آخری آدمی مرگیا : کراچی کی ایک کہانی، عابد آفریدی کی زبانی

0
  • 63
    Shares

شہر کراچی کا یہ آخری آدمی اس شہر کا آخری بیٹا مرنے سے پہلے پاگل ہوگیا تھا، بتایا۔ مرنے کے بعد اگر فلاح پانے والوں میں سے ہوا تو اللہ سے کہوں گا کہ اپنے محبوب کے دیدار کے بعد مجھے ماضی کے کراچی بھیج دو، میری جنت وہیں ہے۔

با با نواز دین جس دور میں کراچی آیا، اس وقت یہ شہر ایک حسین و جمیل دلہن کی طرح چمکتا دمکتا تھا۔ شام کا سنہرا سورج اس کا جھومر تھا، تاروں بھرا آسماں اس کا گونگھٹ۔ سمندر کی وہ پاک ہوائیں اس کی سانسیں تھیں جو ابھی آئل اور پیٹرول کے دھویں سے آلودہ نہ تھیں۔

جب دنیا جہان کے دھتکارے ہوئے غریب لوگوں نے اپنی بھوک مٹانے، تن کو ڈھانپنے کے لئے اس حسین عورت کے مانند روشنیوں کے اس شہر کا رخ کیا تو انھیں دھتکارا نہیں گیا، گلے لگالیا گیا۔

اپنی زینت و لازوال حسن کو پس پشت ڈال کر مامتا کی روش اپنالی۔ ان بیمار لاچار، زر کی پیاس میں بلکتے بھوکے لوگوں کے لئے اپنا سینہ کھول دیا، رنگ، نسل، مذہب، مسلک؛ تمام امتیازات سے بالاتر ہو کر بلاتفریق کھلانا شروع کیا۔

بابا نواز دین نے اپنے بچوں کو بتایا تھا کہ اگر میرے دور کے لوگوں کو یہ معلوم ہوتا کہ آگے جاکر ہماری نسلوں نے آپس میں ایک دوسرے کا خون بہانا ہے تو ہم اسی وقت اپنے آبائی وطن لوٹ جاتے، غریبوں کی اس دنیاوی جنت کو کسی قیمت یوں جہنم بنتے نہ دیکھتے۔” ہم تو ایک دوسرے کے گھروں کے چوکیدار تھے۔ پکوان کے چولھے الگ مگر پکوان میں سب شریک تھے۔ جب تک اپنا پکایا پڑوس کے ہاں نہ بھیجتے چین نہ آتا۔

گھروں کی دیواریں کچی مگر تعلقات مضبوط تھے۔ زمین کچی تھی پر نیت سچی تھی۔ چھتیں چھوٹی تھیں مگر سر اونچے اور سلامت تھے۔ آہنی دروازے نہیں تھے۔ کہیں چوبی کواڑ، کہیں ٹاٹ کے پردے جھولتے، عزتیں جتنی ان وقتوں میں محفوظ و مقدم تھیں۔ آج باوجود ان آہنی دروازوں اور مرمریں فصیلوں کے بھی، اس طرح محفوظ نہ ہوسکیں۔ چہل تھی مگر پہل نہ تھی۔ ہر انسان عاجز مزاج، ایثار پسند، ہر ہر معاملے میں “پہلے آپ” کا قائل تھا۔

وقت بدل گیا۔ دور سے آئے ان غریبوں کی جگہ ان کی اولاد نے لے لی۔ ان کے پاس خوراک و کپڑوں کی وہ کمی نہ تھی جو ان کے اجداد نے دیکھی تھی۔ پیٹ زرا بھر گیا تو جینے کے اس انداز سے بیزار ہوگئے۔ اس بات کا ادراک پیدا ہوا کہ شہر کا یہ نظام جس طرح چل رہا ہے یہ چال درست سمت کی جانب نہیں ہے۔ اس نظام کو ٹھیک کرنا ہی پڑے گا، اس کی تقسیم ٹھیک سے نہیں ہوئی ہے!!!!

ماضی قریب کے غرباء میں چالاکی در آئی۔ یہ بھول گئے کہ آج سے چند سال قبل مزدور کی حثیت سے یہاں آئے تھے۔ اب نظام کے معمار بننے نکلے!!!

“ایسا نہیں ہے کہ کسی غریب معاشرے میں کوئی عظیم راہنما پیدا نہیں ہوسکتا، یہ طعنہ بلکل ناانصافی پر مبنی ہے۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ غریب بستی میں معاشرے کے بہترین معمار پیدا نہیں ہونگے۔ ہوسکتے ہیں مگر جب راہنماؤں اور معماروں کی ابتدائی جدوجہد ہی تعمیری نہیں بلکہ تخریبی خطوط پر استوار ہو، نظریہ کی جگہ نظر زر پر ٹھہر جائے، تب معاشرے کو اس بانجھ پن کا طعنہ سہنا پڑتا ہے”

نیلسن منڈیلا نے کتنے آسان الفاظ میں کراچی کے ان راہنماؤں کے منہ بند کردیے۔

فرمایا “لیڈر وہ نہیں جن کو ڈھیر ساری زبانیں آتی ہوں، بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہو، لیڈر وہ ہوگا جس کا مقصد عظیم و بلا امتیاز ہو”۔ کراچی کی سیاسی یتیمی کی وجہ یہی تو ہے۔ یہاں مقاصد تو عظیم تھے، مگر تھے سب امتیازی”

نئی نسل کی اس نئی روش کے تحت وہ لوگ جو ماضی قریب میں لسانیت و مسالک کے قیود سے آزاد ہوکر بھائی چارے سے جیا کرتے تھے۔ الگ الگ شناخت میں تقسیم ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: کراچی کا نیا سفرنامہ: خوابوں کا شہر

 

مائی کلاچی کے مکین نئے ناموں سے نئی آبادیاں بسانے لگے۔ کہیں پٹھان کالونی وجود میں آئی۔ تو کہیں مہاجر چوک کی بنیاد رکھی گئی۔ کہیں خدا کی بستی میمن گوٹھ میں تبدیل ہوئی۔ تو کہیں سنی نگر، بہار کالونی جیسے ناموں نے مائی کلاچی کے بچوں کو پارہ پارہ تقسیم در تقسیم کردیا۔

فاصلے بڑھ گئے۔ فاصلوں تک تو بات ٹھیک تھی۔ جب فاصلوں کی جگہ دوریوں نے لے لی تو اپنائیت کی جگہ اجنبیت آگئی اور اجنبی ہمیشہ مشکوک کہلاتا ہے!!!

ان شکوک و شبہات نے مزدور کے ان بچوں کو ایک دوسرے کی جان لینے پر ابھارا۔ کہیں شک لاحق تھا کہ شہر کے تمام وسائل پر غیر قابض ہوجائیں گے۔ کہیں شک ہوا کہ سب مل کر ہمیں اس شہر سے بے دخل کردینگے۔

اختیارات کی جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں شہر کراچی کو تباہ کرنے کوئی منگولیا سے نہیں آیا۔ شہر کو آگ لگانے والے کا سراغ لگایا تو ماچس کی ڈبیہ جس کے ہاتھ سے برآمد ہوئی، کوئی اور نہیں وہی شہری تھا جسے برسوں پہلے غریب کی ماں، اس شہر کراچی نے گود لیا تھا۔ جنہوں اس کے وجود کو آگ لگائی، ان میں سرمایہ دار کوئی نا تھا!!! کہیں رکشہ چلانے والوں نے اس کے بدن کو چھیڑا، کہیں موٹرسائیکل پر سپلائی کرنے والوں نے ڈرل مشین سے چھید ڈالا۔ تو کہیں غریب سمندری ماہی گیروں نے تلواروں کے چپو چلائے۔ اپنوں نے اپنوں کا خون بہایا۔ روزی روٹی کے متلاشیوں نے ایک دوسرے پر زمین تنگ کردی۔

بابا نواز دین اپنے پرانے ہمسایوں کی طرح خوش قسمت نہ تھا۔ جو ارمانوں کے اس شہر کو یوں برباد دیکھنے سے قبل ہی دنیا سے پردہ کرگیا۔
بابا نواز دین تو اس مظلوم قیدی کے مانند تھا جسے باندھ کر اس کی نظروں کے سامنے اس کے اپنوں کو تڑپایا جاتا ہے۔ بربادی شہر کے رنج نے اسے زخمی کردیا۔ اس کا دماغ مفلوج ہوگیا۔ پاگل پن کے دورے پڑنے لگے۔

وہ دن بھر کراچی کی سڑکوں پر دیوانہ وار پھرتا تھا۔ کہیں کوئی نالی رکی ہوئی دیکھتا تو اس میں کود جاتا اس کی روانی بحال کرتا۔ فٹ پاتھوں پر جھاڑو پھیرتا۔ اس کے لئے اس کے بچوں نے مکان سے باہر اپنے پلاٹ کے احاطے میں الگ کمرہ بنا دیا کیونکہ اس کے جسم سے اٹھنے والی بو کو سہنا اب ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ کسی کو بھلائی سوجھتی تو صبح بالٹی سے لوٹا بھر بھر کر دور سے ان پر یوں ڈالتے جیسے گھر کے کسی پالتو جانور کو نہلایا جاتا ہو۔

ایک دن بیٹے نے بابا نوازدین کی قمیض پر کپڑے کا ٹکڑا جوڑتے ہوئے ان سے کہا کہ اس پر گھر کا پتہ درج ہے کل آپ کہیں “بھٹک وٹک” جائیں تو ہمیں کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔

جن کے دماغ مفلوج ہوں لازم نہیں کہ ان کی عقل بھی مفلوج ہو۔

پاگل اکثر پتے کی بات کہہ جاتے ہیں۔ اس پاگل نے بھی بیٹے کو بہت پتے کی بات بتائی۔

کہا “بوڑھے بھٹک جائیں توصر ف قدموں کے نشان مٹنے لگتے ہیں۔ جب نوجوان نسل بھٹک جائے تو ملکوں کے نشان مٹ جاتے ہیں”۔

برسوں پہلے منزل کی تلاش میں نکل کر راستے الگ کرنے والے آج بھی گمنام راستوں کے مسافر ہیں۔ ہر راستہ انھیں تنہائی و تقسیم کی ہی جانب لیے جا رہا ہے۔ ہر راستے کے آخر میں ایک دیوار کو ہی منتظر پاتے ہیں۔

یہ قاتل!! یہ لٹیرے!! یہ بھسم راہیں!! ویران سڑکیں!! خون کے دھبے!! ان میں سے کچھ بھی اس شہر کا نہیں تھا۔
اس کے اپنے تو وہ پرندے تھے جو اس شہر سے برسوں پہلے کوچ کرگئے۔

اس کی اپنی تو سمندر کی وہ سنہری چمکتی موجیں تھیں جو اس کے ساحل کو چمکاتی تھیں۔ آنکھوں کو چندھیاتی تھیں۔ آج وہ شفاف موجیں ساحل سے دور بہت دور ہوگئی ہیں۔ ان کی جگہ نئے شہر کی بہتی نئی غلاظتوں نے لے لی۔ وہاں اب گندگی موجزن ہے۔

اس کی اپنی تو وہ سیپیاں تھیں جن سے گہر نکلتے تھے۔ جن کے زیور پروئے جاتے تھے۔ اس کے اپنے گلی محلوں چوراہوں پر کھڑے جامن کے وہ بار آور شجر تھے۔ جن کے نیچے بچے جامن چنتے تھے۔ اب وہ شجر جامن نہیں دیتے، اب وہ ہر ہفتے ایک نئے سیاسی جھنڈے کو سہارا دیتے ہیں۔

اس شہر کے اپنے تو بابا نواز دین اور ایدھی جیسے لوگ تھے۔ زندگی بھر شہر کو شمع اور خود کو پروانہ سمجھ کر اس گرد جھلملاتے رہے۔ اس کے اپنے وہ لوگ تھے جو جنت میں بھی کراچی کی آرزو کرینگے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: غزالاں تم تو واقف ہو۔۔۔۔۔۔ کراچی کا علمی بحران

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: