کیا مرد بھی ’می ٹو‘ Me Too کہہ سکتے ہیں؟ — سمیع کالیا

0
  • 75
    Shares

ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروے وینسٹن کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے انکشاف کے بعد، ہالی وڈ فلم ایکٹریس علیسا میلانو نے سوشل میڈیا پہ اکتوبر 2017 میں ایک کمپین شروع کی جس کو ’’می ٹو‘‘ کے ساتھ پھیلایا گیا جس کا مقصد ہے کہ جس خاتون کو بھی اس قسم کی کوفت کا سامنا کرنا پڑا وہ اپنے آپ کو اس ہیش ٹیگ سے نمایاں کر دے۔

سمیع کالیا

یہ کمپین بہت تیزی کے ساتھ بھارت، پاکستان اور امریکا سمیت دنیا بھر میں مقبول ہوئی اور اس کے بعد سے فیس بک، ٹیوٹر، انسٹا گرام اور دیگر سوشل پلیٹ فارمز پہ بہت سی خواتین نے اپنے آپ کو اس کمپین میں ٹیگ کیا، جن میں بڑی بڑی نامور خواتین بھی شامل ہیں جیسا کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی ایکس گرل فرینڈ مونیکا لیونسکی نے بھی اپنے آپ کو اس ہیش ٹیگ سے ٹیگ کیا ہے۔

ہمارے ہاں عورت کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہمیشہ مرد پر لگتا ہے۔ آپ نے اکثر دفاتر میں یہ لکھا دیکھا ہوگا کہ اگر کسی ملازم نے کسی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی تو اُسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کوئی حرکت اگر کسی خاتون کی طرف سے ہو تو اُس کے لیے کیا سزا ہے؟؟؟

آپ نے بے شمار ایسی خواتین بھی دیکھی ہوں گی جو دوسرے کے لئے چلتی پھرتی آزمائش ہوتی ہیں، مرد اگر اِن کی طرف نہ بھی دیکھنا چاہے تو ان کے پاس مرد کو متوجہ کرنے کے لاجواب حربے ہوتے ہیں۔ لباس سے لے کر گفتگو تک اِن کا ہر انداز مردوں کو گھیرنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ اِن کے اُٹھنے بیٹھنے کا انداز گھر میں کچھ اور ہوتا ہے اور دفتر میں کچھ اور، یہ بلاتکلف کسی بھی مرد کولیگ سے بات کرلیتی ہیں، ہاتھ بھی ملا لیتی ہیں، کھانے کی فرمائش بھی کرلیتی ہیں لیکن کسی مرد کو ہمت نہیں ہوتی کہ اِن کی شکایت لگا سکے، اور اگر ہمت کر بھی لے تو آگے سے ڈانٹ یا قہقہہ سننے کو ملتا ہے (تم تو خوش قسمت ہو جسے الفاظ بھی طبیعت صاف کردیتے ہیں)۔

حقیقت تو یہی ہے کہ بے شمار خواتین بھی مردوں کو جنسی طور پر ہراساں کرتی ہیں لیکن اِس بات کا کوئی کیس نہیں بنتا، کیس بننے کے لیے مرد کا عورت کو ہراساں کرنا ضروری ہے۔ بیچارے وہ مرد کہاں جائیں جنہیں ایسی خواتین اپنی ہوشربا ادائیں یا پیش دستیاں اس حد تک مجبور کر دیتی ہیں کہ بلآخر وہ کوئی الٹی سیدھی حرکت کر ہی بیٹھتے ہیں۔ یہ حرکت اگر خاتون کے مفاد میں ہو تو پیار کہلاتی ہے ورنہ بدتمیزی یا ہراسمنٹ۔

خیر میں اپنے ادارے کے ایک معروف کالم نگار (اویس احمد) کی طرح کچھ زیادہ خوش شکل نہیں ہوں مگر ان کے کالم کے کچھ واقعات آپ سے شیئر کرتا ہوں امید ہے وہ مجھے معاف کر دیں گے۔

“کسی لڑکے کا اچھی شکل و صورت کا حامل ہونا بھی اس کے لیے بعض اوقات عذاب کا باعث بن جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہم محلے کے بچے رات کو مل کر چھپن چھپائی کھیلا کرتے تھے۔ ایک نسبتاً بڑی عمر کی لڑکی ہمیشہ وہیں آ کر چھپتی تھی جہاں میں چھپا ہوا ہوتا تھا۔ میں باجی باجی کہتا ہوا پسینے میں شرابور ہو جاتا تھا مگر وہ باجی اپنا شوق پورا کر کے رہتی تھی۔ میرے لڑکپن میں ہی ایک اور باجی نے ایک دن موقع پا کر جب وہ اپنے گھر میں اکیلی تھی اور مجھے والدہ نے کسی کام سے ان کے گھر بھیجا تو اس نے مجھے باقاعدہ عملی مظاہرہ  کر کے عمل تولید سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ وہ تو شکر ہے کہ میری عمر چھوٹی تھی ورنہ پریکٹیکل کامیاب ہو ہی گیا ہوتا۔

ایک اور باجی اپنے گھر کی تنہائی میں مجھ سے اپنے غسل خانے کا سختی سے بند نلکا کھلوانے کی خواہشمند تھی۔ یہ بتانا تو ضروری نہیں کہ ہمارے معاشرے میں غسل کا لباس کیسا ہوتا ہے۔ وہ تو عقل آ گئی اور خشک حلق لیے وہاں سے نکل آیا ورنہ معلوم نہیں کیا ہو جاتا۔ کراچی کی ان باجیوں سے تب جان چھوٹی جب ہم لوگوں نے کراچی چھوڑا۔ اس وقت تک عمر سولہ برس اور تجربہ بتیس برس کا ہو چکا تھا۔

پھر راولپنڈی میں ایک آنٹی سے پالا پڑا جو مطلقہ اور محلے کی جان تھیں۔ اکثر محلے کے نوجوانوں سے رات گئے سودا سلف منگوانے میں شہرت رکھتی تھیں۔ محلے میں ان کے چاک گریبان کی شہرت ان کے نسوانی والٹ کے نام سے تھی۔ ان سے ایک بار گلی میں سامنا ہوا تو انہوں نے ہنس کر ایک ایسی پیشکش کی تھی کہ مجھے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جذبات کو معمول پر لانے کے لیے گلی میں کچھ دیر رکنا پڑا تھا۔”

مردوں کو ہراساں کرنے والی خواتین کے بارے میں بھی “می ٹو” جیسا کوئی پلیٹ فارم ہونا چاہئے جہاں مرد حضرات بھی اپنی شکایات درج کروا سکیں۔

ہم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مرد عورت کو ہراساں کرتا ہے مگر عورت ایسا کچھ نہیں کرتی۔ میں قانون کے طالب علم کے طور پر پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جہاں مرد عورتوں کو ہراساں کرتے ہیں وہاں عورتیں بھی مردوں کو ہراساں کرتی ہیں مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ جن پیغامات پر مرد زیادہ تر مسکراتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں خواتین کو ان کی سماجی اور معاشرتی حیثیت کی وجہ سے قیمت چکانی پڑتی ہے۔

ابھی اس حوالے سے بنائی گئی وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ ان کے ادارے کے پاس مردوں کی طرف سے خواتین کے خلاف بھی شکایات آ رہی ہیں میری اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جائے کہ تمام خواتین بدکردار ہوتی ہیں مگر اتنی ضرور درخواست کروں گا کہ تمام خواتین کو معصوم عن الخطا بھی نہ سمجھا جائے اور مردوں کو ہراساں کرنے والی خواتین کے بارے میں بھی “می ٹو” جیسا کوئی پلیٹ فارم ہونا چاہئے جہاں مرد حضرات بھی اپنی شکایات درج کروا سکیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جنسی ہراسانی،جامعہ کراچی کے اساتذہ اور شکاری میڈیا : نبیلہ کامرانی

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: