می ٹو کا المیہ اور عدم توازن: رومی، شیکسپئیر اور میشا —- لالہ صحرائی

0
  • 189
    Shares

نسوانی حسن اور مردانہ اشتیاق کے درمیان صدیوں پرانا رشتہ بنیادی طور پر آفرینش کی ذمہ داری نبھانے کیلئے ہے جس میں مرد کا جنسی ضمیر متحرک اور عورت کا جامد رکھا گیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک مرد کیساتھ وابستہ ہونے کے بعد عورت اپنی بنیادی ذمہ داری تک محدود رہتی ہے مگر مرد کی جبلت کے اندر موجود قوت محرکہ کبھی اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتی لہذا موقع ملتے ہی وہ کسی نہ کسی عورت کے ارد گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔

یہ متحرک جوہر عورت کو ایک خاص حکمت کے تحت نہیں دیا گیا اس پر گفتگو پھر سہی فی الحال یہ کہنا مقصود تھا کہ مرد کی یہ جبلت اس کی برائی نہیں بلکہ فطری ذمہ داری کا بنیادی اور ضروری جوہر ہے البتہ برائی اس میں ہے کہ مرد اپنی اس جبلت کو بے لگام چھوڑ کر ہوست پرستی کے دائرے میں داخل ہو جائے۔

اس بات کو سمجھانے کیلئے حضرت رومی نے ایک بادشاہ کا قصہ شئیر کیا ہے کہ کسی راجدھانی کی شہزادی کے حسن و جمال کا چرچا سن کر اس نے اپنے ایک قابل جرنیل کو اس راجدھانی پر چڑھائی کرنے اور شہزادی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا، فتح کے بعد واپس آتے ہوئے ایک جگہ شب بسری کیلئے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے جرنیل موصوف نے اس شہزادی کی ایک جھلک دیکھی تو بذات خود اس کا دیوانہ ہو گیا۔

کچھ دیر خود کو سمجھاتا رہا کہ شہزادی بادشاہ کی امانت ہے مگر آدھی رات کو جذبات سے مغلوب ہو کر شہزادی کے خیمے میں چلا گیا، اسی اثناء میں قریبی جنگل سے ایک شیر نے ان کے خیمے پر حملہ کر دیا، کافی تگ و دو کے بعد جرنیل اس شیر کو مارنے میں کامیاب ہو گیا اور واپس شہزادی کے خیمے میں جا سویا۔

بادشاہ سلامت پہلی بار اپنی ہوس مٹانے شہزادی کی خواب گاہ میں اترے تو تھوڑی ہی دیر میں وہاں ایک چوہا بھی گھس آیا، بادشاہ سلامت اسے بھگا کر جب واپس آئے اور محبت کا سلسلہ وہیں سے جوڑنے کی کوشش کی جہاں سے دخل در معقولات کی بنا پر ٹوٹا تھا تو شہزادی کی ہنسی چھوٹ گئی، کوشش کے باوجود وہ اپنی ہنسی پر قابو نہ پا سکی تو بادشاہ کو شدید تجسس ہوا۔

بادشاہ نے اس راز کو جاننے کیلئے جب تلوار نکال لی تو شہزادی کو بتانا پڑا کہ وہ بادشاہ کے اور بادشاہ اس کے لائق نہیں، وجہ یہ کہ بادشاہ کی نسبت اسے وہ جرنیل زیادہ بھایا ہے جو شہوت سے مغلوب اس کے خیمے میں آیا تھا اور پھر شیر سے مقابلہ کرکے جب واپس آیا تو بھی اس کی شہوت ہنوز برقرار تھی جبکہ بادشاہ کے جذبات ایک چوہا بھگانے کے دوران ہی سرد ہوگئے ہیں۔

حضرت رومی کا مطمع نظر یہ ہے کہ ایک شخص حالات کے ہاتھوں مجبور ہے اس کا گناہ کرنا تو سمجھ میں آتا ہے مگر ایک ایسا شخص جس کے تاب و تواں بھی جاتے رہے ہوں اور حسب ضرورت اس کے پاس جائز ذرائع بھی میسر ہوں اس کے باوجود وہ اپنے شوق اور اختیار کی بنیاد پر معاشرے سے کھلواڑ کرے تو اسے ہوس پرست ہی کہا جا سکتا ہے اور عارضی جذبات سے مغلوب ہر کر یا سہواً سرزد ہونے والی گنہگاری سے ہوس پرستی کہیں زیادہ قابل مذمت ہے۔

عورت کیساتھ ہونے والی جنسی ہراسمنٹ میں اکثر وارداتیں اسی بادشاہ جیسے ہوس پرست اہل اختیار کی طرف سے ہوتی ہیں، دفتری ماحول میں صاحبوں کی طرف سے اور سماجی حلقوں میں زیر اثر غریب عوام کے خلاف ایسی کاروائیاں عام دہرائی جاتی ہیں، یہ کوئی آج کی بات نہیں بلکہ اس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔

Measure for measure
شیکسپئیر کا ایک دلچسپ ڈرامہ ہے جو پاور پلے، جنسی ہراسمنٹ اور اس کے ردعمل پر بہت اچھا تجزیہ ہے، یہ لگ بھگ چار سوسال قبل لکھا گیا تھا، میژر فار میژر کا مطلب ہے اقدام کے خلاف اقدام یعنی ادلے کا بدلہ، کہانی کچھ یوں ہے کہ ویانا کا حاکم اپنی سلطنت کا انتظام ایک معتمد جج کے حوالے کرکے نامعلوم سفر پر چلا جاتا ہے لیکن دراصل وہ بھیس بدل کر وہیں موجود رہتا ہے تاکہ نائب سلطنت جس کا نام اینجلو ہے، اپنی غیرموجودگی میں، اس کا عوام کیساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کرنے کا وطیرہ دیکھ سکے۔

اینجلو کے سامنے ایک مقدمہ آتا ہے کہ کلاڈیو نام کا ایک نوجوان بغیر شادی کے مس جولیٹ کے ساتھ رہ رہا ہے اور مس جولیٹ اس سے حاملہ بھی ہے، یہ قانون کی نظر میں قابل گردن زدنی جرم تھا اسلئے اینجلو نے لاء آف فورنیکیشن کے تحت کلاڈیو کو سزائے موت سنا دی، کلاڈیو کا مؤقف تھا کہ وہ دونوں شادی شدہ ہیں البتہ کاغذی کاروائی مکمل نہ کرا سکے تھے، اسی دلیل کی بنیاد پر کلاڈیو کی بہن ازابیلا بھی ایکدن رحم کی اپیل لیکر اینجلو کے پاس گئی، ایزابیلا ایک کم عمر راہبہ تھی جس کا حسن و جمال دیکھ کر اینجلو کی رال ٹپکنے لگی۔

اینجلو نے کہا اگر تم اپنی دوشیزگی میرے حوالے کرد و تو میں تمہارے بھائی کو رہا کر دوں گا مگر وہ اپنی پاکیزگی گنوانے پر راضی نہ ہوئی، مایوسی کے اس عالم میں حاکم وقت جو فقیر کے بھیس میں گھومتا تھا اس نے ازابیلا سے ملاقات کی اور اپنی اصلیت بتائے بغیر ایک ہمدرد کی حیثیت سے کلاڈیو کی رہائی اور اینجلو کو سبق سکھانے کا پروگرام بنایا۔

ماریانہ نامی ایک دوشیزہ اینجلو کی منگیتر تھی لیکن جب اس کی جائداد ایک سمندری طوفان میں بہہ گئی تو اینجلو نے اس کیساتھ شادی کرنے سے راہ فرار اختیار کر رکھی تھی، ازابیلا کی درخواست پر ماریانہ نے اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کرلیا تو ازبیلا نے اینجلو کے ساتھ رات گزارنے کیلئے اپنی رضا مندی کا پیغام بھیج دیا اس خاص شرط کے ساتھ کہ یہ ملاقات انتہائی اندھیری جگہ پر ہوگی اور اس دوران ہم آپس میں کوئی گفتگو نہیں کریں گے تاکہ ایک راہبہ کی عزت کا پردہ رہ سکے۔

سلطنت میں ایک قانون یہ بھی تھا کہ اگر منگیتر شادی سے پہلے آپس میں جسمانی تعلق قائم کرلیتے ہیں تو ان دونوں پر ہر صورت میں شادی کرنا لازم ہوگی، اسی قانون کے تحت کاڈیو اور جولیٹ کا بھی نئے سرے سے نکاح کراکے انہیں چھوڑا جا سکتا تھا لیکن اینجلو نے ایسا نہیں کیا، حاکم نے اینجلو کو اسی جال میں پھنسانے کیلئے یہ چال چلی تھی اور وقت مقررہ پر ازابیلا کی جگہ ماریانہ طے شدہ گھپ اندھیری جگہ پر پہنچ گئی، اینجلو ماریانہ کو ازابیلا سمجھ کے رات بھر مست رہا مگر صبح جب پو پھوٹنے لگی تو ازابیلا کی جگہ ماریانہ کو دیکھ کر حواس باختہ ہو گیا، اس موقع پر گلیوں میں گھومنے والا ایک فقیر بھی وہاں پہنچ گیا جس نے ماریانہ کو اینجلو کیساتھ دیکھ لیا۔

اینجلو اپنے وعدے سے پھر گیا اور کلاڈیو کو فوراً قتل کرکے اس کا سر اپنے آفس میں پہنچانے کا حکم دے دیا لیکن اسی دوران حاکم ریاست واپس آگیا، ماریانہ اور ازابیلا بھی اینجلو کے خلاف اپنے دعوے لیکر حاکم کی عدالت میں پہنچ گئیں۔

اس کہانی کا انجام بہرحال دوستانہ طور پر واقع ہوا جس میں اینجلو تائب ہو گیا اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے، البتہ ایک چیز بڑی اہم اور زوردار ہے، وہ ہے ازابیلا اور اینجلو کے درمیان ہونے والا ڈائیلاگ :

ازابیلا کہتی ہے
I will call out this vile
میں تمہارے اس گھٹیا جنسی تقاضے کو دنیا بھر کے سامنے آشکار کروں گی

اینجلو کہتا ہے
کیا فرق پڑتا ہے، کون یقین کرے گا…؟
میرا بے داغ ماضی میری شرافت کا آئینہ دار ہے، ریاست میں میرا مقام و مرتبہ ایسا ہے کہ اس کے سامنے تمہارے دعوے کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی بلکہ ایسا دعوے کرنے کے بعد تمہارا اپنا سانس لینا یہاں دشوار ہو جائے گا۔

شیکسپئیر کے جج اینجلو سے لیکر الباما سپریم کورٹ کےسابق چیف جسٹس رائے مُور تک کچھ بھی نہیں بدلا، سب کچھ حسب معمول چل رہا تھا۔

رائے مُور نے ایک دہائی قبل ایک سولہ سالہ لڑکی مس بیورلے کو اپنی گاڑی میں جنسی چھیڑچھاڑ کا نشانہ بنانے کے بعد کہا تھا، کسی کو بتانا نہیں کیونکہ تم ابھی بچی ہو ، میرے خلاف تمہاری کسی بات پر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔

اہلِ اختیار میں سے ہر وہ بدطینت جو ضرورتمند یا ماتحت عورتوں کا استحصال کر سکتا ہے وہ اپنی ہوس پوری کرنے کیلئے اسی طرح سے اپنی پوزیشن یا پاور پلے کا استعمال کرتا چلا آیا ہے۔

آج اگر کچھ بدلا ہے تو وہ یہ ہے کہ اب ازابیلا کی جگہ مس بیورلے ہے اور وہ بے بس نہیں، می ٹو کے ہیش ٹیگ نے یہ تبدیلی بہرحال لا کے دی ہے کہ سوشل میڈیا نے طاقت کا توازن عورت کے حق میں لا کھڑا کیا ہے اور مس بیورلے کو بھی عوام کے سامنے سابق چیف جسٹس کے خلاف بولنے کا حوصلہ مل چکا ہے، بلکہ لگے ہاتھ اس کمپین میں جیمی فلپس نامی ایک اور خاتون نے بھی رائے مُور پر یہ الزام لگایا ہے کہ انیس سو بانوے میں جب وہ صرف پندرہ سال کی تھی تب جج صاحب نے اسے حاملہ کیا تھا، یہ الزام البتہ جعلی ثابت ہوا ہے۔

ہالی ووڈ کے ایک فلم ڈائریکٹر ہاروے ونسٹن کی دست درازیوں کیخلاف پائی جانے والی شکایات کے پیش نظر اداکارہ الیسامیلانو نے 15-اکتوبر-2017 کو اپنے ایک ٹویٹ میں ساتھی اداکاراؤں کو یہ دعوت دی کہ جو بھی جنسی ہراسمنٹ کی شکار ہیں وہ اس ٹویٹ کے جواب میں “می۔ٹو” لکھتی جائیں۔

کہنے کو یہ دو سادہ سے الفاظ تھے مگر انہوں نے ایک تاریخ بدل کے رکھ دی، اس کے جواب میں متاثرہ اداکاراؤں کے علاوہ ہر طبقے کی خواتین نے بھی اپنا رسپانس دینا شروع کر دیا جن کی تعداد فقط ایک دن میں دو لاکھ یوزرز تک پہنچ گئی، اگلے دن یہ تعداد پانچ لاکھ تھی اور چوبیس گھنٹے گزرنے تک لگ بھگ سواکروڑ خواتین نے اس ہیش ٹیگ کو استعمال کیا۔

جنوری 2018 تک یہ ٹرینڈ اتنا مؤثر ہو چکا تھا کہ پچاسی ممالک کی ورکنگ کلاس اور تعلیمی میدان سے تعلق رکھنے والی خاص و عام خواتین اس کمپین میں شامل ہو چکی تھیں ان میں نیکٹر آف پین کی مصنفہ لبنانی نژاد شاعرہ نجوا ۔زیبئن بھی شامل ہیں۔

اس حوصلہ افزاء اور حیران کن رسپانس کو دیکھتے ہوئے الیسامیلانو نے اعلان کیا کہ جس وسیع پیمانے پر جنسی ہراسمنٹ کی شدت واضح ہوئی ہے اس کے پیش نظر خاموش رہنے والی کلچرل نارمزکے بدلنے اور مردانہ سماج کے اس رویے کے خاتمے تک ہم معاشرے کی مستقل آواز بن کے موجود رہیں گی۔

جنسی ہراسمنٹ کے سب سے بڑے میدان دنیا بھر کے بزنس اینڈ فائنانس، گورنمنٹ، ایجوکیشن اور مذہبی سیکٹرز ہیں جہاں مختلف نظریات کے زیر اثر پچاسی فیصد خواتین اور تیس فیصد مردوں کو دست درازی، عہدوں میں ترقی، مالی فوائد، تعلیمی میدان میں امتیازی فوائد یا دیگر گولڈن چانسز فراہم کرنے کے عوض جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور شکایات کی صورت میں خاطرخواہ شنوائی بھی میسر نہیں ہوتی۔

جب فرانس جیسے ملک کے بارے میں یہ رپورٹ موجود ہے کہ جنسی ہراسمنٹ کی شکایت کرنیوالوں کو اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکامی پر چالیس فیصد شکایت کنندگان کو تادیبی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے جس میں روزگار سے بیدخل کرنا بھی شامل ہے تو تیسری دنیا کے ممالک میں کیا کچھ نہیں ہوتا ہوگا۔

می۔ٹو کلب میں شامل ہونے والی کچھ سیلیبرٹیز نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اوائل عمری میں جب وہ جنسی افعال کا نشانہ بنیں تو ان دنوں وہ پارٹی گرل یا گلیمر گرل کے طور پر ہی جانی جاتی تھیں اور اسی وجہ سے مرد حضرات ان کے زیادہ قریب آتے تھے تاہم اب انہیں اپنے رویے پر بھی افسوس ہے اور اپنے ساتھ بیتے ہوئے واقعات پر بھی، دیگر شوبز سیلبریٹیز کے علاوہ ان میں معروف اداکارہ ایوان۔رِچل۔ووڈ بھی سرفہرست ہیں۔

فیمینسٹ اسکول آف تھاٹ اس اعتراف کو عورت کی غلطی کی بجائے اس کا حق قرار دیتا ہے اور مردوں سے ہرحال میں عورت کی مرضی کیخلاف رویہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتا خواہ عورت کا حلیہ کیسا ہی ہوشربا یا دعوت انگیز کیوں نہ ہو، اس معاملے میں ہمارا مذہبی عقیدہ بھی یہی ہے کہ عورت کا احترام ہر حال میں واجب ہے۔

می۔ٹو کمپین کے اندر ایک سب سے بڑا سقم یہ ہے کہ جنسی ہراسمنٹ کا کوئی گواہ نہیں ہوتا یہ معاملہ صرف دو افراد کے درمیان پیش آتا ہے خواہ اس کی وجوہات عورت کے دعوت انگیز یا دلربا انداز و اطوار ہوں یا مرد کی اپنی حرص وہوس کا دخل ہو، اس معاملے میں پیشرفت کسی بھی فریق کی جانب سے ہوئی ہو لیکن مجرم صرف مرد کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔

ان حالات میں می۔ٹو کلب جب معروف سیاستدانوں، بزنس آئیکونز اور دیگر نامور افراد پر جنسی ہراسمنٹ کا الزام لگاتی ہے تو سماج اور قانوں دونوں کنفیوژڈ ہو جاتے ہیں کہ اس میں انصاف کیلئے کونسی بنیاد یا اصول اختیار کئے جائیں، دوری طرف ساری دنیا یہ بات جانتی ہے کہ جب تک الزام ثابت نہ ہو جائے تب تک ملزم کو معصوم ہی سمجھا جاتا ہے لیکن می۔ٹو کلب کے اس انقلابی تغیر نے اس تصور کی بھی چولیں ہلا کے رکھ دی ہیں، اب عدالت مجبور ہے کہ ٹھوس ثبوت کی عدم موجودگی میں متاثرین کو انصاف اور ملزم کو سزا نہیں دے سکتی لیکن متوازی طور پر می۔ٹو کلب کے پُرزور الزامات سے ملزم کے بارے میں جو عوامی ردعمل پیدا ہوتا ہے وہ رائے عامہ کی بنیاد پر فیصلہ سنانے کے مترادف ایک متبادل نظام بنتا چلا جا رہا ہے۔

اس متبادل نظام کے اثرات میں می۔ٹو کلب کے الزامات کے علاوہ وِسپر۔لسٹ کا بھی کافی دخل پایا جاتا ہے، می۔ٹو کلب بننے کے بعد بزنس سیکٹرز اور تعلیمی اداروں میں خواتین کی طرف سے ایسے افراد کی باقائدہ لسٹیں تیار کی گئی ہیں جن کی شہرت خواتین کے حوالے سے جنسی مس۔کنڈکٹ پر مبنی تھی، مشی گن یونیورسٹی کے بعد بھارت کی ایک یونورسٹی سے بھی ایسی لسٹیں پکڑی گئی ہیں جن کے حوالے سے ان اساتذہ اور مرد طالبعلوں کو سخت سماجی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جو اس لسٹ میں شامل تھے۔

اس کیساتھ ہی ایک دوسرا عنصر بھی پیدا ہوا ہے جسے ہنٹریسز یا شکاری عورتوں کا گروہ کہتے ہیں، ایسا ایک گروہ ہٹلر کے دور میں بھی پیدا ہوا تھا۔

جرمن ادب میں ہٹلر دور کی یاد میں ایسی کہانیاں موجود ہیں جن میں ہوس پرست خواتین اپنے من پسند مردوں کو ایکسپلائیٹ کرکے ان کیساتھ سویا کرتی تھیں، یہ قصہ یوں ہے کہ جرمن فوج کا سب سے خطرناک ڈویژن ایس۔ایس۔آرمی کہلاتا تھا جو خالص جرمن نسل افراد پر مشتمل تھا، اس ڈویژن کے سربرارہ جنرل ہنرک ہیملر نے ایکبار کہا کہ اگر ہم بیس کروڑ خالص جرمن پیدا کرلیں تو ساری دنیا پر ہماری حکومت ہوگی، بعد ازاں اسی بات کو لیکر ہٹلر نے سینکڑوں خالص جرمن خواتین کو ایس۔ایس۔ڈویژن کے افسروں کیساتھ ملاپ کرکے خاص آرین نسل کے بچے پیدا کرنے پر مامور کیا جن کی آنکھیں نیلی اور بال سنہری ہوتے ہیں، یہ خواتین ایک طرح سے فوجی ملازمین ہی تھیں لیکن انہوں نے فوجیوں کو بہت ایکسپلائٹ کیا، ہٹلر کے ڈر سے آفیسرز ان کی کسی خواہش کے سامنے انکار بھی نہیں کرسکتے تھے، پھر ان کے اپنے درمیان بھی رقابت کے شعلوں کی متعدد داستانیں ملتی ہیں، اسی لئے ان کو ہنٹریس کہا گیا۔

می۔ٹو پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ میجیشئین ڈیوڈ کاپر فیلڈ کا کہنا ہے کہ می۔ٹو سے قبل میرے اوپر بھی کسی نے مفاد پرستی کے تحت جنسی ہراسمنٹ کا الزام لگایا تھا، اس الزام نے میری سماجی اور گھریلو زندگی کو تلپٹ کرکے رکھ دیا تھا، تین سال تک میرے بارے میں سینکڑوں کہانیاں کہی سنی گئیں اور یہ سلسلہ اس وقت رکا جب وہی خاتون کسی دوسرے پر ایسا ہی الزام فٹ کرتے ہوئے جھوٹی ثابت ہوگئی ، اس موقع پر اس نے میرے اوپر لگائے گئے الزام کو بھی جھوٹا تسلیم کرلیا، اس کے باوجود میں کہتا ہوں کہ می۔ٹو کمپین کو چلنا چاہئے، متاثرہ خواتین کی بات سننی چاہئے اور ہر پہلو سے ان کی شکایت پر غور کرنا چاہئے لیکن برائے مہربانی ایسے الزام کی بنیاد پر مردوں کے خلاف ججمنٹ نہیں پاس کرلینا چاہئے جب تک کہ الزام واقعی ثابت نہ ہو جائے۔

می۔ٹو کلب قائم ہونے کے بعد ایک طرف متاثرہ خواتین ہیں جو مردوں کو کسی قیمت پر بھی معاف کرنے کو تیار نہیں، یہ اپنے اس عہد کا اعادہ کرتی ہیں کہ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک یہ مردانہ سماج اپنی اوقات میں نہیں آجاتا تو دوسری طرف اس سنہری موقع سے مال بنانے والی مفاد پرست اور جنسی ہوس پرست خواتین بھی سامنے آئی ہیں جو جعلی الزامات کے بعد اپنے مطالبات منواکے سیٹلمنٹ کی کوشش کرتی ہیں۔

ان حالات میں ایک دانشور کا کہنا ہے کہ جنگی بنیادوں پر خواتین کا یہ تقاضا کہ ہر حال میں ہماری بات پر اعتبار کیا جائے اور اسی اعتبار کی بنیاد پر مردوں کیخلاف فیصلہ سنا دیا جائے، یہ پرانے مسائل کو سلجھانے کی بجائے نئے خوفناک مسائل پیدا کرنے کا موجب بھی بن سکتا ہے، خاص طور پر یہ شکاری عورتوں کیلئے جعلی الزامات کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے جو اس تحریک کو بھی ڈی۔ریل کرسکتا ہے۔

اس ماحول میں جہاں مرادانہ معاشرے کیخلاف تیزی کیساتھ ایک تبدیلی آرہی ہے وہاں ہر نمایاں درجے کا مرد اس بات سے خوفزدہ ہے کہ اگر میرے اوپر کسی نے الزام لگا دیا تو میری بیگناہی پر کون یقین کرے گا جبکہ می۔ٹو کلب کا وسپر۔نیٹ۔ورک اور سماجی رویہ ایک متبادل ججمنٹل نظام قائم کرچکا ہے۔

اس سنجیدہ سوال کے جواب میں بھی پرجوش خواتین یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ تمہارے لئے اب خوفزدہ رہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہم بھی ہمیشہ خوفزدہ ہی رہی ہیں لہذا اب راتوں کو جاگنے کی باری تمہاری ہے اور اس جنگ میں اگر کچھ بے گناہ لوگ رگڑے بھی جائیں تو کوئی غم نہیں۔

اسی بابت ٹین۔ ووگیو میگزین کی کالم نگار ایملی لِنڈن نے اپنے ایک ٹویٹ میں خواتین کے مؤقف کو یوں پیش کیا ہے کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ جعلی الزامات سے کتنے بیگناہوں کی نوکریاں جاتی رہیں گی بلکہ اس پدرسری یا مردانہ سماج کا زور توڑنے کے دوران اگر کچھ بیگناہ عزتداروں کی عزت بھی جاتی رہے تو بھی ہم یہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں کیونکہ لاکھوں خواتین بھی ایسی ہی بے انصافیوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔

اس سوچ کے مقابلے میں سنجیدہ فکر مردانہ سماج کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر عورت پر اعتبار کرو کا تقاضا ایک ایسی نظریاتی دلدل میں لے جائے گا جو کسی طور بھی فیمینزم کے مفاد میں نہیں اسلئے وِسپر۔لسٹ، گروہی دباؤ اور پبلک فورمز پر الزامات لگانے کے دروازے بند کرکے می۔ٹو کلب کو اپنے حقیقی کیسز صرف عدالت کے روبرو پیش کرنے چاہئیں اسلئے کہ صاف شفاف حقائق پر مبنی اصلی کیسز ہی فیمینزم کے مفادات کا صحیح تحفظ کرسکتے ہیں اور مفادپرستوں عورتوں کے جعلی الزامات عدالتی تحقیقات کے سامنے خودبخود ڈھیر ہوتے چلے جائیں گے لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا تو جعلی الزامات ہی می۔ٹو کی تحریک پر خاک ڈال جائیں گے۔

چند دن پہلے ایک لیڈی سنگر کی جانب سے ایک میل سنگر پر لگنے والے الزام کے بعد جس انداز سے دو تین دیگر خواتین نے بھی می۔ٹو کا نعرہ لگایا پھر اس کے بعد ہونے والے مباحث سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے حقیقی مسئلے کی بجائے یہ ایک نیٹ۔پریکٹس ہی تھی یا ممکنہ طور پر پاکستانی معاشرے میں می۔ٹو کو فروغ دینے کیلئے یہ فریقین کسی رضاکارانہ مشن کا حصہ ہوں، بہرحال معاملہ جو بھی ہے یہ اپنی اساس میں پاکستانی عوام کو کنونس نہیں کرسکا۔

اوپر پیش کئے گئے عالمی احوال اور حالیہ مقامی واقع کے پیش نظر ہمیں اپنے سماج میں فوراً ایسے اقدامات کر لینے چاہئیں جن کے تحت صرف حقیقی الزامات ہی سامنے آئیں اور پبلسٹی سکورنگ، پوائنٹ سکورنگ یا ہنٹر گروپ کی پیش قدمی رک جائے، جنسی ہراسمنٹ کی واضح حدود مقرر ہونی چاہئے، تاکہ جعلی کلیم نہ ہو سکیں ورنہ سماج پھر سے ایک ایسے اسٹیٹس۔کو میں پھنس جائے گا جہاں شیکسپئیر کا جج اینجلو فرعونیت کا اظہار کر رہا ہوگا اور ازابیلا بے بس اور مجبور کھڑی رہ جائے گی یا پھر عصر حاضر کا جج مجبور کھڑا ہوگا اور جیمی فلپس اس کے الیکشن پر اثرانداز ہونے کیلئے جعلی الزامات لگاتی جائے گی اور پبلک فورمز اسے اچھالتے جائیں گے۔

ان سب باتوں کے باوجود یہ ایک مُسلّمہ حقیقت ہے کہ مجبور خواتین صدیوں سے جسمانی تذلیل کا شکار ہوتی آئی ہیں اور خاموش رہنے پر بھی مجبور رہی ہیں، اب اگر بولنے کا حوصلہ ملا ہے تو انہیں بولنے دیں، حقیقی طور پر جنسی ہراسمنٹ کی شکار خواتین کو انصاف صرف اسی وقت مل سکتا ہے جب ان کی بات یکسوئی، تحمل اور ہمدردی کیساتھ سنی جائے گی بلکہ انہیں اپنی بات کہنے کیلئے اعتماد اور تحفظ دینا بھی معاشرے کی ذمہ داری بنتی ہے۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: