جنسی ہراسانی: مذہب کا اخلاقی و قانونی زاویہ نظر — عمار خان ناصر

1
  • 161
    Shares

معاشرتی زندگی کے مختلف دائروں میں کام کرنے والی خواتین کو مردوں کی طرف سے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جانا دور جدید کا ایک اہم سماجی مسئلہ ہے اور ہمارے ہاں بھی وقتاً‌ فوقتاً‌ یہ بحث موضوع گفتگو بنتی رہتی ہے۔ اس مسئلے کے کئی پہلو ہیں جن میں سے ہر پہلو مستقل تجزیے کا متقاضی ہے۔ اس کا تعلق انسان کی جنسی جبلت سے بھی ہے، انفرادی اخلاقیات سے بھی، مرد وزن کے اختلاط کے ضمن میں سماجی روایت سے بھی، جدید معاشی نظم سے بھی اور قانون وریاست کی ذمہ داریوں سے بھی۔

مصنف

بلوغت کی عمر میں مرد وزن کا جنسی طور پر ایک دوسرے کے لیے باعث کشش ہونا ایک معلوم حقیقت ہے۔ افراد کی سطح پر یہ کشش ضروری نہیں کہ ہمیشہ دو طرفہ ہو۔ بسا اوقات یہ یک طرفہ ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جنس مخالف تک رسائی کے لیے مرد اور عورت باہم مختلف رویوں کا اظہار کرتے ہیں۔ عورت جنسی تعلق میں چونکہ فطرتاً‌ منفعل ہے اور اس کی سماجی تربیت میں بھی یہ شامل ہے کہ وہ جنسی رغبت کا اظہار نہ کرے، اس لیے اس کا اظہار رغبت عموماً‌ بالواسطہ یعنی اشارہ وکنایہ کی زبان میں ہوتا ہے اور اس میں جارحیت شامل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس مرد حیاتیاتی اور معاشرتی، دونوں پہلووں سے غلبے کا مزاج رکھتا ہے، اس لیے اس کی طرف سے جنسی رغبت کا اظہار اقدام اور جارحیت کا انداز لیے ہوتا ہے۔ چنانچہ مرد وزن کے مابین معاشرتی تعامل میں جہاں مرد کسی بھی لحاظ سے اپنی خواہش کو عورت کی مرضی کے خلاف اس پر مسلط کرنے کی طاقت رکھتا ہے، وہاں جنسی ہراسانی کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

گویا سادہ لفظوں میں جنسی ہراسانی کا مطلب یہ ہے کہ مرد، عورت کی کمزور پوزیشن یا کسی مجبوری یا خواہش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، جس کی تکمیل اس کے تعاون پر منحصر ہے، عورت کی مرضی کے برخلاف اس سے جنسی تلذذ حاصل کرے۔ یہ چونکہ اخلاقیات کے کسی بھی تصور کے لحاظ سے ایک غلط طرز عمل ہے، اس لیے کسی اختلاف کے بغیر دنیا کے ہر معاشرے میں اسے جرم تصور کیا جاتا اور اس کے سدباب کے لیے تدابیر کی جاتی ہیں۔ تاہم اس بنیادی اتفاق کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کی اخلاقی نوعیت اور اس کی روک تھام کی حکمت عملی کے حوالے سے مذہب کے نقطہ نگاہ اور جدید لبرل تصور اخلاق میں بعض جوہری فرق پائے جاتے ہیں جن کی تنقیح ضروری ہے۔

مذہب کے نقطہ نظر سے اس مسئلے کا تجزیہ تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے:

ایک یہ کہ صنفی تعلق کے جواز کا مدار صرف باہمی رضامندی پر نہیں، بلکہ چند اخلاقی حدود وشرائط کی پابندی سے ہے جنھیں نظر انداز کر کے باہمی رضامندی سے قائم کیا جانے والا صنفی تعلق بھی مذہب کی نظر میں غیر اخلاقی ہے۔

دوسرا یہ کہ ناجائز صنفی تعلق کے سدباب کے لیے مرد وزن کے میل جول کو کچھ آداب کا پابند بنانا ضروری ہے جن کی رعایت دونوں صنفوں کے لیے واجب ہے۔

تیسرا یہ کہ عورت کے ساتھ جبر، زبردستی یا اس کی مجبوری یا ضرورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا استحصال ایک مزید گناہ ہے جو مستقلاً‌ قابل مذمت وقابل تعزیر ہے۔

حاصل یہ کہ مذہب اس مسئلے کو بطور ایک فرد کے، عورت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ حیا اور پاک دامنی کی قدروں کے تناظر میں بھی دیکھتا ہے اور اس کے نقطہ نظر سے صرف جنسی ہراسانی مسئلہ نہیں، بلکہ دو اور چیزیں بھی قابل اعتراض ہیں: ایک، جنسی کشش پیدا کرنے کے مختلف طریقے استعمال کرنا، اور دوسرا، “فلرٹیشن’’ کرنا جو باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔چنانچہ مذہبی تصور اخلاق اس مسئلے کو ایک کل کے طور پر دیکھتے ہوئے ان تمام پہلووں کا موضوع بناتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ خواتین جنسی کشش پیدا کرنے کے طریقوں سے اجتناب کریں، مرد وعورت باہمی رضامندی سے بھی “فلرٹیشن’’ نہ کریں، اور مرد، عورت کی کمزور پوزیشن یا مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اسے جنسی تلذذ کا ذریعہ نہ بنائے۔ انفرادی سطح پر اخلاقی تعلیم وتلقین کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے جب معاشرتی حدود وآداب متعین کیے جاتے ہیں تو یہاں بھی مذہب یک طرفہ طور پر صرف مردوں کو “احترام خواتین’’ کا پابند نہیں کرتا، بلکہ خواتین کو بھی اخلاقی حدود وآداب کا پابند بناتا ہے جن کو نظر انداز کرنا جنسی جبلت کو اخلاقی حدود سے باہر نکلنے کا موقع دے سکتا ہے۔ اسی اصول کے تحت کسی جرم کی سرزدگی کی صورت میں جب قانون حرکت میں آتا ہے تو وہ بھی صرف ہراسانی پر نہیں، بلکہ باقی دونوں پہلووں کے حوالے سے بھی آتا ہے۔

جنسی ہراسانی کا تعلق صرف مرد کی جارحیت سے نہیں ہے، اس کو تقویت دینے والے اسباب میں بنیادی کردار عورت سے متعلق اس عمومی ذہنی واخلاقی تصور کا ہے جو کسی معاشرے میں پایا جاتا ہے۔

اس کے برعکس انسانی حقوق کا عصری فلسفہ اس مسئلے کو بنیادی طور پر عورت کی انفرادیت اور آزادی کے حوالے سے دیکھتا ہے اور اسی حد تک اس کے سدباب کو موضوع بناتا ہے جس حد تک اس کی زد بطور ایک فرد کے، عورت کی آزادی اور تحفظ پر پڑتی ہے۔ جہاں تک پاک دامنی اور عفت کی اقدار کا اور صنفین کے اختلاط کو حدود وآداب کا پابند بنانے کا تعلق ہے تو لبرل فلسفہ معاشرت کو اس سے براہ راست کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں یہ چیزیں اس تصور معاشرت میں بنیادی قدر کا درجہ رکھنے والے تصور، حریت فرد کے منافی قرار پاتی ہیں۔ یوں اس تصور اخلاق میں جنسی ہراسانی کے مسئلے کو باقی دونوں پہلووں سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ عورت کو یہ حق ہے کہ وہ جیسا چاہے، لباس پہنے اور اپنے نسوانی حسن کی داد یا صنف مخالف کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جو انداز چاہے، اختیار کرے، اور اس حوالے سے تلقین ونصیحت کے علاوہ کوئی معاشرتی یا قانونی پابندی اس پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ سماجی یا قانونی قدغنیں صرف وہاں شروع ہوں گی جہاں عورت کو جنسی ہراسانی جیسے رویے کا سامنا کرنا پڑے۔ یوں جنسی ہراسانی جیسے اخلاقی وسماجی مسائل میں جدید ذہن اسی بنیادی غلطی کا شکار ہے جو دوسرے کئی مسائل میں بھی ظاہر ہوتی ہے، یعنی مسئلے کے صرف اس پہلو کو موضوع بنانا جو کسی کی “آزادی’’ یا “حق’’ پر زد پڑنے سے متعلق ہو اور قانوناً‌ اس پر کوئی اقدام کیا جا سکے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: می ٹو کا المیہ اور عدم توازن: رومی، شیکسپئیر اور میشا —- لالہ صحرائی

ہمارے ہاں چونکہ ابھی روایتی معاشرتی قدریں بھی اپنا کچھ بچا کھچا وجود رکھتی ہیں اور اباحت پسندی کی جدید تہذیبی قدریں تیزی سے، لیکن رفتہ رفتہ ہی ان کی جگہ لے رہی ہیں، اس لیے ہمارے اہل دانش جدید فلسفہ معاشرت کے تضادات اور تباہیوں کا ادراک پوری طرح نہیں کر پاتے۔ اس فلسفہ معاشرت میں تمام اعلیٰ اخلاقی اصول، فرد کی آزادی اور حق تلذذ کے تابع مانے جاتے ہیں اور معاشی سرگرمیوں کا اہم ترین مقصد فرد کو اس آزادی اور حق تلذذ سے متمتع ہونے کے مواقع اور ذرائع مہیا کرنا اور اس کی غیر محدود ترغیب پیدا کرتے رہنا ہے۔ اس فلسفے کی رو سے جنسی جذبات کو انگیخت کرنے اور اس کے علاوہ تشہیری مقصد کے لیے نسوانی حسن کو سامان تجارت کے طور پر استعمال کرنے کے لیے پوری پوری صنعتوں کو منظم کرنا ایک بالکل جائز بلکہ مطلوب سرگرمی ہے، لیکن اس سارے بندوبست کے ناگزیر نتیجے کے طور پر جب خواتین کو عدم تحفظ اور جنسی ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی قانونی روک تھام کی کوشش کی جاتی ہے جو کبھی مطلوب سطح پر موثر نہیں ہو سکتی۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنسی ہراسانی سے سابقہ صرف بے پردہ خواتین کو ہی پیش آتا ہے۔ مرد کے مزاج میں جنسی جارحیت اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے۔ توجہ یہ دلانا مقصود ہے کہ حریت نسواں کے نام سے اس جارحیت کو انگیخت کرنے کے جن طریقوں کا جواز مانا جاتا، لیکن ان کے لازمی نتائج ومضمرات سے نظریں چرائی جاتی ہیں، وہ سادہ فکری اور غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یہ طرز فکر اس تضاد فکری بلکہ ایک لحاظ سے منافقانہ ذہنی رویے کا ایک مظہر ہے جسے جدید فلسفہ معاشرت کی خصوصیت شمار کیا جا سکتا ہے۔

جنسی ہراسانی کا تعلق صرف مرد کی جارحیت سے نہیں ہے، اس کو تقویت دینے والے اسباب میں بنیادی کردار عورت سے متعلق اس عمومی ذہنی واخلاقی تصور کا ہے جو کسی معاشرے میں پایا جاتا ہے۔ اگر عمومی معاشرتی ماحول اور اس میں ذہنی واخلاقی تربیت کے ذرائع عورت کے متعلق احترام، ہمدردی اور تحفظ کا رویہ پیدا کریں گے (جس کے لیے مرد وزن کے اختلاط اور نسوانی حسن کی نمائش کے حدود وآداب کی اہمیت بنیادی ہے) تو اس کے نتائج اور ہوں گے، لیکن اس پہلو کو نظر انداز کیا جائے گا تو ایسے ماحول میں جنسی ہراسانی اور خواتین کے عدم تحفظ جیسے مسائل مستقل طور پر حل طلب رہیں گے۔ جدید فلسفہ حیات، معیشت کے دائرے میں سرمایہ داری اور معاشرتی اقدار کے دائرے میں فرد کی مطلق حریت جیسے تصورات پر اندھے ایمان کی وجہ سے معاملے کے اس پہلو سے نظریں چرانے پر مجبور ہے اور اسی وجہ سے اس طرح کے مسائل کے حل میں ناکام بھی ہے۔

معاشرتی برائیوں کے بارے میں یہ بات بھی درست ہے کہ ان کا کماحقہ سدباب محض قانونی بندوبست سے نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی روک تھام کا میکنزم معاشرے کے روز مرہ کے چلن اور عمومی اخلاقی حساسیت میں ہونا چاہیے، اور قانون کی دخل اندازی کی نوبت انتہائی صورتوں میں ہی آنی چاہیے۔ اخلاقی حساسیت اور معاشرتی روایات کی مثال ان جسمانی اعضاء کی ہے جن کا وظیفہ بدن کی روز مرہ ضروریات کو پورا کرنا ہے، جبکہ قانون کو بیماری کی حالت میں استعمال کی جانے والی دوا کے مانندسمجھا جا سکتا ہے جسے مستقل طور پر غذا کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر کسی عضو کی ناقص کارکردگی کی تلافی کے لیے دوا کو غذا کے طور پر استعمال کیا جائے تو متعلقہ عضو رفتہ رفتہ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور بدن مکمل طور پر دواوں کے رحم وکرم پر چلا جاتا ہے۔ بعینہ اسی طرح معاشرے کی اخلاقی صحت کو برقرار رکھنے یا اس کی حفاظت کی اصل ذمہ داری روز مرہ کے معاشرتی آداب اور رویوں پر عائد ہوتی ہے جنھیں معطل کر کے اگر ناہموار اور غیر صحت مند رویوں کی روک تھام کا سارا کام قانون سے لیا جانے لگے تو انسانی شخصیت، اجتماعی اور انفرادی، دونوں سطح پر اپنی شناخت کے نہایت بنیادی پہلووں سے اجنبی ہو جاتی ہے۔

انسانی حقوق کا فلسفہ اس مسئلے کو  عورت کی انفرادیت اور آزادی کے حوالے سے دیکھتا ہے اور اسی حد تک اس کے سدباب کو موضوع بناتا ہے جس حد تک اس کی زد بطور ایک فرد کے، عورت کی آزادی اور تحفظ پر پڑتی ہے۔ جہاں تک پاک دامنی اور عفت کی اقدار کا اور صنفین کے اختلاط کو حدود وآداب کا پابند بنانے کا تعلق ہے تو لبرل فلسفہ معاشرت کو اس سے براہ راست کوئی دلچسپی نہیں.

مرد وزن کے اختلاط کے حوالے سے عمومی اخلاقی تربیت اور رویہ سازی میں اس نکتے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے کہ مخلوط ماحول میں کام کرنے والی خواتین کے لیے عزت واحترام، ہمدردی اور ترحم کے جذبات بیدار کیے جائیں۔ جدید طرز معاشرت نے خواتین کو بھی معاشی ذمہ داریوں میں شریک کر دیا ہے اور انھیں اپنے خاندان کا سہارا بننے کے لیے کئی طرح کی پر مشقت معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں انھیں جنسی تلذذ کا ذریعہ تصور کرنے والی نفسیات سے خواتین کی صورت حال کا یہ پہلو اوجھل ہوتا ہے اور وہ اس جبر کو محسوس کیے بغیر جس کا خواتین کو سامنا ہے، خود غرضی اور نفس پرستی کی کیفیت میں انھیں صرف صنف مخالف کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ بار بار کی تذکیر سے لوگوں کی اخلاقی حس کو بیدار کرنے کا اہتمام کرنے اور خواتین کے حوالے سے کلچرل زاویہ نظر کی تشکیل میں احترام، ترحم اور ہمدردی جیسے جذبات کو بنیادی عناصر کے طور پر شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں خواتین سے متعلق ایک عمومی غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے جو ذہنوں میں پائی جاتی ہے۔ مذہبی نقطہ نظر سے خواتین بھی زیبائش کے حوالے سے اخلاقی حدود و آداب کی پابند ہیں۔ عموماً‌ ہمارے ہاں مخلوط ماحول میں ان حدود و آداب کی پابندی نہیں کی جاتی، لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ مخلوط ماحول میں بن سنور کر آنے والی ہر خاتون، صنف مخالف کو “صلائے عام’’ دینا چاہتی ہے اور کسی بھی پیش قدمی کو اس کی طرف سے اہلا وسہلا ومرحباً‌ کہا جائے گا، محض غلط فہمی ہے۔ خواتین کے اس رویے میں بنیادی کردار ماحول کا ہوتا ہے اور خاص طور پر جہاں دوسری خواتین زیب وزینت کی نمائش کا پورا اہتمام کر رہی ہوں، وہاں اس temptation سے بچ پانا خواتین کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کے بناو سنگھار کے اہتمام کا اصل محرک صنف محرک کی توجہ پانے سے زیادہ اپنی ہم جولیوں میں پرکشش نظر آنا ہوتا ہے۔ سو اسے اسی نظر سے دیکھیں اور خواتین کی بات کو خواتین کے درمیان ہی رہنے دیں۔
مخلوط ماحول میں نگاہ اور دل کے خیالات کی حفاظت دور جدید کی آزمایشوں میں سے ایک بڑی آزمایش ہے اور اپنےاخلاق وکردار کی حفاظت کے حوالے سے غیر معمولی حساسیت رکھنے والے افراد ہی اس میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ بہرحال، طہارت اخلاق کی نیت اور ارادہ رکھنے والوں کے لیے اس ضمن میں دو تین چیزوں کا اہتمام ان شاء اللہ مفید ثابت ہوگا:
ایک تو یہ کہ حتی الامکان قصداً‌ صنف مخالف پر نظریں دوڑانے سے گریز کریں۔ ابتدا میں یہ مشکل ہوتا ہے، لیکن اگر ارادہ اور نیت پختہ ہو تو رفتہ رفتہ انسان بے نگاہی پر قابو پا سکتا ہے۔

دوسری یہ کہ جب بھی بلا ارادہ یا ارادتاً‌ غلط نگاہ پڑ جائے تو فوراً‌ استغفار سے خود کو یاد دہانی کرائیں کہ غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ اگر ایسے موقع پر “اللھم جنبنی الفواحش ما ظھر منھا وما بطن’’ (اے اللہ! مجھے بے حیائی کے کاموں سے دور رکھ، ظاہر بھی اور مخفی بھی) بھی پڑھ لیں تو ان شاء اللہ کچھ عرصے میں بہت افاقہ محسوس ہوگا۔

تیسری اہم چیز جو انسانی نفسیات کے لحاظ سے کافی موثر رہتی ہے، یہ ہے کہ آپ اس معاملے کو اپنی عزت نفس کے حوالے سے دیکھیں۔ اگر آپ کسی ذمہ دار منصب پر ہیں، خاص طور پر استاذ کا منصب آپ کے پاس ہے تو قدرتی طور پر آپ کے لیے ماحول میں عزت واحترام پایا جاتا ہے۔ آپ عمر میں تھوڑا بڑے ہوں اور کچھ بال بھی سفید ہو چکے ہوں تو طلبہ و طالبات آپ کو اپنے باپ کی جگہ، نہیں تو ایک ہمدرد اور غم خوار بڑے بھائی کی جگہ ضرور رکھتے ہیں۔برے خیالات یا بد نگاہی میں مبتلا ہونے پر یہ تصور کیا کریں کہ اگر آپ کا احترام کرنے والوں کو، خاص طور پر آپ کے طلبہ وطالبات کو آپ کے ان خیالات وعزائم کا پتہ چلے تو وہ آپ کے لیے کتنی عزت دل میں رکھ پائیں گے؟ خود کو یاد دلائیں کہ اگر انھیں اپنے بھائی یا باپ کے “نیک خیالوں’’ یا “پاکیزہ نگاہوں’’ کا کچھ اندازہ ہو جائے تو وہ کیا محسوس کریں گے اور ان کے ایسا محسوس کرنے کا اثر خود آپ کی شخصیت پر کیا ہوگا؟ گویا کسی بھی ماحول کے ذمہ داران اور خاص طور پر اساتذہ خود کو اپنے منصب کے وقار اور اس کے ساتھ وابستہ عزت واحترام کی یاد دہانی کے ذریعے سے اس آزمائش کا بڑی حد تک کامیابی سے سامنا کر سکتے ہیں۔

جہاں تک نوجوانوں کا تعلق ہے جنھیں اس عمر میں عموماً‌ سیلف رسپکٹ سے زیادہ صنف مخالف کی توجہ مرغوب ہوتی ہے، تو ان کے لیے وہ طریقہ زیادہ موثر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان کی اصلاح کے لیے اختیار فرمایا تھا۔ جو نوجوان اس آزمایش سے دوچار ہوں، انھیں چاہیے کہ ایسی کیفیت میں وہ اپنی ماں، بہن اور بیٹی کا تصور ذہن میں لایا کریں کہ اگر کوئی ان کی طرف بد نظر سے دیکھے تو انھیں کیسا محسوس ہوگا اور یہ کہ وہ جس کو بری نظر سے دیکھ رہے ہیں، وہ بھی کسی کی ماں، بہن اور بیٹی ہی ہے۔

ان چند امور کا اہتمام کریں۔ اگر نیت واقعی بچنے کی ہو تو ان شاء اللہ ان سے حسب استعداد وحسب توفیق بہت افاقہ محسوس ہوگا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا حدود ہیں ؟ جس میں قانون سازی کی جائے گی اور وہ کیا حدود ہیں ؟ جہاں صرف نصیحت و تلقین کی جائے گی؟
    مثال کے طور پر یہ پابندی تو لگائی جا سکتی ہے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نا کی جائے اور جبر نا کیا جائے وغیرہ ، لیکن کیا یہ قانون سازی کی جاسکتی ہے کہ فلاں قسم کا لباس پہننا ہی ضرور ی ہے ۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: