علامہ اقبال اور آج کی عرب دُنیا — پروفیسر فتح محمد ملک

0
  • 104
    Shares

آج کی عرب دُنیا اِسلام کے دو متضاد اور متحارب تعبیروں کے درمیان جنگ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک اسلام کا سیاسی نظام جمہوریت ہے اور اسلام میں شہنشاہیت کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ اِس کے برعکس عرب سلاطین و شیوخ کے درباری مفسروں کا کہنا ہے کہ اسلام کا سیاسی نظام موروثی شہنشاہیت ہے اور اسلام میں جمہوریت کا قطعاً کوئی جواز نہیں۔ عرب دُنیا کے اِس فکری اور سیاسی تصادم پر مجھے اقبال کا خطبۂ الہ آباد یاد آتا ہے۔ سن اُنیس سو تیس میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبۂ صدارت پیش کرتے وقت کہا تھا کہ برصغیر میں مسلمانوں کی جداگانہ قومی ریاست کے قیام سے ایک فائدہ ہندوستان کو پہنچے گا اور دُوسرا اسلام کو۔ قیامِ پاکستان سے اسلام کو عرب ملوکیت کے چُنگل سے رہائی کا موقع نصیب ہوگا اور یوں اسلام کی حقیقی رُوح کی بازیافت اور اس حقیقی رُوح کو روحِ عصر کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا:

“I therefore demand the formation of a consolidated Muslim State in the best interest of India and Islam. For India it means security and peace resulting from an internal balance of power; for Islam an opportunity to rid iteself of the stamp that Arabian imperialism was forced to give it, to mobilize its law, its education, its culture, and to bring them into close contact with its own original spirit and with the sprit of modern times.”(1)

درج بالا سطور میں علامہ اقبال نے جس نظامِ سیاست و حکومت کو Arabian Imperialism قرار دیا ہے اُسے سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں’’جاہلیت خالصہ‘‘ سے موسوم کیا ہے اور عرب دانشور طارق رمضان نے اپنی تازہ تصنیف میں Petro-monorchy کا نام دیا ہے(۲)۔ طارق رمضان کا کہنا ہے کہ:

“Some of the leaders of the Muslim Brotherhood, like Abdel Moneim Abdul Futuh in Egypt or Rached Ghannouchi (who has already appealed for full acceptance of all the implications of the turn of democracy), echo the position taken by the Moroccan movement al-Adl Wal-Ihsan (العدل والاحسان), whose priority , as Sheikh Yassine’s daughter Nadia Yassine Explains it, is to found a democratic republic (as opposed to the monarchy)…..Islamists are not the only ones looking for new formulations. Even Prince al-Hassan bin Talal of the perceived secular Jordan has moved the debate toward what he labels an Islamic ‘middle way’ (wisatiyyaوسطیہ ), a ‘civil society’ (mujtama’ madaniمجتماع مدنی) and the state that represents it by virtue of democratic rules.”(3)

گویا تمام، نئے پُرانے، سیاسی تجزیہ نگار عرب شہنشاہیت کو عرب دُنیا کے عصری سیاسی اور روحانی اضطراب کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

تیونس کے شہر سدی بوزید میں ۱۷دسمبر۲۰۱۰ء کو انتظامیہ کے اہل کاروں نے سڑک کے کنارے محمد بوعزیز کی چھابڑی کو اُلٹ کر سامانِ تجارت کو خاک میں ملا دیا۔ اِس ظلم پر احتجاج کرتے ہوئے محمد بوعزیز نے خود کو آگ کے شعلوں کی نذر کر دیا۔ اِس المیہ کے ردعمل میں ہنگامے شروع ہوئے جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے مُلک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابھی یہ ہنگامے فرو نہیں ہوئے تھے کہ ۲۵جنوری ۲۰۱۱ء کو قاہرہ کے ’’میدان التحریر‘‘ میں خلقِ خُدا کا ایک مُنہ زور سیلاب دَر آیا۔ عرب دُنیا کے شہنشاہوں اور حکمران شیوخ کے خلاف یہ عوامی جمہوری جدوجہد آن کی آن میں مُلک در مُلک پھیلتی چلی گئی۔ عرب دُنیا کا حکمران طبقہ احتجاج اور بغاوت کی اِن آوازوں پر لرزہ براندام ہے۔ ہر چندتیونس کو اِس عرب بیداری کا نقطۂ آغاز قرار دیا جا رہا ہے تاہم میں اس موضوع پر اپنی بات لبنان کی عوامی انقلابی تحریک سے شروع کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

(۲)
اگر علامہ اقبال آج زندہ ہوتے تو وہ یہ جان کر بہت خوش ہوتے کہ اب سے تقریباً ایک صدی پیشتر انہوں نے طرابلس کی جنگ کے دوران اُمتِ مسلمہ کی راکھ میں جس چنگاری کی نشاندہی کی تھی وہ آج لبنان میں حزب اللہ کی صورت میں بھڑک کر ایک شعلۂ جوالہ بن گئی ہے۔ ہر چند 1912ء کی طرابلس کی جنگ میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم اقبال نے اِس جنگ کے دوران مسلمانوں کے شوقِ شہادت اور جذبۂ ایثار کے اِکا دُکا قابلِ فخر مناظر دیکھ کر ملتِ اسلامیہ کی حیاتِ نو کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے تھے۔ ایثار اور شہادت کی ایک ایسی ہی مثال اقبال کی نظم ’’فاطمہ بنتِ عبداللہ‘‘ کا مرکزی کردار ہے۔ اقبال کی یہ نظم طرابلس کی جنگ میں غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہونے والی لڑکی فاطمہ کا مرثیہ ہے جو نالۂ ماتم سے شروع ہو کر نغمۂ عشرت میں ڈھل جاتا ہے:

یہ کلی بھی اِس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی

اسرائیلی جارحیت کے خلاف لبنان میں حزب اللہ کی تحریکِ مزاحمت نے جہاں اِس چنگاری کو ایک شعلۂ جوالہ بنا دیا ہے وہاں اِس احساس کو بھی تقویت بخشی ہے کہ عرب دُنیا میں اقبال کے پیغام کے بار آور ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اقبال نے فلسطین کے مسئلے پر رائل کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ۳جولائی ۱۹۳۷ء کو شائع ہونے والے اپنے طویل بیان میں عرب عوام کو دو مشورے دیئے تھے۔ اوّل یہ کہ ’’مشرقِ قریب کے عوام کی بقا صرف اِس راز میں مضمر ہے کہ ترکوں اور عربوں کا اتحاد جلد از جلد قائم ہو جائے۔ ‘‘ دوم یہ کہ ’’عرب عوام اپنے بادشاہوں کے مشوروں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں۔ اِس لیے کہ یہ حکمران اپنے ضمیر اور اپنے ایمان کی روشنی میں فلسطین سے متعلق کوئی درست راہِ فکر و عمل اختیار کرنے کے اہل نہیں۔ اِن کی تمام تر توجہ اِن کے اپنے تخت و تاج کی حفاظت پر مرکوز ہے۔ ‘‘ دُنیائے اسلام کی پسماندگی کے موضوع پر پنڈت جواہر لعل نہرو کے اُٹھائے ہوئے سوالات کے جواب میں بھی اقبال نے مسلمان سلاطین و ملوک کو ہی دُنیائے اسلام کی پسماندگی کا سب سے بڑا سبب قرار دیا تھا۔ (۴) اقبال نے اس باب میں صرف اپنی سیاسی سرگرمیوں پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ اپنے شاعرانہ فکر و احساس کو بھی تحریک دی تھی۔ ’’فلسطینی عرب سے‘‘ کے عنوان سے درج ذیل نظم میں اُنہوں نے دُنیائے عرب کو ایک نئی راہِ عمل کی جانب یوں متوجہ کیا تھا۔

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے!
تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے!
سُنا ہے میں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے!

آج یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اقبال کا یہ پیغامِ خودی عرب عوام کے دلوں میں گھر کر چکا ہے۔ حزب اللہ کا طرزِفکر و عمل تو اِس بات کا شاہد ہے کہ بالآخر عرب عوام نے اپنے سلاطین و ملوک سے مایوس ہو کر اپنی تقدیرخود اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ نتیجہ یہ کہ جہاں دیگر حکمرانوں کی مانند لبنان کا وزیراعظم، اسرائیل کے نیپام بموں کا مقابلہ سرعام گریہ و زاری کے ساتھ کرنے میں مصروف ہے وہاں حزب اللہ نے عوام کی قوتِ ایمانی اور اجتماعی جذبۂ عمل سے اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔ اِس پرمجھے اقبال کے مجموعۂ کلام ’’پس چہ باید کرد اے اقوام شرق‘‘ کا باب’’ حرفے چند با اُمتِ عربیہ‘‘ یاد آتا ہے۔ اِس نظم کا پہلا شعر ہے:

اے در و دشتِ تو باقی تا ابد
نعرۂ لَا قیصر و کسریٰ کہ زد؟

یوں اقبال عرب عوام کو اِس حقیقت کی جانب متوجہ کرتے ہیں کہ جن عرب مسلمانوں نے قیصر وکسریٰ کا تخت و تاج چھین کر اسلام کے انقلابی سیاسی نظام کی بنیادیں اُستوار کی تھیں آج خود اُن کی اولاد پر قیصر و کسریٰ کا نظامِ حکومت مسلط ہے۔ اِس نظامِ ملوکیت کو مغربی استعمار نے جنم دیا تھا اور آج مغربی استعمار ہی اِس نظامِ ملوکیت کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ اگر عرب دُنیا اس استعمار کے فریب سے بچنا چاہتی ہے تو اپنے حوض سے فرنگیوں کے سارے اُونٹ نکال باہر ہانک دے۔ یہ اُونٹ تمہارے حوض خالی کیے دے رہے ہیں۔ پہلے اُنہوں نے عربوں کی وحدت کو پارہ پارہ کیا اور پھر ٹکڑوں میں بٹی ہوئی اِس قوم کو لاچار اور محتاج بنا دیا:

اے ز افسونِ فرنگی بے خبر
فتنہ ہا در آستینِ او نگر
از فریبِ او اگر خواہی امان
اشترانش را ز حوضِ خود براں
حکمتش ہر قوم را بے چارہ کرد
وحدتِ اعرابیانِ صد پارہ کرد

اِس سنگین صورت حال سے نجات کی فقط ایک ہی صورت ہے کہ عرب عوام مغربی استعمار کے اِن اونٹوں کو اپنی خدا داد دولت کے سرچشموں سے دُور بھگا دیں، اپنے ایمانِ محکم پر بھروسہ کریں، اپنی عوامی قوت پرانحصار کریں اور اپنے بدن میں حضرت عمرفاروقؓکی روح کو دوبارہ زندہ کردیں:

عصرِ خود را بنگر اے صاحبِ نظر
در بدن باز آفرین رُوحِ عمرؓ
قوت از جمعیتِ دینِ مبین
دین ہمہ عزم است و اخلاص و یقین!

مژدہ ہو کہ عرب عوام نے عرب بادشاہوں پر تکیہ کرنے کی بجائے دینِ مبین کی دائمی حکمت سے فیضان حاصل کرتے ہوئے اپنا دفاع خود اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ اِس کی نمایاں ترین مثال لبنان میں حزب اللہ کی روز افزوں مقبولیت ہے۔ اِس حقیقت نے میرے دِل کو اِس احساس سے سرشار کر دیا ہے کہ بالآخر علامہ اقبال کا پیغام عرب عوام کے دلوں میں اُتر گیا ہے اور یوں ملتِ اسلامیہ کی حیاتِ نو کی راہیں روشن ہو گئی ہیں۔

(۳)
حزب اللہ کی یہ تحریک ساری کی ساری عرب دُنیامیں تحریکِ مزاحمت و مقاومت کے باب میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی۔ اِس بارانِ رحمت کا نزول تیونس سے شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اِس نے ساری کی ساری دُنیائے عرب کو لہر در لہر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس عرب بیداری میں علامہ اقبال کے فکر و تخیّل کا فیضان شامل ہے۔ چنانچہ آج عرب دانشور علامہ اقبال کی اس عطا کا فراخدلی کے ساتھ اعتراف کرنے میں مصروف ہیں۔ اقبال کی ساری کی ساری شاعری عربی زبان کے قالب میں ڈھل چکی ہے۔ آج عرب اسے تحت اللفظ میں بھی مزے لے لے کر پڑھتے ہیں اور موسیقی کی محفلوں میں بھی اِس کی گائیکی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آج کل مصر کے میدانِ التحریر (Tehreer Square) میں فوجی آمریت کے خلاف دریائے نیل کے مانند ٹھاٹھیں مارتے ہوئے ہجوم کے مناظر دیکھتے ہوئے مجھے ڈاکٹر نجیب جمال کے ’’اقبال اور مصر‘‘(۵) کے عنوان سے لکھے گئے متعدد مضامین بے ساختہ یاد آئے جن میں اقبال کے فلسفہ و شعر کے موضوع پر مصری مصنفین کی درجنوں کتابوں کے مندرجات سے متعارف کرایاگیا ہے۔ چنانچہ اخوان المسلمون کے رہنما جناب خیرات الشاطر کے تازہ ترین انٹرویو میں اقبال کے خیالات کی گونج صاف سُنائی دیتی ہے:

“To the Brotherhood, Islam requires democracy, free markets and tolerance of religious minorities…The Islamic reference point regulates life in its entirety, politically, economically and socially; we don’t have this separation between religion and govertnment.”

اسی گفتگو کے دوران اُنہوں نے اسلام کے نظامِ سیاست پر مزیدروشنی ڈالی ہے:

“The Brotherhood believed that Islam’s concept of shura, or consultation, meant representative democracy. He said the group supported the right of those with more secular vision to compete in free and fair elections. If differences arose over how to apply Islamic teachings to public life, then society should rely on democratic methods to settle any disputes.”(۶)

اسلام میں سلاطین و ملوک کی نفی اور سلطانیِٔ جمہور کے اثبات میں یہ استدلال بیسویں صدی کے نصف اوّل کے دوران علامہ اقبال نے اپنی مختلف اور متنوع انگریزی، فارسی اور اُردو تحریروں میں بار بار پیش کیا تھا۔ آج کے عوامی جمہوری عرب قائدین کے درج بالا خیالات اقبال کے فکر و تخیّل کو رہ رہ کر آواز دیتے سُنائی دیتے ہیں۔ آج کی عرب دُنیا میں علامہ اقبال کی فکر و نظر کے زبردست فیضان کا اندازہ دمشق یونیورسٹی میں شعبۂ عقائد و ادیان کے پروفیسر محمد سعید رمضان البوتی کے ایک مقالہ بعنوان ’’اقبال کے ساتھ ایک رتجگا‘‘ (I Stayed up at Night with Muhammad Iqbal) سے بخوبی ہو سکتا ہے۔ شیخ محمد سعید رمضان البوتی عرب دُنیا کے چند انتہائی با اثر دانشوروں میں سے ایک ہیں۔ شام کے نامور دانشور البوتی دینیات اور اسلامی قانون میں اختصاص رکھتے ہیں۔ آپ پہلی بارآج سے نصف صدی پیشتر دمشق یونیورسٹی کے کلیۂ قانون کے ڈین مقرر ہوئے تھے۔ آپ چالیس کتابوں کے مصنف، رائل سوسائٹی برائے اسلامی ثقافت، امان (اردن) اور آکسفورڈ اکیڈمی انگلستان کے رُکن ہیں۔ آپ کا دائرۂ عمل دمشق یونیورسٹی میں تعلیم و تدریس اور تصنیف و تالیف سے لے کر منبر و محراب تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ کا یہ مقالہ پہلے پہل ۱۹۷۳ء میں بیک وقت متعدد عرب رسائل و جرائد میں شائع ہوا تھا۔ میں نے اِس مقالے کے انگریزی ترجمہ و تعارف سے استفادہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر Andreas Christmann کے حُسنِ ذوق کا نتیجہ ہے۔

پروفیسر Andreas نے اپنی تعارفی تحریر میں یہ بتانا ضروری سمجھا ہے کہ اس مقالے کا اسلوب اس امر کا شاہد ہے کہ یہ تحریر قصیدہ در مدح مُرشد کی سی شان رکھتا ہے۔ البوتی کے لیے اقبال ایک ایسے مرشدِکامل کی حیثیت رکھتے ہیں جن کی فکر و نظر صرف اُس کی ذات کے لیے ہی نہیںبلکہ بیشتر نوجوان عرب دانشوروں کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے:

“This article on Muhammad Iqbal indicates al-Buti’s source of inspiration for his quest for spiritual change. Written around 1960 for young Arab-Muslim students who were studying Islam and Shari’ah at Syrian universities, it was part of an initiative to introduce Iqbal’s thought to a wider Arab readership in the period after the Second World War. Its style is that of a eulogy composed by a novice for his spiritual master: it portrays Iqbal as a guide whose views and perspectives carry great authority. It vividly reflects the tremendous influence Iqbal exercised over young Muslim intellectuals such as al-Buti, who regarded Iqbal’s poetry as a source of hope and comfort at a time of profound intellectual crisis in the Muslim world.”(۷)

’’ اقبال کے ساتھ ایک رتجگا‘‘ کے عنوان سے اپنی اِس تحریر میں گویا البوتی اقبال کی رہنمائی میں پنجاب کے کوہ و دمن سے حجاز کی جانب اور پھر حجاز و یمن سے ہوتے ہوئے مسجدِ قرطبہ تک سفر در سفر کے دوران رات بھر اقبال کی صدائے دردناک پر سر دُھنتا رہا۔ اُس کا کہنا ہے کہ:

“Last night, I stayed Up with Dr. Muhammad Iqbal…and accompanied him on a long journey around the world. I stood listening to his grief in the Cordova Mosque…. I humbled myself along with him as he let out his grief and sorrow atop the mountains of the Punjab, his heart rent as he gave sincere counsel to the Arab nation….I followed him as he escaped to spring’s luxuriant trees, drinking intoxicants from the palms of their hands and watering them with cups of his philosophy and feelings drawn from his heart….Then I accompanied him as he moved in the direction of the Hijaz, his longing scattering the sand of the path about and he himself imploring the caravan guide to slow down in his march and have pity on his fast-beating heart__all this as there welled up, inside him, profound feelings of love, the lyre of his poetry causing the countenance of the desert to rock and sway.(۸)

البوتی لکھتے ہیں کہ صبحدم اقبال سے رُخصت ہوتے وقت مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اقبال کی نوائے شاعرانہ نے میری ذات کو اپنے سحر میں لے لیا ہو۔ آج تک میں کسی بھی شاعر کی صدائے عاشقانہ سے کبھی اتنا متاثر نہیں ہوا تھا جتنا اقبال کی صدائے رندانہ سے۔ میں نے اپنے دل میں عشق کے انگاربھڑکتے ہوئے محسوس کیے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہی ہے وہ شاعر جس کی شاعری میں سچا اضطراب اور مقدس بے چینی سانس لے رہی ہے۔ اس کی شاعری روحانی بیداری کے اُس پیغام کی ترسیل کا موثر ترین ذریعہ ہے جوایمانِ محکم کی بدولت عملِ پیہم سے محبت کو فاتحِ عالم بنا دیا کرتا ہے:

When I left his company, his poetry had affected me so deeply as no other poetry had ever had. I found the live coal of his love in my heart as I felt the pain of his grief in my throat. I came to believe that this was the poet in whose poetry one would find the pleasant odor of his burning heart. I came to believe that this was the poet whose poetry deserved to be celebrated and venerated since his poetry was a message (risalah), his love was faith (iman), and his feelings were a spiritual awakening (intifadah rubiyyah)__these three traits making him out to to be the renewer (mujaddid) of the world in which he lived.(۹)

البوتی لکھتے ہیں کہ صبحدم اقبال سے رُخصت ہوتے وقت مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اقبال کی نوائے شاعرانہ نے میری ذات کو اپنے سحر میں لے لیا ہو۔ آج تک میں کسی بھی شاعر کی صدائے عاشقانہ سے کبھی اتنا متاثر نہیں ہوا تھا جتنا اقبال کی صدائے رندانہ سے۔

اپنے اِس مقالہ کی اختتامی سطروں میں البوتی بڑے جذباتی جوش و خروش کے ساتھ عرب نوجوانوں کو آج کی ملت ِ اسلامیہ کے اِس مجددِ اعظم کے کلام اور پیغام پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا یہ ہے کہ آج کے مسلمان نوجوان کو پیرویِٔ مغربی کی روش ترک کر کے اقبال کی فکری قیادت میں اپنی خودی کی تعمیر اور اپنی خود مختاری کی بازیافت کی راہ اپنانی چاہیے۔ البوتی کے خیال میں اقبال کی دکھائی ہوئی اِسی راہِ فکر و عمل میں پوری دُنیائے اسلام کی نجات پنہاں ہے:

So, O youth, who search for love in the mire, O you who search for intoxication in Europe’s wine, and O you who seek poetry and literature at the feet of women…O Arab and Muslim youth, come and learn the sublimity of love and passion from Iqbal’s heart. Come and drink wine from the sacred spring from which Iqbal drank. Come and study poetry and literature in the school of Iqbal, the school of your glory at whose ruins stands sobbing a non-Arab from India, while you are dancing to the tunes of the lyre arising from the brothels of Europe!(۱۰)

یوں محسوس ہوتا ہے کہ پروفیسر البوتی نے آج سے اُنتالیس(39) برس پیشتر مسلمان نوجوانوں کو اقبال کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی جو صدا دی تھی اُس صدائے دِل نے بالآخر اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ آج کی عرب دُنیا اپنے سلاطین و ملوک تک اقبال کا جمہوری انقلابی پیغام پہنچانے میں مصروف ہے۔ آج سے پون صدی پیشتر اقبال نے اپنی ایک مختصر نظم میںعرب سلاطین و شیوخ کو اسلام کی حقیقی روح کی جانب یوں متوجہ کیا تھا:

کرے یہ کافر ہندی بھی جُرأت گفتار
اگر نہ ہو اُمرائے عرب کی بے ادبی
یہ نکتہ پہلے سکھایا گیا کس اُمت کو؟
وصال مُصطفویؐ، افتراق بُولہبی!
نہیں وجود حدود و ثُغُور سے اس کا
محمدِؐ عربی سے ہے عالمِ عربی!!
(اُمرائے عرب سے)

آج کی المناک ترین حقیقت یہ ہے کہ عرب حکمران طبقہ سیاسی نظریہ و عمل کے اعتبار سے محمد مصطفی ؐ کے صراطِ مستقیم سے بھٹک کر ابولہب کی پیروی میں مصروف ہے۔ اِس بھیانک حقیقت نے اقبال کو ہمیشہ اضطراب میں مبتلا رکھا تھا۔ اپنی اِس مقدس بے چینی کو اقبال نِت نئے پیرائے میں بیان کرتے رہے۔ کبھی فریاد کرتے ہیں کہ دُنیائے اسلام میں ع: ’مصطفی نایاب و ارزاں بولہب‘ تو کبھی ع:’مصطفی از کعبہ ہجرت کرد بااُمُّ الکتاب…انقلاب ! انقلاب! اے انقلاب!!‘کی صدائے دردناک بُلند کرتے ہوئے دُنیائے اسلام کو ع: ’بولہب را حیدرِ قرار کُن‘ کا درس دیتے ہیں۔ یہ گویا اُس باطنی روحانی انقلاب کی تمنّا ہے جو دُنیائے انسانیت کی خارجی زندگی کو انقلاب آشنا کر کے بھرپور ثروت مندی بخش سکے۔ آج کی عرب بیداری سے ذہن قدرتی طور پر اقبال کے فیضان کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ اقبال کی اُمیدیں اور اقبال کے اندیشے عصری معنویت کا رُوپ دھارنے لگتے ہیں۔ اقبال کی اُمیدوں کا خیال کرتا ہوں تو یہ دیکھ کر مسرور ہو جاتا ہوں کہ آج کے مصر کی سیاسی جنگاہ میں اخوان المسلمون اور اشتراکی مسلمان رقابت کی بجائے رفاقت کی راہِ عمل اپناتے دکھائی دیتے ہیں:

The most unpredictable variable in the race is his leading challenger, Abdel Moneim Aboul Fotouh, a former leader of the Muslim Brotherhood whose inconoclastic campaign is now attracting the support not only of young Islamists but also of a growing number of liberals, like Rabab el-Mahdi. “I felt Egypt needs to hear the core ideas of the left, but through an Islamist voice so it does not sound so alien,” said Ms. Mahdi, 37, a Marxist and feminist who taught political science at yale before joining the campaign.”(۱۱)

آج کی عرب بیداری سے ذہن قدرتی طور پر اقبال کے فیضان کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ اقبال کی اُمیدیں اور اقبال کے اندیشے عصری معنویت کا رُوپ دھارنے لگتے ہیں۔ اقبال کی اُمیدوں کا خیال کرتا ہوں تویہ دیکھ کر مسرور ہو جاتا ہوں کہ آج کے مصر کی سیاسی جنگاہ میں اخوان المسلمون اور اشتراکی مسلمان رقابت کی بجائے رفاقت کی راہِ عمل اپناتے دکھائی دیتے ہیں

آج جہاں مارکسزم اور سوشلزم کی یہ اسلامی تعبیریں اُمید افزا ہیں وہاں مغرب کے سامراج نواز اور استبداد دوست نظریہ سازوں کی نئی حکمت عملی ہمیں اقبال کے پیغام کی نئی معنویت کی جانب متوجہ کرتی ہے۔ چنانچہ لبیا میں عرب بہار (Arab Spring) کو عرب خزاں میں بدل کر رکھ دینے کی ذمہ داری نیٹو (NATO) ممالک کوسونپ دی گئی ہے جو سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی حکومتوں کے تعاون کے ساتھ تخریب کاری میں مصروف ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہنری کسنجرنے اپنے مضمون بعنوان “Defining a U. S. role in the Arab Spring” میں آج کی عرب بیداری کو امریکہ کے نیشنل سیکیورٹی تصورات کے تناظر میں سمجھنے سمجھانے کا درس دیا ہے۔ یاد رہے کہ کسنجر کے ہاں آغازِ کار ہی سے امریکی نیشنل سیکیورٹی تصورات اسرائیل کے حفظ و امان کی حکمت عملی سے عبارت چلے آرہے ہیں۔ اُن کی پریشانی ایک قدرتی امر ہے۔ آج کی عرب بیداری نے اسرائیل کی سرحدوں کو غیر مستحکم اور غیر محفوظ بنا کر رکھ دیا ہے۔ چنانچہ اُن کے خیال میں آج کی عرب بیداری کسی لبرل ڈیموکریٹک انقلاب کا پیش خیمہ ہر گز نہیں۔ اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں فرماتے ہیں:

“The Arab Spring is widely presented as a regional, youth-led revolution on behalf of liberal democratic principles. Yet Libya is not ruled by such forces; it hardly continues as a state. Nor is Egypt, whose electoral majority is overwhelmingly Islamist; nor do democrats seem to predominate in the Syrian opposition.”(۱۲)

ہنری کسنجر کو یہ تسلیم کرنے میں تامل ہے کہ آج کی عرب بیداری کا سرچشمہ آزادی، انسان دوستی اورسلطانیِٔ جمہور کے ابدی اصول ہیں۔ اُن کے اس تامل کی وجہ یہ ہے کہ بیداری اور تبدیلی کی اس ہمہ گیر تحریک کی قیادت Islamistکے ہاتھ میں ہے۔ اسلامسٹ کس چڑیا کا نام ہے؟ معلوم نہیں !مجھے تو فقط اتنا علم ہے کہ جس خطۂ زمین پر آباد انسانوں کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہو وہاں سیاسی قیادت بھی اُنہی کے ہاتھ میں ہو گی۔ ہنری کسنجرمسلمانوں کی بالادستی سے اس لیے خائف ہیں کہ یہ امریکی بالادستی کے مروّجہ نظام کو معرضِ خطر میں ڈال سکتی ہے۔ کسنجر اپنے اس مضمون کو درج ذیل سطور پر ختم کرتے ہیں:

“U.S. policy will, in the end, also be judged by whether what emerges from the Arab Spring improves the reformed states’ responsibility toward the international order and humane institutions.”(۱۳)

دُنیائے عرب کی اِس بیداری کے سیاق و سباق میں امریکہ کے کردار کو امریکی مفادات کے پیشِ نظر نئے سِرے سے متعین کرنے کی خاطر ہنری کسنجر نے عربوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر دینے کے لیے فرقہ واریت کا صدیوں پُرانا نسخہ آزمانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ اِس سلسلے میں انہوں نے شام کے مسلمانوں کوشیعہ اور سُنّی دومتحارب گروہوں میں بانٹنے کی پُرانی حکمتِ عملی کی افادیت بھی اُجاگر کی ہے۔ اس ضمن میں عرب سلاطین حسبِ معمول امریکہ کی صدائے برخیز پر لبیک کی صدا بلند کرنے میں مصروف ہیں۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اور اسرائیل کے نٹن یاھو نے امریکی صدر اوباما سے بیک وقت اپیل کی تھی کہ وہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو مصری عوام کے غیض و غضب سے بچانے کا فریضہ سرانجام دیں۔ چنانچہ امریکہ نے فوراً گلف کوآپریشن کونسل سے منسلک ایک نئی تنظیم بعنوان ’’سیکیورٹی کوآپریشن فورم‘‘ قائم کر کے اُس کے ساتھ ’’چٹان کی سی ٹھوس اور مستحکم‘‘ یگانگت کا اعلان کر دیا تھا(۱۴)۔  چنانچہ مصری افواج کے قائم کردہ الیکشن کمیشن نے تمام مقبولِ عوام سیاستدانوں کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔  یاد کیجیے کہ اقبال نے کیسا بروقت انتباہ کیا تھا ؟:

اے ز افسونِ فرنگی بے خبر
فتنہ ہا در آستینِ اُو نگر

آج عرب آفاق پرکچھ ایسے آثاربھی نمایاں ہیں جواِس حقیقت کے غماز ہیں کہ عرب عوام اور چند عرب دانشوروں نے فرنگی آستینوں میں پوشیدہ فتنوں کو دیکھ لیا ہے۔ چنانچہ مصر کے الیکشن کمیشن کی تازہ کارستانی کے خلاف ہزاروں مظاہرین نے میدان التحریر میںایک بار پھر انقلاب زندہ بادکے گرجدار نعرے بلند کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ عوامی دانش کے یہ مظاہر اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ عرب دانشوروں نے بھی امریکی آستینوں میں چھپے ہوئے اِن فتنوں کو بڑی جرأت کے ساتھ بے نقاب کرنا شروع کر دیا ہے۔ ابھی کل ہی مونا اطحاوی نے اخبار گارڈین میں اپنے مضمون بعنوان An insult to revolutionary Egypt میں لکھا ہے:

“From where I stand, it’s not just a slice but a desired to swallow the cake whole that has hamstrung the Islamists-who control 70 percent of parliament – and highlighted how Mubarak and his predeeessors gutted Egyptian politics… The whole point of overthrowing Mubarak was that we had ended fear. The revolution continues, not just to end military rule but to provide alternatives to the best of the worst. We still have a way to go.”(15)

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دُنیا میں امریکی بالادستی کا خواب منتشر ہو کر رہ جانے کے اندیشے بے جا نہیں۔ ہنری کسنجر کی پریشانی بجا ہے۔ درحقیقت اُنہیں امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے مستقبل کی فکر لاحق ہے۔ یہ حقیقت اُن کے لیے واقعتا پریشان کن ہے کہ آج مصر کے عام انتخابات میں سرگرمِ عمل سیاستدانوں نے اسرائیل مخالف آوازیں بلند کرنی شروع کر دی ہیں۔ اِس کی ایک نمایاں مثال سلفی مسلک پر قائم مقبولِ عوام صدارتی امیدوارحازم صالح ابواسمٰعیل کا یہ مطالبہ ہے کہ مصر، اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دے اور ایران کے ساتھ اخوّت و محبت کی راہوں پر گرم جوشی کے ساتھ گامزن ہو جائے۔ اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کے خلاف یورپ میں اُٹھنے والی آواز اس پر مستزاد ہے۔ یہ بلند آہنگ آواز نوبل انعام یافتہ جرمن ادیب اور شاعر گُنترگراس کی ہے۔ اُس کی تازہ نظم(۱۶) ایک ایسی صدائے احتجاج ہے جس نے پورے یورپ کوجھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیلی جارحیت پسندی اور اس باب میں مغربی دُنیا کی منافقت کا پردہ چاک کر کے رکھ دینے والی اِس نظم کے عنوان کا ترجمہ فیض احمد فیض کی ایک نظم سے مستعار لینے کی اجازت ہو تو میں اِس پر ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے!‘‘ کی سُرخی جمائوں۔ گُنتر گراس اپنی عمر کے پچاسی برسوں کے دوران جس سچائی کے اظہار سے بوجوہ رُوگرداں رہے اُس پر آج، بالآخر، اُنہوں نے جُرأتِ رندانہ کا ثبوت دے دیا ہے۔ اس نظم نے یورپ اور بالخصوص جرمنی میں گُنترگراس کے خلاف ایک طوفان برپا کر دیا ہے۔ نکتہ چینوں نے اس کے ماضی کے عیوب کوکھنگالنا شروع کر دیا ہے۔ اِس کے حق میںاب تک صرف The disgusting attacks on Gunter Grass(17) کے عُنوان سے ہمارے اشتراکی دانشور طارق علی نے ایک مختصر تحریر قلمبند کر دی ہے۔ گُنترگراس کی اِس نظم نے جہاں حق و صداقت کا بول بالا کیا ہے وہاں ہنری کسنجر کے اندیشوں میں سَو گُنا اضافہ کر دیا ہے۔ اُن کے اِن اندیشوں پرمجھے اقبال کا پیغامِ خودی و خود مختاری رہ رہ کر یاد آتا ہے۔ اقبال نے عرب عوام کو کیا خوب مشورہ دیا تھا کہ وہ مغربی سامراج کی کاسہ لیسی کی روش ترک کر کے خود اپنے قومی و ملّی وجود کے اندر خیمہ زن ہو جائیں:

اے ز افسونِ فرنگی بے خبر
فتنہ ہا در آستینِ او نگر
از فریبِ اُو اگر خواہی اماں
اشترانش را ز حوضِ خود براں
حکمتش ہر قوم را بے چارہ کرد
وحدتِ اعرابیاں صد پارہ کرد
تا عرب در حلقۂ دامش فتاد
آسماں یک دم اماں اور را نداد
عصرِ خود را بنگر اے صاحب نظر
در بدن باز آفریں رُوحِ عمرؓ
قوت از جمعیتِ دینِ مبیں
دیں ہمہ عزم است و اخلاص و یقیں

یہ بھی ملاحظہ کریں: اقبال اور معروف مغالطے سیریز 5 : اقبال کی نجی زندگی — احمد الیاس

 

مقامِ افسوس ہے کہ عرب حکمران طبقہ گزشتہ پون صدی سے اقبال کے اِس پیغام کے حرف و معنی کو سمجھنے اور اپنانے سے گریزاں چلا آ رہا ہے۔ مقام مسرت ہے کہ آج کے عرب عوام خود انحصاری اور خود مختاری کے اس پیغام پر عمل پیرا ہونے میں کوشاں ہیں۔ عرب بیداری کی اِس ہمہ گیر تحریک کی راہ کا سب سے بڑا سنگِ گراں عرب شہنشاہیت (بولہبی) کے امریکی اور یورپی رہبرورہنما ہیں جنہیں ہنری کسنجرکے سے حکمتِ فرعونی کے ماہرین کی رہنمائی میسر ہے۔ اِس حکمتِ فرعونی کا تازہ ترین شاخسانہ یہ ہے کہ مصر کے الیکشن حُکام نے جن تین مقبولِ عام صدارتی امیدواروں پر انتخابات میں حصہ نہ لے سکنے کی پابندی عائد کر دی ہے اُن میں خیرات الشاطر اور ابواسمٰعیل شامل ہیں۔ اِس صورتِ حال میں مرزا غالب یاد آتے ہیں:

دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ
جانے کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک!


حواشی

(۱) تھاٹس اینڈ ریفلیکشنز آف اقبال۔ مرتب : سیّد عبدالواحد، لاہور، ۱۹۷۳ء، ص ۱۷۳

(۲) The Arab Awakening،انگلینڈ، ۲۰۱۲ء،صفحہ ۴۲

(۳) ایضا، صفحات ۱۱۷۔ ۱۱۸(۴) محولہ بالا اقتباس کا انگریزی متن درج ذیل ہے:
“Experience has made it abundantly clear that the political integrity of the peoples of the Near East lies in the immediate reunion of the Turks and the Arabs……The Arabs, who religious consciousness gave birth to Islam (which united the various races of Asia with remarkable success), must never forget the consequences arising out of their deserting the Turks in their hour of trial.Secondly the Arab people must further remember that they cannot afford to rely on the advice of those Arab kings who are not in a position to arrive at an independent judgment in the matter of Palestine with an independent conscience. Whatever they decide they should decide on their own initiative after a full understanding of the problem before them.” (Syed Abdul Wahid (Editor), Thoughts & Reflections of Iqbal, Lahore, May 1964, p.371)
رسالہ ماڈرن ریویو (کلکتہ) میں پنڈت جواہر لعل نہرو کے اُٹھائے ہوئے چند سوالات پر اظہارِ خیال کرتے وقت علامہ اقبال نے مسلمان سلاطین کومسلمانوں کے زوال کا سب سے بڑا سبب قرار دیتے وقت لکھا تھا :
“The gaze of Muslim kings was solely fixed on their own dynastic interests and so long as these were protected,

they did not hesitate to sell their countries to the highest bidder.”(Opcit: p.279)(۵) ’’اقبال ہمارا‘‘، ملتان، ۲۰۱۱ء، صفحات۱۰۱تا۱۳۲۔ 

(۶) روزنامہ انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون بابت ۱۳مارچ ۲۰۱۲ء، Democracy, his way, for influential Egyptian(۷)

Iqbal -Namah، جلد ۳، نمبر۲،صفحہ۱، ۲۰۰۳ء،

Youngstown State University, USA(۸) ایضاً، صفحہ ۵

(۹) ایضاً، صفحہ۵

(۱۰) ایضاً، صفحہ ۶

(۱۱) انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون بابت ۱۵مارچ ۲۰۱۲ء

(۱۲-۱۳) ایضاً، بابت ۲۔ اپریل۲۰۱۲ء 

(۱۴) بحوالہ Robert Fisk، مضمون بعنوان Counter-revolution: the next deadly chapter in ME، روزنامہ ڈان، مورخہ ۲۱۔ اپریل ۲۰۱۲ء۔ اپنے اِس مضمون میں ہرچند رابرٹ فِسک نے عرب اُفق پر ردِانقلاب کے آثار کی نشاندہی کی ہے تاہم اُنھوں نے اپنے اِس مضمون کو رجائیت کی تان پرتوڑا ہے:
“If this seems a pessimistic horizon, then so be it. I suspect that Arab Awakening will still be going on after we’ve all died of old age. But eventually, I think, there will be real freedoms in the Middle East, yes, and dignity for all its peoples, and an astonishment among the next generation that their fathers and grandfathers tolerated dictators for so long. And they will ask what happened to missing fathers and grandfathers.” (Dawn, Karachi, April 22, 2012)

(۱۵) بحوالہ روزنامہ ڈیلی ٹائمز، ۲۱۔ اپریل ۲۰۱۲ء 

(۱۶) گُنتر گراس ۱۶۔ اکتوبر ۱۹۲۷ء کوایک پولِش۔ جرمن خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کی شاعری کا پہلا مجموعہ ۱۹۵۶ء میں شائع ہوا تھا۔ پہلا ڈرامہ ۱۹۵۷ء میں سٹیج کیا گیا تھا۔ ۱۹۵۹ء میں اُن کے ناول ‘The Tin Drum’ کی اشاعت ہنگامہ خیز ثابت ہوئی تھی۔ وہ ایک نامور نثرنگار، شاعر، تمثیل نگار، بُت تراش اور مصوّر بھی ہیں۔ ۱۹۹۹ء میں اُنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ اُن کی زیرِ نظر نظم کے دو مختصر اقتباس ۹۔ اپریل۲۰۱۲ء کے روزنامہ Gulf News دُبئی میں شائع ہوئے تھے۔ اقتباسات درج ذیل ہیں:
Excerpts from poem”What must be said”it’s the alleged right to a first strike that could destroy an Iranian people subjugated by a loud mouth and gathered in organised rallies,because an atom bomb may be being developed within his arc of power.Yet why do I hesitate to name that other land in which for years-although kept sacret -a growing nuclear power has existed beyond supervision or verification,subject to no inspection of any kind?This general silence on the facts,before which my own silence has bowed, seems to me a troubling lie, and compelsme toward a likely punishment to moment it’s flouted:the verdict “Anti-semitism” falls easily………But why have kept silent till now?Because I thought my own origins,Tarnished by a stain that can never be removed,meant I could not expect Israel, a landto which I am, and always will be, attached,to accept this open declaration of the truth.-Gunter Grass Translated by Breon MitchellSource: http://www.guardian. co. uk/

(۱۶) روزنامہ ڈیلی ٹائمزل اہور بابت ۱۲۔ اپریل۲۰۱۲ء، بحوالہ Counterpunch۔ طارق علی نے اپنا مضمون درج ذیل سطور پر ختم کیاہے:
“German citizens should ponder the following: it was not the Palestinians who were responsible for the murder of millions of Jews during and Second World War. Yet they, the Palestinians, have become the indirect victims of the Judeocide. Those to whom evil is done, do evil in return to others. So why no sympathy for the Palestinians? “

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: