میرا “دانش” ہوا ایک سال کا — معلمہ ریاضی

0
  • 19
    Shares

ایک فلسفی سوچ میں گم بیٹھا ہوا تھا کہ اسکی زوجہ نے اس سے کہا، ’اجی سنتے ہو! ہمارا منا ایک سال کا ہو گیا ہے اور ماشاءاللہ سے چلنے لگا ہے‘۔
فلسفی نے چونک کر زوجہ کی طرف دیکھا اور پوچھا، ’کتنے دن سے؟‘
جواب ملا، ’آج پورے دس دن ہوگئے‘۔
فلسفی نے خفگی سے کہا، ’تم اب بتا رہی ہو؟ اب تو کافی دور نکل گیا ہوگا۔۔۔‘۔
ــــــــــــــ
کچھ یہی حال معلمہ کا ہوا۔ کل سحرش عثمان صاحبہ کی تہنیتی تحریر سے معلوم ہوا کہ خیر سے میاں دانش ایک سال کے ہوگئے ہیں۔۔۔
یقیناً کیک کَٹا ہوگا۔ تالیاں بجی ہونگی۔ اہلِ دانش نے پھندنے والی تکون ٹوپی پہنی ہوگی۔ گانا بھی گایا گیا ہوگا،

’تم ’جیو‘ ہزاروں سال۔۔۔
ہے میری یہ آرزو۔۔۔
ہپی برتھ ڈے ٹو یو
ہپی برتھ ڈے ٹو یو
ہپی برتھ ڈے ٹو دانش
ہپی برتھ ڈے ٹو یو
ــــــــــــــــــ
مگر معلمہ کو کسی نے مدعو نہیں کیا۔ نا کیک بھیجا نا پوچھا، ’دانش میں کیوں لکھتی ہیں؟‘
ہو سکتا ہے پوچھنے پہ خدشہ ہو کہ کہیں جواب میں ہم ’مرچیں‘ نا تھما دیں۔۔۔
دراصل معلمہ اور انکی مرچیں اب ایک ’برانڈ‘ بن چکی ہیں۔۔ مگر ابھی ہمارا موضوع ’سالگرہءدانش‘ ہے
گو کہ ہمیں مدعو نہیں کیا گیا، مگر چار تحاریر ہماری بھی زینتِ دانش بنی ہیں اور جہاں ایک بار مہمان نوازی ہوجائے، ہماری خاندانی روایت کا تقاضہ ہے کہ اس خاندان کی خوشی و غمی کی خبر رکھی جائے۔
اللہ ہر غم سے ’دانش و اہلِ دانش‘ کو بچائے البتہ خوشی میں زبردستی گھسنے ہم آگئے ہیں۔۔
روک سکتے ہو تو روک لو۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
پچیس نشانات کے ماہانہ امتحان میں جماعت ہشتم کے نناوے فیصد طلبہ و طالبات کے حاصل کردہ نشانات بیس سے کم تھے۔ فقط ایک طالبِ علم نے پورے پچیس نشانات حاصل کئے۔ ہم نے پوری جماعت کو بٹھا کر اس ایک شاگرد کو کھڑا کردیا اور کہا، ’شرم نہیں آئی تم کو گھامڑ؟ اپنے ساتھیوں کا ساتھ نہیں دیا۔ بہت شوق ہے منفرد نظر آنے کا۔۔۔ اتحاد توڑ دیا۔۔۔ ‘
شاگرد نے ہمارے الفاظ پہ کوئی توجہ نا دی مگر ہمارے لہجے کی شوخی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مسکراتا رہا۔ ایک دوسرے شاگرد نے اپنے برابر والے ساتھی کے کان میں سرگوشی کر کے ٹوٹی ہوئی خبر دی، ’یہ مس اُسے نہیں بلکہ ہمیں ڈانٹ رہی ہیں۔۔۔‘
ــــــــــــــــ
تو جناب! ہم آج بھی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے دانش کی کوئی تعریف نہیں کریں گے۔۔۔ شاگرد کو کہے الفاظ کو دانش کے انداز پہ لاگو کر کے آپ خود سمجھ لیں کہ ہم کہنا کیا چاہتے ہیں۔۔
کیونکہ عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: