غزل گو شاعر بننے کا آسان طریقہ : نعمان علی خان

0
  • 31
    Shares

وہ اردو داں دوست جو آج کے دجالی (ڈیجیٹل) دور میں سوشل میڈیا پرموجود ہیں مگر ابھی تک غزل گو شاعر نہیں بن سکے ان پر ترس آتا ہے۔ آئیے آپ کو شاعر بناتے ہیں۔ یہ اس قدر آسان بات ہے کہ آپ میری شاگردی اختیار کرنے کیلئیے کسی پگڑی اور مٹھائی کا انتظام کرنے سے پہلے ہی غزل گو بن جائیں گے۔

تین مراحل میں غزل گو شاعر بننے کا طریقہ درج ذیل ہے:

۱: جدید اردو غزل میں جو اصطلاحات استعمال ہو رہی ہیں، ان کی فہرست بنا لیں۔ ڈریں نہیں یہ ذخیرہ الفاظ بہت وسیع نہیں۔ فقط پانچ سو سے ساڑھے پانچ سو تک الفاظ ہون گے جن کو ہمارے جدید غزل گو شعرا اپنی غزلیات میں گھما پھرا کر استعمال کررہے ہیں۔ اگر آپ کو یہ لسٹ مرتب کرنے میں مشکل پیش آئے تو مجھے بتائیے گا، میں اردو شعرا کی “نمائندہ غزلیں” بھیج دوں گا، آپ ان میں سے یہ الفاظ چھانٹ لیجئیے گا۔ آپ کو فی الحال یہ لسٹ مرتب کرنے میں اس خوف سے کسی جلدی کی ضرورت نہیں کہ کہیں یہ الفاظ امتداد زمانہ سے متروک نہ ہوجائیں کیونکہ یہ الفاظ “جدید غزل” میں گذشتہ نصف صدی سے استعمال ہو رہے اور ابھی تک “تازہ” ہیں۔ دیگ میں سے چند چاول مثال کے طور پر پیش ہیں: پتھر، دیوانگی، آوارگی، شہر، دیا، روشنی، ہوا، سراب، تشنگی، آنکھ، دریا، سایہ، دھوپ، دیوار، صحرا۔ ان میں سے کون سا ہے جو “تازہ” نہیں؟

لہٰذہ بے فکر ہو کر آپ دوسرے مرحلے پر زیادہ توجہ دیجئیے۔

۲: دوسرا مرحلہ کسی حد تک مشکل لگے گا لیکن آپ جب اپنا “ڈکشن” تشکیل دیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے بہت آسانی رکھی ہے۔ دوسرا مرحلہ ہے “علمِ عروض” میں یدِ طولیٰ کا حصول۔ جب آپ کو یہ یدِ طولیٰ حاصل ہوجائے گی تب آپ کا ضمیر (اگرغزل گو بننے کے عمل میں زندہ رہا) تو آپ کو باقی تمام عمر یہ کچوکے لگاتا رہے گا کہ تم اس علمِ عروض کو آخر “علم” کیوں کہتے رہے؟ بہر حال، علمِ عروض حاصل کرنے کا طریقہ اگلے وقتوں میں خاصہ جان جوکھوں کا کام تھا۔ شا گرد کو برضاو رغبت، اساتذہ کے جوتے سیدھے کرنا پڑتے تھے۔ یہ جوتے ٹیڑھے اس لئیے ہوتے تھے کہ اساتذہ کی تقریباً ساری زندگی مشاعروں میں، امراوٰ جان ادا کی طرح چوڑی دار پیجامے میں سٹیج پر بیٹھ کراپنی باری کے انتظار اور مقابلے کے شعرا کے گھٹیا کلام کو سننے اور ایڑھیاں رگڑنے میں گذرتی تھی تو نتیجتاً ان کے پاوٰں کچھ ایسی شکل میں ڈھل جاتے تھے جو جوتے کے ان سانچوں تک کو ٹیڑھا کردیتے تھے جن میں وہ جوتے بنا کرتے تھے۔ سو شاگردوں میں سے بہت سے ایسے ہوتے تھے جو علمِ عروض میں مہارت سے زیادہ جوتے سیدھے کرنے میں ماہر ہوجاتے اور بعض تو ساری زندگی محض اسی “علم” کی پریکٹس میں گذار دیتے تھے۔ خیر عرض یہ کررہا تھا کہ علمِ عروض کا حصول اگلے وقتوں میں خاصہ جان جوکھوں کا کام تھا لیکن آج کے ڈیجیٹل (دجالی) دور میں، یہ علم اب آپ کی انگلیوں کی پوروں پر ہے۔ آپ “اردو اور عروض” کے الفاظ گوگل میں ڈالیں اورآپ پر علمِ عروض کے سارے راز فاش ہوجائیں گے۔ اور آپ جان جائینگے کہ تمام غزلیں کسی مخصوص “بحر” (وزن=میٹر=ماتروں) پر مشتمل ہوتی ہیں۔ مثلاً ادریس آذاد صاحب کا، باقی شعراء میں ایک غیر مقبول شعر ہے:

چوری میں ہاتھ کٹ گئےورنہ غزل سرا
منظر نکالتے، کوئی پیکر سنوارتے

یہ شعر اور اس کی پوری غزل جس وزن پر ہے اس بحر کا نام “مثمن اخرب مکفوف و محزوف” ہے۔ یہ نام جس قدر بھی ثقیل لگے، اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ اس کی وجہ تسمیہ جاننے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ خوفناک نام اِس سادہ سی بحر کا ہے: “مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن”۔ ویسے تو اردو شعرا کے پاس فراغت بہت ہوتی ہے لیکن بہت کم فارغ شعرا ہیں جنہوں نے ان بحور کی وجوہاتِ تسمیہ جاننے کی کوشش کی ہے۔ اگر کسی کو ان وجوہات کا بھی “علم” ہے تو یوں سمجھیں کہ ایسا شاعر فراغت کے بحرِ اوقیانوس میں غوطہ زن ہے۔

آپ کو گوگل کرنے سے جو عروض کی ویب سائٹس ملیں گی ان پر سے آپ ان مروجہ بحروں کو رٹ لیں جن پر جدید اردو غزل کہی جارہی ہے۔ آپ یقین کیجئیے آج کل محض گیارہ بارہ ہی بحور مروج ہیں۔ اگر آپ آٹھ سال کی عمر میں بارہ تک کے پہاڑے رٹ سکتے تھے تو ان بحروں کا رٹہ لگانا کیا مشکل۔ انہی ویب سائٹس پر آپ آدھے گھنٹے کی کوشش سے کسی بھی بحر پر باوزن مصرعے کہنا سیکھ سکتے ہیں۔

عروض کا جس قدر “علم” آپ نے تب تک حاصل کرلیا ہوگا وہ کافی ہے کہ آپ ان شعرا کے اشعار میں الف گرانے سے لے کر عین کو متحرک نہ کرنے جیسے مسائل کھڑے کرکے ان کا ناطقہ بند اور اپنا شعری قد بلند کرسکیں۔

اور خوشخبری ہوکہ آپ جونہی ایک باوزن مصرعہ کہنا سیکھ گئے، اسی لمحے آپ غزل گو شاعر ہوگئے۔ آپ اسی دن کئی مصرعے ایک ہی وزن میں کہہ کر اور ان میں سے دو دو مصرعے جوڑ جوڑ کر شعر بنا سکتے ہیں اور کسی مائی کے لال کی مجال نہیں ہوسکتی کہ آپ کو شاعر ماننے سے انکار کرے۔ آپ کی اس شاعری میں جو بھی کمی رہ جائے گی اسے آپ بہت آرام سے قابلِ قبول بناسکتےآپ کو صرف اتنا کرنا ہوگا کہ خود کو “تجربیت پسند” جدید شاعر مشہور کروالیں۔ “کروالیں” سے مراد یہ ہے کہ آپ کو ایسی مشہوری کیلئیے کسی ادبی حلقے میں کسی نقاد نما شاعر کے چوڑی دار گھٹنے پر دامنِ تلمذ تہہ کرنا پڑے گا۔ چند بار یہ تلمذ وغیرہ تہہ کرنے کے بعد وہ نقاد نما شاعر آپ کے شعری مقام کو پہچان لیں گے اور آپ کو جدید لہجے کا تجربیت پسند شاعر مشہور کردیں گے۔ جس دن بھی ایسا ہوگیا، یوں سمجھیں آپ کی تمام شعری کوتاہیاں اور نقائص، آپ کی تجربیت پسندی کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گے۔

ایک دوسرا محاذ جس پر آپ کو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی وہ فیس بک پرغزلیں پبلش کرنے والے مستند شعرا ہیں۔ اِن مستندوں کو خبط ہے کہ جدید تجربیت پسند شعرا کے ابھرنے کو اردو زبان و ادب کے فروغ کیلئیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور ان ابھرتے شعرا کے لتے لئیے رہتے ہیں۔ سو ہشیار باش؛ اس سے پہلے کہ یہ مستند آپ پر حملہ کریں آپ ان پر پری ایمپٹِو حملہ یا اقدامی وار کرسکتے ہیں۔ عروض کا جس قدر “علم” آپ نے تب تک حاصل کرلیا ہوگا وہ کافی ہے کہ آپ ان شعرا کے اشعار میں الف گرانے سے لے کر عین کو متحرک نہ کرنے جیسے مسائل کھڑے کرکے ان کا ناطقہ بند اور اپنا شعری قد بلند کرسکیں۔

اس مرحلے میں، جدید لہجے کے تجربیت پسند شاعر تو آپ بن ہی چکے ہیں۔ لیکن یاد رکھئیے کہ غزل گو اس وقت تک پورا شاعر نہیں مانا جاتا جب تک وہ روایت اور لیچڑ پن کا بگھار اپنے کلام میں نہ لگائے۔ یوں توآپ غزل گو بنتے ہی ان دو اوصاف کی اپنی طبع دیرینہ میں بدرجہ اتم موجودگی کی وجہ سے ہیں۔ سو یہ تو طے ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ دونوں اوصاف اپنی غزلوں میں سرذد کرتے رہیں گے لیکن ایک ضروری جزو جو روایتی طور پرغزل کے فارم کی بنیادی شان مانا جاتا ہے وہ ذیل میں تیسرے مرحلے میں بیان کیا جاتا ہے۔

۳: ایک مکمل غزل گو نا صرف باوزن اشعار کہتا ہے بلکہ قافیہ اور ردیف کی مکمل پابندی کے ساتھ کہتا ہے۔ سو اگر آپ کو غزل کی تاریخ میں معاصر شاعری سے بلند ہونا ہے تو آپ کو وزن کے ساتھ زمین کا “علم” بھی ہونا چاہئیے۔ یہ علم بھی اس قدر بھاری بھرکم نہیں جس قدر بتایا جاتا ہے۔ گوگل پر (گوگل ارتھ پر نہیں) “غزل کی زمین” کے الفاظ ڈالیں اور زمین اپنے تمام راز اگل دے گی۔ زمین دراصل شعر میں قافئیے اور ردیف کے مرتب ملاپ کو کہتے ہیں۔ یوں تو زمین میں صرف ردیف ہوتی ہے اور قافیہ وجود ہی نہیں رکھتا۔ لیکن ہمارے وہ روایت پسند غزل گو جن کے اوصاف کا اوپر ذکر کیا گیا ہے وہ اسی ردیف میں قافیہ بھی نکال کردکھا دیتے ہیں اور جو شخص بھی ان سے اختلاف کرے اس پر زمین تنگ کرنے کی فی زمانہ خاصی مقبولِ دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔ بہرحال گوگل پر اس زمینی مہارت کے حصول میں آپ کو محض پندرہ منٹ لگنا چاہئیں۔ اگر کچھ کمی بیشی ہو تو اسے اپنے جدید تجربیت پسند غزل گو ہونے کی چھتری میں گول کرجائیں۔ جب یہ “علم” بھی حاصل ہوجائے تو اب آپ بآسانی فیس بک پر مستند شعرا کا ناطقہ بخوبی بند کرسکتے ہیں۔ یاد رکھئیے یہ شعرا کتنے ہی قادرالکلام ہوں، زمینیں سب کی ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ سو آپ کسی بھی مستند شاعر پر دوسرے شاعر کی زمین کی چوری کا الزام لگاکر اپنے بارے میں، معاصر شعری “حرکیات” پر مضبوط گرفت رکھنے کے تاثر کو عام کرسکتے ہیں۔ اور یوں آپ کا شعری قد آسمان سے باتیں کرنے لگے گا۔

لیجئیے یہ تین مرحلے گذر گئے اور پتہ بھی نہ چلا۔ لیکن آپ یک بیک ایک غزل گو شاعر بن کر اردو ادب کے آسمان پر جھلملانے لگے۔ اب آپ یہ کیجئیے کہ اپنا ڈکشن متعین کیجئیے۔ یوں تو عالمی تناظر میں ڈکشن بہت وسیع معانی کا حامل ہے لیکن آپ کو اس کھکیڑ سے کیا غرض چنانچہ اس میں پڑے بغیر اپنا ڈکشن بنائیے۔ آج کل جو مقبول ترین “ڈکشن” ہے وہ سہلِ ممتنع کہلاتا ہے۔ آپ اس کے معانی کھنگالنے کی بجائے اس میں موجود لفظ سہل پر اپنی توجہ مرکوز رکھئیے۔ جی۔ بالکل درست سمجھے۔ یہ ڈکشن سب سے سہل ہے اوراس میں سہولت بھی بہت ہے۔ آپ بآسانی جون ایلیا کے بعد اردو کے دوسرے بڑے سہل ممتنع کے شاعر بن سکتے ہیں۔ جون صاحب، ناف پیالے تک اپنے سہل ممتنع کو لے گئے تھے۔ آپ بھی لے جاسکتے ہیں جہاں تک آپ کو سہولت اور توفیق ہو۔

یاد رکھئیے کہ جون صاحب نے اپنے سہل ممتنع کے آغاز میں زیادہ تر مجرد الفاظ کو استعمال کیا تھا۔ کنکٹنگ ورڈز شامل کرنے میں خاصی اکونمی اختیار کی تھی، اسی لئیے ان کے اس طرح کے قطعات نے دلوں کو مسخر کرلیا تھا:

شرم، وحشت، جھجک، پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ، وہ، جی، مگر یہ سب کیا ہے
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں

آپ اس کے برعکس، اپنی دیرینہ “تجربیت پسندی” کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مجرد الفاظ میں اکونمی اور کنکٹنگ ورڈز کی بھرمار کا تجربہ کرسکتے ہیں۔

چلئیے صاحب آپ بلا خوبئ بسیار اردو غزل کی بے لگام و بے سمت ترقی میں ایک مثبت اضافہ بننے کے قابل ہو چکے ہیں۔ آگے بڑهئیے اور شعری افق پر اپنے آموجود ہونے کا ایک عالم کو احساس دلانے کی تیاری شروع کیجئیے۔ یاد رہے کہ اردو میں جب پہلا شعر ایک غزل گو کہہ لیتا ہے تو یہی وہ لمحہ بهی ہوتا ہے جب وہ اپنے مجموعہ کلام کی اشاعت اور اس پر فلیپ لکهنے والوں کی اعانت کی تیاری بهی شروع کردیتا ہے. یعنی یہی وقت ہے کہ آپ اپنے پہلے مجموعہ کلام کی اشاعت کیلئیے غزلیں لکه لکه کر ڈهیر لگانا شروع کردیں اور فلیپ لکھنے والوں کو تاڑنا شروع کردیں۔

آپ اور ادب پر اللہ کا رحم نازل ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: