اقبال اور معروف مغالطے سیریز 5 : اقبال کی نجی زندگی — احمد الیاس

0
  • 138
    Shares

اقبال کے حوالے سے غیر سنجیدہ ترین مغالطے ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے پھیلائے جاتے ہیں۔ ایسے نیم خواندہ معاشرے میں جہاں خیالات اور خدمات سے زیادہ ذاتیات دل چسپی کا محور رہتی ہوں، گھٹیا قسم کے الزامات اور غلط فہمیاں بھی خاصا نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر ان بے مقصد اعتراضات کا نشانہ کوئی عظیم شخصیت ہو تو نقصان اس شخصیت کا نہیں، خود قحط الرجال کے شکار معاشرے کا ہوتا ہے جو روشنی کے ایک اور سرچشمے سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔

اقبال کے زمانہِ طالب علمی کے حوالے سے ان کی رنگین مزاجی کا بڑھا چڑھا کر تذکرہ کیا جاتا ہے۔ زیبِ داستان کے لیے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے انہیں بازارِ حسن تک لے جایا جاتا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اقبال کی جمالیاتی حس بہت اعلیٰ پائے کی تھی۔ یہ بھی سچ ہے کہ اقبال بہت زندہ دل اور رونقِ محفل قسم کے انسان تھے۔ مگر اقبال کے حالات اور شخصیت کا بغور مطالعہ واضح کردیتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر اندورن بین اور بے نیاز شخص تھے۔ ان کے طرزِ زندگی میں تمام عمر آوارہ خرامی یا ایڈونیچر کا عنصر نہیں رہا۔ ان کے سوانح نگار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ان کا دن تمام عمر لگی بندھی روٹین کے ساتھ گزرتا تھا۔ اقبال کے بہت سے سوانح نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے مزاج میں کسی قدر سستی پائی جاتی تھی۔ انہیں کام کے لیے بھی تیار ہونا یا گھر سے باہر جانا پڑتا تو ٹھنڈی آہیں بھرتے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں قیام کے زمانے کے حوالے سے ان کے جونئیر ہاسٹل فیلو اور دوست غلام بھیک نیرنگ لکھتے ہیں:-

“اقبال کی طبیعت میں اسی وقت سے ایک گونہ قطبیت تھی اور وہ ’’قطب از جا نمی جنبد‘‘ کا مصداق تھا، میں اور کالج کے بورڈنگ ہاؤس میں جو جو اُن کے دوست تھے، سب انھی کے کمرے میں ان کے پاس جا بیٹھتے تھے، وہ وہیں میر فرش بنے بیٹھے رہتے تھے۔”

معروف مسلم رہنماء اور ادیب غلام بھیک نیرنگ گورنمنٹ کالج لاہور میں اقبال کے جونئیر تھے۔ تمام عمر دوستی کا شرف حاصل رہا۔ آپ کی کتاب ‘اقبال کے بعض حالات’ میں اقبال کے زمانہِ طالب علمی کا دلچسپ تفصیلی تذکرہ ملتا ہے۔

ایک ایسا شخص جو ہاسٹل میں دوسرے طلباء کے کمروں تک میں نہ جاتا ہو، اس سے یہ امید رکھنا خام ہے کہ وہ رات کو شہر میں آوارہ گردی کرتا پھرے گا۔ اقبال خود اپنی نظم ‘زہد اور رندی’ میں ایک مولوی صاحب کی زبان سے اپنی آزاد خیالی اور رنگین مزاجی کا خوب مبالغہ سے تذکرہ کرواتے ہیں۔ مگر اس نظم کے یہ اشعار بھی حقیقت بیان کرنے کو کافی ہیں کہ :-

گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی
لیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نے
بے داغ ہے مانندِ سحر اس کی جوانی

اقبال کی نجی زندگی کے حوالے سے ایک اور معروف مغالطہ عطیہ فیضی کے حوالے سے ہے۔ عطیہ فیضی قیامِ یورپ کے زمانے سے اقبال کی بہت اچھی دوست تھیں۔ اقبال اپنے دل کا حال لاہور واپسی کے بعد بھی خط و کتابت میں ان سے کہہ لیتے تھے۔ عطیہ فیضی ایک قدرے ذہین اور نفیس خاتون تھیں جن سے متاثر ہونا یقینی تھا۔ مگر یہ کہنا کہ اقبال کو عطیہ سے محبت ہوئی تھی فقط مبالغہ ہے۔ اس بات کو کوئی ٹھوس ثبوت اقبال کی خط و کتابت میں نہیں ملتا۔ اقبال کو قیامِ یورپ کے زمانے میں محبت ہوئی ضرور تھی مگر عطیہ فیضی سے نہیں بلکہ اپنی ایک جرمن ٹیوٹر ایما ویگے ناست سے۔ اقبال ان سے میونخ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے دوران ملے۔ ایما کے حوالے سے اقبال کے خطوط میں تذکرہ اور خود ایما ویگے ناست کے نام اقبال کی چٹھیاں کافی دل چسپ ہیں۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال انہیں کس قدر پسند کرتے تھے۔ عطیہ فیضی کو ہی خط میں ایما کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں “کس قدر سچی لڑکی تھی”. جرمنی اور جرمن لوگوں سے اقبال کو یوں بھی بہت لگاؤ تھا۔ اپنی بیٹی منیرہ کو بتایا کرتے تھے کہ جرمن عورتیں بہت بہادر اور عقلمند ہوتی ہیں اور بچوں کو جرمن سیکھنے کی تاکید کرتے تھے۔ کہا جاسکتا ہے کہ جرمنی سے محبت نے ایما ویگے ناست سے لگاؤ پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔ اور ایما سے محبت نے جرمنی کے لیے اقبال کی پسندیدگی کو بڑھا دیا۔

عطیہ فیضی ایک تعلیم یافتہ، شائستہ اور ثروت مند خاتون تھیں جنہیں اقبال اور شبلی سمیت متعدد مشاہیر کی صحبت کا شعف حاصل ہوا۔ بطور دوست آپ اقبال کے چند قریبی لوگوں میں رہیں مگر معاشقے کے حوالے سے مبالغے فسانہ طرازی سے زیادہ معلوم نہیں ہوتے

مگر عطیہ اور ایما سے اقبال کے احترام پر مبنی دوستانہ تعلق کو جس طرح چٹپٹی و ڈرامائی ذہنیت کے لوگ مرچ مصالحہ لگا کر بیان کرتے ہیں وہ قابلِ افسوس ہے۔ گویا رومانوی محبت یا خواتین سے علمی سرگرمیوں کے دوران دوستی اپنے آپ میں کوئی گناہ ہو یا ذہنی مرض۔ یہ اول درجے کی رجعت پسندی ہے جس کا سب سے زیادہ شکار اقبال کے مخالف چند ‘ترقی پسند’ اور ‘روشن خیال’ حلقے ہیں۔ اس بات کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ ایما ویگے ناست کے لیے بھرپور پسندیدگی کے باوجود آپ نے ہند کے ہر ‘شاعر و صورت گر و افسانہ نویس’ کی طرح رومانوی محبت کو سر پر سوار نہیں ہونے دیا۔ ایما سے فرقت نے ان کی شخصیت پر کوئی منفی اثر نہ ڈالا۔ انگلستان میں لیا گیا یہ فیصلہ کہ اب شاعری صرف قومی مقاصد کے لیے مخصوص رہے گی، اس محبت کے بعد بھی بالکل اٹل رہا۔ اقبال کی شاعری پر عطیہ یا ایمے ویگے ناست سے متاثر ہونے کے نشانات بالکل وقتی اور بہت برائے نام ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال کس قدر مضبوط اعصاب اور پختہ ارادے کے آدمی تھے۔

اقبال کے حوالے سے دیگر معروف اعتراضات انگریز حکمرانوں کے قصیدے لکھنے، نائٹ ہڈ کے خطاب اور نواب آف بھوپال سے وظیفہ لینے وغیرہ کے ہیں۔ اول تو یہ اعتراضات ہی ایک مخصوص فکری پیرائے کے تناظر میں پیدا ہوتے ہیں جو قوم پرستی اور اشتراکیت کی دوہری بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اقبال نہ تو اشتراکی تھے نہ قوم پرست۔ وہ اشتراکیت اور قوم پرستی کے معیارات کے پابند نہیں تھے۔

ثانیاً یہ کہ انگریزی سرکار اس دور کی زندہ حقیقت تھی۔ قصیدوں کا قصہ اس دور کا ہے جب ابھی آزادی کی کوئی باقاعدہ تحریک بھی شروع نہ ہوئی تھی۔ مسلمان مختلف ادارے قائم کررہے تھے۔ اس سلسلے میں اکثر انگریز سرکار کی مالی و انصرامی مدد درکار ہوتی۔ سرکار یہ مدد خیرات میں نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہی کرتی تھی۔ مگر اس پیسے کو مسلمانوں کے مفاد کی خاطر حاصل کرنے کے لیے سر سیدّ کے دور سے ہی انگریز سرکار سے صلح اور تعاون کی پالیسی چلی آرہی تھی۔ حتیٰ کہ معروف دینی مدارس کے بانیوں نے بھی اس پالیسی کو اختیار کیا اور انگریز سرکار کی مدد حاصل کی۔ یہ بہت دانشمندانہ پالیسی تھی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شبلی و حالی جیسے بزرگوں سے لے کر متعدد علماء و مشائخ نے انگریز حکمرانوں کے قصیدے لکھے۔ یہ قصیدے قوم کی سیاسی و مالی ضروریات کے لیے لکھے جاتے نا کہ ذاتی فوائد کے لیے۔ اور عموماً مختلف تقاریب میں انگریز حکام کا بہ طور مہمان خیر مقدم کرنے کے لیے پڑھے جاتے۔ اقبال انجمنِ حمایتِ اسلام لاہور کے فلاحی اور تعلیمی منصوبوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے، نیز مسلم لیگ کی خاطر حمایت جمع کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ اسی تناظر میں لکھے گئے سیاسی قصیدوں کو اقبال کے کسی مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا۔

اقبال اور فیض سمیت سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے متعدد مشاہیر کے استاد مولوی سیدّ میر حسن اپنی ذات میں ایک مکمل یونیورسٹی تھے۔ انہیں اقبال کے سفارش پر ‘شمس العلماء’ کا خطاب ملا

نائٹ ہڈ کے خطاب کے حوالے سے سیدّ وحید الدین اپنی معروف کتاب ‘روزگارِ فقیر میں لکھتے ہیں:-

“ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے واقعات میں ان کے “نائٹ ہڈ” کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ جن دنوں انہیں “سر” کا خطاب ملا، پنجاب کی سیاسی فضا خاصی مکدر تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو خطاب ملا تو ان کے بعض دوست بہت جزبز ہوئے۔ ۔ ۔ میں ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں اس خطاب کی مبارکباد دینے حاضر ہوا تو وہ پلنگ پر نیم دراز حقّہ پی رہے تھے۔ میں سلام کرکہ بیٹھ گیا۔ پہلے مبارکباد دی، پھر لوگوں کے اعتراضات کا قصہ چھیڑ دیا۔ کہنے لگے تمہیں شائد معلوم نہیں مجھے یہ خطاب کس طرح ملا۔ جس زمانے میں خطاب کی سفارش ہوئی اس سے پہلے پنجاب کے چیف جسٹس سر شادی لال نے مجھے بلا کر کہا کہ مجھ سے گورنمنٹ نے خطابات کے لئے سفارشیں طلب کی ہیں اور میں تمہارا نام خان صاحب کے خطاب کے لئے تجویز کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا میں اپنے لئے کوئی خطاب نہیں چاہتا آپ زحمت نہ فرمایئے، وہ کہنے لگے اس قدر جلد فیصلہ نہ کرو بلکہ پہلے اچھی طرح غور کرلو۔ میں نے کہا میں غور کر چکا مجھے خطاب کی ضرورت نہیں۔ دو تین دن کے بعد پھر شادی لال کا پیغام ملا کہ مجھ سے مل جاؤ۔ میں نے پیغام بر کی زبانی کہلا بھیجا کہ خطاب کے سلسلہ میں مجھ سے گفتگو کرنا بے سود ہے کیونکہ میں جو فیصلہ ایک بار کر چکا سو کرچکا، ہاں اگر کوئی اور بات ہے تو مجھے آپ سے ملاقات کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ اس واقعے کو کچھ دن گزرے تھے کہ میکلگن صاحب گورنر پنجاب نے مجھے بلا بھیجا۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا اقبال مجھے انتہائی افسوس ہے کہ گورنمنٹ نے تمہاری ادبی خدمات کا اعتراف کرنے میں تساہل روا رکھا ہے۔ میں اس وقت خطابات کی سفارش کررہا ہوں اور میری خواہش ہے کہ نائٹ ہڈ کے لئے تمہاری سفارش کی جائے۔ لیکن اس سے قبل معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ تمہیں اس پر کوئی اعتراض تو نہیں۔ میں نے کہا اسلام سماجی امتیازات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ لیکن اگر میرا یہ مسلسل انکار گورنمنٹ کے جذبات مجروح کرنے کا باعث ہو تو مجھے تامّل نہیں۔ میرے اس جواب سے میکلگن صاحب کے چہرے پر مسرّت جھلکنے لگی۔ “

سیدّ وحید الدین مزید لکھتے ہیں :-

“گورنر پنجاب ڈاکٹر صاحب کے خطاب کے بارے میں گفتگو کرچکے تو کہنے لگے شمس العلماء کے خطاب کے سلسلہ میں اس دفعہ پنجاب کی باری ہے۔ میں نے چند سرکردہ مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ موزوں نام تجویز کریں۔ اگر تمہارے ذہن میں کوئی مناسب نام ہو تو بتاؤ۔ میں نے کہا اس شرط پر بتاتا ہوں کہ اس کے بعد کسی اور نام پر غور نہ کیا جائے۔ میکلگن صاحب نے اقرار سے پہلے کچھ تامل کیا۔ اور پھر کہا اچھا تم نام بتاؤ۔ میں نے اپنے استاد مولوی سید میر حسن پروفیسر مرے کالج سیالکوٹ کا نام لیا۔ میکلگن صاحب نے کہا اس سے قبل یہ نام نہیں سنا۔ اچھا یہ بتائے کہ انہوں نے کون کون سی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ انہوں نے کوئی کتاب تو تصنیف نہیں کی لیکن میں ان کی زندہ تصنیف آپ کے سامنے موجود ہوں جسے گھر بلاکر “سر” کے خطاب کی پیشکش کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب گورنر پنجاب سے رخصت ہوئے اور چند قدم جاکر پھر واپس آگئے اور کہا ایک اور شرط بھول گیا ہوں کہ اگر شمس العلما کے خطاب کی سفارش منظور ہوجائے تو میرے ضعیف العمر استاد کو یہ سند لینے کے لئے سیالکوٹ سے لاہور آنے کی زحمت نہ دی جائے۔ یہ شرط بھی مسٹر میکلگن نے منظور کرلی۔ چنانچہ مولوی صاحب کے خطاب کی سند ان کے صاحبزادے سید علی نقی شاہ کو جو گورنمنٹ ہاوس میں بطور معالج ملازم تھے گورنر پنجاب نے عطا کی اور انہوں نے سند کو اپنے والد کے پاس سیالکوٹ پہنچا دیا”

واضح رہے کہ سر کا خطاب ملنے کے بعد بھی برٹش راج کے حوالے سے اقبال کے تنقیدی رویے میں فرق نہ آیا۔ بلکہ حالات کے سبب اقبال کا لہجہ انگریز سرکار کی پالیسیوں کو لے کر قدرے سخت ہی ہوا۔

کیپشن : اقبال سیدّ سلیمان ندوی اور سر راس مسعود کے ہمراہ۔ سر راس مسعود سرسیّد احمد خان کے پوتے اور اقبال کے قریبی دوست تھے۔ اقبال اور راس ایک دوسرے کے بے حد قدردان تھے

اس کے علاوہ جہاں تک نواب آف بھوپال کی طرف سے وظیفے کا تعلق ہے تو وہ سرسیّد کے پوتے اور اقبال کی قریبی دوست سر راس مسعود کی تجویز پر مقرر کیا گیا۔ سر راس مسعود حکومتِ بھوپال میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ بھوپال ہند اسلامی تمدن کا اہم مرکز تھا جس کے نواب مذہب سے لگاؤ اور شریف النفسی کے سبب تمام مُسلم ہند میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ علمی سرگرمیوں کی سرپرستی بھوپال، حیدرآباد اور بہاولپور سمیت اکثر مسلم ریاستیں کرتی تھیں۔ یہ مسلم امراء کی دیرینہ روایت رہی ہے اور بڑے بڑے علماء، حکماء اور مشاہیرِ ادب وظیفہ وصول کرتے رہے ہیں۔ ہماری تمدنی روایت میں اسے کوئی برائی تصور نہیں کیا جاتا بشرطیکہ وظیفہ یا اعزاز میرٹ پر ہو۔

ان اعتراضات کے علاوہ بھی ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر اعتراضات گھڑے جاتے ہیں کہ جو اس قابل بھی نہیں کہ انہیں نیم سنجیدگی کے ساتھ ہی جواب دینے کے قابل سمجھا جائے۔ کچھ احساس کمتری کے مارے بونوں کی لیے توجہ حاصل کرنے کا بہترین طریقہ کسی قدآور شخصیت پر تھوکنے کی کوشش ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ادبی و فکری دنیا کے کئی بونوں کے لیے ایسی قد آور شخصیت آج کل اقبال ہیں۔ عوام کی سادہ لوحی اور لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر باقاعدہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ مگر بے سود۔ سورج پر تھوکا ہمیشہ کی طرح تھوکنے والے کے منہ پر ہی گرتا ہے۔ اقبال کل بھی پورے قد سے اور روشن کردار کے ساتھ کھڑے تھے۔ آج بھی ان کی فکر ہی نہیں، شخصیت بھی ملت کے لیے مینارہِ نور ہے۔


اس سیریز کا پہلا مضمون “اقبال اور حکمائے مغرب”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا دوسرا “اقبال اور مذہبی رواداری”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا تیسرا مضمون “اقبال اور مسئلہِ قومیت و وطنیت”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا چوتھا مضمون “صوفی، شاعر یا فلسفی”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: