکھادیں کہ دیکھو خدا کے بغیر کائنات ایسے بنتی ہے اور یہ ہے اس کا ثبوت!
لیکن انسان شاید ابھی کامل نیست ہی کو تخلیق کرنے پر بھی قادر نہیںہوسکا کیونکہ توانائیوں کی لہریں اور ہگز بوزون جیسے پارٹکل تو کائنات کے چپّے چپّے پر سرائیت رکھتے ہیں۔

گویا توحیدکے وکیل اور انکار کے سفیرایک فیصلہ کن موڑ پر آکھڑے ہیں۔ یہ ایک ایسا حتمی مرحلہ ہے جہاں پر خدا کو ماننے والے کو توحید کا طبعی ثبوت دینا ہے اور منکر کو نیست سے ہست کاپریکٹکل کرکے دکھانا ہے۔
اللہ کو ماننے والا تو اللہ کے خطاب کی طبعی دلیل قرآن لیئے کھڑا ہے کہ یہ ہے خالق کا ثبوت،
مگر منکر کا ثبوت کہاں ہے؟
وسائل اور ٹکنالوجی کے لائو لشکر کے ساتھ ہزاروں قابل ترین انسان اسی نکتے میں حیران و غلطاں ہیں کہ :
نیست سے ہست یاnothing سے thingکیسے بن سکتی ہے۔
ذرا سوچیں کہ یہ اصحابِ علم کیسے سُراب کے پیچھے ہیں!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: