شوہر: چھوٹے خداوں میں سے بڑا خدا ؟ —- رقیہ اکبر

3
  • 241
    Shares

یہ اوائلِ عمری کی بات ہے۔ ایک شعر پڑھا تھا

ہم سے فرعون کے لہجے میں کوئی بات نہ کر
ہم تو وہ ہیں جو خداوں سے الجھ پڑتے ہیں

یہ شعر پڑھ کر شاعر پر بڑا غصہ آیا۔ عجیب کیفیت تھی دل و دماغ کی، دل کہتا تھا ’’واہ چہ خوب است‘‘ تو دماغ کہتا تھا ’’ایں کلمہ کفر است‘‘ کیونکہ بولنے کی صلاحیت اور نعمت حاصل ہوتے ہی ماں نے سکھلایا کہ کہو خدا ایک ہے تو اللہ اکبر یہ شاعر نے کیا کہہ دیا ’’خداوں‘‘ تو کیا خدانخواستہ یہ شاعر کافر ہے۔

’’خدا ایک ہے‘‘ اساتذہ نے بھی یہی پڑھایا والدین نے بھی یہی سکھایا۔ یہ خیال سے یقین بنا یہ یقین کی منزلیں طے کرتا ایک پختہ ایمان بن گیا اب جب مذکورہ بالا شعر پڑھا تو عجیب مخمصے میں پڑ گئے یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔ اس ادھیڑ بن میں ڈھیر سا وقت گزر گیا اور ہم عمر کی منزلیں طے کرتے آگے بڑھتے رہے مگر یہ شعر مستقل ایک معمہ بنا رہا۔

شعور کی منزل کو پہنچے، علم و ادب کی گہرائی کو پرکھا تو گمان و خیال کو نئی راہیں نظر آئیں، نئے در وا ہوئے۔ سوچ کو بھی ایک نئی جہت ملی تو پتہ چلا کہ شاعر نے بالکل درست کہا تھا خدا ایک نہیں ہے خدا تو ڈھیر سارے ہیں ایک تو صرف اللہ کی ذات ہے یکتا اور واحد تو صرف ’’اللّٰہ‘‘ ہے اور جو ہم اللہ اور خدا ایک ہی ہستی کو سمجھتے تھے پتہ چلا کہ نہیں ’’اللہ‘‘ تو صرف اللہ ہے۔ خدائی تو اسکی صفت ہے خدا اور اللہ ایک ہی ہستی کے دو نام نہیں بلکہ اللہ کی صفات میں سب سے بڑی صفت سب سے بڑا وصف’’خدائی‘‘ ہے، جو اس نے تھوڑی تھوڑی اپنے بندوں میں بھی ڈال دی ہے ایسے چھوٹے بڑے بے شمار’’خدا‘‘ آپ کو مجھے ہر طرف بکھرے نظر آتے ہیں ہر جگہ بکھرے پڑے ہیں ایسے خود ساختہ جن کا ذکر شاعر نے کیا تھا۔ خدائی کے دعوے دار بلکہ عملاً معاذ اللہ خدائی کے تخت پر بیٹھے حکم صادر کرتے، فرعونیت جھاڑتے۔

عورت کا خدا سب چھوٹے خداوں میں سب سے بڑا خدا ’’مرد‘‘ ہو سکتا ہے۔یہ خدا مرد کے روپ میں آپ کو کئی جگہوں پر ملے گا کبھی باپ کے روپ میں، کبھی بھائی کے، کبھی شوہر کے روپ میں تو کبھی بیٹے کے روپ میں۔

آئیے آج میں آپ کو ان سب چھوٹے بڑے خداوں میں سے سب سے بڑے خدا سے ملواتی ہوں۔ عورت کا خدا سب چھوٹے خداوں میں سب سے بڑا خدا ’’مرد‘‘ ہو سکتا ہے۔ آپ میں سے بہت سوں کو میری رائے سے اختلاف ہو مگر میں اپنے تجربے اور مشاہدے کو آپ سب سے شیئر کرنا چاہتی ہوں۔ یہ خدا مرد کے روپ میں آپ کو کئی جگہوں پر ملے گا کبھی باپ کے روپ میں، کبھی بھائی کے، کبھی شوہر کے روپ میں تو کبھی بیٹے کے روپ میں۔

یہ مرد جسے میرے رب نے عورت سے ایک درجہ فضیلت دی ’’قوام‘‘ کے عظیم مرتبے پر فائز کیا۔ وہ بھول گیا کہ اسے یہ فضیلت ’’قوام‘‘ ہونے کی وجہ سے نصیب ہوئی تھی۔ اللہ نے اُسے ’’قوام‘‘ بنایا اور وہ قوام کی آڑ میں حاکم بن بیٹھا۔ اللہ نے اسے نگہبان بنایا یہ راہزن بن گیا۔ اللہ نے رکھوالا بنایا تو یہ راکھی کی آڑ میں غاصب بن بیٹھا۔ اللہ نے اسے ساتھی بنایا اور یہ آقا بن گیا۔ اللہ نے اسے ہمسفر بنایا اور یہ خدا بنا بیٹھا۔

بیشک بہت سی جگہوں پر اس نے اللہ کی دی ہوئی سہولت اور مرتبے کو سنبھالا، اس کا پاس رکھا، اس سے تجاوز نہیں کیا مگر ایسا بہت کم عورتوں کے نصیب میں آیا۔ زیادہ تر عورتوں کو باپ، بھائی اور بالخصوص شوہر کے روپ میں ساتھی اور ہمسفر نہیں حاکم اور مالک مِلا، غاصب مِلا، خدا مِلا۔ جس نے عورت کو بہن، بیوی اور ساتھی نہیں صرف ملکیت جانا۔

عورت جسے اللہ نے ’’چھپا کر‘‘ رکھنے والی ہستی بنایا اور مرد نے اس ’’چھپنے‘‘ سے صرف اس کے جسم کو چھپانا قرار دیا۔ اسی پر ساری توجہ مرکوز کر دی مگر اس کی شخصیت کو اسکی عزت و ناموس کو سرعام ننگا کر کے رکھ دیا۔ اسکی عزتِ نفس کی تذلیل، اسکے جذبات کی توہین، اسکی شخصیت کی تضحیک برملا کی، ہر جگہ ہر مقام پر، اپنے گھر میں، عزیز رشتہ داروں میں، دوست احباب میں، حتیٰ کہ بسا اوقات بچوں کے سامنے بھی اسے رسوا کر دیا۔

اس کے وجود کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں، اسکی شخصیت کو لیر لیر کر دیا جاتاہے، اسکی روح کو تار تار کر دیا جاتا ہے، بات بات پر اسکی صلاحیت کو اسکی خامی بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور رہا اس کا کردار۔۔۔۔۔ تو وہ ہمیشہ سے آسان ترین ہدف رہا ہے۔ ان خداوں کے لیے جیسے سننے والے نے بھی بِلا کسی ثبوت کے ہمیشہ سچ مان لیا اور عورت کو لفظوں کے پتھروں سے چھلنی کر دیا۔ اگر کبھی کوئی عورت ہمت دکھا کر اس سنگساری کو روکنے کی جسارت کرے، عزم و حوصلے سے خود کو لفظوں کے نشتر نہ چبھنے دے تو وہ بد زبان کہلاتی ہے، سرکش اور باغی کہلاتی ہے، جیسے سولی چڑھانا عین حق ہے، کیونکہ جو اس کے ’خدا‘ کے منہ سے نکلے وہ ہی سچ ہے وہی قانون اور شریعت ہے کیونکہ
مستند ہے اُن کا فرمایا ہوا۔

عورت جسے ہادی بَرحق نے آبگینے کہا نازک آبگینے۔ دیکھنا ٹھیس نہ لگ جائے ان آبگینوں کو۔ وہ آبگینے سر عام سرِ محفل توڑ دیے جاتے ہیں۔ کرچی کرچی کر دیے جاتے ہیں اور وہ کرچیاں عورت کی روح کو اندر تک چھلنی کر دیتی ہیں۔ مگر خدا کے مندر پر بیٹھے اس ’’بڑے خدا‘‘ کو وہ زخمی روح نظر نہیں آتی کرچیاں سمیٹتا بکھرتا وجود انہیں نظر ہی نہیں آتا، آب دیدہ نہیں کرتا۔

آدمی تو تم بھی ہو۔۔۔۔۔ آدمی تو ہم بھی ہیں۔ پھر کیونکر ہمیں آدمیت کی فہرست میں شمار نہیں کیا جاتا۔ کیونکر ہمیں انسان نہیں سمجھاجاتا۔ ہمیں کب تک مرد کا ضمیمہ بن کر رہنا ہو گا؟ کب ہمیں ہماری پہچان ہماری شناخت بحیثیت انسان مل سکے گی؟ اگر عبادات میں عورت کی الگ پوچھ گچھ ہو گی، اگر معاملات میں عورت کو مرد کا ضمیمہ نہیں سمجھا جاتا تو پھر خوشیوں میں عورت کو مرد کا بچا کھچا کیوں دیا جاتا ہے؟ اگر میں اپنی عبادات اور معاملات کی جواب دہ خود ہوں تو میری روح کا مالک مرد کیوں؟ میری سانسوں کی گنتی اس کے حساب کتاب سے کیوں؟ مجھے رات کے پہلے پہر بھی چھت پر چاند کو دیکھنے کی، آسمان پر اڑتے پرندوں کی، رات کے سناٹے میں گونچتی آواز کو سننے کی آزادی کیوں نہیں؟ مجھے اپنی ان جائز خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کس پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے، یہ بات تو صرف میرا خدا جانتا ہے۔

بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

مرد کی جبنیں پر شکن آجائے تو عورت کو کہیں جائے پناہ نہیں ملتی۔ مرد کا مزاج برہم ہو جائے تو سب سے پہلے وہ اپنے گھر میں موجود اس نازک آبگینے کی شخصیت کو درہم برہم کر دیتا ہے۔

قارئین مجھے مرد کی برابری کا کوئی شوق نہیں۔ مجھے اس کے شانہ بشانہ چلنے کا بھی خبط نہیں۔ مجھے اس سے ایک قدم پیچھے چلنا اچھا لگتا ہے مگر اس شرط پر کہ وہ مرد مجھے ایک قدم پیچھے چلائے اپنے پائوں تلے کچلنے کا ارمان نہ رکھے۔

مجھے جس مرد کے فیصلوں کے آگے سر جھکانے میں کوئی دشواری نہیں وہ مرد ’’خدائی‘‘ کے مندر میں بیٹھ کر فیصلہ کرنے کے بجائے میرے سامنے آکر میرے سر پر ہاتھ کیوں نہیں رکھ دیتا۔ مجھ پر اپنے فیصلے کو مسلط کرنے کی بجائے مجھے اس فخر سے قبول کرنے پر آمادہ کیوں نہیں کرتا۔ وہ اپنی مردانگی کے بھاری بوٹوں تلے میرے پندارِ نفس کو کچلنا کیوں ضروری سمجھتا ہے۔

کہتے ہیں کہ عورت کو سختی سے رکھنے میں ہی بھلائی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا تو اس کے ایمان کو عزت و آبرو کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے مگر کبھی آپ نے غور کیا عورت کی عزت و آبرو کو عورت کے ایمان کو خطرہ باہر کے مرد سے زیادہ گھر کے مرد سے ہے۔

ایک کاندھا تو ہر ایک کو چاہیے ناں! عورت تو پھر نازک ہے کمزور ہے۔ اسے تو رونے کے لیے کاندھا اور ہنسنے کے لیے ساتھی چاہیے ناں اور جب اسے یہ رشتے ناتے گھر میں نصیب نہ ہوں تو کہاں جائے وہ؟

اگر عورت بدزبان ہو، پھوہڑ ہو، شوہر کا خیال نہ رکھے تو یہ طاقتور ’’خدا‘‘ بھی دوسری عورت لے آتا ہے اور اسکی اس حرکت کو نہ صرف تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ عین حق سمجھا جاتاہے۔ ارے وہ تو ’’خدا‘‘ ہے طاقتور ہے، اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے کی طاقت رکھتا ہے تو پھر اسے کیوں اپنے جذبات کے کچلے جانے میں صبر اور مردانگی کی تلقین نہیں کی جاتی۔ عورت تو پھر نازک ہے، کمزور ہے، جسمانی طور پر بھی اور نفسیاتی طور پر بھی تو پھر اُس سے اِس حد درجہ ہمت اور طاقت اور حوصلے کی توقع کیوں کی جاتی ہے؟

سن! اے چھوٹے خداوں میں سب سے بڑے خدا۔ گھر کی ہستی دراصل عورت کے وجود سے ہی وابستہ ہے تیرے گھر کی چہکار تیرے گھر کی عورت (بہن، بیٹی، بیوی) سے مشروط ہے۔ فقط عورت تیرے وجود کا حصہ نہیں تو بھی دراصل ایک عورت ہی کے وجود کا مرہونِ منت ہے۔ اپنی پیدائش سے لیکر تیری آنے والی نسلوں کی افزائش اور پھر آبیاری تک تیرا وجود عورت کا محتاج ہے۔ ارے میرے بڑے خدا سن! تیری تخلیق ہی عوت کی مرہونِ منت ہے۔

اے عورت پر ملکیت جتانے والے سن!
اے حاکمیت کے اونچے مندر پر بیٹھنے والے سن! عورت تیری رعایا نہیں ساتھی ہے، ہمسفر ہے۔ اس کے جسم کے ساتھ اسکی عزتِ نفس کی رکھوالی بھی تیری ذمہ داری ہے۔ اسکی روح کی بالیدگی کے ذریعے اس کے ایمان کی حفاظت بھی تمہاری ذمہ داری ہے۔

تو میری روح کی تسکین کا سبب بن۔۔۔۔۔ میں تیری روح کو شانت کر دونگی۔
تو میرا قوام بن۔۔۔۔۔ میں تیرے فیصلے بخوشی قبول کر دونگی۔
تو میرے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ۔۔۔۔۔ میں تیرے آگے اپنا سر جھکا دونگی۔
تو میرے جسم کے ساتھ میری عزت نفس کا نگہبان بن۔۔۔۔۔ میں تیرے پیچھے چلوں گی، تیری پناہ میں خود کو سونپ دونگی۔
تو میری شخصیت کو تسلیم کر۔۔۔۔۔ میں تیری حاکمیت کو تسلیم کر لونگی۔
تو میری شخصیت کی نفی مت کر۔۔۔۔۔ میں تیری حاکمیت کی نفی نہیں کرونگی۔

وگرنہ میں تجھ سے صاف کہتی ہوں، میں خود اپنی مرضی کی مالک ہوں:
’’تیری شرطوں پر غائب یا نمایاں ہو نہیں سکتی‘‘

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. سدرہ شعیب on

    بہت بہترین، نہائیت متوازن تحریر۔۔۔۔ ایسے مردوں کے لئے سمجھدار ماوں کی ایک پوری نسل چاہئے جو ایسے مرد تیار کرے۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: