اے املتاس و عصفوری چڑیا، تم امید و خوشی کے سفیر ہو : صائمہ نسیم بانو

2
  • 95
    Shares

ہر نیا سورج اپنی روشن تاب کرنوں کے ساتھ بے نام سی اداسیاں میری جھولی میں بھر جاتا ہے اور زمانہ جب رات کا دوشالہ اوڑھتا ہے تو یہی رات اپنی تمام تر تاریکیوں سمیت مرے دل کے کونوں کھدروں میں ملال گھولتی چلی جاتی ہے۔ میں اپنے حرم کے دریچوں سے باہر جھانکنا چاہتی ہوں وہاں بگیا میں کیاریاں، رنگا رنگ پھولوں سے بسی ہیں. سباس و سگندھ اتراتی پھر رہی ہیں۔ میں اریجِ خوش بیں کی پائل کی کھنک سن رہی ہوں۔ یہ کھنک ہے یا مہکار جسے میں اپنے نتھنوں سے اندر تک بھر لینا چاہتی ہوں۔ یہ بادِ صبا ہے یا موجِ نسیم جو مجھے تانکتی پھرتی ہے۔

‏‏سنو!! وہاں سنہری برکھا برسانے والا شجرِ زریں ایستادہ ہے۔
‏زمانہ اسے امید کا استعارہ مانتا ہے۔ وہ تن آور ہے، چھتنار ہے۔ اس کی عنابی ڈالیاں فضا میں ہر طرف بکھری ہیں اور ان ڈالیوں کے تن بدن پہ جا بجا زرد پھول گنگنا رہے ہیں۔ گاہے گاہے اس کی عنابی پھلیاں پروائی سے اٹھکیلیاں کرتی ہیں تو فضا ان سحر انگیز گھنٹیوں کی جھنکار سے مرتعش ہو جاتی ہے۔ ارے وہ دیکھو وہاں املتاس کے درخت پہ عصفوری دھوبن چڑیا بیٹھی ہے۔
آہ! ‏بسنتی پوش شجرِ زریں اور زعفرانی چھاتی والی عصفورِ فرخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دو، ہاں یہی دو، امید اور خوشی کے سفیر ہیں۔

‏‏عصفورِ فرخ نے گلِ سوسن کے سُگندی شگوفے چن چن کر ایک مالا بنا رکھی ہے، وہ اسے میری سبز پوشاک پہ تُرپنا چاہتی ہے۔ ندیا کنارے راج ہنس تاج لیے میرا منتظر ہے کہ اس کی چکوریوں نے مل کر آن ہی آن میں گلِ خوش بیں کے رنگ برنگ پھول (سفید سُنہرے, نارنجی، گُلابی، سُرخ، بنفشی اور نیلے) چن چن کر میرے تاج پہ سجا دیے ہیں. چاندنی اپنا مخملی دبیز آنچل پھیلا چکی ہے، بدلیاں اس لبھاؤ آمیز شنیل کو سمیٹتی ہوئی اٹھلا رہی ہیں۔ گلہریوں نے سفید موتیے اور سیہ گلاب، تاگے میں پرو پرو کر میرے جھمکے، سنگھار پٹی، رانی ہار، چھاپ، نتھنی، دست بند کنگن، کمر بست پٹکے اور پازیب جیسے گہنے بنا رکھے ہیں. سفید و سرمئی خرگوشوں نے شیشم کے پتوں سے اک خرجین بنا رکھی ہے اور انہوں نے چپکے سے وہ سبھی گجرے اور گہنے اس خرجین میں ڈھانپ دیے ہیں۔ مینا اور کوئل چند ساعتوں کے وقفے سے، تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان زیورات پر عرقِ گلاب چھڑکتی ہیں کہ کہیں شگفتگی ماند نہ پڑ جائے۔ کچھ رنگین تتلیاں صندل کا رسیلہ برادہ فضا میں بکھیرتی ہیں تو وہیں صبا کو مہمیز ملتی ہے اور وہ ننھے منے جگنو اپنی جگمگاتی مٹھیوں میں چندن تھامے چہار سو گلال بکھیر رہے ہیں۔

‏بڈھے برگد کی چھال اور لٹکتے ریشوں کو گانٹھ گانٹھ باندھ کر باغباں نے ایک پنگھوڑا بنا رکھا ہے اور اکاس بیل نے اپنا تن بدن ان ریشوں اور چھال کے گرد ایسے لپیٹ رکھا ہے کہ جیسے انہی کی کوکھ سے پھوٹا ہوا کوئی غنچہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو مور اس پنگھوڑے کے ہر دو جانب اپنے پر سمیٹے، نگہ ٹکائے، دم سادھے اور تاج اٹھائے مجھے تک رہے ہیں کہ کوئی آن ہو اور میں قدم بگیا میں دھروں۔

‏جوبنِ بہار عروج پہ ہے- وقت کی کالی گھٹائیں مجھے گھیرے میں بھر رہی ہیں اور ہر گزرتا پل بجلیوں کی کڑک بن کر مجھ پر گرتا ہے۔ موت ایک طوفانِ بے قرار کی طرح چوکھٹ پہ کنڈلی مارے بیٹھی ہے……… یہ بہار کیوں سمٹ رہی ہے، یہ طوفان کاہے بڑھ رہا ہے۔ میں ڈرتی ہوں شاید میں حرمِ ہستی سے قدم باہر نہ دھر سکوں۔

‏بگیا میں میرے منتظر ساتھیو!!
‏میں شاید تم تک کبھی نہ آ سکوں گی، ہاں مگر یہ میرا تخیل جو ہر روز تمہیں میرے حرم میں لے آتا ہے———– دوستو! امید اور خوشی کا یہ حسین و دل آویز سنگم، تمہارے سبب ہی میرے ملال اور درد کو زائل کئے دیتا ہے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. بہت ہی خوبصورت لکھا ہے خوشی ۔۔۔ الفاظ کو موتیوں میں پرونے کا فن آپ سے بہتر شائد بہت ہی کم لوگ جانتے ہونگے۔۔ ما شا ءاللہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: