کراچی میں ادبی جرائد کے دستیابی : نعیم الرحمٰن

0
  • 45
    Shares

اردو ادب کو قاری کی تلاش ہے۔ مطالعے کا شوق روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ادبی جرائد نے ادب کی شمع کو فروزاں رکھا ہوا ہے۔ پاکستان میں ادب کا بڑا مرکز لاہور ہے۔ جہاں بہت سے پبلشنگ ہاؤس اور بک اسٹال موجود ہیں۔سنگ میل، مقبول اکیڈمی اور دوسرے کئی پبلشرز کے اپنی بھی بڑی بڑی بک شاپس موجود ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے سب سے بڑا شہر کراچی اس وقت ادبی رسائل کا بھی بڑا مرکز ہے۔ پاکستان کے کئی خوبصورت ادبی جرائد کراچی ہی سے شائع ہو رہے ہیں۔ لیکن افسوسناک امریہ ہے کہ ادبی کتب اور رسائل کراچی ہی میں دستیاب نہیں ہیں۔ اردو بازار کراچی کے دواہم بک شاپس ویلکم بک پورٹ اور فضلی سنزنے ادبی جرائد رکھنا بند کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے کراچی ہی کے رسائل کراچی میں بھی دستیاب نہیں ہیں۔

ادبی کتب و جرائدکی ترقی اور فروغ کیلئے ان کا مطالعے کے شائقین تک پہنچنا ضروری ہے۔ کتابوں کی مہنگائی کے علاوہ ان کی عدم دستیابی بھی فروغ مطالعہ کی راہ میں بڑی رکارٹ ہیں۔ پبلشرز اپنے کتب و جرائد کی تشہیر نہیں کرتے۔ جس سے قاری کو اس کے پسندیدہ ادیب یا موضوع پرچھپنے والی کتاب کاعلم ہو سکے۔ پرستاروں کے ذوق و شوق کا جائزہ سالانہ بک کتب میلے اور لٹریری فیسٹول سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ جہاں کروڑوں روپے کی کتابیں خریدی جاتی ہیں۔ کراچی میں یہ مسئلہ اس لئے بھی سنگین ہوگیا ہے کہ شہر میں ادبی کتب و رسائل رکھنے والی بک شاپس کی انتہائی کمی ہے۔ اردو بازار سے بھی پنجاب بک ہاؤس سمیت بیشتر دکانیں صرف درسی کتب تک محدود ہوگئی ہیں۔ جو دو تین دکانیں موجود ہیں وہ بھی قاری کی نہیں اپنی مرضی کی کتابیں بھاری کمیشن پر فروخت کے بعد ادائیگی کی شرط پر رکھتے ہیں۔ رہی سہی کسر دو بڑے بک سیلرز کا ادبی جرائد نہ رکھنے سے پوری ہوگئی۔ جبکہ بیشترجرائد دیر سویر سے فروخت ہو جاتے ہیں۔ اور ان شاپس پر تلاش کرنے پر پرانے شمارے نہیں ملتے۔ ان میں کتابیں برآمد کرنے والی شاپس بھی شامل ہیں۔ بیرون شہرشائع ہونے والے اچھے ادبی پرچے تو ایک طرف اب کراچی کے رسائل بھی عام قاری کو دستیاب نہیں۔ یہ صورتحال قاری کو مطالعے سے مزید دور کر رہی ہے۔

اردوادب کے فروغ اورترقی میں ادبی جرائد کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ نثر و شعرکی کتابوں سے زیادہ ادبی رسائل نے اردو زبان کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔ کیونکہ ان جرائد میں قاری کو نثر و نظم کی ہرصنف ادب یکجا مل جاتی ہے۔جس میں ناول، افسانہ، تنقید، طنز و مزاح، غزل، نظم، مرثیہ، ربائی اور جدید اصناف ایک ہی جگہ پڑھنے کومل جاتی ہے۔ اور ہر قاری کو اپنی فیورٹ صنف اور شاعر و ادیب کو پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے۔

سرسیداحمدخان کے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ سے لیکرسر عبدالقادر کے ’’مخزن‘‘، ’’کاروان‘‘، ’’ادبی دنیا‘‘، ’’نگار‘‘، ’’نیرنگ خیال‘‘، ’’ساقی‘‘ اور بے شمار ادبی رسائل نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد بھی ان میں سے کئی جرائد جاری رہے۔ شاہد احمد دہلوی اپنا ادبی پرچہ ساقی پاکستان لے آئے۔ نیرنگ خیال اور ادب لطیف سترسال سے زائد مدت سے اب بھی جاری ہیں۔ ممتاز شیریں اور عبدالصمد کا ’’نیادور‘‘، محمد طفیل کا ’’نقوش‘‘، احمد ندیم قاسمی کا ’’فنون‘‘، ڈاکٹر وزیر آغا کا ’’اوراق‘‘، نسیم درانی کا ’’سیپ‘‘، صہبا لکھنوی کا ’’افکار‘‘، اظہر جاوید کا ’’تخلیق‘‘ اور مولانا ظفرعلی خان کے خانوادے کا ’’الحمرا‘‘ پھر سرکاری سرپرستی میں ماہ نو، لوح وقلم اورکئی معیاری رسائل شائع ہوتے رہے۔ باذوق قارئین آج بھی ان کے پرانے شماروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اپنے خاص نمبروں اورمعیار کے اعتبار سے جو مقام ’’نقوش‘‘ نے حاصل کیا۔ وہ کوئی اورادبی جریدہ حاصل نہ کرسکا۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے محمدطفیل کو ان کے پرچے کے حوالے سے محمد نقوش کانام دیا۔ طفیل مرحوم کے انتقال کے بعد کئی برس تک ان کے صاحبزادے جاوید طفیل اس بے مثال جریدے کو شائع کرتے رہے۔ لیکن اب کئی سال سے اس کی اشاعت موقوف ہے۔ اس کے باوجود گذشتہ سال نقوش کا رسول ﷺ نمبرکی تیرہ جلدوں کی اشاعت نو ہوئی تو شائقین ادب نے یہ نمبر ہاتھوں ہاتھ لیا۔ دس ہزار روپے قیمت کا یہ نمبر ایک مرتبہ پھر مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔ نقوش کے شائع کردہ نمبروں کی آج بھی شائقین ادب کو تلاش رہتی ہے۔ اگر یہ نمبر دوبارہ شائع کئے جائیں تو یہ پرستاروں کے لئے کسی تحفے سے کم نہ ہوں گے۔

نسیم درانی کا “سیپ” نصف صدی کے بعد بھی اسی آب وتاب سے شائع ہو رہا ہے۔ الحمرا کی اشاعت نو کا بیڑہ شاہد علی خان نے اٹھایا اور اسے سترہ سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں الحمرا کا شاندار سالنامہ اشاعت پذیر ہوا ہے۔ تخلیق کو اظہر جاوید کے فرزند سونان اظہر جاوید تخلیق کو اسی شان سے شائع کر رہے ہیں۔ جوان کے مرحوم والد کا طرہ امتیاز تھا۔ فنون بھی احمد ندیم قاسمی کی صاحبزادی ناہید قاسمی اور نواسہ نیرحیات قاسمی تعطل کے باوجود جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تمام پرچے بھی کسی اسٹال پردستیاب نہیں ہیں۔

کراچی اور لاہور کے ادبی مراکز سے دور چھوٹے شہروں سے بھی کئی قابل دید ادبی جرائد شائع ہوتے ہیں۔ جن میں گوجرہ سے نزول، محمد خالد فیاض کاتناظر، میانوالی کا جریدہ آبشار، اسلام آباد سے ارشدخالد عکاس، بہاولپور جیسے ادبی مرکزسے دور شہر ڈاکٹر شاہدحسن رضوی “الزبیر” کی اشاعت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں الزبیر کا’’طنز و مزاح‘‘ نمبر شائع ہوا ہے۔ فیصل آباد سے قاسم یعقوب کادلکش ادبی مجلہ ’’نقاط‘‘ اورعلامہ ضیاالحسن کا ’’زرنگار‘‘ شائع ہوتے ہیں۔ ملتان سے سطور بھی باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ گوجرانولہ سے جان کاشمیری کا “قرطاس” شائقین ادب کی داد حاصل کر رہا ہے۔ لیکن ان تمام پرچوں کے قاری تک کوئی رسائی نہیں۔

لاہورکے اہم ترین ادبی رسائل میں تخلیق، الحمرا، ادب لطیف باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں۔ عطاالحق قاسمی کا بے مثال پرچہ ’’معاصر‘‘ بھی سال دوسال میں منظر عام پر آجاتا ہے۔ ترقی اردوکے ادبی اور تحقیقاتی جریدے’’صحیفہ‘‘ کا دو جلدوں پرمشتمل بے مثال مکاتیب نمبر حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ سرکاری جریدہ ’’ماہ نو‘‘ کی اشاعت کا سلسلہ انیس سو اڑتالیس جاری ہے۔ کئی نشیب وفراز کے باوجود ماہ نوہر سال کئی بہت شاندارشمارے شائع کرتاہے۔حالیہ شمارہ سرسید احمد خان نمبرہے۔تاہم ماہ نو بھی کہیں دستیاب نہیں۔ حتٰی کہ رسالے پر دیئے فون نمبر پرسالانہ خریداری کے بارے میں معلومات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔ اس طرح قاری اسے براہ راست بھی حاصل نہیں کر پاتا۔

ڈاکٹر تحسین فراقی نے ’’مباحث‘‘ کے نام سے تحقیقی مجلے کا آغاز کیا ہے۔ امجد طفیل اور ریاض احمد نے ’’استعارہ‘‘ کے نام سے پرچے کا اجراء کیا ہے۔ زاہد حسن ’’کہانی گھر‘‘ کے نام سے منفرد پرچہ شائع کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انوار احمد زئی کا ’’پیلوں‘‘ اردو، پنجابی اور سرائیکی ادب شائع کرتا ہے۔ ذکا الرحمٰن ادب لطیف کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ منفرد نظم گو شاعر نصیراحمد ناصر کا ادبی جریدہ ’’تسطیر‘‘ کشمیر اور راولپنڈی سے دوبارہ جاری ہو کر بند ہوا۔ خوش قسمتی سے تسطیر کی اشاعت کا ذمہ بک کارنر نے اٹھایا ہے۔ اور اب یہ پرچہ پہلے سے زیادہ دلکش انداز میں شائع ہو رہا ہے۔ تسطیر کے دور نو میں تین شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ اسی طرح سے لگ بھگ نصف صدی سے جاری ’’سویرا‘‘ کی اشاعت کی ذمہ داری القا پبلشرز نے اٹھائی ہے۔ جس کے بعد سویراکی اشاعت میں باقاعدگی آگئی ہے۔ اور ہر سال اس کے دوشمارے شائع ہورہے ہیں۔ لیکن پرچہ اب بھی دستیاب نہیں۔

راولپنڈی سے ممتازشیخ نے انتہائی خوبصورت اورضخیم ادبی جریدہ ’’لوح‘‘ جاری کیاہے۔ جس کے اب تک پانچ ضخیم شمارے شائع ہوچکے ہیں۔ لوح کا موجودہ شمارہ ’’اردو افسانہ صدی نمبر‘‘ ہے۔ آٹھ سوصفحات کے اس مجلد بے مثال نمبر میں ایک سو دس سال کا افسانوی انتخاب شائع کیا گیا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف افسانے ہی شامل کئے گئے ہیں۔ تنقید اور مضامین کو جگہ نہیں دی گئی۔ یہ نمبر ادبی دیوانوں کے لئے کسی قیمتی اور بے مثال تحفے سے کم نہیں۔ انتہائی کم مدت میں لوح نے اپنی دھاک بٹھادی ہے۔ بلاشبہ اس پرچے کو نقوش ثانی قرار دیا جاسکتا ہے۔ لوح کا ہرشمارہ بھی نقوش کی طرح ضخیم خاص شمارہ ہوتا ہے۔جو صوری اورمعنوی اعتبار سے بھی قابل دید ہوتا ہے۔

راولپنڈی سے معروف شاعرعلی محمدفرشی کا انتہائی شاندارجریدہ ’’سمبل‘‘ بھی شائع ہوتا رہا ہے۔ دس شماروں کے بعد فرشی صاحب نے صحت کے مسائل کے باعث رسالہ بند کر دیا۔ اسلام آباد سے شاعر فیصل عجمی نے ثمینہ راجہ کی ادارت میں بہت ہی خوبصورت ادبی جریدہ ’’آثار‘‘ شروع کیا۔ جس کے دس شماروں میں دو شاندارخاص نمبر بھی شامل تھے۔ ثمینہ راجہ نے وفات سے قبل آثارکی دوبارہ اشاعت کا ارادہ ظاہرکیا تھا۔ لیکن ان کے انتقال سے ایسانہ ہوسکا۔ کاش کوئی ادارہ سمبل اور آثارکی اشاعت نو کا بیڑہ بھی اٹھالے۔

اسلام آباد سے اکیڈمی ادبیات کا رسالہ ’’ادبیات‘‘ شائع ہو رہا ہے۔جس کے سوسے زیادہ شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ ادبیات نے مشاہیر ادب احمدفراز، منیرنیازی، احمدندیم قاسمی وغیرہ پر بہت عمدہ نمبرشائع کئے ہیں۔ ادبیات کا تازہ شمارہ ’’انتظار حسین نمبر ‘‘ ہے۔ جلد ’’عبداللہ حسین نمبر‘‘ بھی شائع کیاجائے گا۔ ادبیات بھی اکیڈمی کے آفسز کے علاوہ کہیں دستیاب نہیں ہے۔

کراچی سے ان دنوں کئی عمدہ ادبی رسائل شائع ہو رہے ہیں۔ جن میں اجمل کمال کا منفرد ’’آج‘‘ سر فہرست ہے۔ آج کے سو سے زائد شمارے شائع ہوچکے ہیں۔ سنچری نمبر تقسیم کے موضوع پر ہزار صفحات سے زائد کا ناول ’’سچا جھوٹ‘‘ پر مشتمل تھا۔ اگلے شمارے میں معروف شاعر سید کاشف رضا کا ناول نگار کی حیثیت سے نیا روپ سامنے آیا۔ آج کاتازہ شمارہ نمبر ایک سو تین ارون دھتی رائے کے نئے ناول پر مشتمل ہے۔ اجمل کمال آج کے ذریعے اپنے قارئین کو دنیا بھرکے ادب سے متعارف کرانے کا فریضہ بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ آج کا آفس مدینہ مال میں موجود ہے۔ جہاں سے پرچہ دستیاب ہو جاتا ہے۔ پھر اس کاملک بھر سے بھی رابطہ ہے۔ جہاں خریداروں کو باقاعدگی سے ناصرف آج ارسال کیاجاتاہے۔ بلکہ یہاں اور کتب و جرائد بھی دستیاب ہو جاتے ہیں۔

اکیڈمی بازیافت کے روح رواں مبین مرزا دو عشروں سے بے مثال پرچہ ’’مکالمہ‘‘ شائع کررہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مکالمہ کا دو ضخیم جلدوں پر مبنی شاندار افسانہ نمبربھی شائع کیا گیا تھا۔ ایک سال سے مبین مرزا نے مکالمہ کو ماہنامہ بنا دیا اور رسال ہر ماہ شائع ہو رہا ہے۔ مکالمہ اور ادارے سے چھپنے والی کتب اس کے دفترسے دستیاب ہیں۔

ڈاکٹر آصف فرخی کے شاندار ادبی جریدے ’’دنیازاد‘‘ کے بھی پینتالیس شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ دنیازاد کا ہرشمارہ کسی خاص موضوع کی مناسبت سے چند تحریریں شامل کرتاہے۔ ابتدا میں کئی عمدہ نمبربھی اشاعت پذیر ہوئے۔ آصف فرخی کا ادارہ ’’شہرزاد‘‘ نظم و نثرکی عمدہ کتب بھی شائع کرتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹرحسن منظر، ڈاکٹرشیرشاہ سید، اپنے والد مرحوم ڈاکٹر اسلم فرخی کے علاوہ کئی عمدہ کتابیں شائع کی ہیں۔ کچھ عرصے سے دنیازاد کی اشاعت عدم تسلسل کا شکار ہے۔ پرچے اورکتب کی دستیابی میں بھی مسائل ہیں۔

احسن سلیم مرحوم نے انتہائی پروقار ادبی جریدہ ’’اجراء‘‘ جاری کیا اوراپنی وفات تک اسے بہت باقاعدگی سے ہرتین ماہ بعد شائع کرتے رہے۔ اجراء کی اشاعت اب نوجوان خورشید اقبال نے سنبھالی ہے۔ انہیں پرچے کی مسلسل اشاعت کے ساتھ دستیابی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

اقبال نظر نے ’’کولاژ‘‘ کے نام سے بہت عمدہ ادبی رسالہ شروع کیاہے۔ جس کا پانچواں شمارہ ’’گلزار نمبر‘‘ کی صورت میں شائع کیا گیا۔ یہی شمارہ اب جہلم بک کارنر نے ’’گلزارنامہ‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیاہے۔ اردوبازار میں رسائل نہ رکھنے کے باعث کولاژ بھی اب دستیاب نہیں ہے۔ گذشتہ سال اس کے دوشمارے ایک ساتھ شائع کئے گئے تھے۔جودستیاب نہیں ہیں۔

نسیم درانی کا نصف صدی سے جاری ’’سیپ ‘‘ کا چوراسی واں شمارہ کچھ عرصے پہلے شائع ہوا تھا۔ یہ شمارے بھی براہ راست ہی لیاجاسکتا ہے۔ مارکیٹ بھی دستیاب نہیں ہے۔

فہیم انصاری ’’اجمال‘‘ کے نام سے ایک بہت خوبصورت پرچہ شائع کر رہے ہیں۔ جس کے تیرہ شمارے بہت باقاعدگی سے شائع ہوئے ہیں۔ انصاری صاحب کی مہربانی سے پرچہ مل جاتاہے۔ لیکن اردوبازار میں دستیاب نہیں ہے۔

ترقی پسند ادب کا منفرد جریدہ ’’ارتقا‘‘ ڈاکٹرسید جعفر احمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اس کا کرشن چندر نمبر شائع ہوا تھا۔ یہ پرچہ صرف آج کے آفس سے مل جاتاہے۔

معروف افسانہ نگار ناصر بغدادی چند سال پہلے تک ’’بادبان‘‘ شائع کرتے رہے ہیں۔ ناصر بغدادی سے گزارش ہے کہ خوبصورت پرچے کی اشاعت پھرسے شروع کریں۔

محترم سحرانصاری کی صاحبزادی معروف شاعرہ عنبرین حسیب عنبر نے کچھ عرصہ پہلے ’’اسالیب‘‘ کے نام سے بہت عمدہ ادبی رسالہ شروع کیا تھا۔ جس کے دو ضخیم جلدوں میں خاص نمبر بھی شائع کئے گئے۔ اسالیب اپنے چھٹے شمارے کے بعد سے منظرعام پر نہیں آیا۔ لیکن عنبرین صاحبہ نے اسے جاری رکھنے کاعزم ظاہرکیاہے۔ یہ پرچہ اکیڈمی بازیافت میں مل جاتاہے۔

ادبی خانوادے سے تعلق رکھنے والی شاعرہ اور ادیبہ محترمہ حجاب عباسی نے حال ہی میں’’ادب عالیہ‘‘ کے نام سے ادبی رسالے کی اشاعت کا آغاز کیا ہے۔ پوت کے پاؤں پالنے میں نظرآنے کے مترادف اس پرچے کی اٹھان شاندار ہے۔ نظم و نثرکی گلدستے کی مہکار چار جانب پھیل رہی ہے۔ مسئلہ صرف دستیابی کا ہے۔

افسانہ نگار احمد زین الدین ’’روشنائی‘‘ کے نام سے عمدہ پرچہ شائع کرتے ہیں۔ روشنائی نے افسانہ نمبر اورقرۃ العین نمبر بھی شائع کئے۔ اب کچھ عرصے سے پرچہ نظرنہیں آرہا۔ دعا ہے کہ اس کی اشاعت جاری ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: