اوورسیز پاکستانی اور ووٹ کا حق: شہزاد صدیقی

0
  • 18
    Shares

تحریک انصاف اوور سیز پاکستانیوں کو، جن کا ملکی معشیت میں نہایت اہم کردار ہے، ووٹنگ کا حق دلوانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی۔ یاد رہے کہ قریباً 159 ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی تعداد 80 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اسی سلسلے میں تحریک انصاف کی جانب سے سپریم میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور نادرا کو اس اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ کو کاسٹ کرنے کے لیے سسٹم تشکیل دینے کا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

ایک عام خیال ہے کہ سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد عمران خان و تحریک انصاف کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ن لیگی بیانیے کے حامی عناصر، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق ملنے پر قدرے ناخوش نظر آرہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن تو یہاں تک کہہ بیٹھے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا سازش لگتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بیرون ملک بیٹھ کر سینیٹ کا الیکشن لڑنے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن ووٹ ڈالنا سازش ہے۔

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔۔۔

سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کے حوالے سے طرح طرح کے تبصرے دلچسپی کا باعث بنے رہے۔ ایک صاحب تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ چونکہ ہمارا میڈیا آزاد نہیں لہذا اوور سیز پاکستانیوں کی رائے مسخ شدہ ہوتی ہے۔ اس لیے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے دینا ایک غلط فیصلہ ہے۔ اس طرح کی منطق پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ اللّٰه ہومیو پیتھی قسم کی دانشوری سے اس قوم کو محفوظ رکھے۔ موصوف کہ مؤقف کو اگر ایک سیکنڈ کے لیے درست مان بھی لیا جائے تو اسی قبیل کے لامتناعی اعتراضات باب در باب کھل جائیں۔ ایک اہم ضمنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف وجوہات کی بناء پر، اندرونِ ملک پاکستانیوں کی رائے مسخ شدہ نہیں؟ مثال کے طور پر وہ لوگ جو پسماندہ علاقوں میں پیدا ہوئے، پلے بڑھے، جو بنیادی تعلیم بھی حاصل نہ کرپائے، ٹی وی، انٹرنیٹ سے مستفید نہ ہوپائے، پھر تو انھیں بھی ووٹنگ کا حق نہیں ملنا چائیے۔ موصوف کے پوائنٹ کی بنیاد پر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ پاکستان کے اکثر چینلز حکومت وقت کے زیر اثر چلتے ہیں، خاص کر وہ چینلز جن کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ سرکاری اشتہارات پر مبنی ہے، جس کی بناء پر ان کی کریڈیبیلیٹی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، ایسے تمام چینلز کے ناظرین کے ووٹ ڈالنے پر بھی پابندی لگا دینی چائیے۔ ہمارے ہاں آبادی کی ایک بڑی اکثریت گاؤں دیہاتوں میں رہتی ہے۔ ان علاقوں میں سب سے دیکھا جانے والا چینل پی ٹی وی ہے جس کو نرم ترین الفاظ میں وفاقی حکومت کا سیاسی ترجمان کہنا غلط نہ ہوگا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پی ٹی وی وہ چینل ہے جو ہر قومی انتخابات کے بعد اپنے سابقہ مؤقف کو خود ہی جھوٹا قرار دے ڈالتا ہے۔ کیا ایسے ٹی وی چینل کے ناظرین کی رائے مسخ شدہ نہیں ہوگی؟

آگے چلیے تو پاکستان کے تمام شہریوں کو پابند کیا جانا چائیے کہ جب تک پاکستان کے ہر صوبے میں کیا جانے والے ہر کام کو جب تک خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے، تب تک اپنے حلقے سے قومی اسمبلی کے کسی امیدوار کے لیے ووٹ نہ کاسٹ کرے۔ ایک ہی حلقے میں رہنے اور وہیں کے ترقیاتی کام دیکھتے رہنے سے ووٹر کی رائے مسخ ہوجانے کا قوی امکان ہے۔

اب تک کی اس تمام بحث سے بنیادی نکتہ اچھی طرح سمجھ آچکا ہوگا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی کو نہ تو کسی چودھری کا ڈر ہے، نہ کسی سردار، نہ کسی وڈیرے کا۔ نہ اس کو کوئی خوف ہے نہ اندیشہ۔ اسکے علاوہ اوورسیز ووٹر نہ ہی تو الیکشن سے کچھ دن قبل پکی کرائی گئی نالیوں سے متاثر ہوتا ہے، نہ ہی نئے نویلے لگائے گئے پانی کے نلکوں سے۔ ملک سے باہر رہنے والا ووٹر نہ صرف پرفارمنس کا شعور رکھتا ہے بلکہ اسکا عینی شاہد بھی ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وزیر اعظم کا کام سڑکیں و پل بنانا نہیں، اداروں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انفراسٹرکچر کی تعمیر مئیر لیول کا کام ہے۔ وزیراعظم پالیسیز بناتا ہے، قوم کو وژن دیتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایک چلن عام ہے۔ آپ دس روپے کی کرپشن کیجیے، اس میں چھ روپے اپنی جیب میں رکھیے، بقیہ کے چار روپے اپنے ووٹر پر خرچ کردیجیے، ووٹر آپ کا یہ “احسان” زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ “کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے” ٹائپ جملے ایسے ہی احسانات کے بوجھ تلے دبے ووٹروں نے ہی عام کیے۔ بیرون ملک پاکستانی اس طرح کے سیاسی ہتھکنڈوں سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ آسان الفاظ میں، اوورسیز پاکستانی کو بیوقوف بنانا تقریباً ناممکن ہے یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹس کو کی حامی جماعتیں ووٹنگ کا حق دینے کی شدید مخالفت کررہی ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ اپنی برسوں کی جمی جمائی دیہاڑی کو کون لات مارنا چاہے گا؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: