تاج محل : مظہر عبرت و الفت — شفیق زادہ

0
  • 93
    Shares

ہم ہمیشہ محبت کے مخالف رہے ہیں، اپنی پہلی اور اس کے بعد کی ہر ’محبت میں کامیاب ناکامی‘ کے بعد ہمارا خیال ہے کہ یہ خلل دراصل خالی خولی دماغ اورخوامخواہ خوار حضرات کو ہی شوبھا دیتا ہے۔

شاہجہاں اگر حیات ہوتا تو ذیل میں درج شعر سے خوب لطف لیتا جب کہ رعایا یہی سمجھتی رہتی کہ کسی نے اس کا مذاق بنایا ہے جب کہ جہاں پناہ سمجھتے کہ مذکورہ شعر میں انقلابی شاعر نے عشّاق کا مذاق اڑایا ہے۔

ایک شہنشاہ نے طبیبوں کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

طاقت کا چشمہ لگائے ہوئے ہماری کمزور نظر میں محبت کی انتہا اور نشانی تاج محل نہیں بلکہ وہ چودہ عدد بچے تھے جو ملکہ ممتاز محل نے اپنی جان پر جھیل لئے۔ شہنشاہ اعلیٰ آزادشاہجہاں کو اس احساس کے ہونے میں کافی تاخیر ہوئی کہ کہ اس نے ممتازمحل سے اس کی استعداد سے زیادہ خدمت لے لی ہے۔

روز روز کی خانہ جنگی، شورش، شوشا اور تولّد مسلسل کے شاہی شغل کی وجہ سے خزانہ پر پہلے ہی کافی دباؤ تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ زچگی کے اخراجات میں کمی کرنے کے لئے کوئی’نادر شاہی‘ ترکیب سوچتا، ایرانی بچّی اسی شاہی شغل میں آہ و فغاں کرتےکرتےعالم ِ ’ فَنی‘ سے عالم فانی سدھار گئی۔ مگر حتمی زچگی کے نتیجے میں عالم اسباب میں قدم رنجہ فرمانے والی شاہزادی گوہرہ بیگم نے پچھتر سال کی مختصر عمر پائی۔

ممتاز محل وہ خوش نصیب عورت ہے جس کی یاد میں تعمیر کردہ عجوبہ تاج محل تادم تحریر محبت کی یادگار گردانا جاتا ہے۔ لیکن بہ حیثیت ارجمند بانو وہ شاید بدنصیب ترین ماں تھی جس کی ساری اولاد نرینہ تختِ طاؤس پر فائز ہونے کی چاہ لیے اپنے ہی ماں جایہ کے ہاتھوں تہہ تیغ ہوکر قبرستان کی زینت ہوئے۔

بدخواہوں کا گمان ہے کہ ایک دوا ساز کمپنی نے ’وی آگرہ‘ نامی دوا بھی علم البدان یعنی انگریزی میں بولے تو ’ اناٹمی‘ اور تاج محل کے مسکن آگرہ سے متاثر ہو کر ہی تیار کی ہے۔ اس چھوٹے سے قد کے قیامت شریر کراماتی کیپسول کا اسم خاص مغلیہ ’شان و شہوت‘ اور’شو آف پاور‘ سے ہی مستعار لیا ہوا لگتا ہے، آگرہ والا تاج محل تو بس ایویں بہانہ ہے، منہ چڑانے کا، دل جلانے کا۔

چہیتی بیوی کی بعد از مرگ یاد میں تعمیر کردہ تاج محل دراصل ملکہ ارجمند بانو ملقب بہ ممتاز محل کی پیدا کردہ اور ناپیدا کردہ غیر معمولی پیداواری صلاحیتوں کی یادگار ہے۔ اُس دور میں الیکشن کا فیشن نہیں تھا اور نہ ہی قانونی شق اَٹھ ونجا بی B58 کا گُرز وجود میں آیا تھا جس کے ذریعےفوجی آمروں کو آمری پارلیمان المعروف شاہی دربا ر کا تیا پانچہ کرنے کی سہولت میسّر ہوتی۔ شاید اسی لیے حکمرانوں کو مائنس ون کے فارمولے کے مطابق منہا کرنے کے لیے شاہی برادران کو ایک کے بعد دوسرے برادر کی گُدّی ناپ کر گَدّی پر بیٹھنا پڑتا۔ لہٰذا ملکاؤں کی شاہی ذمّہ داری تھی کہ وہ وسیع تر قومی مفاد میں وقتاً فوقتاً راج نیتی کا کھیل اور پھر زندگی ہار جانے والے شاہ زادوں کی سپلائی اور یوٹیلٹی نظر میں رکھتے ہوئے زمانہ جنگ، امن اور ان دونوں کی درمیانی مدّت میں فریضہء پیداواری جاری رکھیں۔

آج بھی سچے پیار کے متلاشی پریمی جب تاج محل پر نظر دوڑاتے ہیں تو دراصل وہ محبت کی اس عظیم یادگار کو نہیں، بلکہ ممتاز محل کی شاہی خاندان کو بڑھاوا دینے کی خصوصی صلاحیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ جب وہ جمنا کنارے، چاندنی راتوں کے بھیگے بھیگے موسم میں ویسی ہی نم حالت میں سمٹی سمٹائی شرماتی لجاتی اپنی گرل فرینڈ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہاتھ پکڑے اس سے وعدہ برائے خاندانی منصوبہ بندی لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اگر ممتاز محل کا ریکارڈ توڑ نہ سکے تو کم از کم اس کے قریب تو ضرور پہنچ جائے۔

بیچاری مستقبل کی زچّہ ڈبہ بند دودھ والی کمپنیوں پر اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’ ڈو مور‘ کی کوشش کرنے کا وعدہ کر لیتی ہے۔ عاشق و معشوق اور جمہور و سیاست کے درمیان اس نوع کے وعدے اور پھر وعدہ خلافی تو صدیوں سے رائج ہے اور صدیوں تک رواج میں رہے گی۔ سیاست اور اس کی سیاہی تو کبھی بھی انسان کے لئے باعثِ فخر و یادگار نہیں رہی۔

آج کل شاہجہاں نہیں ہوتے اورممتاز محل بھی نہیں پائی جاتی مگر شاہی شوق تو اب بھی موجود ہیں لیکن جغرافیہ بدل گیا ہے۔ مغلوں کےعقب سے نقب لگا کر ان کے حال کو مرچوں سے بھر کے بے حال کرنے کے بعد خاص مصالحہ جات کے سوداگر اب عوام کا تیل نکالنے کے لیے عجم سے عرب کی طرف کُوچ کر گئے ہیں۔

پیارے میاں کا استفسار ہے کہ کیا یہ بھی قرب قیامت کی نشانی ہے کہ شیخوں نے بھی فیملی پلاننگ شروع کر دی ہے؟ شنید ہے کہ شیوخ کی فیملی پلاننگ سے مقامی آبادی اور غیر مقامی بے روزگاری قابو کرنے میں بہت مدد ملی ہے۔ حالانکہ انہوں نے کثرتِ ازواج سے تائب ہونے کا تو کوئی اشارہ نہیں دیا لیکن کثرتِ اولاد پر ازِ خود قدغن لگا دی ہے۔ وہ ’جہاں گیر‘ تو بننا چاہتے ہیں مگر صرف بیوی کے معاملے میں، بچوں کے معاملے میں نہیں۔ بیویوں کا شاہی شوق پورا کرنے کے لئے وہ منیلا اور دکن کا رخ کرتے ہیں۔

رہی بیچاری ممتازمحل، تووہ ہر سال شاہی خیمے سے موبائل میٹرنٹی ہوم یا اس زمانے کے چلتے پھرتے حرم سرا المعروف شاہی زچگی خانے کے درمیان، چکر لگاتے لگاتے آوت جاوت میں ہی خرچ ہو گئی۔ کال سینٹرز میں قطار میں لگائی گئیں فون کالز کی مانند باری کی ممکنہ و منتظر ’دلہنیں برائے ایک رات ‘کے چِلتّر بھی انہی زنان خانوں میں قابو اور کنٹرول میں رکھے جاتے تھے۔ اس مقصد کو حاصل کے نے لیے منہ چڑھی کنیزیں اور نظر نیچی کیے خواجہ سرا مستعد اور مامور ہوتے۔ ممتاز محل بھی بھلا کیوں نہ ہلکان ہوتی، شاہجہاں اپنی ہر مہم میں اسے ساتھ رکھتا تھا۔ اُدھر فوج شورش سے نبٹنے میں مصروف ہوتی اور اِدھر یہ اُس وقت کے ولیم اور کیٹ مڈلٹن ایک دوسرے سے بِھڑنے میں۔

اس طرح جنگی بنیادوں پر بِھڑنے اور بھڑکنے کے نتیجہ میں دل کی بھڑاس خوب نکلتی اور ایک دوسرے کا سر قلم کر کے تخت پر بیٹھنے کے چکر میں قبر میں لیٹنے والے شہزادوں کی ایک فصل تیار ہو جاتی۔

صدا عیش دوراں دکھاتا نہیں کے مصداق، تاریخ کا عظیم ترین بادشاہ اپنی ہی اولادکے ہاتھوں قید ہو کر تاریخ کا حصّہ بن گیا۔ بابر، ہمایوں، اکبر اور جہانگیر کی جاگیر کو عظیم الشان سلطنت کی شکل دینے والے بادشاہ کاانجام جو بھی ہوا ہو، عشّاق کےلئے اس میں بڑ ی انسپائریشن ہے۔ حالانکہ اباحضور کے برعکس (یعنی جہانگیر کی بیویوں کی تعداد شنید ہے کہ بیس تھی) شاہجہاں نے اپنی گنتی اور حسابی علم کو فنِ تعمیر اور ملک وملّت کی بہبود میں لگایا۔ ممتاز محل کی زندگی تک محل میں کوئی اور کبھی بھی اس کی ازدواجی یکتائی میں شریک نہ ہوا۔ تاج محل کی خوبصورتی بھی شاہجہاں کے دل میں ممتاز محل کے لئے لازوال اور بے پایاں محبت کا مکمل اظہار کرنے سے قاصر ہے۔ پندرہ سالہ شہزادے کی چودہ سالہ ملکہ نے کم سنی سے لے کر آخری ہچکی لینے تک شہزادہ خرم کو خوش وخرم رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ شہزادہ شہاب الدین محمد خرم کے ملک السلطنت شاہجہاں تک کے سفر میں یقیناً کسی بہت ہی محبت کرنے والی جانثار عورت کا ہی ساتھ ہوگا۔ کاش! گداز محبت کے لموں کے امین تاج محل کے مرمریں پتھر یہ راز کھول سکتے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: