رئیس عامر لیاقت حسین —– ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 118
    Shares

عامر لیاقت حسین کا نام آئے تو ہمارے ذہن میں شاہ رخ خان اور اُن کی فلم ’’رئیس‘‘ گھومنے لگتی ہے۔ عامر لیاقت یقینا اس بات کو اپنی تعریف کے ہی طور پر لیں گے۔ بلکہ ہمیں یقین ہے کہ اس سے زیادہ خوشی انہیں ابھی تک کسی بات سے نہ ہوئی ہوگی۔ ہمارے اِس دعوے پر اگر کسی کو شک ہو تو عامر لیاقت کی کوئی بھی وڈیو دیکھے اور شاہ رخ خان کی اداکاری کو ذہن میں لائے۔ عامر بھائی ہمیشہ سے ہی کنگ خان کی نقل کر رہے ہیں۔مگر فلم ’’رئیس‘‘ کے شاہ رخ خان سے اُن کی خاص نسبت ہے کیونکہ ’’رئیس‘‘ کے ہیرو کی طرح عامر لیاقت حسین کو بھی بظاہر کسی نے نو عمری میں یہی درس دیا ہے کہ ’’کوئی دھندہ چھوٹا نہیں ہوتا اور دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا‘‘۔

یہی وجہ ہے کہ عامر لیاقت نے بھی ہر قسم کا ہی دھندہ دل لگا کر کیا ہے۔ وہ ریڈیو سے منسلک رہے، سیاسی کارکن بنے، جلاوطن ہوئے اور لندن الطاف حسین کے ’’آشرم‘‘ میں پہنچے جہاں بقول اُن کے، ان کے ناخن تک الطاف حسین خود کاٹا کرتے اور ان کو کھانا بھی اپنے ہاتھوں سے پکا کر کھلاتے۔ پھر دبئی گئے، وہاں بھی ریڈیو سے منسلک ہو گئے اور وہاں اپنے قائد تحریک کے سچے سپاہی بنے رہے۔ پھر کراچی میں دوبارہ وارد ہوئے۔ اب ایم کیو ایم کی گڈی مشرف کے مانجھے پر چڑھ رہی تھی اور ملک میں نجی میڈیا بھی ظاہر ہونے کو تھا۔ 2002ء کی الیکشن ٹرانسمیشن سے جیو ٹی وی کا افتتاح ہوا اور اس الیکشن میں جیت کر ایم کیو ایم کو حیات تازہ ملی۔ جیو ٹی وی نے عامر لیاقت کو ’’ڈاکٹرعامر لیاقت‘‘ اور ’’عالم آن لائن‘‘ بنا دیا اور ایم کیو ایم نے ان کو وفاقی وزیر مذہبی امور۔

مگر دھندے کے معاملے میں اتنے سیرئس ہونے کے باوجود عامر بھائی اپنے مسالک کے معاملے میں کچھ ابہام کا شکار رہے ہیں۔ عامر کے والد شیخ لیاقت حسین (خدمت خلق فائونڈیشن فیم) سنی المسلک تھے جب کہ ان کی زوجہ محترمہ اہل تشیع تھیں۔ غالباً اسی وجہ سے ان کے بچوں دونوں ہی مسالک میں مہارت رکھتے ہیں۔ البتہ عامر کے بڑے بھائی، عمران لیاقت حسین اپنی والدہ کے مسلک پر زیادہ راغب تھے یہاں تک کہ اُن کی اپنے والد گرامی اور بھائی سے لڑائی ہوئی اور نوبت گھر چھوڑنے پر تک پہنچی۔ عامر بھی اپنے والدین کے مسالک کے درمیان  جھولتے رہے ہیں۔ عامر کے دینی مسلک کی طرح اُن کے’’معاشی‘‘ مسلک کا اندازہ لگانا اکثر دشوار ہو جاتا ہے کہ ان کا مسلک جیو سے تعلق ہے، اے آر وائی سے، بول سے یا ایکسپریس سے۔ ایک عہد میں جیو ٹی وی کے سب سے بڑے سفیر رہنے والے عامرلیاقت نے ایک زمانے تک بول ٹی وی پر جیو کے لیے ہر ہر پروگرام میں تبری پڑھا اور پھر اچانک بول سے بھی راہ فرار اختیار کی اور پھر جیو کے مالک میر شکیل کے آگے دامن تلمذ تہہ کیا۔

مگر ابہام کا یہ سلسلہ اُن کے ’’سیاسی مسالک‘‘ پر بھی سایہ فگن ہے۔عامر ایک زمانے میں الطاف حسین کے مائوتھ پیس تھے اور جنرل مشرف کے اقتدار کی دلیل کے طور پر قرآن کی آیات اور احادیث تک سے حوالے لانے میں گریز نہ کرتے۔ پھر اپنے ان دونوں ہی ’’ناخداوں‘‘ کو الگ الگ موقعوں پر الوداع کہہ گئے۔ حال ہی میں وہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں مگر بعض بد گوئوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایم کیو ایم کی نیی قیادت سے کوئی ڈیل بنانے کو کوشش میں ناکامی کے بعد کیا گیا۔ یادش بخیر عامر لیاقت کچھ عرصہ قبل تک عمران خان کے شدید نقاد ہوا کرتے تھے مگر آج آپ کراچی میں عمران کے سب سے بڑے وکیل ہیں۔ مگر سیاسی مسالک کی اِس تبدیلی پر اگر سوال کیا جائے تو عامر لیاقت شاہ رخ خان کے انداز میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرپورے اعتماد سے کوئی بھی ڈائیلاگ مار سکتے ہیں۔

دراصل کسی بھی مسلک کی تبدیلی، بڑے سے بڑے یو ٹرن یا شرمناک اسکینڈل کے بعد میڈیا کو ’’منہ دینے‘‘ کی جو صلاحیت عامر لیاقت حسین کے پاس ہے وہ پاکستان میں کسی اور شخص کے پاس نہیں اورغالباً یہی صلاحیت انہیں پاکستان کی سب سے بڑا میڈیا انٹرٹینر بناتی ہے۔ اسکینڈلز تو عامر لیاقت کی سیماب صفت شخصیت سے ہمیشہ ہی سے جڑے ہیں مگر اُن ویڈیوز نے واقعتا دھوم مچادی تھی جو عامر بھائی کے پہلی دفعہ جیوٹی وی چھوڑنے کے بعد منظر عام پر آئیں۔ ’’کیسا دیا؟ صحیح نہیں دیا؟‘‘ تب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شائد اب تو عامر لیاقت حسین کا سورج غروب ہی ہو گیا۔ مگر دشمنوں کی خوشی خام خیالی پر مبنی ثابت ہوئی۔ ہمارے ایک بد زبان دوست کے مطابق ’’عامر لیاقت اسکینڈلز سے ہر بار اپنی موٹی کھال اور چرب زبانی کی بدولت نکل ہی آتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایسے متنازع کرداروں پر اور زیادہ ہی توجہ دینے لگتا ہے‘‘۔ مگر ہم اپنے دوست کی تقریر سے متاثر نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اِس بات کی کوئی خاص اہمیت نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو ٹرینیٹی کالج اسپین نے ’’پی ایچ ڈی‘‘ کی ڈگری، ’’ایم فل‘‘ کے محض 15 دن بعد تفویض کردی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو انٹرٹینمنٹ کی ضرورت ہے اور آج کی تاریخ میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سب سے بڑی ’’مذہبی انٹرٹینمنٹ‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں۔ مگر آزادی اظہار کے اِس دور میں آپ اُن منہ پھٹ لوگوں کی زبان کیسے پکڑیں گے جو عامر لیاقت کو ایک نوع کا مذہبی ’’عمر شریف‘‘ قرار دیتے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کی ڈاکٹر صاحب چھچھورپن اور پھکڑ پن کے ساتھ سطحی معلومات کا ایک اتھلا سنگم ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کہ ’’اسکینڈلز پر پلنے والی یہ شخصیت علمیت کی قبا میں جہالتوں کی سفیر ہے‘‘۔

اس تناظر میں ہمارے ذہن میں امریکی پورن انڈسٹری کی مقبول فنکارہ اسٹورمی ڈینیئل کی تصویر گھوم گئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ’’ڈیڈ‘‘ کا اسکینڈل آنے کے بعد ڈینئیل کو اپنی بے پناہ مقبولیت سے یہ غلط فہمی ہو گئی تھی کہ وہ اگر انتخابات میں حصہ لیں تو سینیٹر بن سکتی ہیں۔ اس غلط فہمی میں خوبرو’’ ادکارہ‘‘ نے انتخابات میں حصہ لے لیا اور اپنی ضمانت ضبط کروا بیٹھیں۔ اس سانحے کے بعد محترمہ نے ایک پریس کانفرنس کی اور امریکی عوام سے شکوہ کیا کہ انہوں نے تو اپنے’’تن من دھن‘‘ سے عوام کی خدمت کی لیکن عوام نے ان کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ اسٹورمی ڈینیئل کی طرح عامر لیاقت سے بھی ہماری عوام ’’انٹرٹین‘‘ تو بہت ہوئی ہے مگر شائد ان کو ووٹ ایک بھی نہ ملے۔ اس لئے عامر بھائی دھندے پر ہی توجہ دیں تو اچھا ہے۔ کیونکہ وہ دھندہ اچھا کر لیتے ہیں اور ویسے بھی رئیس کی امی جان نے کہا تھا کہ ’’کوئی دھندہ چھوٹا نہیں ہوتا اور دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا‘‘۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: