شادی: مناسب وقت، ذاتی آزادی اور Out Of The Box بولڈ فیصلے: سحرش عثمان

1
  • 43
    Shares

جو میں نے چھیڑا ہے راگ ناقد، وہ راگ بے وقت کا نہیں ہے۔

عمر کے اس حصے سے گزر رہے ہیں جہاں ہر دوسرے دن کسی دوست کا پیغام موصول ہوتا کہ اسے “عمر قید” ہو رہی۔ مبارک باد دیتے ہوئے دل خوشی اور عجیب اداسی کا آماجگاہ بنا ہوتا ہے۔
خوشی اس بات کی کہ میرے دوست ٹھکانے لگ رہے ہیں زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف گامزن ہو رہے ہیں۔ عرف عام میں یوں کہ سیٹل ہورہے ہیں۔ اور اداسی یہ کہ دوستوں کی نمک کی کان میں نمک ہوتا دیکھنا پڑتا ہے۔
ویسے تو اللہ کا ہر ہر بات پر بے پناہ شکر بنتا ہے۔
لیکن اس بات پر یقینا ہمارا مشکور ہونا ناگزیر ہے کہ زیادہ تر دوست “نارمل” ہی ہیں۔ خوشی کی بات پر خوش ہی ہوتے ہیں۔
لیکن جنس با جنس پرواز کا مظاہرہ بھی تو ہونا ہی تھا نا۔
لہذا کچھ دوست ہم سے بھی ہیں۔ تھوڑے پاگل تھوڑے فسادی بہت عجیب اور مستقل اداس پلس ناراض۔
ایسی ہی ایک دوست سے مفصل گفتگو کے بعد یہ تحریر لکھنے کی تحریک ملی۔
تو ہم سی ہی اس دوست کا مسئلہ یہ ہے انہیں سپیس چاہیے پرسنل فریڈم کی گارنٹی چاہیے ہر رشتے میں۔ اور پورا ہیومن سٹیٹس چاہیے ہر تعلق سے۔
آسان زبان میں کہا جائے تو خاتون کو شادی سسٹم میں موجود مسائل نئی زندگی شروع کرنے سے ڈراتے ہیں۔
دو دن دو راتیں ہم نے بستر پر چت لیٹ آسمان ہمارا مطلب ہے چھت کو گھور گھور کر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس موضوع پر اب اگر نہ لکھا تو بہت بڑا اپ شگن ہوجائے گا۔اور ٹیپکل پاکستانی کی طرح ہم بھی اپ شگن سے بہت ڈرتے ہیں۔
خیر۔۔۔پیاری سہیلی۔ اور سہیلیو! سیانے کہتے ہیں کہ شادی کے لیے پرفیکٹ ٹائم اور پرفیکٹ جوڑ کبھی میسر نہیں ہوتا۔ خود ہی کمپرومائز کر ٹھوک بجا کر صحیح کرنا پڑتا ہے میسر وقت بھی اور سپاؤز بھی۔
یاد رہے یہ سپاؤز ہے سپوز نہیں۔ ایک ہی نکتے سے محرم مجرم بھی بن جایا کرتے۔
بالکل ایسے ہی ہم نے بہت ساری چھوٹی چھوٹی باتیں اکھٹی کر کے اپنی زندگیاں اتنی مشکل کر لی ہیں کہ اب آسانی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔
گلزار کے الفاظ میں کہا جائے تو یوں کہ۔۔

ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں

اب سمجھ نہیں آتا کہاں سے شروع کیا جائے کونسا دھاگہ کھینچا جائے کہ یہ ریشم سلجھ جائے ٹوٹنے سے پہلے۔ کیونکہ دھاگہ توڑ دینا تو کوئی حل نہ ہوا۔ ٹوٹے ہوئے سرے کہاں کہاں۔سے جوڑیں گے ہم؟
ہم سی بہت سی لڑکیاں جو یہ سمجھتی اور برملا کہتی ہیں کہ شادی ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ اور وہ “آؤٹ آف دی باکس” سوچتے ہوئے اکیلے رہنے کا فیصلہ کرنا چاہتی ہیں۔ تو ان سب کی خدمت میں عرض کرنا چاہتی ہوں کہ آؤٹ آف دی باکس سوچنے کا مطلب فطرت انسٹنکٹ سے فرار نہیں ہوتا۔
اکیلے رہنے کا فیصلہ نئے تعلقات بنانے سے خوفزدہ ہونا اور اپنی پرسنل فریڈم کے کھو جانے کا خوف بولڈ فیصلہ نہیں کہلاتا۔
مضبوط اور بولڈ فیصلے وہ ہوتے ہیں جب آپ اپنی ذات کے ساتھ وابستہ دوسرے لوگوں کہ آسانی خوشی کے لیے کچھ آزادیاں خوشی سے سرنڈر کرتے ہیں۔
بڑا ہی روایتی سا جملہ ہوگیا ہے۔ پر کیا کریں یہ ہی سوسائٹی کو چلانے کے اصول ہیں کو ایگزسٹنس۔۔ امداد باہمی۔

اب آتے ہیں پرسنل فریڈم پر۔ تو ایسا ہے پرسنل فریڈم سا شعور ہمارے معاشرے میں ابھی خواب ہے خواب نا تمام جس کی تعبیر تراشنے کے لیے ہمیں نسلوں کی تربیت کرنا پڑے گی۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو سکھانا پڑے گا سپیس دینے سے شوہر کسی اور کا نہیں ہوجاتا۔ ہمیں اپنے بیٹوں کو عورت کو پورے فرد کا سٹیٹس دینا سکھانا پڑے گا۔
ہمیں اپنے بچوں کو حق اختیار فرائض لینے دینے کے ساتھ آزادیوں کا احترام سکھانا پڑے گا۔ اس کے بغیر تو یہ ممکن نہیں کہ صدیوں سے رواجوں کے عفریتوں کے چنگل میں پھنسا یہ سماج پرسنل فریڈم کو تسلیم کرلے۔
سماج میں کوئی بھی تبدیلی اچانک تو رونما نہیں ہوجاتی۔ سالوں دھیمی آنچ پر سلگتے مسائل کا لاوا پھٹ پڑتا ہے تو راہ ملتی ہے۔ پر اس پھٹنے والے لاوا کا بہاؤ کبھی کبھار سماج کو بھی بہا لے جاتا ہے ساتھ۔ اور سماج کا ٹوٹنا تو ہمارے تمہارے کسی کے فائدے میں نہیں ہے نا۔چاہے ہم مانیں یا نہیں لیکن میں اور تم بھی اسی سماج کے سٹیک ہولڈرز ہیں باقی سب کی طرح۔ تو اگر اس سماج کو مزید ٹوٹ پھوٹ سے بچانا ہے اسے نئے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے تو ایفرٹ کرنا پڑے گی۔ بہاؤ کے خلاف تیرنا پڑے گا۔ یہ ہی ہیروک فگر کی نشانی ہے۔
دریا سے باہر چلے جانا تو کوئی ہیرو شپ نہ ہوئی۔
فراز کہتا ہے نا۔

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا۔
اپنے حصے کی کوئی شمع جلانے جاتے۔

اور ایک اور نکتہ سن لو!
آپ یا کوئی بھی شخص ایک خاص حد تک اکیلا رہ سکتا ہے۔
خواتین کے معاملے میں اگر زیادہ متعین طور پہ ہو جایا جائے تو پیاری خواتین ایک خاص عمر تک ہی اکیلے رہ سکتی ہیں آپ۔ اب اس خاص عمر سے کوئی طبعی عمر مراد لے تو اس کی اپنی مرضی۔ ہمارا اشارہ طبعی عمر کی طرف ہے۔
آپ صوفی کے درجے پر بھی فائز ہیں تو بھی فزیکل نیڈز سے انکار نہیں کرسکتے۔
چاہے آپ کا تعلق کسی بھی جنس سے ہو۔
رب کا کہہ لو یا فزیکل سائنس کا کہہ لو لیکن نظام بہرحال یہ ہی ہے۔
ہر ذی روح ہمدم کا محتاج ہے۔ جو نہیں ہے وہ نارمل نہیں۔

مرے جہاں میں سمن زار ڈھونڈنے والے
یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے میں

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت اچھی طرح سے بیان کیا ہے آپ نے۔ زندگی میں زمہ داری اٹھائے بنا صرف اپنی ذاتی فریڈم اور اسپیس کا سوچنا مجھے تو انسانی سوچ سے کچھ الگ لگتی ہے۔ بھئی، یہ جانور بھی تو زیادہ تر یہی کرتے ہیں۔ آپ نے کیا تو کیا کمال کیا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: