اقبال احمد، ایک فراموش دبستان سیریز 3 : شجرِ دہشت کی سامراجی جڑیں — احمد الیاس

0
  • 53
    Shares

“دہشت گردی تاریخ کے بغیر نہیں ہے۔ تمام سماجی عوامل کی طرح اس کی بھی تاریخی جڑیں ہیں۔ یہاں کوئی بھی دہشت کی تاریخی جڑوں میں نہیں دیکھ رہا”

یہ اقبال احمد کا اٹھایا ہوا نکتہ ہے۔ انہوں نے صرف یہ نکتہ نہیں اٹھایا بلکہ دہشت گردی کی جڑیں تلاش کرنے کی کوشش بھی کی۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ امریکہ میں گزرا۔ وہاں ان کی پہچان سامراج مخالف تحریک کے نمایاں کارکن کے طور پر تھی۔ اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ ان گنی چنی مگر توانا آوازوں میں سے تھے جو امریکی ضمیر کو یہ احساس دلانے کی کوشش کررہی تھیں کہ دنیا بھر میں تشدد اور دہشت کا سبب مغربی قوتوں کی منافقانہ سامراجی پالیسیاں ہیں۔

(اقبال احمد ویتنام جنگ کے خلاف تحریک کی پہلی صفوں میں تھے

اقبال احمد کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد آزاد ہونے والے ملکوں کے اندرونی انتشار اور کمزوریوں سے تشدد جنم لیتا ہے۔ وہ تیسری دنیا کے اس اندرونی خلفشار کے دو اسباب بتاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ سامراجی طاقتوں کی نو آبادیات مغربی قومی ریاستوں کی طرح کسی فطری اصول مثلاً زبان، جغرافیہ، ثقافت وغیرہ پر نہیں بنی تھیں۔ مگر ان نو آبادیات کو قومی ریاستوں کے طور پر آزاد کیا گیا۔

پسماندہ و ترقی پذیر ممالک کے اندرونی انتشار کے پہلے سبب کا تعلق جنگ عظیم دوم کے بعد اپنائے جانے والے سامراجی رویے کے حوالے سے ہے تو دوسرا سبب سرد جنگ کے خاتمے کے بعد رونما ہوا۔ تیسری دنیا کے ممالک سرد جنگ کے دوران امریکہ و سوویت یونین کی کشمکش کا مرکز بنے رہے چنانچہ ان دونوں طاقتوں نے اپنے اپنے اتحادی ممالک میں استحکام قائم کروانے کی کوشش کی تاکہ یہ ملک مخالف کی جھولی میں نہ گر جائیں۔ اس سلسلے میں من پسند آمریتیں مسلط کرنے سے معاشی و عسکری امداد تک، بہت کچھ کیا گیا۔ مگر سرد جنگ کے ختم ہوتے ہی ان ممالک کو لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ یوں وہ جعلی استحکام بھی ختم ہوا جو کسی حد تک کئی ممالک میں قائم تھا۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سامراج نے پہلے مرحلے میں کولونائزیشن کے ذریعے دہشت اور جوابی دہشت پیدا کی۔ پھر غیر ذمہ دارانہ ڈی کولونائزیشن نے بھی تشدد کے فروغ میں حصہ ڈالا (ماؤنٹ بیٹن کی انتقال اقتدار میں جلد بازی کے سبب تقسیم ہند پر ہونے والے فسادات صرف ایک مثال ہیں)۔ اس کے بعد مختلف نئے ملکوں کو اپنے کیمپ میں شامل کرنے کی سامراجی کوششوں نے متعدد پراکسی جنگوں کو جنم دیا، اس کا نتیجہ بھی تشدد اور دہشت کی صورت نکلا۔ ویتنام اور افغانستان میں یہ پراکسی جنگیں کچھ زیادہ ہی بڑھ گئیں۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تمام پراکسیوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا جس سے حالات مزید دگر گوں ہوگئے۔ اس انتشار کا سب سے زیادہ اثر مسلم ممالک میں دیکھنے کو ملا۔ مشرقِ وسطیٰ سامراجی سیاست کا مرکز بن گیا۔

سوویت یونین کی شکست کے بعد مغربی سامراج کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی نئی مہم جوئی کی تلاش تھی۔ اقبال احمد کہتے ہیں:-

“عظیم سامراجی طاقتیں بالخصوص جمہوری طاقتیں صرف لالچ کی بنیاد پر اپنا جواز پیش نہیں کر سکتیں — ایسا کرنے کے لیے انہیں دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے : ایک آسیب اور ایک مشن۔ برطانیہ نے سفید آدمی کا بوجھ اٹھانے، فرانس نے ‘مہذب بنانے’ اور امریکہ نے جے ایف کینیڈی کے الفاظ میں ‘آزادی کی دیواروں پر پہرہ دینے’ کا مشن اپنے سر لیا۔ ان تینوں کے پاس کالا، پیلا اور بالآخر سرخ آسیب تھا۔ گویا مشن بھی تھا اور آسیب بھی۔ لوگ فریب میں آگئے۔

سرد جنگ کے بعد مغرب مشن (آزادی) اور آسیب (کمیونزم) دونوں سے محروم ہوگیا۔ لہذا مشن انسانی حقوق کے نام پر ابھرا۔۔۔ آسیب کی تلاش میں انہوں نے اسلام کا رخ کیا۔”

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئے خیالی آسیب کے طور پر اسلام کا انتخاب کیوں کیا گیا۔ اقبال احمد کے انٹرویوز، تقاریر اور مضامین میں اس کی دو وجوہات سامنے آتی ہیں۔ پہلی فکری اور دوسری معاشی۔

فکری وجہ اقبال احمد کے اس جملے میں بیان ہوتی ہے :-

“یہ سب سے آسان ہے کیونکہ اس کی ایک تاریخ ہے۔”

اقبال احمد اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک تو مسلم ممالک بہت ہی زیادہ کمزور ہیں۔ دوسرا مغرب اس سے پہلے بھی دو بار اسلام کو آسیب کے طور پر پیش کر چکا ہے۔ پہلی مرتبہ آج سے ہزار سال قبل صلیبی جنگوں کے موقع پر اور دوسری مرتبہ نوآبادیاتی یلغار کے خلاف اسلامی مزاحمت کے حوالے سے۔ اس کی ایک نمایاں مثال مہدی سوڈانی کی بغاوت اور برطانوی پراپیگنڈہ ہے۔

اسلام کو آسیب کے طور پر پیش کرنے کی معاشی وجہ تیل ہے۔ اقبال احمد کہتے ہیں:-

“ایٹمی چھتری اور معاشی برتری امریکہ کے دو بڑے ہتھیار تھے جن کی مدد سے وہ مغربی یورپ اور مشرقی ایشیاء کے اتحادیوں پر برتری قائم رکھتا تھا۔ ستّر کی دہائی کے آغاز تک یہ ہتھیار جاچکے تھے۔ امریکہ اپنے اتحادیوں پر برتری کے لیے کسی نئے بھرم کی تلاش میں تھا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کا انتخاب کیا کیونکہ یورپ اور جاپان کی صنعتی معیشتوں کے لیے توانائی کے وسائل یہیں سے آتے ہیں۔ اس خطے میں ایک مسلمہ امریکی اثر و رثوخ قیمتوں کو قابو میں رکھ سکتا تھا اور یورپ اور جاپان کو دکھا سکتا تھا کہ ‘ہم تمہیں سستا تیل دے سکتے ہیں۔ ہم تمہارا تیل مہنگا کرسکتے ہیں۔ تمہاری معاشی شہ رگ ہمارے قبضے میں ہے۔”

مسلم ممالک میں مداخلت کا جواز پیدا کرنے کے لیے انسانی حقوق کا نعرہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر مغرب کی طرف سے ایسا کیا جانا کتنی منافقانہ حرکت ہے، اس پر بھی اقبال احمد روشنی ڈالتے ہیں۔ اس کی پہلی مثال تو خود مشرقِ وسطیٰ ہے جہاں ریاض سے قاہرہ تک، انسانی حقوق غصب کرنے والی حکومتوں کا پشت پناہ امریکہ ہے۔ اقبال احمد بتاتے ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت پوری اسلامی تاریخ میں سب سے زیادہ بنیاد پرست ہے۔ ہم بنیاد پرستی کے حوالے سے ایران، حماس یا اخوان المسلمین پر اعتراض سنتے ہیں۔ مگر ان سب سے کہیں زیادہ بنیاد پرست سعودی عرب 1932 سے امریکہ کا اتحادی ہے۔ لہذا اس پر کبھی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔

صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امریکہ ایسی حکومتوں کی سرپرستی کرتا ہے اور کرتا رہا ہے جو انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں۔ پینوچٹ کے چِلی سے سہارتو کے انڈونیشیاء تک، پوری دنیا کی کئی استبدادی حکومتیں امریکہ کی علاقائی دست و بازو رہیں۔

اقبال احمد کہتے ہیں:-

“امریکہ کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون بنیاد پرست ہے اور کون ترقی پسند، کون عورتوں سے بہتر سلوک کرتا ہے اور کون ُبرا، یہ مسائل نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کون تیل کے ذخیروں کا تحفظ یقینی بنا سکتا ہے جو امریکہ اور اس کی کارپوریشنز کو درکار ہیں”۔

گویا مشن کی حد تک تو امریکہ کا بیانیہ انتہائی کھوکھلا اور منافقانہ ہے۔ اس مشن کے حصول کی مہم جوئی کے لیے جو خیالی دشمن یا آسیب امریکہ نے بنایا ہے وہ اسلام ہے جسے بنیاد پرست اور متشدد مذہب کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے اقبال احمد اپنے دوست ایڈورڈ سعید کی ‘اورئینٹلزم’ کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ کہتے ہیں :-

” اس وقت اسلام اور مسلمانوں کو ہوّا بنانے کی منظم کوشش نظر آتی ہے۔ اس میں برنارڈ لوئیس جیسے محترم مستشرقین سے لے کر ہاورڈ بلوم جیسے متنازعہ لوگ شامل ہیں جس نے ‘ابلیسی اصول’ نام کی کتاب لکھی۔ اس کتاب کا دعویٰ یہ ہے کہ اسلام ایک شیطانی اور بربریت پر مبنی تمدن ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سربوں نے اس کے ساتھ کیا کیا۔ انہوں نے پوری بوسنیائی نسل کشی کی بنیاد اس قسم کی مغربی تحریر و تقریر پر رکھی جس میں اسلام اور مسلمانوں کو منفی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔”

(ضمنی وضاحت: اس وقت پاکستان کے بہت سے ‘ترقی پسند’ اور ‘روشن خیال’ دوستوں میں رچرڈ ڈاکنز اور سیم ہیرث جیسے neo-atheist یا anti-theist مصنفین کا اسلامو فوبک بیانیہ مقبولیت پارہا ہے۔ مگر درحقیقت ان لوگوں کی حیثئیت بھی ہاورڈ بلوم سے زیادہ نہیں۔ ان کے جارحانہ پراپیگنڈہ کا فائدہ بھی سامراج کو ہی پہنچتا ہے یا پھر بھارت اور میانمار جیسی جگہوں پر مسلمانوں سے نفرت پھیلانے میں معاون ہوتا ہے)

اس حوالے سے مغربی میڈیا بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے جو جھوٹ اور جہالت کا پلندہ ہے۔ اقبال احمد کہتے ہیں:-

“میڈیا نفرت انگیز گفت گو سے بھرا پڑا ہے۔ لوگ ریڈیو اور ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ جاتے ہیں اور اسلام، چین، جاپان، انڈیا یا عربوں کے بارے میں ‘ماہرانہ رائے’ پیش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ان جگہوں کی ایک بھی زبان نہیں جانتا ہوتا، ہماری تاریخ کے پانچ اہم دن نہیں گنوا سکتا یا کسی بھی جدوجہد کی جڑوں کی تشخیص کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتا۔”

اقبال احمد بتاتے ہیں کہ لالچ، منافقت اور جھوٹ پر مبنی اس مغربی پالیسی کے ردِ عمل کے طور پر مسلم دنیا میں دہشت پسندی جنم لیتی ہے۔

“ہم ایک ایسے دور میں بات کررہے ہیں جب اسامہ بن لادن خبروں کا ایک مرکزی کردار ہے۔ آج تک کسی نے جائزہ نہیں لیا کہ کس چیز نے اسامہ کو جنم دیا۔۔۔۔ کسی نے تشخیص نہیں کی کہ کیسے اس کے ملک سعودی عرب کو مغربی کارپوریشنز اور طاقتوں نے لوٹ لیا۔ کسی نے نہیں جانچا کہ اسامہ کیا دیکھتے ہوئے جوان ہوا۔ سعودی شہزادوں نے عرب لوگوں کے تیل کے ذخائر کو مغرب اور اس کی سرمایہ کار فرمز کے حوالے کردیا۔ اسامہ نے یہ سب لٹتے دیکھا۔ اس تمام دورانیے میں اسے صرف اس بات کی تسلی تھی کہ اس کی سرزمین مقبوضہ نہیں۔ اس کے ملک میں کوئی امریکی، برطانوی یا فرانسیسی فوجیں نہیں۔ مگر پھر نوّے کی دہائی کے آغاز پر (خلیج جنگ کے موقع پر) اسے احساس ہوا کہ یہ چھوٹی سی خوشی بھی اس سے چھین لی گئی ہے۔”

عرب عوام کے تیل کے ذخیروں کو ذاتی جاگیر سمجھ کر مغرب کے حوالے کرنے والی نام نہاد ریاست کے بارے میں اقبال احمد کا یہ جملہ بہت زبردست ہے:-

“سعودی قبیلے کو ایک پرچم دے دیا گیا ہے تاکہ تیل کو عرب عوام سے علیحدہ کیا جاسکے”

اور صرف سعودی عرب نہیں، خلیج کی تمام ریاستیں ہی اقبال احمد کے الفاظ میں فقط قبیلے ہیں جنہیں قومی پرچم دے دیے گئے ہیں تاکہ وہ مغرب کے مطیع رہیں اور عرب عوام کے مقبوضہ تیل کا امریکہ کے لیے تحفظ کریں۔

عرب عوام کے بارے میں اقبال احمد کہتے ہیں:-

“عرب اس وقت انتہائی ذلیل، پریشان اور شکستہ محسوس کررہے ہیں۔ وہ ہمارے مقدس اسلامی مقامات کے پاسبان تھے مگر وہ ان کا تحفظ نہیں کر پائے۔ وہ اقوام متحدہ کے قیام کے وقت سے واحد لوگ ہیں جنہوں نے بیرونی گھس بیٹھیوں (یہودیوں) کے ہاتھوں زمین کھوئی اور اسے دوبارہ حاصل نہ کرسکے۔ ان کے تیل کے کنوئیں بھی ان سے چھین لیے گئے۔”

مگر کیا یہ سب مغربی پالیسیاں زیادہ دیر چل پائیں گی؟ شاید نہیں۔ اقبال احمد بتاتے ہیں کہ کوئی بھی پالیسی جس کی بنیاد کسی کو ہمیشہ کمزور رکھنے پر ہو ناکام ہوجاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال شکست خوردہ جرمنی کے ساتھ پہلی جنگ عظیم کے بعد روا رکھا گیا سلوک ہے جس کی قیمت دوسری جنگِ عظیم کی صورت میں چکانی پڑی۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی پالیسی بھی مسلمانوں کو کمزور رکھ کر اسرائیل کے تحفظ کی ہے۔ انقلابِ ایران سے پہلے پہلوی اور انقلاب کے بعد سعودی خاندان کی بھرپور پشت پناہی فقط مسلمان کو کمزور رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ان بادشاہتوں کا مقصد تیل کے ذخائر اور اسرائیل کے تحفظ سے زیادہ کچھ نہیں۔

“آج مشرقِ وسطیٰ میں مسلح اقلیتیں اکثریتوں پر حاکم ہیں۔ سعودی، مصری، اردنی حکومتیں سب اقلیتیں ہیں جو بزورِ طاقت لوگوں پر راج کرتی ہیں۔ یہ سب غیر محفوظ حکومتیں ہیں۔ یہ بیرونی طاقتوں (اسرائیل وغیرہ) سے زیادہ اپنے لوگوں سے خوفزدہ ہیں۔ لہذا یہ اپنے لوگوں کے خلاف امریکہ و اسرائیل سے مل کر کسی بھی قیمت پر کام کریں گی۔ لہذا اس وقت امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی عرب کمزوری پر مبنی ہے۔ یہ کتنی دیر چل سکتی ہے ؟”

چنانچہ اس سوال کے جواب میں کہ آپ اسرائیل کے مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں، اقبال احمد کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں تو بظاہر روشن اور قویّ مگر طویل دورانیے میں بہت تاریک۔ اس کی وضاحت وہ اسی حوالے سے کرتے ہیں کہ آج نہیں تو کل عربوں کو متحد اور منظم ہونا پڑے گا۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو تعداد، وسائل اور اخلاقی برتری کے اعتبار سے اسرائیل عربوں کے مقابل ٹھہر ہی نہیں سکتا۔

یہ سب کہہ چکنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپنی حکومتوں اور ان کے بیرونی پشت پناہوں سے نمٹنے کے لیے عرب یا مسلم عوام کو تشدد اور دہشت کا سہارا لینا چاہیے؟ کیا دہشت کا توڑ دہشت ہوسکتی ہے؟ کیا اندھے ردِ عمل کی نفسیات کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے؟ اس کا جواب بھی اقبال احمد دیتے ہیں جو ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

“انقلابی جدوجہد کا بنیادی مقصد مخالف کو اخلاقی طور پر اپنی اور دنیا کی نظروں میں تنہاء کردینا ہوتا ہے — اسرائیل (اور جدید مغرب) کا بنیادی تضاد یہ ہے کہ یہ انسانیت کی تذلیل (کی مخالفت) کے نشان کے طور پر قائم ہوا۔۔۔ مگر ان لوگوں کی قیمت پر جو بے جرم و خطاء تھے۔ یہ وہ تضاد ہے جو آپ کو ظاہر کرنا ہے۔ اور آپ اسے مسلح جدوجہد سے ظاہر نہیں کرسکتے۔ بلکہ آپ اس تضاد کو مسلح جدوجہد سے دبا دیتے ہیں”۔

حوالہ – کنفرنٹنگ ایمپائر، صفحات 40-43، 50، 55-57، 60-61، 78-82۔

دہشت گردی کے حوالے سے اقبال احمد کا ایک یادگار لیکچر
https://m۔youtube۔com/watch?v=OXt1s38SzpA


اس سیریز کا پہلا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

اس سیریز کا دوسرا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: