ہماری جمہوریت اور آواگون : سید مظفر الحق

0
  • 3
    Shares

ہندو ویدک فلسفے میں آواگون کے عقیدے کو بنیادی حثیت حاصل ہے جس کے مطابق آتما یا روح ہر بار نئے روپ یا شریر میں جنم لیتی اور یہ نیا روپ اس کے کرتوت کے لحاظ سے ہوتا ہے جو انسان یا جانور کسی بھی شکل میں ہو سکتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک مکتی یا نجات نہ مل جائے۔ زندگی کے معين ماہ و سال گزار کے فانی بدن فنا کی وادیوں میں گم ہو جاتا ہے۔ چینی فلسفے کی رو سے ہر سال کسی جانور سے منسوب ہوتا ہے جیسے چوہے کا سال، بندر کا سال، خنزیر کا سال وغیرہ۔

ہمارے ملک میں جمہوریت بھی آواگون کے فلسفے کی تفسیر ہے اور اس کے پانچ سال کی مدّت کا ہر سال کسی نہ کسی جانور سے منسوب۔ کبھی ظلم و زیادتی اور مخالفین کی چیر پھاڑ کی نسبت سے یہ بھیڑیے کا سال ہوتا ہے، کبھی کسی فوجی کے زیر سایہ محدود اور منضبط ہونے کی وجہ سہ شہد کی مکّھی کا سال اور کبھی کسی تاجرانہ ذہنیت کی قیادت میں اسے مفاہمت اور پر امن بقائے باہمی کی وجہ سے لومڑی کا سال۔ قیام پاکستان سے آج تک، شہید ملّت لیاقت علی خان کی وزارت عظمێ سے لاہور کے ظلِّ الہی وزیرِ اعظم تک اور پھر آج کے ظلّی بروزی پوٹھواری وزیر اعظم تک کتنی ہی بار اس ملک خدا داد میں ہر قسم کی جمہوریت نے یا جمہوریت نما طفلِ نا تحقیق نے جنم لیا ہے اور ہر بار ایک نئے روپ میں کبھی نومولود کی طرح روتے ہوئے اور کبھی گھٹنوں چلتے قلقاریاں مارتے طفل نادان کی طرح نظر آتی اور چھلاوہ کی طرح نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اور کبھی یہ جمہوریت کسی پچھل پائی یا ٹکیائی کے روپ میں در آتی ہے۔

جمہوریت کا ایک روپ وہ تھا جس میں تحریک آزادی میں بانی پاکستان کے معتمد وزیر اعظم کو برادران ملت کے الفاظ ادا کرتے ہی کمپنی باغ میں چھٹانک بھر پگھلے ہوئے سیسے کی نذر کر دیا گیا۔

پھر اسی چھنال جمہوریت نے یوں نیا جنم لیا کہ کہ مرنجان مرنج بنگالی گورنر جنرل کو جو قائد اعظم کا جان نشین تھا روباہ صفت سیاسی بازیگروں نے پشت پناہی کے بل پر ایسی چال چلی کہ نوکر شاہی کا کارندہ ملک غلام محمّد گورنر جنرل اور بادشاہ گر بن گیا۔ ملک میں کٹھ پتلیوں کا کھیل شروع کردیا گیا

” ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا ”

آخر یہ تماشہ بھی ختم ہوا، معذور گورنر جنرل جو ہمارے آج کے نا اہل وزیر اعظم اور مفرور وزیر خزانہ کی طرح اس عہدے سے تا دمِ مرگ چمٹے رہنا چاہتا تھا اسے سیاسی اقتدار کو جنم دینے والی بندوق کی نال نے بساطِ اقتدار سے غتربود کردیا۔

پھر طاقت کی دیوی ننگی ہوکر اقتدار کی ٹوٹنکی میں رقص کرنے لگی تمام اصولوں اور روایات و نظریات کو نظریہ ضرورت کی کند چھری سے ذبح کر دیا گیا، جمہوریت نامی فاحشہ کی آتما نت نئے روپ میں اپنی انگ انگ کو مٹکاتی پھڑکاتی اقتدار کے ہوس کدوں میں اپنے چاہنے والوں کو لبھاتی اور اور رجھاتی رہی کہ راتوں رات وفاداریوں کو پرانے استعمال شدہ آلودہ لباس کی طرح اتار پھینک کر نظریہ پاکستان، اسلام اور ملت کے گیت گانے والے بہروپئے پاکستان مخالف اور سرحدی گاندھی کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب، یونینسٹ کرنل عابد حسین اورنواب مظفر قزلباش، عبد الحمید دستی اور فضل الہی چودھری سمیت سب اس کے جلو میں پوتر اور پاک صاف ہوکر ریپبلکن پارٹی کی شکل میں برسر اقتدار اور جمہوریت کے علمبردار ہو گیئے۔

یہ جمہوریت کا وہ زریں دور تھا جب بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے تمسخر اڑاتے ہوئے پھبتی کسی کہ اتنی تو میں اپنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی پاکستان میں حکومتیں بدلتی ہیں جانے کیوں پنڈت جی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہماری جمہوریت ان کے ملک کی طرح اسلامی نظریہ حیات کے مطابق ایک ہی بار پیدا ہو کر پروان نہیں چڑھ رہی بلکہ ان کے ہندو عقیدے کی طرح ہر بار نیا جنم لے کر نو مولود ہی موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ ہر بار اس کا جشن مولود منانے والے اور مٹھائیاں بانٹنے والے بھی وہ ہی ہوتے ہیں جو اس کی ارتھی کو مرگھٹ تک پہنچا کر نذر آتش کرتے ہیں۔

یہ بد فطرت نظام اور اس سے اٹھتے تعفن سے دماغ پھٹ رہے ہیں لیکن اس غلاظت سے شکم پری کرنے والے گدھ اپنی خمدار چونچیں اور مضبوط پنچے لئے گرسنہ نگاہوں چہار جانب منڈلا رہے ہیں۔

قصّہ کوتاہ یہ کہ جمہوریت نے ایک بار پھر جنم لیا اور ابکی بار وہ بندوق بدست اور وردی پوش دائی کی گود میں ہمہما رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی مبارک سلامت کا شور، خوب چراغاں ہوا، وہ جو پہلے اس کی نہلائی دھلائی سے تکفین و تدفین تک کے شریک اور ذمہ دار تھے ہجوم در ہجوم پھر سے وہ ہی آزمودہ نسخے، وہ ہی گھٹی اور چمچے لیئے اس کی پرداخت کے لئے چنے گئے اور پھر سے کار جہاں چلانے کو موجود تھے، اس بار اہل علم و جوتش نے اس کو بنیادی جمہوریت کا دلفریب نام دیا تاکہ بنیادیں مضبوط رہیں۔ تب تک مغرب نے بنیاد پرست کی اصطلاح ایجاد نہیں کی تھی دانشوروں نے الطاف گوہر اور قدرت الله شہاب کی دانش اور حکومت کی دولت مستعار کی مدد سے خوب قصیدے لکھے۔ اس جموریت کے اتالیقوں اور نغمہ گروں میں رائٹرز گلڈ کے فنکاروں سے لیکر امریکی دانش کے پیکر ذوالفقار علی بھٹو اور مالیات کے جادوگر محمّد شعیب تک سب شامل تھے اپنی دسویں سالگرہ تک جمہوریت کا یہ جنم پروان چڑھتا رہا یہاں تک کہ ایوب خان کے اپنے کاسہ لیسوں نے اسے 1965 کی پاک بھارت جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا اور 1969 میں قابو شدہ جمہوریت کا یہ جنم بھی تمام ہوا۔ نیا جنم پھر سے وردی پوش دایا اور اس کے سفید پوش ظاہر و پوشیدہ حواریوں کی آغوش میں تھا۔یوں یہ جنم در جنم کا چکّر اپنا پہلا نروان حاصل کر کے مشرقی پاکستان سے مکتی حاصل کر سکا۔ پرانے پاکستان کے انتخابات کی نیو پہ اٹھائے گئے نئے پاکستان میں ایک بار پھر جمہوریت تولد ہوئی اور اس شان سے کہ دنیا کی تاریخ کے پہلے سول مارشل ایدمنسٹریٹر اس کے مڈ وائف بنے اور 1973 کے آئینی لباس نے اس کی برہنگی کو چھپایا۔لیکن وہ جو کہتے ہیں نہ کہ ڈائن خود اپنے بچوں کو کھا جاتی ہے سو بیچاری جمہوریت کا یہ جنم بھی اپنی نو عمری میں ہی موت کی وادیوں میں اتر گیا۔ یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا۔ نئے آئین کے نافذ ہوتے ہی اس کے گرگ باراں دیدہ بانی نے ملک میں ہنگامی حالات نافذ کرکے بنیادی حقوق معطل کردیئے، آئینی جمہوریت کی کوکھ سے اس بدترین شخصی استبداد نے جنم لیا کہ “ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں”۔ حکمراں پارٹی کے اپنے بانی جنرل سیکریٹری سے جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد تک کوئی چیرہ دستیوں سے نہ بچ سکا۔ جیل میں ملک محمد قاسم کی پسلیاں شکستہ کردی گئیں تو حوالات میں جے یو آئی کے مولوی پہ طوائفیں چھوڑ کر فلمیں بنوائی گئیں۔

اس سکّھا شاہی اور شخصی مرکزیت کی حامل جمہوریت نما آمریت کو دوام دینے کے لئے اچانک قبل از وقت انتخابات کا ڈول ڈال کر دھاندلی کی وہ مثال قائم کیگئی کہ عوام بلبلا کر سڑکوں پہ نکل آئے آخری تنکے کا بوجھ قوم کی پیٹھ برداشت نہ کرسکی۔ جموریت کا جنازہ اس شان سے اٹھا کہ پورے ملک کے عوام کو اس کے انتم سنسکار کے لئے سڑکوں پر چار ماہ تک سینہ کوبی کرنے لاٹھیوں اور گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہوکر اس کی میت کو مرگھٹ تک پہنچنے کے لئے فوجی اعزازی بینڈ اور توپوں کی سلامی کا انتظار کرنا پڑا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جمہوریت کی تقدیس پر کچھ چون چرا: عثمان سہیل

اور پھر وہ ہی پرانے چارہ گر اور نئی بوتل میں پرانی شراب لۓ لہراتے ڈگمگاتے قدموں آ موجود ہوئے، عدالتوں کی چوکھٹوں اور پھانسی گھاٹوں سے ہو کر گزرتا ہوا یہ جنم بھی 11 سال میں تمام ہوا۔ تب ڈرون ایجاد نہیں ہوئے تھے اس لئے امریکا نے جمہوریت کے اس جنم کو اس کے باپو کے ساتھ فضا ہی میں نذر آتش کر دیا۔ جس کے بعد شاطروں کی چالوں اور طالع آزماؤں کی فراستِِ خبیثہ کے طفیل جمہوریت کی یہ بد آتما کئی سال تک بابو کی گود اور بی بی کی ممتا کا لطف اٹھاتی رہی ، صنعت کار بابو اور جاگیردار بی بی برانڈ جمہوریت جنم لیتی اور فنا ہوتی رہی یہاں تک کہ ایک بار پھر تاریخ نے خود کو دہرایا۔

“جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئی
از سر نو داستان شوق دہرائی گئی”

ایک بار پھر وہ ہی خاکی جنم اور بندوقوں کی اتالیقی میں نشو و نما پاتی جمہوریت کا کرشمہ، وہ ہی ہمیشہ کے آزمودہ جمہریت نواز سیاسی بازیگر، یہاں تک کہ سیاہ پوش پرندوں کی یلغار نے اسے کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ڈھیر کر دیا اور این آر او کے شکم سے امریکن سرجری کی مدد سے ایک بار پھر بی جمہوریت کا نیا جنم ہوا۔ یہ بد فطرت نظام اور اس سے اٹھتے تعفن سے دماغ پھٹ رہے ہیں لیکن اس غلاظت سے شکم پری کرنے والے گدھ اپنی خمدار چونچیں اور مضبوط پنچے لئے گرسنہ نگاہوں چہار جانب منڈلا رہے ہیں۔

ہماری جمہوریت کی خوبی یہ ہے کہ ہر بار یہ نیا جنم لیتی ہے کسی کے بطن سے ہو اور کسی کے ہاتھوں پیدا ہو، ہر بار ان ہی تدریجی مراحل سے گزرتی ہے ابھی عنفوان شباب کو نہیں پہنچ پاتی کہ پھر سے موت اسے اچک کر لے جاتی ہے۔ اس کے پالک ہار سال خوردہ ہو کر بھی بی جمہوریت کے ہر نئے جنم پہ نئے اہتمام کرتے ہیں اور وہ جو نصف صدی سے اس کے ہر جنم پہ ٻدهائی دیتے اور ویلیں وصول کرتے ہیں کبھی اس جمہوریت کے پچھلے جنموں سے اپنے رشتوں کو شمار کرتے نہ ہی اس کی فنا میں اپنی کارگزاریوں اور خباثتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ یوں ہر نئے جنم پہ پہ نو مولود جمہوریت پیران تسمہ پا جیسے گرگ باراں دیدہ جمہوریت نوازوں کی آغوش میں سسک سسک کر دم توڑتی رہے گی۔

کبھی تو یوں لگتا ہے کہ آواگون کا یہ منحوس لا متناہی چکّر شاید ہمارا مقدر ہو چکا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیے: کیا جمہوریت اور انتخابات لازم و ملزوم ہیں؟ منور رشید کا نقطہ نظر

 

یہ بھی دلچسپ ہے: جمہوریت کا تقدس پائمال کرنے والوں پر لعنت ۔ محمود فیاضؔ

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: