گل مکئی کی ڈائری، کیا پہلی ڈائری تھی؟  اظہار احمد باچہ

0
  • 30
    Shares

پاکستانی گل مکئی کی ڈائری کتنی قابل قدر ہونی چاہیے تھی اس تحریر میں آپکو علم ہو جائے گا۔ دنیا کی تاریخ میں ملالہ یا گل مکئی وہ پہلی بچی نہیں تھی جس نے اپنے ارد گرد خوف و ہراس اور تشدد کے واقعات کو قلم بند کیا تھا۔ ملالہ کو گولی لگنے تک کی کہانی بلا شبہ درد ناک ہے اور اکثریت کا ملالہ سے اختلاف ہونے کی بڑی وجہ اسکی کتاب اور اس میں موجود چند حساس اور غیر ضروری باتیں ہیں جس سے اسکی ڈائری کی قدر میں خاطر خواہ کمی آئی۔ خاص طور پر اپنے ملک پاکستان میں۔

تو جب گل مکئی کی ڈائری پہلی نہیں تو وہ کون سی بچی تھی جسکی ڈائری کے اثرات آج بھی دنیا پر دیکھے جا سکتے ہیں اور اس بچی کے ساتھ کیا معاملات رونما ہوئے تھے۔۔۔؟؟

اس بچی کا نام اینیلیز میری فرینک (Annelise Marie Frank) یا عرف عام میں “اینی فرینک” تھا یہ بچی بارہ جون 1929 کو جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ایک آزاد خیال یہودی گھر میں پیدا ہوئی۔ جب اسکی عمر چار سال تھی تو جرمنی پر نازی پارٹی نے حکومت حاصل کی جو کہ یہودیوں کے سخت مخالف تھے جسکی وجہ سے اینی فرینک کے خاندان نے جرمنی چھوڑ کر ایمسٹرڈیم نیدرلینڈز کا رخ کیا اور وہاں آباد ہوگئے۔ دوسری جنگ عظیم کے ابتدائی مہینوں میں ہی 1940 کے اوائل میں نیدرلینڈز بھی جرمنی کے قبضے میں چلا گیا اور اینی فرینک کا خاندان ایمسٹرڈیم میں پھنس گیا۔ 1940 کے اوائل میں ہولوکاسٹ یا یہودیوں کا قتل عام پورے زور و شور سے شروع ہوا جسکے ڈر سے اینی فرینک اور اسکے خاندان کے افراد جسمیں انکی ایک بہن اور والدین تھے ایک بند کوٹھڑی میں پناہ گزیں ہو گئے اور اس دوران 13 سالہ اینی فرینک نے اپنی اس ڈائری میں ارد گرد کے احوال لکھنا شروع کر دئیے جو اسکو برتھ ڈے وش کے طور پر ملی تھی۔ 1944 میں جرمن پولیس نے اینی فرینک اور اسکے خاندان کو گرفتار کیا اور انکو آوشٹوز کنسنٹریشن کیمپ اور بعد میں برگن بیسلن کنسنٹریشن کیمپ میں رکھا گیا۔

اینی فرینک کی ڈائری میں نازی مظالم اور کنسنٹریشن کیمپوں میں ہونے والے واقعات کا ذکر ہے۔ یہ کیمپس کسی بھی مقدار دنیا میں جہنم سے کم نہیں تھے۔ اینی فرینک کی ڈائری سے ملتا ہے کہ کنسنٹریشن کیمپوں میں پہنچتے ہی مردوں اور عورتوں کو الگ الگ کیا گیا پھر ان میں سے پندرہ سال سے چالیس سال تک عمر والوں کو الگ کیا گیا اور چالیس سال سے اوپر اور پندرہ سال سے کم زیادہ تر بچوں بچیوں بوڑھوں کو ایک آسان موت عطا کر دی گئی اور اسی دن ہی قتل کر دئیے گئے۔ وہ چونکہ پندرہ سال اور تین ماہ کی تھی تو ان کو چھوڑا گیا لیکن زندگی موت سے مشکل تھی۔بعد میں مصیبتوں، تشدد اور کیمپوں کے اندر کئے گئے بیہمانہ مظالم کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اینی فرینک کی زندگی اسکی حساسیت کی وجہ سے اور بھی مشکل تھی وہ دن کو شدید تشدد اور سخت کام کے بعد ساری رات ان بچوں کے سرہانے بیٹھ کر روتی تھی جو گیس سٹیشنوں کے اوپر سوئے ہوتے تھے۔ بعض دفع وہ بچوں پر تشدد کرنے والے فوجیوں کو روکتی اور خود انکی تشدد کا نشانہ بن جاتی۔ 1945 میں کنسنٹریشن کیمپ جسمیں اینی فرینک موجود تھی میں ریبیز اور ٹائیفائڈ کی وبا پھیلی جس سے تقریباً بیس ہزار قیدی جاں بحق ہوئے جن میں ایک معصوم اینی فرینک بھی تھی۔

اینی فرینک کی لاش کے ساتھ اسکی ڈائیری بھی ریڈ کراس کو ملی جو بعد میں اسکی زندہ بچ جانے والی ماں کے حوالے کی گئی۔ اس ڈائری کے علاوہ کنسنٹریشن کیمپ میں چند پیجوں پر لکھے گئے تحاریر اینی فرینک اپنے ایک دوست کو دیتی تھی جو ذندہ بچ گئی تھی اینی کی ماں نے ان تحاریر میں سے کچھ “اے چائیلڈ وائس” کے عنوان سے ایک ڈُچ اخبار میں نشر کروائی اور بعد میں ان تحاریر کو پبلش کرنے کی کوشش شروع کی گئی۔ جرمنوں کے علاقے میں یہودیت نفرتی اور بچے کچے نازیوں کے ڈر سے کوئی بھی انکو پبلش کرنے کو تیار نا ہوا حتیٰ کہ 1950 میں چند یورپی ممالک برطانیہ فرانس وغیرہ نے اسکو سنسر کر کے پبلش کیا 1952 میں پہلی مرتبہ ایک امریکی پبلشر نے ان تمام کے تمام تحاریر کو ایک مکمل کتاب دی ڈائیری آف اے ینگ گرل (The Diary of a Young Girl) کے نام سے نشر کیا۔

اینی فرینک کی ڈائری اسکے بعد پوری دنیا کے مظلوموں کی آواز سی بن گئی جسکی سب سے زیادہ کاپیاں جنگ سے سب سے زیادہ متاثر جاپان میں بِک گئی۔ آج بھی دنیا میں جہاں مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے کے حوالے دئیے جاتے ہیں تو ان میں ظاینی فرینک کا بھی ذکر ہوتا ہے جسکا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اپنے ایک تقریر میں کہا تھا:

“دنیا کی تاریخ میں ظلم کے عروج پر مظلوموں کے لیے جن جن اشخاص نے آوازیں اٹھائی ان میں سب سے زیادہ گونج اینی فرینک کی ہے”

مشہور روسی مصنف کا قول ہے کہ “ایک آواز جو ساٹھ لاکھ لوگوں کے حق میں اٹھی تھی کسی مصنف یا شاعر نہیں بلکہ تیرہ سال کی ایک معصوم بچی کی تھی”۔ دی ڈائیری آف اے ینگ گرل دنیا کے ان انتہائی چند کتابوں میں سے ایک ہے جنکی کئی ملئین کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں اور یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست میں بھی موجود ہے۔

اینی فرینک پوری دنیا میں ہولوکاسٹ یا دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں پر ہوئے مظالم کی سب سے بڑی آواز ثابت ہوئی۔ کچھ لوگوں کے مطابق برطانوی ڈیپلومیٹ بالفور جس نے 1949 میں یہودیوں کے لئے ایک الگ ریاست اسرائیل کا راستہ ہموار کیا تھا وہ بھی ان تحاریر اور اس ڈائری کے چند نشر شدہ مواد سے متاثر ہوا تھا۔

اور پھر بحث واپس آ کر اپنی ملالہ پر رُک جاتی ہے۔ کیوں ہمارے ساتھ ہمیشہ ایسا کیا جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اوپر آنے والے ہر نام کو کسی نا کسی معاشرتی طور پر بدنام سمجھی جانے والی چیز سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ پہلے ہم قائد اعظم کو سیکولر بنانے پر تلے ہوئے تھے پھر ایک عظیم طبیعیات دان نے دنیا کو بدلنے والی گرینڈ یونیفیکیشن تھیوری سے ہمارے سر فخر سے بلند کر دئے تو اسکے خلاف تو ایسا بیانیہ آیا کہ اسکو اپنے عقیدے کی بنیاد پر نفرت کا نشانہ بنتے دیکھ کر مادر وطن کو ہی چھوڑنا پڑا۔ پھر ملالہ آئی اور ساتھ میں کتاب بھی لے آئی۔

اس تحریر کا لب لباب یہ ہے کہ یقین جانے اللہ نہ کرے پاکستان میں ایسا ہولوکاسٹ گزر چکا ہوتا اور لاکھوں بیگناہوں کا خون بہا ہوتا اور پھر کہیں جا کر اینی فرینک کی ڈائری ملتی جسمیں وہ مظلوموں کی خاطر لڑتے لڑتے دم توڑ گئی ہوتی تو ہماری باقی ماندہ قوم کے زبانوں پر ایک ہی جملہ ہوتا۔۔۔۔

“پرے کر، یہ تو یہودی تھی۔ سیدھا جہنم گئی ہوگی”

میری قوم کے معیار اب یہ ہی باقی رہ چکیں ہیں۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: