اقبال اور معروف مغالطے سیریز 3: اقبال اور مسئلہِ قومیت و وطنیت — احمد الیاس

0
  • 62
    Shares

اقبال کے حوالے سے سب سے گھسا پٹا مغالطہ غالباً یہ ہے کہ اقبال ابتداء میں وطنی قوم پرست تھے مگر بعد میں پین اسلام ازم اور دو قومی نظریے کی طرف مائل ہوگئے۔

اقبال کی معروف نظم وطنیت کے عنوان کے نیچے یہ الفاظ درج ہیں۔ ‘یعنی وطن بہ حیثئیت ایک سیاسی تصور کے’

اس مفروضے کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم حُب الوطنی اور وطنیت کا فرق سمجھ لیں۔
اقبال کے آخری سالوں میں جب حسین احمد مدنی نے قوموں کے وطن سے بننے کی بات کی تو اقبال نے ان کے خلاف فارسی اشعار کہے۔ حسین احمد مدنی نے وضاحت پیش کی۔ جواباً اقبال نے ایک مضمون لکھا جس میں واضح کیا گیا کہ انہیں اعتراض حب الوطنی پر نہیں بلکہ وطن کو قومیت و سیاست کی بنیاد بنانے پر ہے۔ (مضمون کا لنک)

اقبال لکھتے ہیں کہ حُب الوطنی ایک فطری جذبہ ہے۔ گویا ویسا ہی فطری جذبہ جیسا خاندان کی محبت۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وطن کی محبت میں لکھی گئیں اقبال کی نظموں کی وہی حیثئیت ہے جو اپنی والدہ یا بڑے بھائی کی محبت میں لکھے گئے اشعار کی۔ مگر خاندان کو سیاست کی بنیاد بنانے کی حمایت کوئی ذی شعور نہیں کرتا۔ اسی طرح اپنے وطن ہندوستان کی محبت ہوش سنبھالنے سے وفات تک اقبال کی شخصیت کا لازمی جزو تھی۔ مگر وہ وطن، خاندان یا اس قسم کی کسی پہچان کو سیاست و قومیت کی بنیاد بنانے کے کبھی حامی نہ تھے۔ اقبال کے نزدیک سیاست اور بنیادی سیاسی شناخت یعنی قومیت صرف اصول کی بنیاد پر ہونی چاہیے کیونکہ انسان کے شایانِ شان ایسی ہی سیاست، پہچان اور قومیت ہے۔ مسلمانوں کا اصولِ حقیقی اسلام ہے لہذا اسلام ہی ہماری ہئیہِ سیاسیہ کی بنیاد ہونا چاہیے۔ اسی خیال سے عالمی سیاست کے حوالے سے ان کی پین اسلام ازم نے جنم لیا۔ اور اسی بنیاد پر مقامی سیاست میں دو قومی نظریہ مستحکم ہوا، یہاں تک کہ خطبہ الہٰ آباد میں مسلم ریاست کی تجویز بن گیا۔

مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ اختلاف کے حوالے سے لکھا گیا مضمون اقبال کا فلسفہِ قومیت سمجھنے میں بہت معاون ہے

اب آتے ہیں نفسِ مضمون یعنی اس دعوے کی طرف کہ اقبال 1905 میں یورپ جانے سے قبل صرف محب الوطن نہیں بلکہ وطنی قوم پرست تھے۔ اقبال کا 1904 کا انتہائی دل چسپ مضمون ‘قومی زندگی’ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
(اس لنک پہ ملاحظہ کریں)

اس مضمون میں قومی زندگی سے مراد صرف ہندی مسلمانوں کی زندگی لی گئی ہے ناکہ تمام ہندستانیوں کی۔ حتیٰ کہ اقبال نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے’اقواِم ہند’ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ یعنی یورپ جانے سے قبل بھی اقبال دو قومی نظریے کے پوری طرح قائل تھے اور ہندوستانی مسلمانوں کو ایک قوم سمجھتے تھے۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقبال کے ہاں حُب الوطنی کی شاعری یورپ جانے تک ہی کیوں ملتی ہے۔ یقیناً اقبال کے زاویِہ نظر میں یورپ جانے سے کچھ تبدیلی آئی تھی۔ اگر یہ وطنی قوم پرستی سے اسلام کی طرف جانا نہیں تھا اور اقبال پہلے سے اسلامی قومیت کے قائل تھے تو یہ تبدیلی کیا تھی؟

اس تبدیلی کو یوٹرن سے زیادہ ایک تنوع کے عمل کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ مسلم قومیت اور اسلامی احیائی تحریک کی میتھڈولوجی کے حوالے سے دو مکاتبِ فکر اس وقت ہمارے ہاں موجود تھے۔ پہلا مکتب فکر سیدّ احمد خان کا تھا جو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر ہندی مسلمان قوم کا اتحاد ہندوستان کی دیگر اقوام سے چاہتا تھا۔ گویا یہ مکتبِ فکر مسلمان کے علیحدہ قوم ہونے کا پوری طرح قائل تھا۔ ہاں مگر مسلمانوں کا فائدہ اس میں دیکھتا تھا کہ وہ اپنے مقامی حالات سے مطابقت پیدا کر کہ کام کریں۔ لہزا ہم دیکھتے ہیں کہ سید احمد خان سے شبلی نعمانی، سید میر حسن سے حسن علی آفندی، محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس سے انجمن حمایت اسلام۔۔۔ ہر قسم کی قومی مساعی مسلمانوں کے لیے کی جا رہی تھی۔ حالی مدوجزِر اسلام نام کی قومی مسدس لکھ رہے تھے ناکہ مدوجزرِ ہند و سندھ۔ شبلی کے موضوعات الفاروق، المامون، النعمان اور اورنگزیب تھے نہ کہ اشوکا، چندرگپت، پورس، شنکر اچاریہ یا اکبر۔ محمڈن اینگلو اورئینٹل کالج، سندھ مدستہ الاسلام جیسے اس دور کے ادارے ظاہر کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنی علیحدہ قومیت کے حوالے سے کوئی شک و شبہ نہ تھا۔ وہ سب کچھ مسلمانیت کے نام پر کر رہے تھے نہ کہ ہندستانیت کے نام پر۔ اقبال کے استاد سّید میر حسن سرسیّد کی تحریک سے وابستہ اور اس نکتہ نظر کے حامی تھی۔ لہزا ابتداء میں اقبال دو قومی نظریے کے قائل مگر ہندوستان کی دونوں اقوام کے اتحاد کے حامی نظر آتے ہیں۔ اسی منظر میں نیا شوالہ اور ہندستانی بچوں کا گیت جیسی نظمیں جنم لیتی ہیں۔

سرسیدّ کے اس مقامی مکتب فکر کے علاوہ دوسرا مکتب فکر جمال الدین افغانی کا پین اسلام ازم تھا۔ یہ مکتب آئیڈیلزم سے قریب تر تھا اور دنیا کی تمام مسلم اقوام کا اتحاد چاہتا تھا۔

سرسیدّ اور افغانی کے مکاتبِ فکر کا فرق نظریے سے زیادہ رویے اور لائحہِ عمل کا تھا۔

اقبال جب یورپ گئے تو دنیا کے حالات ان کے سامنے آگئے اور ہندستان یا ہندستانی مسلمان کی بجائے تمام انسانیت کا درد ان کے دل میں جگہہ بنا گیا۔ انہوں نے اُدھر ہربرٹ سپنسر، ڈارون، مارکس اور نٹشے کا مطالعہ کیا تو انہیں احساس ہوا کہ مغربی تمدن مادہ پرستی کی دلدل میں دھنس چکا ہے اور اس کا انجام انسانیت کے لیے بُرا ہوگا۔ مارچ 1907 اس دور کی نمائیندہ غزل ہے جس میں اقبال نے مغرب کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ (اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے)

معرکۃ الآرا غزل ‘مارچ 1907’ کے اس شعر میں خنجر سے مراد مغرب کا وہ مادی اور قومی جنون تھا جس کی مدد سے نو آبادیاتی نظام وجود میں آیا تھا۔

اقبال کا یہ خدشہ پہلی جنگ عظیم میں سچ ہوا۔ مادہ پرستی سے جنم لینے والی قوم پرستی اور ہوسِ ملک گیری نے کروڑوں انسانوں کا خون بہایا۔ ان حالات میں اقبال کو راِہ نجات اسلام کی اس اخوت (تصوِر امت) میں نظر آئی جس نے بیس کی دہائی میں جرمنوں کی یہود دشمنی کا شکار لیوپلڈ ویس کو محمد اسد بنا دینا تھا۔ اسلام کی وہ مساوات اقبال کے فکر و نظر کا محور بن گئی جس نے نسل پرستی سے لڑ رہے امریکی سیاہ فام میلکلم ایکس کو حجاِز مقدس لے آنا تھا۔ اسلام اور پین اسلام ازم سے اقبال کو لگاؤ اسلامی نیشنلزم کی بنیاد پر نہیں، اسلامی یونیورسلزم کی بنیاد پر تھا۔ اور اس کا مقصد صرف مسلمان کا نہیں، تمام انسانیت کا بھلا تھا۔

اسی دوران اقبال نے ذاتی ڈپریشن کے سبب شاعری چھوڑنے کا فیصلہ کیا مگر سر آرنلڈ کے مشورے پر عملاً ایسا نہیں کیا۔ تاہم شاعری کو ذاتی اظہار یا کتھارسس کی بجائے قومی مقصد کے کیرے مخصوص کردیا۔ یوں رومانوی محبت کے ساتھ ساتھ حُب الوطنی کا پہلو بھی اقبال کی شاعری سے نکلتا گیا کیونکہ ان دونوں کا تعلق اقبال کی ذات سے تھا، ناکہ قوم سے۔

خلاصہِ کلام یہ کہ اقبال ہمیشہ سے دو قومی نظریے کے قائل تھے اور تمام عمر ہندوستان سے محبت کرتے رہے۔ مگر ہندوستان میں رہتے ہوئے فکری افق محدود ہونے کے سبب وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کی دیگر اقوام سے اتحاد بہتر ہے۔ مگر یورپ جاکر انہیں اندازہ ہوا کہ ہندستانی مسلمان صرف ہندستان کا نہیں بلکہ دنیا کا حصہ ہے۔ لہزا سوچ میں عالمگیر تنوع ہونا چاہیے۔ اقبال کے نزدیک عالمی بھلائی کا راستہ روحانی قدریں ہی دے سکتی ہیں۔ وفات سے ساڑھے چار ماہ قبل 1938 میں اقبال کا نئے سال پر خطاب جسے اقبال کا الوداعی خطبہ کہا جاسکتا ہے اسی بات کو واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ (اس لنک پہ ملاحظہ کریں)

ضمنی وضاحت :
اقبال کے حوالے سے یہ اعتراض بھی سننے میں آرہا ہے کہ ان کا فلسفہ ان کے دور کے لیے تھا۔ نیز یہ کہ ان کی پیش گوئیاں اور خدشات درست ثابت نہیں ہوئے۔

وطنی قومیت کے حوالے سے ان کے خدشات تو جنگِ عظیم اول اور دوم ہی میں درست ثابت ہوگئے۔ تہزیبِ مغرب نے اپنے خنجر (قوم پرستی) سے آپ ہی خود کشی کی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقبال کا یہ خیال بھی سچ ثابت ہوا کہ جنگی جنون سے نکلنے کے لیے روحانی قدروں کا احیاء ضروری ہے۔ مادہ پرستانہ قوم پرستی کے ہاتھوں ہٹلر و میسولینی کے استبداد کا شکار ہونے والے جرمنی اور اٹلی اس کی مثال ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے بعد یہ ملک دہائیوں تک کرسچن ڈیموکریٹک جماعتوں کے تحت رہے۔ تب جا کر اس مادہ پرستی سے نکل سکے جس نے نیچرل سیلیکشن جیسے نظریات اور مرگِ خدا کے احساس کی بنیاد پر لادین قوم پرستی اور مطلق العنانیت کو جنم دیا تھا۔ جرمنی و فرانس قوم پرستانہ بنیادوں پر ڈیڑھ سو سال دست و گریبان رہے۔ جرمنی کے کرسچن ڈیموکریٹک قائدین کے مذہبی قدروں میں جڑیں رکھنے والے ویژن کی بدولت یہ دو ملک آج قریبی اتحادی ہیں۔

جنگ عظیم دوم کے بعد ایک لمبا عرصہ مغربی جرمنی کے چانسلر رہنے والے کونارڈ ایڈنائر کرسچن ڈیموکریٹک یونین سے تھے جس کا سیاسی و سماجی فلسفہ مسیحیت میں جڑیں رکھتا ہے۔ یورپی یونین مسیحی جمہوری قائدین کے وژن کا حصہ ہے

کیا عرب وعجم کا جھگڑا بھی کبھی حل ہوسکے گا ؟

تیسری دنیا اور بالخصوص عالمِ اسلام مادہ پرستانہ قوم پرستی اور مطلق العنانیت کی آگ میں آج بھی جھلس رہے ہیں۔ اس کا حل اقبال کے نزدیک اسلام کے انسان دوست اصول پر مبنی قومیت و سیاست کے سوا کچھ نہیں۔ یہی اقبال کا وہ پیغام ہے جس کی ضرورت آج سے زیادہ کبھی نہ تھی۔


اس سیریز کا پہلا مضمون “اقبال اور حکمائے مغرب”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا دوسرا مضمون “اقبال اور مذہبی رواداری”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: