اقبال احمد، ایک فراموش دبستان سیریز 2 : ادب اور تاریخ کا دھارا — احمد الیاس

0
  • 90
    Shares

“اقبال اردو کو تاریخ میں لے کر آئے— وہ چند آخری بڑے صوفیاء میں سے ہیں اور ان کی صوفیانہ شاعری بہت لمبی عمر پائے گی۔”

شاید آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں کہ یہ رائے پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین اشتراکی دانشور اقبال احمد کی ہے۔ وہ اقبال احمد کہ اس دور کے سب سے معروف مغربی نقاد ایڈورڈ سعید نے اپنی ادبی تنقید پر مبنی کتاب ‘کلچر اینڈ ایمپیریلزم’ جن سے منسوب کی ہے۔ پاکستان کی اشتراکی تحریک نے ادبی دنیا میں فیض احمد فیض اور فکری میدان میں اقبال احمد سے بڑھ کر کوئی بڑا نام پیدا نہیں کیا۔ ان دونوں کے علامہ اقبال بارے خیالات بہت دل چسپ بھی ہیں اور علامہ کے بارے میں ترقی پسند تحریک کے عمومی رویے سے مختلف بھی۔

‘کلچر اینڈ ایمپیریلزم’ معروف دانشور اور نقاد ایڈورڈ سعید کا دوسرا بڑا علمی کارنامہ ہے۔ ایڈورڈ سعید ‘اورئینٹلزم’ کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ‘کلچر اینڈ ایمپیریلزم’ میں بھی مغلوب اقوام بارے مغربی علمی و ادبی رویے کے محاکمے کو آگے بڑھا گیا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے اس کتاب کواپنے دوست اقبال احمد کے نام کیا

‘کنفرنٹنگ ایمپائر’ کے پہلے انٹرویو میں علامہ اقبال سے متعلق سوال پر اقبال احمد کا جواب (صفحہ 11) اس مضمون کا موضوع ہے۔ یہ جواب اقبال شناسی کے ایک اچھوتے زاویے سے متعارف کرواتا ہے جس پر مزید گفت گو کی جاسکتی ہے۔ اقبال احمد کا نکتہِ نظر ہے کہ علامہ اقبال سے پہلے اردو شاعری اور کسی حد تک فارسی شاعری تاریخ کے دھارے سے علیحدہ کھڑی تھیں۔ اقبال ہی تھے جنہوں نے اردو ادب کو تاریخ سازی کی ایک زندہ قوتّ بنا دیا۔ اس لحاظ سے وہ فیض احمد فیض کو اقبال کا جانشین شاعر کہتے ہیں۔ فیض اور اقبال کے درمیان فنیّ مشترکات کے بارے میں تو اکثر بات ہوتی ہے۔ مگر دونوں کے عمومی کردار کے حوالے سے یہ نکتہ قدرے نظر انداز کیا گیا ہے۔

اقبال احمد اپنے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:-

“اقبال نہ صرف اردو شاعری کے موضوعات کو سماجی موضوعات میں بدلتے ہیں – محبت کے علاوہ دیگر موضوعات – مگر وہ کسی حد تک اس کا ڈھانچہ بھی تبدیل کردیتے ہیں۔ وہ اسے طاقت، غصے اور محبت کے علاوہ دیگر جذبات سے مزین کرتے ہیں۔ اس معنی میں وہ اردو شاعرانہ ڈسکورس کے سکوپ کو وسیع تر کردیتے ہیں”

بعض نسبتاً معتدل ترقی پسند حلقوں کی طرف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اقبال صرف ایک عظیم شاعر ہیں، مفکر، فلسفی یا صوفی نہیں۔ اسی مکتبِ فکر کے کئی کینہ پرور لوگوں کی طرف سے فکرِ اقبال مکمل طور پر مغرب سے مستعار لیے جانے کا الزام بھی سننے کو ملتا ہے۔ اقبال احمد اس رائے سے بھی اختلاف رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں:-

“اقبال ایک حقیقی مفکر بھی ہیں، بہت حد تک جرمن (فلسفیانہ) روایت میں۔ مگر ان کی فلسفیانہ پہچان اتنی دل چسپ نہیں جتنا یہ امر کہ وہ چند آخری عظیم صوفیاء میں سے ہیں۔ اور ان کی صوفیانہ شاعری میرے خیال میں بہت لمبے عرصے تک رہے گی”۔

اس کے بعد وہ بتاتے ہیں کہ وہ بی بی سی کے لیے اپنی دستاویزی فلم میں ایک حصہ پاکستان میں یومِ اقبال کے حوالے سے رکھنا چاہتے تھے۔ (اقبال احمد کی بنائی ہوئی مذکورہ دستاویزی فلم اس لنک پر ملاحظہ کریں) پاکستان میں اقبال کو بانیِ مملکت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اقبال احمد کہتے ہیں:-

“وہ کچھ لحاظ سے بابائے قوم ہیں بھی، انہوں نے پاکستان کا تصور جناح سے پہلے کرلیا تھا۔”

اقبال احمد بنگالی شاعر ٹیگور سے بہت متاثر ہیں۔ ٹیگور اقبال کی طرح محبِ وطن مگر قوم پرستی کے مخالف ہیں۔ اقبال احمد انہیں مہاتما گاندھی پر فوقیت دیتے ہیں۔

اگلے سوال کے جواب میں ٹیگور اور اقبال کے حوالے سے قوم پرستی کے تناظر میں ایک دل چسپ بات کی گئی ہے۔ اقبال احمد بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اقبال کو پاکستانی قوم پرستی کے خالق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر دوسری طرف بھارتی پارلیمنٹ میں اقبال کی نظم ‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا’ دو ووٹوں سے قومی ترانے کا درجہ نہ پاسکی۔ اس کی بجائے ٹیگور کا ایک گیت بھارت کا قومی ترانہ بنا۔ بنگلہ دیش کا قومی ترانہ بھی ٹیگور کا لکھا ہوا ہے۔ یہاں جس ستم ظریفی کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ اقبال اور ٹیگور دونوں ہی قوم پرستی کے مخالف تھے۔ مگر دونوں کو برصغیر کے ممالک میں قوم پرستانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، بجائے ان کا انسان دوستی کا پیام سمجھنے اور حب الوطنی و قوم پرستی میں فرق روا رکھنے کے۔

اقبال احمد نے فیض احمد فیض کو اقبال کے جانشین شاعر کا درجہ دیا ہے۔ فیض اقبال احمد کے پسندیدہ شاعر تھے۔بے جا نہ ہوگا اگر میٹھے لہجے کے اس روشن خیال شاعر کا رویہ بھی علامہ اقبال کے حوالے سے ملاحظہ فرما لیا جائے۔

جیل کے ساتھی ظفر اللہ پوشنی بتاتے ہیں کہ فیض فرماتے تھے کہ اردو میں عظیم شاعر تین ہی ہوئے : اٹھارہویں صدی میں میر، انیسویں میں غالب اور بیسویں میں اقبال۔ اقبال سوشلزم کے معاملے میں ذرا سنجیدہ ہوجاتے تو ہمارا کہیں ٹھکانا ہی نہ ہوتا۔

فیض صاحب کی ذہنی پختگی اور کشادہ دلی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ جن دنوں سارے کٹر ترقی پسند اقبال کو فسطائی کہتے تھے، فیض صاحب اس انتہا پسندی کے مخالف تھے۔ اس دور میں انہوں نے اقبال کے لئے اپنی یہ خوبصورت نظم لکھی تھی:

آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیا
سنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیں
ویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیا
تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا
اب دور جا چکا ہے وہ شاہ گدانما
اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں
چند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاص
دو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہے
اور اس کے لے سے سینکڑوں لذت شناس ہیں
اس گیت کے تمام محاسن ہیں لا زوال
اس کا وفور اس کا خروش اس کا سوز و ساز
یہ گیت مثل شعلۂ جوالہ تند و تیز
اس کی لپک سے باد فنا کا جگر گداز
جیسے چراغ وحشت صرصر سے بے خطر
یا شمع بزم صبح کی آمد سے بے خبر

اقبال احمد اور فیض کا یہ رویہ بائیں بازو کے ان دوستوں کو اپنے رویے پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتا ہے جنہوں نے آج بھی اقبال کُشی کی مہم چلا رکھی ہے۔ اقبال پر سنجیدہ علمی و فکری تنقیدی ہوسکتی ہے، مگر اگر اس کی تان ان کی نجی زندگی کے حوالے سے رجعت پسندانہ اعتراضات یا فکری سرقے جیسے بے سروپا الزامات پر ٹوٹے تو ناقدین کو خود ہی اپنی اداؤں ہر غور کرنا چاہیے۔


اس سیریز کا پہلا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے


اقبال احمد کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم ملاحظہ کریں:

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: