ایکسٹراڈشن اور جدید سفارتی رویئے —- لالہ صحرائی

0
  • 71
    Shares

وزیر اعظم عباسی صاحب نے اپنے دورہ انگلستان کے دوران جہاں بائی۔لیٹرل معاملات میں تعاون اور تجارت بڑھانے کا اعادہ کیا ہے وہاں کشمیر پر جاری مظالم کو بھی موضوع گفتگو بنایا ہے اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو بھی اجاگر کیا ہے، علاوہ ازیں برطانیہ کی سرکار سے ایکسٹراڈشن معاہدے کی درخواست بھی کی ہے۔

یہ ساری باتیں ہی جہاں ایک اہمیت کی حامل ہیں وہاں بدقسمتی سے یہ سنجیدہ کوششوں سے زیادہ ایک رسمی کاروائی بن کے رہ گئی ہیں، ہمارے چیف ایگزیکٹیو بیرونی دوروں پر ہمیشہ ایسی ہی باتیں رسمی انداز میں کرتے ہیں جن کا فالو۔اپ زیرو ہوتا ہے۔

تجارت کے معاہدے اگر توازن کیساتھ کئے جائیں تو ہمارے پاس انہیں بیچنے کیلئے بہت کچھ ہے جو یقیناً معیشت میں بہتری کی طرف اچھا قدم ہو سکتا ہے مگر انفرادی مفادات کے تحت ہر چانس بیکار معاہدوں کی نذر ہو جاتا ہے۔

کشمیر کمیٹی اپنے ریاستی بیانیے کا فالو۔اپ نہیں کرتی نہ ہی فارن آفس ان بیانات کے بعد کسی خاص سرگرمی کا مظاہرہ کرتا ہے لہذا یہ معاملہ بھی ایک رسمی گفتگو تک محدود رہ جاتا ہے ورنہ کشمیر میں بربریت رکوانے کیلئے بھارت پہ عالمی دباؤ اکٹھا کرنا کچھ مشکل کام نہیں۔

یہی معاملہ ایکسٹراڈشن کا ہے:
ایکسٹراڈشن یعنی مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ پاکستان کا دیرینہ مطالبہ ہے جو تقریباً ہماری ہر نئی گورنمنٹ کم از کم ایکبار ضرور یہ مطالبہ برطانیہ کے آگے دہراتی ہے لیکن بعد میں اس کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ کبھی بھی برآمد نہیں ہوتا حالانکہ ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے والے جرائم پیشہ افراد کو قانونی گرفت میں لانا ہماری بقا کیلئے نہایت اہم ہے، اس ناکامی کی بنیادی وجہ کمزور سفارتی محاذ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

اس معاملے میں برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی پالیسی تقریباً ایک جیسی ہے جس کے تحت وہ کسی بھی قوم کے ایسے افراد کو سیاسی و مذہبی پناہ آفر کرتے ہیں جو اپنے آبائی ممالک میں کسی ظلم و ستم کا شکار ہوں لیکن اس کی آڑ میں بیشتر کیسز ان لوگوں کے نکلتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح اپنے ممالک میں قانون شکنی یا جرائم کے مرتکب ہوئے ہوں، اس معاملے میں سیاسی و قومی مجرموں کیلئے یہ پناہ دینے والے ممالک سیف۔ہیون ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستان کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے، ہماری سرکار کو مطلوب بیشتر مجرم وہاں پناہ لیتے ہیں جو راء و موساد کی ایماء پر ملک دشمن کاروائیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں، ایسے عناصر کی حوالگی کیلئے ایکسٹراڈشن کا مطالبہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے مگر برطانیہ ہمیشہ سفارتی ڈپلومیسی سے اس مطالبے کو ٹالتا رہا ہے، کرپشن فیکٹر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ گمان بھی کیا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے رسمی بیانات کے بعد اس معاملے کو ہمارے ذمہ دار افراد خود ہی انفرادی مفادات کے تحت کھڈے لائن لگا دیتے ہوں تاہم میرے حساب سے یہ کمزور فارن پالیسی کا نتیجہ ہے، اس پالیسی پر نظرثانی کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

عصر حاضر میں تمام بااثر ممالک کی سفارتی پالیسی سہہ۔جہتی ہے یعنی معاشی اقدامات، قانونی اقدامات اور فوجی اقدامات پر مشتمل ہے۔

اس سفارتی نظام میں دنیا کے پاس پہلا اور بنیادی ایجنڈا اپنے اپنے معاشی مفادات کا تحفظ ہے، اس محاذ پر جہاں مشکل پیش آئے وہاں وہ دوسرا ایوینٹ ایکٹیویٹ کرتے ہیں یعنی اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کیلئے اپنے مدمقابل کی قانونی کمزوریوں کو عالمی قوانین کی رو سے ایکسپلائٹ کرکے اپنی بات منواتے ہیں، جہاں یہ ٹول بھی فیل ہو جائے وہاں مدمقابل کے علاقائی یا اندرونی کور ایشوز کیخلاف فوجی دباؤ سے کام لیکر اور ضرورت پڑے تو ایسے پناہ یافتہ مجرموں کے ذریعے سے مدمقابل کے اندرونی معاملات میں رخنہ اندازی، انارکی یا دیگر اقسام کی کاروائیاں کرکے اپنا مطلب حل کرتے ہیں۔

اوپر بیان کی گئی جدید سہہ۔جہتی سفارتی پالیسی کو سمجھنے کیلئے حوالے کے طور پہ آپ بھارت اور امریکہ کے ماضی قریب کے چند اقدامات کو دیکھ سکتے ہیں مثلاً کلبھوشن کانڈ کے بعد دنیا کے سامنے اپنی بگڑتی ہوئی اخلاقی پوزیشنز کو سہارا دینے کیلئے بھارت نے پہلے نمبر پر اپنی سی ایک کوشش کی، پھر اس نے عالمی عدالت میں کلبھوشن کی گرفتاری کو چیلنج کرکے ایگریسیو قانونی اقدامات کا ثبوت دیا اور تیسرے نمبر پہ اس نے پاکستان کیخلاف سرجیکل سٹرائیکس کرکے دباؤ میں لینے کی کوشش کی، آجکل پھر نئے سرے سے وہ سرجیکل سٹرائیکس کا ڈول ڈال رہا ہے۔

اسی طرح ماضی قریب میں اپنے کچھ مطالبات منوانے میں ناکامی کے بعد ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات، تینتیس ارب کا تقاضا اور تیسرے نمبر پر پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرانے کے اقدامات بھی ایسی ہی سفارتی گیمز کا حصہ تھے۔

اسی طرح ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب، سعودیہ کیساتھ ایک ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے اور وہاں آنے والی تبدیلی کی حالیہ لہروں کو ایک نظر دیکھ لینا ہی کافی ہے، یہی معاملہ شام کے اندر ہونے والی تباہی کے پس منظر میں بھی موجود ہے اور دیگر علاقائی تصادم بھی ایسی ہی گیمز کا حصہ ہیں۔

ان حالات میں دنیا بھر کی سیاسی قیادتیں اپنے معاشی ماہرین اور ایسٹیبلشمنٹ کیساتھ ہمیشہ ایک پیج پر رہتی ہیں، اس ماڈرن دور میں مدمقابل کے اندرونی معاملات کو مانیٹر کرنے کیلئے ہر ملک کی ایسٹیبلشمنٹ کا کردار اپنے خفیہ وسائل کی وجہ سے ناگزیر اور بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے چنانچہ کوئی بھی ملک اپنی ایسٹیبلشمنٹ کی گائیڈ لائنز کو کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کرتا لیکن ہمارے ہاں یہ معاملہ بہت مختلف بلکہ سیاسی قیادت اور ایسٹیبلشمنٹ کے درمیان اکثر تنازعات کا باعث رہتا ہے، ماضی قریب میں میموگیٹ اور ڈان لیکس اسی کشمکش کا شاخسانہ رہے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں سابق وزیر خارجہ محترمہ حنا ربانی کھر صاحبہ سے یہی سوال کیا گیا تھا کہ فارن پالیسی میں ایسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کیوں اور کتنی ہوتی ہے، اس کے جواب میں حنا صاحبہ نے بڑی صراحت کیساتھ اسی بات کا اظہار کیا تھا جو اوپر بیان کی گئی ہے اور فارن پالیسی ترتیب دینے میں ایسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ان کا بنیادی حق اور ناگزیر بھی تسلیم کیا تھا۔

میرا کہنا یہ نہیں کہ سیاسی فیصلے ایسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر دیئے جائیں البتہ یہ بات ناگزیر ہے کہ موجودہ عالمی سفارتی روش کے مطابق ایسٹیبلشمنٹ کی گائیڈ لائن یا تقاضوں کو قبول کئے بغیر چارہ نہیں، علاوہ ازیں ہماری فارن پالیسی بھی باقی دنیا کی طرح انہی تین اقدامات کے تناظر میں ترتیب دی جانی چاہئے جو دنیا میں مروج ہیں اور کسی حد تک جراتمندانہ بھی ہونی چاہئے۔

یہ اسی وقت ممکن ہے جب پہلے نمبر ہر آپ کی سیاسی قیادت قابل اور مخلص ہو اسلئے سب سے پہلے اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کیجئے۔

دوسرے نمبر پر اپنے سفارتی ذرائع کو ذاتی پسند کی بجائے پروفیشنلز کے حوالے کرنا ہوگا جو جدید دنیا کی گہری چالوں کو سمجھنے بوجھنے کی کامل صلاحیتیں رکھتے ہوں نہ کہ ایسے ہاتھوں میں دیا جائے جس کا مظاہرہ کچھ دن قبل ایک من پسند فرد کو امریکہ کا سفیر مقرر کرکے کیا گیا۔

تیسرے نمبر پر وزارت خارجہ میں ایسے معاشی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں جو مقامی بزنس مین کے انفرادی مفاد کی بجائے قومی مفادات پر مبنی جارحانہ تجارتی پالیسی بنا سکیں یا کم از کم دنیا کے ساتھ متوازن تجارتی پالیسی ترتیب دے سکیں تاکہ معیشت کا گراف بہتری کی طرف رجحان پکڑے۔

چوتھے نمبر پر عالمی قوانین کے ماہر ایسے ایگریسیو قانون دانوں کو متعین کیا جائے جو دوسرے نمبر پہ آنے والے پریشر کو سختی سے ٹالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، اس قانونی کمزوری کی وجہ سے ہم نے ہندوستان سے آنے والے دریاؤں کو تقریباً پچانوے فیصد کھو دیا ہے، کشمیر پر ہماری پوزیشن سب کے سامنے ہے، تازہ ترین میں کلبھوشن یادیو کو چھڑانے کیلئے بھارت کا عالمی عدالت میں جانا اور اس کے سامنے ہماری بارگین۔پوزیشن کا کمزور ہونا سامنے کی بات ہے۔

اسی طرح قانونی چارہ جوئی کی کمزوری سے وہ ایکسٹراڈیشن کا معاملہ بھی ہمیشہ ایک کمزور مطالبہ ہی رہا ہے، اگر قانونی جنگ لڑنے والے بہترین سینڈیکیٹس فارن آفس کے دست راست ہوں تو کچھ مشکل نہیں کہ مطالبات کرنے کی بجائے ہم برطانیہ اور یورپ کو عالمی قوانین کی رو سے ایکسٹراڈیشن پر قائل نہ کر سکیں یا کم از کم عالمی عدالتوں سے اپنے مجرموں کیخلاف ڈگری لیکر یورپئین ممالک سے انہیں واپس لیا جا سکتا ہے۔

پانچواں، آخری اور ناگزیر فیکٹر یعنی ایسٹیبلشمنٹ کے کردار کو تسلیم کرنا اور فارن پالیسی میں ان کے تحفظات و مطالبات پر اعتماد رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اسلئے کہ اپنے وسائل اور مربوط نظام کی بنیاد پر دنیا کا معاشی، قانونی اور اسٹریٹجک منظر نامہ یا ڈیش بورڈ جتنا ان کے سامنے واضح ہے کسی اور کے یا سیاسی قیادت کے سامنے اس قدر واضح نہیں ہو سکتا۔

اگر یہ کارگر اقدامات نہیں کئے گئے تو ہمارے مفادات ہمیشہ عالمی مفادات پر قربان ہوتے رہیں گے یا کرپشن کی رسیا قیادت کے انفرادی مفاد کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے اور ہم دنیا سے کوئی بات منوانے کی بجائے ہمیشہ ایسے ہی غیر ملکی دوروں پر رسمی بیانات ہی دیتے رہیں گے اور دنیا اپنے سفارتی ذرائع سے ان مطالبات کو ٹالتی رہے گی۔

ان حالات میں گزارش ہے کہ قومی معاملات پر نظر رکھنے والی عوام اور بطور خاص دانشور طبقات سرکاری معاملات میں مفادپرستی کا مواخذہ جتنا ضروری سمجھتے ہیں اتنا ہی ضروری ہے کہ فارن پالیسی پر بھی بھرپور نظر رکھی جائے اور تجارتی پالیسیوں، پرتعیش درآمدات، دریاؤں کے پانی، علاقائی ایشوز اور دیگر قومی مفادات پر اپنے اسٹینڈ اور دنیا کے معاشی، قانونی اور فوجی دباؤ کو مانیٹر کرکے اپنی سفارتی سطح کا جائزہ بدستور لیتے رہنا چاہئے اور حکومت سے ان معاملات پر مثبت اور جارحانہ پالیسی اپنانے کا شدید تقاضا بھی رکھنا چاہئے۔

نوٹ: جہاں جہاں میں نے جارحانہ کا لفظ استعمال کیا ہے اسے دست درازی یا حملے کی بجائے بروقت فیصلہ اور ایفیشئینٹ ردعمل کے معنوں میں لیا جائے، تھینکس۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: