اِخوان المسلمون : عزیمت کی 90سالہ داستان —- منیر احمد خلیلی

0
  • 129
    Shares

حسن البناؒ کی تحریک ’الاِخوانُ المُسلمون‘ کی تاسیس کوگزرے ماہِ مارچ میں 90برس ہو گئے ہیں۔ 1928میں قائم ہونے والی عالمِ عرب کی اس بے نظیر دینی تحریک جسے معروف معنوں میں سیاسی جماعت بھی کہا جا سکتا ہے، کے پسِ منظر میں ہمیں خلافتِ عثمانیہ کا شکستہ ڈھانچہ پڑا نظر آتا ہے۔ 1924میں خلافت کے ادارے کا انہدام ہوا تو اس پر ماتمی نوحے برّ صغیر پاک و ہندمیں بھی بلند ہوئے اور مصر میں بھی سنائی دے رہے تھے۔ مصر میں اس ماتم کی فضا میں احیائِ خلافت کی ایک مہین سی کوشش ہوئی تھی لیکن اس ادارے کو ختم کرنے والوں نے خوب سوچ سمجھ یہ قدم اٹھایا تھا کہ اب اسے زندہ کرنے کی کوئی کوشش بارور نہیں ہو گی۔ چنانچہ مصر میں ہونے والی یہ کوشش جلد ہی دم توڑ گئی تھی۔ مصر کو عالمِ عرب میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ علم و عرفان، تعلیم و تدریس، تصنیف و تالیف، شعر و ادب، طباعت و اشاعت یہاں تک کہ فلم اور ڈرامہ کی صنف تک کے جو چشمے سارے شرقِ اوسط کو سیراب کرتے تھے اور آج بھی کر رہے ہیں ان کا منبع مصر ہی تھا۔ ترک مدتوں تک میدان جنگ کے معرکوں میں الجھے رہے چنانچہ علمی و فکری روشنی ترکی سے زیادہ مصر ہی میں پھیلی رہی۔ فاطمی عہد کی یادگار الازھرجیسی قدیم اور عظیم علمی درسگاہ ایک ہزار سال سے زیادہ مدت سے مصر کے ماتھے کا جھومر چلی آ رہی ہے۔

مصر میں مغرب پرستی، لبرلزم اور سیکولرزم کی ان لہروں کا تذکرہ آگے آ رہا ہے جنہوں نے گویا ایک دینی تحریک کی برپائی کو وقت کی پکار بنا دیا تھا۔ انیسویں صدی کے وسطِ اول میں مصر کے فکری افق پر جدیدیت کا طلوع ہونے والا ایک بڑا نام رفاعۃ طہطاوی ہے۔ طہطاوی مصری قوم پرست، مصنف، معلّم، مترجم اور احیائے علوم کے علم بردار تھے۔ انہوں نے فورٹ ولیم کالج کی طرز پر ایک ادارے کی بنیاد ڈالی تھی تاکہ مغربی علوم کے عربی میں اور عربی علم و ادب کے مغربی زبانوں میں ترجمے کیے جائیں۔ وہ روشن خیالی اور سیکولرزم کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ حسن البناؒ کے اخوان کی تشکیل کے وقت تک لبرلزم اور سیکولرزم کی فصل خوب پھل پھول لا رہی تھی۔ اس چمن کے بڑے پیڑوں میں ہمیں مفتی محمد عبدہٗ، احمد لطفی سیّد، احمد امین، قاسم امین، محمد مصطفیٰ ہیکل، طٰہٰ حسین، عباس محمود العقاد، توفیق الحکیم اور عبدالمتعال الصّعیدی کے علادہ خالد احمد خالد کے نام خاص طور پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ شام میں شیخ عبدالرّحمٰن الکواکبی بھی اسی عرصے کے اس فکر کے نمائندہ بنے تھے۔ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے وسط تک فرانسیسی ادب و ثقافت اور آزادیِ نسواں کے تصورات کی لذّت آشناپرنسس نازلی فاضل کے قائم کردہ ’صالون‘ میں مفتی محمد عبدہٗ سمیت بڑی بڑی شخصیات اس کلچر کی دلدادگی کا ثبوت دینے حاضر ہوا کرتی تھیں۔ اس صالون نے لبرل فکر کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تیسرے عشرے کے آگے پیچھے مصر میں جو بہت بڑے ادبی معرکے برپا تھے ان میں بیسویں صدی کے جاحظ شمار ہونے والے مصطفیٰ صادق الرّافعی اور عباس محمود عقاد کے مابین طویل عرصہ تک جاری رہنے والے معرکے کی ایک خصوصیت یہ تھی سید قطب شہید ؒ اس وقت تک سیکولر نظریات کے نامور ادیب عباس محمود عقاد کے خاص ’شاگردوں‘ اور عقاد کے دفاع میں لڑنے والے قلم کاروں میں شمار ہوتے تھے۔ یہ تعلق سید قطب ؒ کے حسن البناؒ کی تحریک کا ایک عظیم سالار بننے تک برقرار رہا تھا۔ شیخ علی طنطاوی کا تعلق تھا تو شام سے لیکن عباس محمود عقاد اور مصطفیٰ صادق الرّافعی کے ادبی معرکوں میںوہ الرّافعی کی اسلامی فکر کے موئید اور ان کے حق میں معرکہ آرا تھے۔ یوں گویا بعد میں دِین حق کی یکساں آواز بن جانے والے دونوں نامور ادیب اپنے ’استادوں‘ کے لشکری بن کر ایک دوسرے کے خلاف بھی صف آرا رہے۔

خلافت کے اِلغا کے بعدادب کے محاذ کے علاوہ مذہبی اور سیاسی افکار کے میدان میں بھی بڑی گرما گرمی پیدا ہو گئی تھی۔ عثمانی خلافت کے خاتمے کے اگلے ہی سال شیخ علی عبدالرّزاق (1888-1966)کی کتاب ’الاسلام و اصول الحکم‘ نے دِین و سیاست اور ریاست اور دِین کے تعلق کے بارے میں ایک جدل اٹھا دیا تھا۔ یہ گویا الازھر کے اندر سے سیکولرزم کے حق میں اٹھنے والی ایک اور مضبوط آواز تھی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ شیخ علی عبدالرزاق نے شیخ محمد عبدہٗ کے ایما اور انگیخت پر یہ کتاب لکھی تھی۔ شیخ علی عبدالرّزاق کا رجحان کچھ صوفی ازم کی طرف تھا اور کچھ نمایاں اثرات اس فکرکے تھے جس کا ظہورحالیہ عرصے میں ہمارے ہاں اس بیانیے کی صورت میں ہوا ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ سیاست اور دِین دو مختلف دائرے ہیں۔ مذہب کو سیاست میں دخل دینے کا حق نہیں ہے۔ اِسلام فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ یہ فرد کی اصلاح اور تزکیہ و تربیت کی ایک خُدائی سکیم ہے۔ خلافت کے نام پر مذہب کے اجتماعی زندگی کے دائروں اور اداروں تک پھیلائو کی کتاب و سنت میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ شیخ علی عبدالرّزاق کی کتاب کے رد میں 1926میں شیخ علامہ محمد الخضر حسین کی کتاب ’نقض کتاب الاسلام و اصول الحکم‘ اور اسی سال مفتی مصر محمد بخیت المطیعی کی ’حقیقۃُ الاسلام و اصول الحکم ‘ اور عبدالرّزاق سنھوری کی کتاب ’اصول الحکم فی الاسلام‘ منصہ شہود پر آئیں۔ الازھر نے شیخ علی کے ان نظریات کی بنا پر ان کی ازھری مشیخت واپس لے لی تھی۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اسلامی اور لبرل اور سیکولرفکر کے درمیان کشمکش میں شدت آ گئی تھی۔ انیسویں صدی کے وسطِ آخر(1895) میں وطن پارٹی( الحزب الوطنی) کی تاسیس ہوئی تھی۔ اس پارٹی کا منشور ہی لادینی سیاست پر مبنی تھا۔ دِین کے معاملے میںاس وقت سیاسی قیادت ہی جَہل اوربے حسی کا شکار نہیں تھی بلکہ مجموعی دینی فراست پر بھی گہرا جمود طاری تھا۔ نوجوان حسن البناؒ نے حلقہ ہائے صوفی و ملا کی ایک ایک زنجیر ہلائی، ایک ایک کے درِ دل پر دستک دی، ایک ایک کے کانوں میں اذانیں دیں، ایک ایک کو بیداری کے لیے جھنجھوڑا۔ لیکن ان حلقوں پر چھایا ہواسکوتِ مرگ نہ ٹوٹا۔ دوسری طرف اسلام مخالف قوتیں اپنے مغربی آقائوں کی سرپرستی میں مسلسل پیش قدمی کر رہی تھیں۔

یہ تھے مارچ 1928تک کے وہ حالات جن میں حسن البنا ؒ نے ایک نئی تحریک کا آغاز کیا اور ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ ابتدا میں یہ تحریک ایک دعوتی، تبلیغی اور اصلاحی پروگرام کے ساتھ متحرک ہوئی لیکن اس کے اسلامی فہم کی رو سے اسلام ایک کامل اور مثالی نظامِ زندگی ہے جس کی تعلیمات اور اصول و قواعد فرد کی نجی اور عائلی زندگی سے لے تہذیب وتمدن، معیشت و معاشرت اور سیاست و ریاست سمیت ہر گوشۂ حیات کے لیے ہیں۔ یہ اصول و قواعد اور تعلیمات مسلمانوں کا اختیاری معاملہ نہیں بلکہ وہ مکلف ہیں کہ ساری اجتماعیت کو اسلام کے تابع لائیں۔ ا سلام کو اگراجتماعی شعبوں سے بے دخل کر دیا جائے تو وہ وقت آ جاتا جب گھر اورمسجد میں بھی اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ 1936سے اخوان نے سماجی خدمات اور معاشرتی اصلاح کی سرگرمیوں کے ساتھ بھرپور سیاسی جدوجہد کا آغاز کر دیا تھا۔ حسن البنا ملوک و حکام کو باور کرا رہے تھے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ ِ حیات اور نظامِ زندگی ہے۔ انہوں نے حکومت سے نفاذِ شریعت کا مطالبہ کر دیا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اسلامی ملک مصر میں لادینی نظریات کے تحت دِین و ریاست میں جو فاصلے پیدا کر دیے گئے انہیں مٹانا لازم ہے۔ سیکولر ریاستی قوتیں اس تصور ِ دِین کو اپنی موت سمجھتی تھیں۔ چنانچہ ابتدا ہی میں ایک طرف مصری ملوکیت کے کان کھڑے ہوگئے۔ دوسری طرف وہ مغربی قوتیں جنہوں نے نپولین کے حملے سے لے کر برطانوی تسلط تک بڑی محنت سے مصر میں اپنے فکری اور ثقافتی نقوش ثبت کیے تھے ان کو بھی یہ گوارا نہیں تھاکہ یہ تہذیبی و ثقافتی اور فکری نقوش مٹ جائیں اور مصر کے طاقت و اقتدار کے ایوانوں میں اسلام کی آواز گونجنے لگے۔ نفاذِ شریعت کے مطالبے کے علاوہ دلِ ابلیس میں اخوان اور امام حسن البناؒکے کانٹے کی طرح کھٹکنے کی دوسری وجہ اسرائیل کی مخالفت تھی جسے عربوں کے سینے میں ایک خنجر کی طرح پیوست کر دیا گیا تھا۔ 1948 کی پہلی عرب اسرائیل جنگ میں حسن البنا ؒنے اخوانی دستوں کی خود قیادت کی تھی۔ اِخوانی مجاہدوں نے اس جنگ میں شجاعت و بسالت اور استقامت کا جومظاہرہ کیا اس نے اسرائیل کے سرپرستوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔ دار المرکز العام میں فلسطین کے ایشو پر ایک کانفرنس میں اخوان کے مرشدِ عام حسن البنا ؒ نے اعلان کیا تھا کہ فلسطین کی آزادی کے لیے اخوان المسلمین دس ہزار مجاہد رضاکار فراہم کرنے کی ذمہ داری لیتی ہے۔ یہیں سے گویا طے کر لیا گیا تھاکہ اس تنظیم کومصر میں آزادی سے اپنا سیاسی، دعوتی اور اصلاحی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ پہلے مغرب پرست شاہ فاروق مہرہ بنا۔ مصر کی خفیہ پولیس کے کارندوں نے 12فروری 1949کو حسن البناؒ کو گولی کا نشانہ بنایا۔ وہ اپنے گھر کی دہلیز پر شہید کر دیے گئے۔

1945میں مصر اور سوڈان (اس وقت تک مصر اور سوڈان ایک تھے) کی فوج کے جونئیر افسروں نے حرکۃُ الضّباط الاحرار(Free Officers Movement)کے نام سے ایک قوم پرست خفیہ تحریک شروع کی جس کا مقصد شاہ فاروق کا تختہ الٹنا تھا۔ مصر کے شاہ فاروق نے قومی خود مختاری اور وقار برطانیہ کے ہاتھ رہن رکھا ہوا تھا۔ اس کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کی تھی۔ اس صورتِ حال پر فوج کے نوجوان افسر قوم پرستی کے جذبے کے تحت ناخوش تھے اور اخوان کی دِینی غیرت کے سبب ملکی وقار کی اس بے حرمتی پر نالاں تھے۔ یوں دونوں میں ملوکیت کے اس ناسور کے خلاف یکساں منفی جذبات تھے۔ حرکۃ الضّباط الاحرارکے نمایاں اور زیادہ سرگرم افسر اخوان کی افرادی قوت اور معاشرے میں اس کے پھیلتے ہوئے اثرات کو محسوس کر رہے تھے۔ اخوان تحریک کے بانی حسن البناؒکی شہادت کے پیچھے شاہ فاروق کا خون آلود ہاتھ چھپا ہوا نہیں تھا۔ اس لیے اسرائیل کے خلاف جنگ میں حکومت کی زبردست کوتاہیوں بلکہ مجہول و مشکوک کردار کی وجہ سے اخوان میں شاہ فاروق سے نفرت کے ابھرتے ہوئے جذبات میں اپنے مرشد کی شہادت پر غم و غصہ بھی شامل ہو گیا تھا۔ اوپر سید قطب ؒ کا ادب کے محاذ پر ایک shining starکے طور پر تذکرہ ہو چکا ہے جو عباس محمود عقاد کی سبد ادب کا ایک مہکتا ہوا پھول اور عقاد کے ادبی معرکوں میں اس کے دفاع میں لڑنے والے ایک جری سپاہی تھے۔ اخوان تحریک سے نظریاتی رشتہ جوڑا تو یہاں کے فکری و نظریاتی دستے کے سالار بن گئے۔ پہلی عرب اسرائیل جنگ میں شانہ بشانہ لڑتے ہوئے اخوان سے ’فری آفیسرز‘ اچھی طرح متعارف تھے۔ ملوکیت مخالف جذبات بھی دونوں میں یکساں تھے۔ دونوں ملکی خود مختاری اور وقار کی بازیابی کے خواہاں تھے۔ اخوان کے اندر جو مخلص مگر کسی قدر جذباتی گروہ ان قوم پرست فوجی افسروں کے بہت قریب ہو گیا تھا سید قطبؒ بھی اس میں نمایاں طورپر شامل تھے۔ یہ اخوانی گروہ ان افسروں میں سے جمال عبدالناصر جیسے لوگوں کی چھپی ہوسِ اقتدار اور خود غرضی کو بھانپ نہ سکا۔ نجیب محفوظ چار سال بعد یعنی 1949 ان افسروں کے جتھے میں شامل ہوا اور1952کے انقلاب کی قیادت اسی نے کی تھی۔ لیکن جمال عبدالناصرکے مکروہ ارادے اسے نجیب کے تابع نہیں رہنے دے رہے تھے۔ اس نے زمامِ اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اب جمال ناصر کے اشتراکی نظریات اور حقیقی عزائم اخو ان سے پوشیدہ نہ رہے تھے۔ مایوسی کبھی ہاتھ پائوں توڑ کر گرا دیتی ہے اور کبھی کسی انتہائی اقدام کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ ان ’فری آفیسرز‘ کی صحیح قومی مقاصد سے بے وفائی کی وجہ سے مذکورہ اخوانی گروہ میں شدید رد عمل کا پیدا ہوا۔ مرشدِ اوّل کی شہادت کے بعد حسن الہضیبیؒ منصبِ ارشاد پر فائز ہو چکے تھے۔ وہ کشیدگی کی زیرِ سطح لہروں کو محسوس کر رہے تھے اور اس مقدس کارواں کو کسی بڑی آزمائش سے بچانے کے خواہاں تھے۔ انقلاب کے دو سال بعد جمال عبدالناصر پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ اس کا الزام اخوان پر لگا۔ یہاں سے اخوان المسلمون کی تاریخِ عزیمت کا ہولناک باب شروع ہوا۔ قہر و جبر کے انتقامی آگ کے شعلے پہلے عبدالقادر عودہ، شیخ محمد فرغلی، یوسف طلعت، ابراہیم الطیّب، ہنداوی دویر، محمود عبداللطیف جیسی نادرِ روزگار ہستیوں کی طرف لپکے۔ پھر 29اگست 1966کو سید قطب ؒجیسے بے بدل ادیب اور ممتازدانشور، ماہرِ تعلیم، مضطرب داعی، مخلص مصلح، عظیم مفکر، اور روح پرور مفسر کو تختہ دار پر کھینچا گیا۔ ہزاروں اخوانی کارکنوں کی مظلومانہ شہادت ہوئی۔ ہزاروں جیلوں کی صعوبتیں سہتے ہوئے اور ایذا و اذیت کے وحشیانہ برتائو میں جان سے گزر گئے۔ سینکڑوں کا کیریئر تباہ ہوا اور سینکڑوں کا ٹیلنٹ خاک میں مل گیا۔ بے شمار کی قوم و وطن کے کام آنے والی تخلیقی صلاحیتیں برباد ہوئیں۔ گھر بار اور کاروبار تباہ ہوئے۔ ملازمتیں چھنیں۔ مظلومیت کا یہ لرزہ خیز باب 66سال پر پھیلا ہواہے۔ کمیونزم جیسے سفاک نظام میں بھی کسی طبقے کو اپنے عقیدہ و نظریہ کی بنا پر اس قدر طویل عرصہ جور و ستم کا نشانہ نہیں بنایا گیاتھا جس قدر چار مسلسل آمریتوں میں اخوان المسلمون کو بنایا گیا ہے۔ اپنے ایمان کی جیسی قیمت ان اللہ کے بندوں کو دینی پڑرہی ہے ایسی فرعونوں اور نمرودوں کے دور میں بھی کسی نے نہ چکائی ہوگی۔

اخوان المسلمون نے اگر اپنے کارکنوں کے لیے تربیت کی بھٹی گرم نہ رکھی ہوتی اور تزکیۂ ِ نفس، اصلاحِ باطن، تعمیر اخلاق اور تشکیل کردار کی صنعت گری نہ کی ہوتی تو عزم وہمت اور عزیمت و صبر کی یہ داستان رقم نہ ہو پاتی۔ یہ تعلق باللہ اور توکل علی اللہ کی کیفیات ہی ہیں جو ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آنے دیتیں۔ زخم کھا کر گرتے ہیں اور گر کر اٹھتے ہیں۔ وحشی صفت آمریت کی کمان میں تیر ختم ہو جاتے ہیں مگر تیر کھانے والے سینے ختم نہیں ہوتے۔ اخوان المسلمون کے منصب قیادت کے لیے گویا معیار ہی یہ ٹھہر گیا کہ کس نے سب سے زیادہ قید کاٹی اور مظالم برداشت کیے۔ مصر کی آمریت کا نیا چہرہ عبد الفتاح السیسی پانچ سال پہلے تاریخ کے ا سٹیج پر فرعونی کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوا۔ خیر و شر کی کشمکش کی اس داستان میں نئے ا وراق کا اضافہ ہونے لگا۔ السیسی نے بربریت، خساست اور شقاوت میں ناصر کے ریکارڈ بھی توڑ دیے۔ منتخب صدر محمد مرسی کی معزولی پر احتجاج کے لیے ہزاروں اخوانی کارکن مسجد رابعہ العداویہ کے جوار میں میدان میں اور سڑکوں اور چوراہوں پر جمع تھے۔ مصری فوج اور پولیس نے ان پر یلغار کر دی۔ نہ صرف گولیوں ہی کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ ان پر بلڈوزر اور ٹینک چڑھا دیے۔ چھ سات سو افراد ایک ہی وقت میں ایک ہی مقام پر لقمہ اجل بنے۔ ساڑھے چار ہزار زخمی ہوئے۔ منتخب پارلیمنٹ کے ارکان سمیت اخوان المسلمون کی ساری قیادت کو گرفتار کر لیا گیا۔ مرشدِ عام محمد بدیع کا جواں سال بیٹا یہاں شہید ہوا۔ معروف اخوانی رہنما محمد البلتاجی کی جوان بیٹی اسماء بلتاجی یہیں مظلومیت کا استعارہ بنی۔ ہزاروں کارکن جیلوں میں ٹھونس دیے گئے۔ معمر اور مریض مرشدِ عام محمد بدیع تو اپنے منصب کی وجہ سے نشانۂ ِ انتقام ہیں، لیکن سابق مرشدِ عام محمد مہدی عاکف جو اپنی صحت کی خرابی کی وجہ سے منصبِ ارشاد سے مستعفی ہو چکے تھے ان کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ جیل کی تکلیفوں نے ان کی حالتِ صحت کو مزید دگرگوں کر دیا تھا۔ گزشتہ سال کے اواخر ستمبر میں ان کی موت ایک لحاظ سے جیل ہی میں ہوئی۔ کبھی گولیوں کے سامنے سینہ تانے، کبھی تاریک زندانوں میں، کبھی تحتۂ دار پر، کبھی سیاست کی تنہائیوں میں اور کبھی نااہلی اور کالعدمی کے عدالتی فیصلوں کی زد میں، کبھی پابندیوں کی لپیٹ میں اور کبھی اندر اور باہر سے پر نفرت پروپیگنڈے کی بوچھاڑ میں، کبھی بڑی عالمی طاقتوں کے غیض و غضب اور کبھی اسرائیل جیسے دائمی دشمن کی ریشہ دوانیوں اور دسیسہ کاریوں کی آندھیوں میں یہی وہ قافلہ ہے جس کے بارے میں اقبالؒ نے کہا تھا:

 کون سی وادی میں ہے،  کون سی منزل میں ہے    عشقِ  بلا خیز کا  قافلۂ ِ  سخت  جاں!

اگر اللہ سے تعلق نہ ہو اور یہ شعور نہ ہو کہ لمحوں کی کربلا میں اٹھتے قدم اس کی راہ میں اور اسی کی رضا کے لیے اٹھ رہے ہیں تو ایسی استقامت دکھانا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ کے ان سپاہیوں میں سے ہر سپاہی کی کیفیت یہ ہے:

مردِ  سپاہی ہے  وہ،  اس  کی  زرہ  ’لااِلٰہ‘     سایۂ ِ  شمشیر  میں  اس  کی  پنہ  ’لااِلٰہ‘

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: