روحانیت پرست شاہ است‎: جبران عباسی

0
  • 13
    Shares

گاوں میں دادا جان یا کوئی اور جب کبھی ماضی کا کوئی قصہ چھیڑیں، اگرچہ ہاسٹل میں ہونے کی وجہ سے بہت کم ایسا ہوتا ہے ، خاص کر عہدِ رفتہ کی خاندانی شخصیات کے انفرادی تذکرے تو میرے ذہن میں ماضی کے بلیک اینڈ وائٹ فلمیں چلنا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جسے ایک ماہر نفسیات بہتر سمجھ سکتا ہے یا وہ جو اس میں مبتلا ہو۔

تو ان کا بیان کردہ ماضی، لوگ، واقعات، سلسلے ایک ایک کر کے کرانولاجیکلی مسلسل دماغ میں اترتے ہیں، روح کو بے چین کرتے ہیں، دل پراشتیاق ہو جاتا ہے۔ ان کے بیان کے طلسم سے میں احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہوں، کاش اس زمانے میں پیدا ہوتا ایک محدود مگر پرسکون زندگی گزارتا۔

بہرحال یہ چند ثانیوں کا ایک مختصر سا تخیل ہوتا ہے جو انھی لمحوں میں تحلیل ہو جاتا ہے۔

پھر بھی ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگرچہ آج کی انسانی زندگی ماضی سے کہیں زیادہ پرتعیش ہے تو پھر اکثر انسان گزرے زمانے میں جینے کی خواہش کیوں کرتے ہیں، انھیں وہ دور کیوں سنہری لگتے ہیں۔

اکثر یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ اگر میں اس وقت میں پیدا ہوتا تو کیسی زندگی گزارتا۔

شاید یوں کہ تمام عمر برتری کا ایک زعم، جھوٹے دعوے، نسلی تکبر ، محدود تعصباتی سوچ لئے فنا ہو جاتا جیسا کہ وہ ہوئے، اُس زمانے کا سماج ہی ایسا تھا اگرچہ پارسای کے دعوے اب بھی نہیں کئے جا سکتے، آج محدودیت نہ سہی بغض سے تو دل بھرے ہیں۔

بہرحال ہر انسان اپنے شعور کے مطابق ہی ماضی کی تصویر بناتا ہے۔

دراصل مادہ پرستی وہ بنیادی عنصر ہے جس کی شدت انسان کی روحانیت کو بے طرح پامال کرتی ہے ، جب روحانیت پامال ہو تو روح تڑپ اٹھتی ہے اور روحِ انسانی ہی اصل مرکزِ زندگی ہے۔

نبی کریمﷺ مکہ کی پررونق زندگی سے دوری کو پسند فرماتے ہوئے غار حرا میں عبادت و مراقبہ کیلیے تنہای اختیار فرماتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی اس سنت مطہرہ و مبارکہ کی تقلید میں فقرا، درویش اور صوفی روحانیت سے لبریز خانقاہوں میں آ بستے ہیں، اور عقل سے ایک درجہ آگے وجدان کے مقام تک چلے جاتے ہیں۔

سدارتھ بے سکون ہوتا ہے تو وہ بھی نفس کی گہرائی میں سکون ڈھونڈنے کیلیے مراقبہ کا ہی سہارا لیتا ہے۔

روح تو عام انسان کی بھی تڑپتی ہے مگر اس کیلئے معاش، سماج، خاندان، نظام سے فرار ناممکن ہوتا ہے تو زنجیروں میں جکڑا قابلِ ترس صرف ماضی کا محدود تخیل کرتا ہے فقط چند لمحوں کے سکون کیلئے۔

کیونکہ دستور رہا ہے گزرے زمانے میں مادہ پرستی نسبتاً آج کے بالکل نہیں ہوتی۔

آج کا انسان صدیوں سے پست چلا آ رہا تھا، اس کی زندگی بہت محدود تھی، وسائل تنگ تھے، بمشکل وہ وقت پورا کرتا، کبھی طاعون کی وبا پوری بستیاں ختم کر دیتیں تو کبھی جنگوں میں شہر کے شہر بھسم ہو جاتے۔

پھر اچانک سائنس حضرت انسان کیلئے ایک معجزے کے طور پر ابھری، جنگیں تو ختم نہ کر سکی البتہ انسان کو تھوڑا مہذب کیا، آسائشات کی پیداوار شروع ہوئی، زراعت بدلی، انسانی غلامی اور انتھک مشقت ختم ہوی۔

آج اکیسویں صدی کا مشینی دور ہے، مگر کیوں انسان پھر بھی سکون نہی پا سکا ہے بلکہ وہ ماضی سے زیادہ آج نفسیاتی مریض ہے کیوں کہ کہ مزید آسائشات کی ہوس نے اسے مادہ پرستی کی بیماری لگا دی ہے۔

سائنس نے تو بےشمار تن آسانیاں پیدا کیں ہیں مگر افسوس اسکی بےروح مشینوں سے روح کے سکون کیلئے کچھ نہیں ایجاد ہو سکا۔ روح کا سکون کیسے حاصل ہوتا ہے، غور و فکر سے، تدبر سے، اب مشینیں تو رہیں۔۔۔۔۔۔

بالفرض اگر ہم غورو تدبر بھی کریں تو ہمیں سکون نہیں ملتا، اپنا محاسبہ بھی ہو تو بے فائدہ۔

کیوں کہ ہماری فکر و تدبر میں بھی مادہ پرستی یا عام لفظوں میں شہرت و دولت آ بسی ہے اور مادہ پرستی ہوس پیدا کرتی ہے اور ہوس نے ہمیشہ انسان کو تذلیل کیا۔

بہترین خوشحال زندگی گزارنا کس کا حق نہی مگر ہم نے جو خوشحال زندگی کے سٹینڈر بنا رکھا ہے جس میں ظاہری دکھاوا ہی دکھاوا ہے، جھوٹ کا پہناوا ہی پہناوا ہے یہ بہت خطرناک ہے ، حسرتیں انسان کو احساس کمتری کا شکار کر دیتی ہیں۔

کالم نگار گل نوخیز اختر نے جو بہترین لکھا کہ ہمارے پاس اچھے کپڑے، اچھے برتن ، اچھی گھریلو آسائشات ہوتی ہیں مگر ہم اسے ساری زندگی مہمانوں اور خاص موقعوں کے لئے سنبھالتے رہتے ہیں کبھی اپنی زات کو استفادہ نہی ہونے دیتے۔

اس سے تو موت بہتر ہے کم از کم اس وقت کفن تو نیا پہنایا جاتا ہے۔

ایسا ہی کچھ مادہ پرست افراد کے ساتھ ہوتا ہے ساری زندگی بے چاروں کی جمع کرنے میں لگ جاتی ہے اب موصوف ارب پتی بھی ہیں مگر ساتھ شوگر کے مریض بھی۔ کسی درویش کو ، فقیر کو، صوفی کو شوگر کیوں نہی ہوتی۔

مان لیجئے زندگی کا مزہ تو فکر و تدبر کی آوارہ گردیوں میں ہے جو انسان کو روحانی سکون مہیا کرتی ہیں۔

ڈاکٹر، انجینیر، تاجر، کاروبار، افسر، دولت، شہرت سب پیشے ہیں زندگی تو نہی اسی لئے کم از کم ایک طالب علم کو تو ان کی ہوس نہی کرنی چاہیے صرف اپنی تخلیقی خوبیوں کے مطابق کام کرنا چاہیے۔

بہر حال اپنی زندگی کو پرسکون بنایے، ناکامیوں نے گھیر رکھا ہے تو جی جان کر لڑیں، دفاع نہی حملہ کرنا سیکھیں۔

بالخصوص بڑے فیصلے خود اکیلے، تنہا کیجئے، ہاں مگر ایسے جیسے پروفیسر نوید اختر نے کہا تھا ’’ بچے اپنے دائرے کے اندر رہ کر کھیلنا سیکھو‘‘۔

خاص طور پر اس سمسٹر میں تاریخ کے جو پروفیسر ہیں بہترین الجھنیں سلجھانے والے ہیں، کہ رہے تھے آج گھر جا کر شام کو جب اپنی سوچ کا محاسبہ کرو تو صرف یہ فرق معلوم کرنا، تمھاری سوچ میں کتنی مادہ پرستی ہے اور کتنی روحانیت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: