اقبال اور معروف مغالطے سیریز 4 : صوفی، شاعر یا فلسفی — احمد الیاس

0
  • 88
    Shares

اقبال کے حوالے سے ایک اہم سوال ان کی بنیادی حیثئیت کا ہے۔ اقبال کی متنوع شخصیت روحانیت، ادب، فلسفہ اور سیاست کے سنگم پر کھڑی ہے۔ چاروں میدانوں سے دل چسپی رکھنے والے انہیں اپنے شعبے کے تناظر میں دیکھتے اور سمجھتے ہے۔ اہلِ تصوف کے لیے وہ ایک صاحبِ حال صوفی ہیں، اہلِ سخن انہیں صاحبِ طرز شاعر سمجتے ہیں، متکلمین کا ماننا ہے کہ اقبال کی ‘تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ’ مسلم فلسفے کے میدان میں دور حاضر کا بلند ترین کارنامہ ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ کا طالب علم خطبہِ الٰہ آباد اور جناح کے نام ان کے خطوط کو کسی طور فراموش نہیں کرسکتا۔

تاہم چاروں حوالوں سے ان کے کردار اور حیثیت پر سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ تصوف کے حوالے سے بعض لوگوں کو مغالطہ ہے کہ اقبال تصوف کے خلاف تھے جبکہ بعض حلقے انہیں بالکل روایتی طرز کے وجودی صوفی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ شاعری میں بعض ترقی پسندوں کا اصرار رہا کہ اقبال بنیادی طور پر صرف دردمند شاعر ہی ہیں مگر انہی لوگوں کے کئی حلقے اقبال کو شاعر ماننے پر ہی تیار نہیں۔ یہی معاملہ فلسفہ کا ہے کہ بعض لوگ انہیں خشک فلسفی سمجھ لیتے ہیں اور کسی کے نزدیک وہ فلسفی ہیں ہی نہیں۔ مندرجہ ذیل سطور میں ہم ان ہی افراطی و تفریطی رویوں کا جائزہ لے کر اقبال کی بنیادی حیثئیت کا تعین کرنے کی کوشش کریں گے۔

سب سے زیادہ بحث تصوف کے حوالے سے سننے اور پڑھنے میں آتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اقبال کا تصوف سے تعلق ہی نہیں ہے بلکہ اقبال نے تو تصوف کو اسلام کی سر زمین پر ایک اجنبی پودا قرار دیا ہے۔ یہ بات ایک قطعی مغالطے پر مبنی ہے۔ اقبال نے جو جملہ لکھا وہ یہ تھا کہ ‘تصوفِ وجودی اسلام کی سرزمین پر اجنبی پودا ہے’۔ مگر یہ غلط طور پر اس طرح پرنٹ ہوا کہ ‘تصوف کا وجود ہی اسلام کی سرزمین پر اجنبی پودا ہے’۔ (حوالہ :- شیخ عطاء اﷲ، اقبالنامہ، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، ص ۱۱۲۔) اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اقبال نے تصوف کو ان تین بنیادی عوامل میں سے ایک قرار دیا جو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے زوال کا باعث بنے۔ یہ عوامل ملوکیت، ملائیت اور تصوف ہیں۔ تاہم اقبال کی تحریروں کے بغور مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اقبال اسلامی تصوف کے نہیں بلکہ اس پر غیر اسلامی اثرات کے خلاف تھے۔ ان عجمی، یونانی، ہندی اثرات کا نتیجہ رہبانیت، نفیِ خودی اور ملیّ فرائض سے غفلت کی صورت نکلتا تھا۔

اقبال کے والدین شیخ نور محمد اور امام بی کی شخصیات پر صوفیانہ تعلیمات کا رنگ بہت گہرا تھا

اقبال ایک صوفی منش گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں قادری سلسلے میں بیعت ہوئے۔ والد ان پڑھ تھے مگر ابن العربی کی کتب پڑھوا کر سنا کرتے۔ مولوی میر حسن ان کے والد کو پیار سے ‘ان پڑھ فلسفی’ کہتے۔ مولوی میر حسن سے سعدی، حافظ اور رومی کا کلام پڑھا۔ آخری عمر تک قرآن مجید اور مثنوی معنوی سرہانے پڑے رہتے۔اقبال کے ابتدائی کلام پر دو بنیادی اثرات بتائے جاتے ہیں :- اسلامی صوفی شاعری اور مغربی رومانی شاعری۔ محمد دین فوق کے ساتھ تصوف کے موضوع پر آپ کا مکالمہ انتہائی دلچسپ ہے۔

( http://www.iqbal.com.pk/allama-iqbal-prose-works/maqalat-e-iqbal/2855-aik-dilchasp-makalmah )

بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اقبال زبردست فکری ارتقاء سے گزرے۔ مسلمان قوم کی حالت اور مسائل کا بغور جائزہ لیا۔ ان کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ اسلامی روایت کے تینوں مرکزی دھاروں یعنی فقہ، کلام اور تصوف میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ لہذا سب سے پہلے آپ نے اسلامی روحانیت کی بشری روایت یعنی تصوف پر کام شروع کیا۔ اسراِر خودی اور رموزِ بے خودی تصوف کی اصلاح کی کوشش ہیں۔ تعمیِر خودی کی تین منزلیں اطاعت، ضبطِ نفس اور نیابتں الٰہی دراصل شریعت، طریقت اور حقیقت ہی کے متبادل نام ہیں۔ اقبال چاہتے تھے کہ غیر اسلامی اثرات مثلاً خالص وحدت الوجودی فلسفہ، رہبانیت و غفلت اور ملیّ عصبیت کی کمی کو تصوف سے نکال کر اس تحریک کی حقیقی عملی روح بحال کردی جائے۔ تاکہ موجودہ زمانے کے لیے تصوف ایک تعمیری اور زندہ عامل بن جائے۔ اقبال تصوف کو فلسفے کی نہیں بلکہ عمل کی شئے سمجھتے تھے اور اس عمل کے ذریعے بےخودی کے نہیں بلکہ اثباتِ خودی اور تعمیرِ خودی کے قائل تھے۔ اس سلسلے میں فلسفیانہ تصوف پر تنقید کرتے ہوئے شیخ الاکبر ابن العربی اور حافظ شیرازی ان کے قلم کی زد میں آئے۔ ابن العربی اور حافظ کے مداحوں کی طرف سے اقبال کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اقبال کے دوست خواجہ حسن نظامی اور اقبال کے درمیان ایک بھرپور بحث دیکھنے میں آئی۔ اس حوالے سے اقبال کا مضمون ‘اسرار خودی اور تصوف’ قدرے عام فہم مگر بہت معاون اور دلچسپ ہے۔
( http://www.iqbal.com.pk/allama-iqbal-prose-works/maqalat-e-iqbal/2857-asrar-e-khudi-aur-tasawuf )

اقبال کی شخصیت تین منزلہ عمارت کی مانند ہے۔ پہلی منزل شاعری، دوسری منزل فلسفہ و علم الکلام اور تیسری منزل سیاسی و سماجی فکر کی ہے۔ مگر یہ تمام عمارت اسلامی روحانیت اور صوفیانہ حکمت کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔

سیدّ سلیمان ندوی کے نام اقبال کے ایک خط سے اقتباس

شاعری کے حوالے سے بہت سے لوگوں کی طرف سے یہ بات سننے میں آتی ہے کہ اقبال صرف ایک اچھے شاعر ہیں، فلسفی یا صوفی نہیں۔ یہ بات دراصل ترقی پسند تحریک نے پھیلانا شروع کی۔ اقبال کا قد کاٹھ اتنا ہے کہ اسے زورِ تنقید سے گرانا ممکن نہیں تھا۔ مگر اقبال جیسے اسلام پسند شاعر کے ہوتے ہوئے اردو میں مذہب بیزاری کے درخت کا نشونما پانا بھی ناممکن تھا۔ چنانچہ بعض متعصب اور کینہ پرور ترقی پسندوں نے یہ فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے اقبال کی فلسفیانہ اور صوفیانہ حیثئیت سے انکار کیا جائے۔ اس کے بعد بہ طور شاعر بھی ان کا موازنہ عام قسم کے شاعروں سے کرکہ ان کا قد کم کر کہ دکھانے کی کوشش کی جائے۔ اور تیسرے اور آخری مرحلے میں یہ کہہ کر اقبال کو مکمل رد کردیا جائے کہ اقبال مذہبی ہونے کے سبب شاعر ہی نہیں ہے، مولوی ہے۔

مذہب اور ادب تمام تہذیبوں کی تاریخ میں جڑواں قوتیں رہی ہیں۔ اگر مذہب کو ادب سے اسی شدت سے الگ کیا جائے جس شدت سے خالص ترقی پسند چاہتے ہیں تو فارسی، پنجابی اور سندھی صوفی شاعری سے اردو میں انیس و دبیر کے مرثیوں تک، ملٹن کی پراڈائز لاسٹ سے دوستوفسکی کی ‘دی گرینڈ انکوئزٹر’, حتیٰ کہ گورکی کے ‘ماں’ تک۔۔۔ ادب کا ایک بہت بڑا حصہ دائرہِ ادب سے ہی نکل جائے گا۔

اقبال کے اردو ادب میں مقام کے حوالے سے خوبصورت لہجے کے معتدل مزاج ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کا قول حرفِ آخر کی حیثئیت رکھتا ہے۔ فیض کا موازنہ جب بھی کسی ترقی پسند نے اقبال کے ساتھ کرنے کی کوشش کی تو فیض نے ہمیشہ یہی فرمایا کہ اردو میں بڑے شاعر صرف تین ہی ہوئے ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں میر، انیسویں صدی میں غالب اور بیسویں صدی میں اقبال۔ ہم سب تو ان کے مقابل دوسرے درجے کے شاعر ہیں۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے اقبال صرف شاعر تھے تو اس کا جواب خود اقبال دے چکے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں صرف کچھ مقاصِد خاص رکھتا ہوں جن کی خاطر شاعری کو بہ طور ذریعہ استعمال کررہا ہوں۔ یہاں تک کہا کہ جو بھی مجھے روایتی طرز کا شاعرِ محض جانے اس سے بھلائی کی امید نہ رکھو۔ سچ بھی یہ ہے کہ ذاتی اظہارِ جذبات کے لیے شاعری اقبال نے قیامِ یورپ کے زمانے میں ہی ترک کردی تھی۔ اس کے بعد شاعری کا استعمال صوفیانہ، اصلاحی اور ملیّ مقاصد کے لیے رہا۔

دراصل اقبال کی شخصیت اتنی وسیع ہے کہ وہ تصوف، ادب اور فلسفہ کی معراج تک پہنچ جاتے ہیں مگر کوئی بھی شئے ان پر حاوی نہیں ہوپاتی۔ بلکہ وہ تصوف، ادب اور فلسفہ پر حاوی رہتے ہیں۔ تمام شعبوں کے انتہاء پسند چاہتے ہیں کہ اقبال کسی ایک شئے میں خود کو غرق کردیں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اقبال تصوف، ادب اور فلسفہ کو اپنے اندر غرق کرلیتے ہیں۔ لہذا تنگ نظر لوگوں کو بہت حیرت ہوتی ہے اور اور وہ اقبال کو صوفی، شاعر یا فلسفی ماننے سے ہی انکار کردیتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کا مسئلہ ہے، اقبال کا نہیں۔

معروف اقبال شناس ڈاکٹر رفیع الدین کی رائے

اقبال کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو یہ تین منزلہ عمارت کی مانند ہے۔ پہلی منزل شاعری، دوسری منزل فلسفہ و علم الکلام اور تیسری منزل سیاسی و سماجی فکر کی ہے۔ مگر یہ تمام عمارت اسلامی روحانیت اور صوفیانہ حکمت کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ اقبال اردو اور فارسی کے بہترین شاعروں میں ہیں مگر خود بنیادی حیثئیت میں شاعر نہیں۔ اقبال اپنے وقت کے سب سے قد آور متکلم و مسلم فلسفی ہیں مگر ان کی یہ حیثیت بھی ضمنی ہے۔ اقبال کی سیاسی و سماجی فکر نے ایک ملک کا نقشہ بدل دیا مگر سیاسیات اور سماجیات ان کی شخصیت کی محض ایک شاخ ہے۔ بنیادی طور پر اقبال ایک تجدیدی صوفی ہیں۔ ایسا قلندر جس نے اپنے تمدن کی بنیاد یعنی متصوفانہ روایت سے لے کر فن، فلسفے اور سیاست تک، ہر میدان میں تجدید اور اصلاح کی زبردست مساعی کی۔ گویا اس تین منزلہ عمارت کی بنیاد یقیناً اقبال کی منفرد اور قلندرانہ روحانیت یعنی خودی ہے۔


اس سیریز کا پہلا مضمون “اقبال اور حکمائے مغرب”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا پہلا دوسرا “اقبال اور مذہبی رواداری”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا تیسرا مضمون “اقبال اور مسئلہِ قومیت و وطنیت”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا پانچواں مضمون “اقبال کی نجی زندگی”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: