جنسی ہراسانی،جامعہ کراچی کے اساتذہ اور شکاری میڈیا : نبیلہ کامرانی

9
  • 376
    Shares

گورڈن آلپورٹ کا شمار نفسیات کے بڑے ناموں میں ہوتا ہے۔ فنکشنل آٹونومی کا نظریہ کچھ اس خوبصورت طور آلپورٹ نے بیان کیا ہے کہ ہمیشہ آلپورٹ کا نام نفسیات میں زندہ رکھے گا۔

آلپورٹ کہتا ہے کہ انسان اولاً کوئی کام مجبوری میں شروع کرتا ہے لیکن بعد میں وہی کام اسکی مجبوری بن جاتا ہے، دور قدیم میں انسان شکار کرنے پہ مجبور تھا، پھر اس نے ضرورت کے تحت کھیت اور باغ لگائے، لیکن بعد میں وہ اس کام میں مزہ لینے لگتا ہے۔ پھر وہ کام مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ لطف لینے کے لیے جاری رکھتاہے۔ یعنی ابتداء میں فنکشن مجبوری کی وجہ سے تھا مگر بعد میں فنکشن مجبوری سے آزادی یعنی آ ٹومیسی ہو جاتا ہے۔

آج دنیا میں جو لوگ شکار کرتے ہیں ان میں سے شاید ایک فیصد لوگ ہی بھوک کی مجبوری میں شکار کرتے ہوں گے۔
ورنہ شکاریوں کی اکثریت تو محض اس پل کے ولولے کے لیے شکار کرتے ہیں جو شکار کے وقت محسوس ہوتا ہے۔ خیر شکار کے ذیل میں اہم بات یہ ہے کہ جانور کبھی بھی فنکشنل آٹونومی کے حامل نہیں ہوتے۔ وہ جب بھی شکار کرتے ہیں اسکے پیچھے واحد محرک انکی بھوک ہوتی ہے۔ یہاں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جانور انسان کے مقابلے میں زیادہ عملی ہوتے ہیں۔ یعنی جب کبھی انکے شکار کی زمہ داری ہٹائی جائے تو وہ شکار کرنا ہی بھول جاتے ہیں۔ جانور اپنی قوت کے حساب سے شکار کھیلتے ہیں۔
کہا جاتا ہےجب شیر بوڑھا ہو جاتا ہے آدم خور جب بنتا ہے، یعنی اسمیں بھینس کے شکار کی قدرت نہیں رہتی تو وہ انسانوں کا شکار کرنے لگتا ہے۔ انسان کا دفاع تو اسکی عقل کرتی ہے اور اسی کمزور انسان کو خوفناک جانوروں کا شکار کھیلنے اور خوفناک مہم جوئی پے مجبور کر تی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ انسان جو سب سے ذہین مخلوق ہے، اگر وہ آسان شکار کا متلاشی ہے تو اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟؟ یعنی آسان شکار کا متلاشی دراصل فنکشنل آ ٹونومی کے درجے پر فائز ہی نہیں ہوا۔ یہ تو دراصل کوئی کمزور شکاری ہے جسے اپنی قوت پہ شک ہے۔

ہمارا میڈیا بھی شکاری ہے مگر ابھی تک اس میں گھنے جنگلوں میں خوفناک درندوں کا شکار کھیلنے کی جرات نہیں۔ ابھی تک ہمارا میڈیا “ابو جان” سے اجازت لے کر شام میں گھر سے باہر جاتاہے،جب اسکول میں ہوتا ہے اس وقت بھی کمزور اور گندے بچوں کی ہی شکایت پرنسپل سے لگاتا ہے جبکہ مظبوط گندے بچے اگر اسے گھور کے دیکھ بھی لیں تو اسکی حالت خراب ہو جاتی ہے۔

اس صورت حال کی سب سے بڑی مثال حال ہی میں بعض ٹی وی چینل پے آنے والے چاے کی پیالی میں طوفان ہے۔ یہ طوفان کیسے کیسے برپا ہوا ؟؟

ہوا کچھ یوں کہ جامعہ کراچی کے استاد نے اپنی ایک طالبہ کو کچھ پیغام ارسال کیے۔ جیسا کہ آپ سب ہی جانتے ہیں تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، بات جب ہی آگے بڑھتی ہے جب گرین بتی نظر آتی ہے۔

ہمارے آزاد اور خودمختار اور “غیر جانبدار” میڈیا نے کہیں بھی اس بات پہ روشنی نہ ڈالی کے کچھ بھی کر لیں تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی، ہری جھنڈی کے بغیر ٹریفک رواں نہیں ہوتا۔ مسکراہٹ بھی فوائد اٹھا نے، ترقی پانے، مقام اور مرتبہ بڑھانے کے لیے ایک رشوت کا کام کرتی ہے۔

لیکن جب انعام اور فائدہ دینے والے مسکراہٹ اور باتوں سے آگے کا مطالبہ کر تے ہیں تو جنسی ہراسانی کے کی شکایت سر اٹھاتی ہے۔ اس حقیقت سے ہمارا شکاری میڈیا اپنی نظر چراتا ہے۔

لیکن یہ تو آپ سب ہی جانتے ہیں کہ میڈیا تو خود بھی اس نوعیت کے ” ٹول ٹیکس” دے کر ہی اپنے ملازمین کو ترقی دینے والا ادارہ ہے۔ پروگرام پروڈیوسر سے لے کر چینلز کے مالکان تک، سب ہی اپنے ادارے کے ملازمین کا جنسی استحصال اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔

یادش بخیر!
جنسی ہراسانی کا سب سے بڑا اسکینڈل میڈیا کی ایک مشہور شخصیت ہاروے وینسٹاین کے حوالے سے سامنے آیا۔ پھر ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں جبراً شاذونادرہی کچھِ ہوتا ہے، ورنہ رضا مندی ہی رضامندی نظر آتی ہے۔ یہ دراصل دنیا کی قدیم ترین تجارت “بارٹر” ہی ہے۔ یوں بھی لمبے پیغامات کی قطاریں فون کالز کی ریکارڈنگ یوں اچانک ہی وجود میں نہیں آجاتی۔

شنید ہے کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ کو بدنام کرنے کی اس سازش میں خود جامعہ کا ایک اہم شعبہ اور وہاں سے فارغ التحصیل ملوث ہیں۔ جو آج کل مختلف ٹی وی چینلز سے منسلک ہیں۔ ان تمام اخلاقی توپ خانوں سے ایک سوال ہے کہ جنسی ہراسانی اور زنا بالجبر میں سے زیادہ بڑا جرم کیا ہے؟؟؟ یقیناً زنا بالجبر

تو میرا تمام نیک لوگوں سے سوال ہے کہ آپ سب زنا بالجبر کی شکار، بلوچستان کی ایک تعلیم یافتہ خاتون سمیت بے شمار مظلوموں کو کیوں بھول گئے؟ ان سب مظلوموں کو کیوں ایک سطری خبر کی نذر کردیتے ہیں جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں یا جن کے نام میں کوئی گلیمر  نہیں؟

ہمارا میڈیا شکاری ہے لیکن فنکشنل آٹونومی کے درجے پر فائز نہیں۔ یہ کیمرہ لے کر عاملوں کے پیچھے دوڑ سکتے ہیں، گدہے، چوہے اور کتے کو ذبح کرنے والے افراد سے لمبے مکالمے تو کر سکتے ہیں 100 روپے رشوت لینے والے کا ضمیر جگانے پر اپنا وقت لگا سکتے ہیں۔
انکے پاس بس عامل اور گدھے کے گوشت کے سوداگر ہی ہیں۔

اور سب سے کمزور ہیں جامعات کے اساتذہ جن پہ سچی جھوٹی کوئی بھی تہمت لگائی جائی سکتی ہے، اور وہ کچھ کر بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ایسا کرنے والے بھی ان کے بیچ میں ہی بیٹھے ہیں۔

جامعات ایسے قلعے ہیں جن کی حفاظت پہ کوئی مامور ہی نہیں ان کمزور استادوں پر کوئی بھی با آسانی حملہ کر سکتا ہے اور فتح کے جھنڈے گاڑ سکتا ہے۔ ہمارے میڈیا کے نابغے اب تک ہمیں یہ نہیں بتا پانے کے خروت آباد میں جنکا قتل ہوا تھا انکا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کو کس نے یوں دن دھاڑے موت کی نیند سلا دیا؟؟

یہ میڈیا سارا دن ایک استاد کی تصویر دکھا کر تماشہ کرتا ہے کیونکہ یہ صرف کمزور کا ہی شکار کر سکتے ہیں۔ اور یوں ان کی دال روٹی چلتی ہے۔ اس سے قوی کسی مخلوق کا شکار کھیلنے کی میڈیا کی جرات نہیں ہے۔

آج سے کوئی پندرہ برس پرانی بات ہے مرحوم ارشاد احمد حقانی سے کسی نے نجی محفل میں دریافت کیا کہ آپ سب پے تنقید کرتے ہیں لیکن ایم کیو ایم پے نہیں، آخر کیوں؟؟؟
تو مرحوم نے نہایت سنجیدگی سے فرمایا
’’سنا ہے وہ تنقید کرنے والے کو مار دیتے ہیں‘‘

Leave a Reply

9 تبصرے

  1. بہت خوب۔۔۔۔بالکل درست تجزیہ ۔۔۔ کمزور پہ گوفت بہت آسان ہوتی ہے مگر یہ بات بھی بہرحال اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ اب کمزور بھی کسی جگہ ظالم ہوتا ہے ہمیشہ مظلوم نہیں ہوتا۔۔۔۔ مگر مجھے اختلاف ہے اس بات سے کہ ہنس کر بولنا اس بات کا اجازت نامہ نہیں کہ میں خدانخواستہ ہر کام کیلئے دستیاب ہوں نہ ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ہنسنے والی گویا دعوتِ عام دینے کیلئے ہنستی ہے

  2. عدیل عابدی on

    مضمون نفسیات سے شروع ہوا، جنسی ہراسگی سے ہوتا ہوا ایم کیو ایم پر ختم ہوا۔۔۔
    ایسا ہے کہ مرحوم نے سن رکھا تھا۔۔۔ انہوں کراچی میں رہتے ہوئے بھی شاید وہی خوف تھا جو آج کل سارے قصور کوآج بھی ہے اور کل بھی تھا۔۔۔قصور میں ’’مارتے بھی ہیں اور ویڈیو بھی بناتے ہیں‘‘۔۔۔ نہیں نہیں ایم کیوایم ہرگز ایسی نہیں۔۔۔

  3. نبیلہ کامرانی صاحبہ جنسی ہراساں کرنے کا ایم کیو ایم سے کیا تعلق ہے کچھ وضاحت فرمائیں گی ؟

  4. سن سنا کر سنی نہ بنیں فقط,
    ایم کیو ایم کے برساتی مینڈک اور پارٹی لائن دو مختلف چیزیں ہیں۔
    تنقید ہر شخص کا جمہوری حق ہے اور افراط و تفریط فطرت انسانی۔
    کلیشے ڈے کنارہ کش ہوجاییے،
    اور حسب حال دیکھیے،
    خوب کھل کر تنقید کیجے ایم کیو ایم پر،
    تو یہی کچھ مسئلے ہر پارٹی میں ملیں گے۔

    ورنہ کیا بات تھی، کس بات نے رونے نہ دیا۔۔۔۔

  5. آج سے کوئی پندرہ برس پرانی بات ہے مرحوم ارشاد احمد حقانی سے کسی نے نجی محفل میں دریافت کیا کہ آپ سب پے تنقید کرتے ہیں لیکن ایم کیو ایم پے نہیں، آخر کیوں؟؟؟
    تو مرحوم نے نہایت سنجیدگی سے فرمایا
    ’’سنا ہے وہ تنقید کرنے والے کو مار دیتے ہیں‘‘

    شکر ہے کہ فرشتے سیاسی وابستگی سے پاک ہیں ورنہ جس فرشتے نے انکو مرحوم کیا و ہ بھی ایم کیوایم کا کارکن قرار دیدیا جاتا

    ویسے فرشتوں سے یاد آیا سب سے مراد سوال پوچھنے والے کی کیا تھی یقیناً سب میں دوزخ کے وہ فرشتے بھی شمار ہوں گے جو اس ملک کی چوکیداری پر مامور ہیں

  6. سید انتصار on

    آخیر کا پیرا اس لطیفے کے مصداق ھے کہ ‘جبھی میں کہوں موا ٹیڑھا کیوں اڑ رھا ھے؟’

  7. کہتے ہیں پتھر کے دور میں کہ جب انسان برہنہ گھوما کرتا تھا مطلب جسم کو ڈھاپنے کا تصور بھی اسوقت کے انسان کے زہن میں نہیں آیا تھا تو اس دور میں ایک انتہائی بدصورت لڑکی ہوتی تھی کوئی مرد اسکی طرف لطف کرم کے لیئے نظر بھی نہیں اُٹھاتا تھا جبکہ اسکے ساتھ کی باقی لڑکیوں کے طرف کوئی نہ کوئی مرد ضرور راغب رہتا تھا ایک دن اچانک اس لڑکی کے دماغ میں پتہ نہیں کہاً سے ایک ترکیب آئی اور اس نے کیلے کے پتوں سے اپنے جسم کے مخصوص حصوں کو چھپاکر باہر گھومنا شروع کردیا بس پھر کیا تھا مردوں کے اندر کی حس کے جو چھپی ہوئی چیزوں کے دیکھنے کی متالاشی رہتی ہے وہ اچانک جاگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکی پورے علاقے میں مشہور ہوگئی

    آپکی پوری تحریر پڑھ کر جب آخری دو تین سطریں پڑھی تو نہ جانے کیوں مجھے وہ لڑکی شدد سے یاد آگئی

    کیوں کے آپنے بھی اپنی پوری تحریر کو مشہور کرنے کے لیئے بلکل اسی لڑکی والا فارمولا استعمال کیا ہے

    ارے بہن اور بھی غم ہیں زمانے میں ایم کیو ایم کے سوا

  8. نبیلہ کامرا نی. آداب
    آپکا آرٹیکل پڑھا , ماشاء اللہ فلسفے کی دلیل سے شروع کیا جانے والا یہ آرٹیکل اور عمدہ خیال اور ڈکشن کی وجہ سے قاری کی توجہ حاصل کرتا ھے, لیکن کیا آپکو معلوم نہیں کہ الپورٹ کا فنکشنل آٹونومی کا فلسفہ شخصیت کی ساخت, مقصدیت اور اسکی تعریف کے حوالے سے تاریخ میں بے انتہا متنازعہ رہا ہے, لیکن آپ نے اپنے آرٹیکل کی پوری عمارت آلپورٹ کے خیال سے اٹھاتے ہوئے شکار کی مثال کو موجودہ میڈیا پر منطبق کردی, اور لطف یہ رہا کہ آلپورٹ کی دلیل ارشاد احمد حقانی پر لاکر ختم کی (جو بذات خود آپکی سارے دلائل کو رد کرگئی کیونکہ تاریخی طور پر ارشاد احمد حقانی ظالم شکاریوں کے قبیل سے تعلق رکھتے تھے.. یعنی گورڈن آلپورٹ کے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے آپ نے جماعت اسلامی کا ذہن اور ماضی رکھنے والے کی مثال دی) جبکہ آپ جانتی ہیں کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی ایسے ہی ہیں کہ جیسے اسلامی فلاسفی میں ابن عربی اور ابن تیمیہ!!!! لہذا آپ کسطرح اپنے دلائل کو ایسی ایک مثال سے درست ابت کرسکتی ہیں. ہاں البتہ اگر کوئی ترقی پسند شخصیت ایم کیو ایم کے اوپر ایسا الزام دھرتی اور آپ اسکا حوالی دیتیں تو اس پر یقینا بات کی جاسکتی تھی اور پھر ہم اپنے دلائل بھی پیشن کرتے. لہذا یہاں آپکے پورے بیانئے کے پرزے اڑ جاتے ہیں جسکا اختتام آپ نے ایم کیو ایم اور ارشاد احمد حقانی پر کیا…. براہ مہربانی آلپورٹ کے شخصی نظریات کو زرا ارشاد احمد حقانی پر منطبق کریں اور پھر دیکھئے کہ کیسی دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے.

    باقی جہاں تک میڈیا کا تعلق ھے تو جس معاشرے میں تعلیم کی سطح فقط 5 فیصد ہو وہاں لوگ کتاب اور ریسرچ سے زیادہ ویژیول فوٹیجز پر یقین رکھتے ہیں اور یہی حال ہمارے میڈیا کا ھے کیونکہ میڈیا اسی معاشرے کے لوگ ہیں جہاں تریسرچ سے زیادہ کاپی کرنا پسند کیا جاتا ھے… ورنہ پروفیسر سحر انصاری کے حوالے سے میڈیا یقینا سچ بتلاتا اور پروفیسر صاحب کی شخصیت کو اسطرح داغدار نہیں کیا جاتا… سحر انصاری صاحب کی مثال اس لئے دی کہ آپ نے کراچی یونیورسٹی کا حوالہ دیا…. مجھے امید ھے کہ سحر انصاری صاحب کے حوالے سے آپ نے بہترین ریسرچ کی ہوگی, دوسری صورت میں آلپورٹ کا نظریہ آپ پر نافز ہوجائے گا.

    سلامت رہیں
    خیر اندیش
    کامران نفیس

    • کامران نفیس: الپورٹ سے تو میں زیادہ آگاہ نہیں ، مگر یہ جو آپ نے ارشاد احمد حقانی کو شکاریوں کی قبیل میں لاڈالا اور وہ بھی اس دھڑلے سے کہ اپنی رائے کے اظہار میں کسی شائبے کی گنجائش نہ چھوڑی تو آپ کی اقلیم علم کی درستی کی خاطر عرض کیے دیتا ہوں، محترم ارشاد احمد حقانی جماعت اسلامی کے بہت بہت بڑے ناقد تھے، اس کے ہر یوم تاسیس پر وہ اس کے اتلاف کی ضرورت پر اظہاریے تحریر کیا کرتے تھے اور ان کی زندگی مین جماعتیے شاید ہی کسی سے اتنا بھناتے تھے جتتنا وہ ان سے بھناتے تھے۔ جولطیفہ نبیلہ نے بیان کیا ہے ممکن ہے اس میں اس قدر سچائی ہوکہ کہیں ازراہ تفنن انہوں نے اس کا تذکرہ کر دیا ہو، وگرنہ وہ ایم کیو ایم پر تنقید سے گریزاں اس لیے تھے کہ وہ اسے متوسط طبقے کی جماعت سمجھتے تھے جو اچھے برے تجربات سے سیکھ رہی تھی۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: