ٹائم سٹریم – وقت کی ندی: عبد الرحمان قدیر

0
  • 27
    Shares
وقت کے لڑی میں پروئے مختلف لمحوں کی اثر انگیزی اور انکی قسموں کا تعارف کراتی ایک خوبصورت تحریر

ٹائم سٹریم فی الحال کہنے کو تو ایک افسانوی تھیوری ہے۔ ٹائم سٹرم لمحوں کی ایک لڑی ہے جو زندگی بناتی ہے۔ کافی ہالی ووڈ فلمیں جو ٹائم ٹریول یا نظریہءاضافیت جسے ریلیٹیوٹی تھیوری بھی کہتے ہیں کے بارے میں بات کرتی ہیں ان میں ٹائم سٹریم کا موجود ہونا لازم قرار پاتا ہے۔ تاہم اس اصطلاح کو بطورِ لفظ انتہائی کم استعمال کیا گیا ہے۔

نظریاتی طور پر وقت کے تمام لمحے ایک لڑی کی طرح پرو دیے گئے ہیں۔ جو انسانی علم کے مطابق بگ بینگ سے شروع ہوتی ہیں۔ اور پھر اسکی شاخیں بنتی گئیں۔ ان میں سے ایک شاخ ہماری کہکشاں ملکی وے کے لیے بنی۔ پھر ملکی وے میں نظامِ شمسی اور پھر زمین اور پھر شخصی لحاظ سے وقت کی ندی تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے۔

وقت کی ندی میں ذرا سی ڈسٹربنس یا جنبش آگے چلنے والی ساری لڑی کا رخ بدل سکتی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہم ایک چھوٹی سی مثال ایک کہانی کے طور پر پڑھیں گے:

سمیع ایک لائق مگر غریب لڑکا تھا۔ یونیورسٹی جاتے ایک دن ایک رستے میں ایک پتھر سے ٹھوکر لگ کر گر گیا۔ اسکے گھٹنے پر چوٹ آئی۔ وہیں پاس سے میڈیکل کی ایک طالبہ نے دیکھا اور اسی وقت اسے پٹی کر دی۔ اسی طرح اسے محبت ہوگئی۔ مگر غربت کی وجہ سے اس لڑکی نے اسکو ریجیکٹ کر دیا۔ اس نے اسی ریجیکشن کو مثبت توانائی میں تبدیل کیا اور انجینئرنگ میں کامیابی حاصل کر کے پوری دنیا میں شہرت حاصل کی۔ اور کئی مشینیں بنانے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح یہ تمام واقعات اینٹوں کی طرح اسکی زندگی کی عمارت کھڑی کرتے رہے۔ مگر اس لڑکی کی یاد اسے ابھی بھی ستاتی تھی۔ پھر ایک دن اس نے ایک ٹائم مشین بنا کر ماضی میں جانے کا فیصلہ کیا۔ ماضی میں جا کر بڑی محنت سے جا کر اسنے اس لڑکی کو بالآخر راضی کر لیا اور پھر جب موجودہ وقت میں واپس آیا تو ایک بالکل نئی زنگی اسکی منتظر تھی۔ کیوںکہ اس لڑکی کے قبول کرنے کے ساتھ ہی زنگی ایک دوسری راہ پر چل چکی تھی۔

چونکہ اس لڑکی نے اسے محبت دے دی اور اسی بات میں وہ مطمئن ہو گیا کہ اسے مزید کامیابی حاصل کرنے کی ضرورت نہ رہی تھی۔ وہ یونیورسٹی بھی چھوڑ چکا تھا اور ایک چھوٹے سے مکان میں ایک انجینئر کی بجائے ایک الیکٹریشن کی زندگی گزار رہا تھا۔ اسکی ساری محنت ضائع ہو چکی تھی۔ افسوس تو ہوا مگر اس کے بارے میں اب وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا کیوں کی وقت کی ندی کے نئے رخ میں وہ نہ انجینئر بنا اور نہ ہی پھر ٹائم مشین بنا سکتا تھا کہ ماضی میں جا کر دوبارہ اس چیز کو درست کر سکے۔

اگر وہ پیچھے جا کر اس پتھر کو ہی ہٹا دیتا جس سے ٹکرانے کی وجہ سے چوٹ لگی تو وہ لڑکی اسے ملی ہی نا ہوتی اور اسکی زندگی کا ایک تیسرا موڑ بھی دیکھا جا سکتا تھا۔

وقت کی ندی میں چار طرح کے عناصر ہوتے ہیں۔
معروف اور بااثر
معروف اور بے اثر
مجہول اور بااثر
مجہول اور بے اثر

معروف اور بااثر عناصر وہ ہیں جو زمانے میں معروف بھی ہیں اور وقت کی ندی میں اہم تاثر چھوڑ کر گئے ہیں۔ جیسے کہ قائداعظم۔ اگر وہ نہ ہوتے تو پاکستان نہ بن پاتا۔ اگر وقت کی ندی میں انہیں نکال دیا جائے تو پاکستان موجود ہی نہ ہوگا۔

معروف اور بے اثر عناصر وہ ہیں جنہیں زمانہ تو جانتا ہے۔ لیکن انہیں وقت کی ندی سے نکال بھی دیا جائے تو وقت متاثر نہ ہوگا۔ جیسا کہ جسٹن بیبر۔ ایک مشہور گائیک ہیں مگر انہیں ٹائم سٹریم میں سنگر کی بجائے کچھ اور بھی بنا دیا جائے تو دنیا کی تقدیر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں سینکڑوں موسیقار متحرک ہیں اور اکثر پرستار ایسے ہونگے جو بیبر اور دوسرے گائیکوں کو بیک وقت پسند کرتے ہیں۔ رہی عوام کے موسیقی سننے کی بات تو وہ کسی اور سنگر کو سن کر ویسے ہی محظوظ ہو سکیں گے۔ اور جو پیسے لوگ بیبر کے البمز یا کانسرٹس پر خرچ کریں گے وہ کسی اور سنگر پر خرچ کر لیں گے۔ لیکن دنیا کے وقت کی ندی پر کچھ خاص اثر نہیں پڑے گا۔۔

 

مجہول اور بااثر عناصر میں نامعلوم شاعر جس نے “بیووولف” لکھی ہو سکتا ہے۔ شاید اگر اس نامعلوم فرد نے یہ نظم نہ لکھی ہوتی تو انگریزی شاعری اور اسی طرح انکی میوزک انڈسٹرے بھی اتنی کامیاب نا ہوتی۔ آخر شاعری ہی موسیقی کی ماں ہے۔

مجہول اور بے اثر عناصر وہ ہیں جنہیں زمانہ بھول چکا ہے یا جانتا ہی نہیں۔ اور وقت کی لہروں پر انکا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ آپ کافی مثالیں اسکی سوچ سکتے ہیں۔

زمانہ اور آپکی زندگی میں جو بھی حادثات یا واقعات پیش آئے، چاہے اچھے ہیں یا برے، انہوں نے ہی آپکی زندگی اور آپکے موجودہ کردار کو بنایا ہے۔ اگر آپ اپنے ماضی کا ایک واقعہ بھی نکال دیں تو آپ کی زندگی کی لڑی ایک مختلف ڈگر پر چل سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو ناگوار گزرے۔ اس لیے کائنات بنانے والے نے آپکی زندگی میں انہی واقعات کو شامل کیا ہے جو کہ آپ کی زندگی کو پرفیکٹ بنا سکیں۔ اس لیے جو بھی ہوا اس پر شکر ادا کیجیے۔ آپ جو ہیں اس پر فخر کیجیے۔ ناشکری فقط آپکو دکھ ہی دے سکے گی، کوئی فائدہ نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: