کیا آنے والے وقت میں غامدی صاحب قابل قبول ہوں گے؟ مراد علوی

0
  • 373
    Shares

جب بھی غامدی صاحب پر تنقید کی جائے تو انکے حلقہ کی جانب سے مثال دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ پہلے وقتوں میں بھی بعض مفکرین کو اس دور کے لوگوں نے ہدف بنا لیا تھا لیکن بعد میں قبول کرلیے گیے۔

اس میں شاہ ولی اللہ کی مثال بہت دفعہ دی جاچکی ہے۔ شاہ صاحب وہ شخصیت تھی جس کی بدولت برِصغیر میں احیائی تحریکوں کا ایک طویل سلسلہ چلا جس کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ آگے ہم اس جانب اشارہ کریں گے کہ غامدی صاحب کی فکر اس لحاظ سے شاہ صاحب کی عین ضد ہے۔

Author

اس کے علاوہ بعض اہل علم مولانا مودودی کی مثال بھی بڑے شدومد سے دیتے ہیں کہ ان کے شدید مخالفین نے بھی ان کو تسلیم کرلیا ہے۔ یہ بات کئ پہلوؤں سے درست نہیں ہے۔ مولانا کے مخالفین نے اگر ان کو قبول کرلیا ہے تو اس کی بنیادی وجہ انتقادِ فکرِ مغرب ہے۔ کیوں کہ اس حوالے سے مولانا کے مخالفین غیر مسلح ہیں، علما حضرات اس میدان میں مولانا کی تحریروں سے قطعی طور پر بے نیاز نہیں ہوسکتے۔ اس لیے جب تعصبِ محض کا دور اختتام پذیر ہوا اور مغرب سے مزید نشتر برسائے گئے تو مولانا مودودی کے مخالفین نے کھلے دل سے ان کی اس خوبی کا اعتراف کرلیا۔ ورنہ مولانا مودودی کو چھپ کے پڑھنے کا رواج بہت پرانا ہے۔ چنانچہ یہ ضروری نہیں کہ مولانا کی تمام باتوں سے اتفاق کرلیا جائے یا ان کو غلطی سے پاک تصور کیا جائے لیکن جدید فکر کے حوالے سے مولانا کا قد بہت بلند ہے۔ یہاں پر ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کا ذکر ضروری معلوم ہوتاہے۔ ڈاکٹر انصاوری صاحب فکرِ مغرب کا علمی محاکمہ کرنے میں ایک معتبر نام ہے، ان کی رائے میں مولانا مودودی بیسویں صدی کا متکلم اسلام ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر صاحب مولانا کی ”سیاسی فکر” سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ تاہم مولانا مودودی کا ڈسکورس بنیادی طور پر مغربی فکر کے لیے ایک چیلنج کی حثیت رکھتا ہے، غامدی صاحب کا معاملہ مکمل طور پر اس کے برعکس ہے۔ مولانا بعض معاملات میں انحراف کے باوجود روایت کے آدمی ہیں، بیسویں صدی میں جس فکری انحطاط کا سابقہ پیش آیا، روایت کی ایسی پر زور وکالت اور ندرت اپنا جواب نہیں رکھتا۔ علی گڑھ پر عام علما کی تنقید قابل اعتنا نھیں سمجھی جاتی تھی، مولانا مودودی کی تنقید کو ”مولویانہ تنقدی” کہہ کر اس سے جان چھڑانا ممکن نہ تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ غامدی صاحب کو ہم کس حد تک روایت کا آدمی قرار دے سکتے ہیں؟ دور جدید کے بعض ‘مُعتزلہ’ غامدی صاحب کو روایت کا آدمی سمجھتے ہیں، ان میں ہم ایسے لوگوں کو بھی جانتے ہیں جو وجود باری تعالیٰ کے بارے میں بھی شدید الجھن کا شکار ہیں، ایسوں کا غامدی صاحب کو روایت پسند کہنا بالکل بجا ہے۔ مولانا مودودی اور غامدی صاحب کا موازنہ کرنے کے لیے صرف یہی ایک مثال کافی ہے کہ دونوں مغربی فکر کے حوالے سے کیا اپروچ رکھتے ہیں۔ غامدی صاحب کی پوزیشن اس پیمانہ پر تو بالکل واضح ہے کہ انھوں نے ہمیشہ مسلم روایت کو مطعون کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اب غامدی صاحب کا شاہ ولی اللہ یا مولانا مودودی پر قیاس کرنا کس قدر باطل ہے، اسکا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

بنیادی بات کی طرف آتے ہیں کہ غامدی صاحب کو مسقبل میں قبولیت ملے گی یا نہیں؟ ہماری رائے میں یہ ناممکنات میں سے ہے۔

”عقلیت کی پہلی تحریک” ہمارے سامنے ہے۔ ذہانت میں وہ لوگ بہت آگے تھے، اس وقت بھی ان کو عام مسلمانوں نے قبول کیا اور نہ آج۔ ابن رشد کے ماننے والے اب بھی امت کو جاہل گردانتے ہیں۔ تاہم ابن رشد اعتقادی اور فکری لحاظ کس قدر منحرف ہوچکے تھے لیکن ایک بات ان کے ہاں حیران کُن ہے کہ فقہی لحاظ سے وہ آخری وقت تک ‘مالکی’ تھے۔ مولانا عبیداللہ سندھی کا معاملہ بھی ایسا تھا کہ وہ بھی اتنی بے اعتدالی کے باوجود حنفی تھے۔ مگر غامدی صاحب کے ہاں سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے۔ ہماری رائے میں تمام فقہی اور فکری معاملات میں وہ انحراف کے رستہ پہ ہیں۔ غامدی صاحب کو مولانا مودودی پر قیاس کرنا اس لحاظ سے بھی لاعلمی پر مبنی ہے کہ مولانا کی فکر کا بہت کم حصّہ روایت سے ہم آہنگ نہیں ہے جبکہ غامدی صاحب کی تمام مساعی اس کے برعکس ہے۔ غامدی صاحب ڈاکٹر ممتاز احمد کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک جگہہ کہتے ہیں:

اصل مسئلہ یہ ہے کہ جدید دور کے حالات کو کتاب وسنت کے مطابق ڈھالا جائے نہ کہ کتاب وسنت کو جدید دور کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔ دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کا حل اسلام نے دیا ہو۔ (ممتاز احمد، دینی مدارس، روایت اور تجدد علماء کی نظر میں، اسلام آباد، اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ، 2017ء ص 79)

لیکن اب غامدی صاحب کا رویہ مکمل طور پر اس کے خلاف نظر آتا ہے۔ غامدی صاحب نے یہ بات 1975ء میں فرمائی تھی، اس وقت آپ کی عمر چوبیس سال تھی۔ اس انٹرویو پر کسی وقت تبصرہ کریں گے کہ ”فکری آزادی” کس طرح بے راہ روی پر منتج ہوتی ہے۔

پچھلی صدی میں اس فکر کے جو لوگ پیدا ہوئے، ان کو بھی کوئی قبولیت نھیں ملی۔ خود غامدی صاحب کے فیض یافتہ خورشید احمد ندیم صاحب، مرحوم ڈاکٹر فضل الرحمان کا اکثر و بیشتر ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے ان کی فکری وجاہت کی قدر نہیں کی۔ اس پر مریم جمیلہ کا تبصرہ یاد آتا ہے کہ اگر یہاں پر ڈاکٹر فضل الرحمان جیسے ذہین، اوریجنل اور تخلیقی لوگوں کو جگہ نہیں ملی اور کچھ پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئے تو ان سے کم درجہ کے لوگوں کا مستقل کیا ہوگا؟

About Author

مراد علوی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ہیں۔ دلچسپی کے موضوعات مذہب اور سوشل سائسز وغیرہ شامل ہیں اور اپنی تحاریر میں جرات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، بغیر کسی معذرت خواہانہ رویے کے۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مراد علوی متواضع، خوش رو، خوش خلق اور کسی نظریاتی یا حزبی تعصب سے ماورا ہو کے سوچتے اور تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: