جذبات کے بندی خانے سے نکلیے: عاطف طفیل

0

جب تک ہم اپنی عقل کو منفی جذبات جیسے غصہ ، انتقام، حسد اور اضطراب وغیرہ کی کنیز بنائے رکھیں گے  اس وقت تک ہمیں منظر صاف نہیں دکھائی دے گا۔ جذبات کا شتر بے مہار کالی گھٹاوَں کی طرح ہے اور جب کالی گھٹائیں جوبن پر ہوں تو سورج چھپ جاتا ہے اور سورج کا چھپنا دوسرے لفظوں میں اندھیرے کا راج ہے۔ اندھیرے میں رسی سانپ بن کر دکھائی دیتی ہے اور رائی کا پہاڑ نظر آتا ہے، زندگی کے معمولی مسائل غیرمعمولی بن جاتے ہیں۔ اس لیے جذبات کے بندی خانے سے نکلنا اشد ضروری ہے۔ دنیا ہمارے ذہن میں  (Subjectively) موضوعی اعتبار سے موجود نہیں بلکہ معروضی (Objectively) اعتبار  سے موجود ہے ۔ جذبات کو عقل کے ماتحت کام کرنا چاہیے اور عقل کو وحی کی روشنی میں۔  جذبات کی سرخ آندھی جب جوبن پر ہو تو متلی کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے زندگی کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جذبات کی لال آندھی ہماری نظر بندی کردیتی ہے اور ہمیں اپنی ناک سے آگے کچھ نظر نہیں آتا  ہے۔  پرندے کی طرح زندگی کا Aerial View لیں گے تو کوئی مسئلہ بھی آپ کے اعصاب پر سوار نہیں ہوگا جب کہ زندگی کو مکوڑے کی بینائی (Worm’s Eyeview) سے دیکھیں گے تو چیونٹیاں  ہاتھی بنتی جائیں گی۔ زندگی بحر بے کنا ر ہے لیکن منفی جذبات ہماری آنکھوں میں موتیا اتاردیتےہیں اور پھر ہمیں زندگی ایک اندھے کنویں میں گری پڑی عالم بے بسی میں ہاتھ پاوَں مارتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہمارا روز مرہ کا شعور عمومابے بسی اکتاہٹ، ذہنی تناوَ اور شکست خوردگی کا شکار رہتا ہے کیونکہ وہ معمولی نوعیت کے حامل مسائل کی گرفت میں رہتا ہے۔ زندگی کی وسعتیں لامنتہا ہی ہیں ، عا لمین لاتعداد ہیں اور کہکشائیں بے شمار ہیں جو نظر آتا ہے وہ ہماری قوت بینائی کے محدود ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم ہے ۔ سارے ججاب  اس لیے ہیں  کہ ہمارے حواس خمسہ حقیقت کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے دیکھتے ہیں۔ ویسے بھی جزوی عقل کے سہارے حقیقت تک رسائی حاصل کرنا ایسے ہی ہے جیسے کانٹے کے ساتھ سوپ پینے کی سعی لاحاصل کرنا۔ نعمتوں کو شمار کیجئے اور محرومیوں کی گنتی کرنا چھوڑ دیجیے۔ لمحوں کو دل کی چھلنی میں سے گزرنے دیجیے۔ دل کی چھلنی کو نا شکری کے ڈاٹ لگا لگا کر بند مت کیجیے  کیونکہ لمحے اورلمحوں میں ہونے والے واقعات جب دل کی چھلنی میں جمع ہونا شروع ہوتے ہیں تو پھر زندگی کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ زندگی کے ہاتھ میں ہاتھ دیجیے، مسکراتی ہوئی زندگی آپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے، بس آپ نے اندر سے کنڈی کھولنی ہے۔

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: